۲۴:۱،۲ شریروں کی کامیابی پر رشک کرنے یا اُن کی صحبت کے مشتاق ہونے میں کوئی دانش مندی نہیں۔ وہ بڑی چالاکی سے دوسروں کو اپنے جیسا بنا لیتے ہیں۔ اور وہ کیسے ہیں؟ وہ ہر وقت ظلم کی فکر کرتے رہتے ہیں اور اُن کی گفتگو کا محور شرارت ہی ہوتا ہے۔
۲۴:۳،۴ یہاں گھر سے مراد اِنسان کی زندگی بھی ہو سکتی ہے۔ عظیم زندگی شرارت کے منصوبوں سے نہیں بلکہ الٰہی حکمت سے تعمیر کی جاتی ہے۔ شرارت زندگی کو تباہ کر دیتی ہے، تاہم فہم اُسے قائم رکھتا ہے۔ شرارت اُسے کھوکھلا اور خالی کر دیتی ہے، لیکن حقیقی علم اُسے قیمتی اور خوش گوار چیزوں سے آراستہ کرتا ہے۔
۲۴:۵،۶ ایک دانا شخص کسی زور آور شخص سے زیادہ قوی ہوتا ہے اور صاحب علم کسی بھی پہلوان سے زیادہ زبردست ہوتا ہے۔ سمجھ دار مشیر کے مشوروں سے جنگ لڑی جا سکتی ہے اور جتنے زیادہ صحیح صلاح دینے والے ہوں اُتنا ہی بہتر ہے۔
۲۴:۷ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ احمق کبھی بھی حکمت حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ شہر کے پھاٹک پر کبھی بھی صاحبِ اِختیار کی طرح بات نہیں کر سکتا۔
۲۴:۸،۹ وہ شخص جو اپنی صلاحیتوں کو بدی کے منصوبے باندھنے میں صرف کرتا ہے وہ بجا طور پر ’’فتنہ انگیز‘‘ ہونے کا خطاب حاصل کرے گا۔ شریر کے حماقت کے منصوبے بھی گناہ ہیں اور وہ شخص جو ٹھٹھاباز ہے وہ لوگوں سے نفرت حاصل کرے گا۔
۲۴:۱۰ کسی بھی شخص کی طاقت و اہلیت کا پتا اُس وقت چلتا ہے جب اُس پر کوئی مشکل یا پریشانی آتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اُس کا رویہ اُس کی طاقت کا پتا بتاتا ہے۔ اگر دُکھ پریشانی میں وہ بے دل ہو جائے تو مطلب یہ ہے کہ وہ اُس کو برداشت کرنے کا اہل نہیں۔
۲۴:۱۱،۱۲ جب معصوم لوگوں کو قتل ہونے کے لئے لے جایا جاتا ہے یا جب اسقاطِ حمل سے پیدا ہونے سے پہلے ہی بچوں کو مار دیا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اُن کو بچانے کے لئے آواز بلند نہ کی جائے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے تو یہ معلوم بھی نہ تھا۔ کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ جہنم میں سب سے گرم جگہ پر وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اخلاقی بدحالی کے وقت کچھ کہنے کرنے کی جسارت نہ کی۔ کیا اِن آیات میں ہم ایمان داروں کے واسطے جن کو خدا کی طرف سے نجات کا پیغام سونپا گیا ہے کوئی نصیحت ہے؟ چاروں طرف مرد و خواتین یسوع مسیح کو قبول نہ کر کے ہلاکت میں جا رہے ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔ اور کاٹنے والا مزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے پھل جمع کرتا ہے‘‘ (یوحنا ۴:۳۵)۔ اِس بات کو جاننے کے بعد بھی آپ کچھ کہنے یا کرنے کی جسارت نہ کریں گے؟
۲۴:۱۳،۱۴ یہاں شہد بطور استعارہ استعمال ہوا ہے اور مراد حکمت ہے۔ شہد اور حکمت دونوں مفید اور میٹھے ہوتے ہیں۔ ’’حکمت بھی تیری جان کے لئے ایسی ہی ہو گی۔ اگر وہ تجھے مل جائے تو تیرے لئے اجر ہو گا اور تیری آس نہیں ٹوٹے گی۔‘‘ دوسرے لفظوں میں حکمت حاصل کر لینے والے کے لئے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور یہ بھی کہ اُس کی اُمیدیں پوری ہو جائیں گی۔
۲۴:۱۵،۱۶ شریر آدمی کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ صادق کے گھر کی گھات میں نہ بیٹھے۔ ممکن ہے عارضی طور پر صادق کسی مشکل میں پڑ گیا ہو اور شریر سمجھتا ہو کہ وہ اِس موقعے سے خوب فائدہ اُٹھا کر اُس کے گھر پر قبضہ کر سکتا ہے۔
صادق سات بار گرتا ہے، لیکن ہر مرتبہ غالب آتا ہے، مگر شریر ایک بار گرتا ہے اور کبھی اُٹھ نہیں پاتا۔
۲۴:۱۷،۱۸ باکردار شخص کو اپنے دشمن کو مشکل میں دیکھ کر یا گرتا دیکھ کر کبھی بھی خوشی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر خداوند کسی کے اندر اِس طرح کی بدنیتی کی روح کو دیکھتا ہے تو اُس کے نزدیک بدنیتی کی یہ روح دشمن کے جرم سے زیادہ قابلِ سزا ہو گی۔
۲۴:۱۹،۲۰ ایک مرتبہ پھر ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ بدکرداروں کی بظاہر کامیابی کو دیکھ کر پریشان نہ ہوں اور نہ شریروں پر رشک ہی کریں۔ یہاں وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اُن کا مستقبل بہت بُرا ہو گا۔ اُن کے پاس مستقبل میں کوئی اجر نہیں بلکہ اُن کی زندگی کا چراغ بجھا دیا جائے گا۔
۲۴:۲۱،۲۲ یہ مثل خداوند اور بادشاہ کے عزت و احترام کا درس دیتی ہے۔ بادشاہ کا اِس لئے کہ وہ خدا کا نمائندہ ہے۔ یہ اُنہیں بھی خبردار کرتی ہے جو خدا کے منصوبے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں حکومت کا تختہ اُلٹنا چاہتے ہیں۔ اِس طرح کی بغاوت کرنے والوں پر ناگہان آفت آئے گی، ایسی آفت جس کا اُنہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔
مسیحیوں کو سکھایا گیا ہے کہ جب تک حکومتیں جن کے تحت وہ زندگی گزارتے ہیں خداوند کے ساتھ اُن کی وفاداری کو نشانہ نہیں بناتیں وہ اُن حکومتوں کے تابع رہیں۔ اگر حکومتیں اُنہیں خدا کی نافرمانی کرنے کا حکم دیں تو پھر وہ حکومتوں کی فرماں برداری نہ کریں اور حلیمی سے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہیں۔ کسی بھی صورتِ حال کے تحت مسیحیوں کو حکومت کا تختہ اُلٹنے والے منصوبے میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔
ب۔ داناؤں کی مزید کہاوتیں (۲۴:۲۳۔۳۴)
۲۴:۲۳۔۲۶ یہاں سے ایک اَور نئے حصے کا آغاز ہوتا ہے جس میں داناؤں کے مزید اقوال درج ہیں، یہ حصہ آیت ۳۴ تک جاتا ہے۔
صحیح اور غلط کا اِنصاف کرتے ہوئے طرف داری دکھانا نہایت ہی نفرت انگیز بات ہے۔ وہ منصف جو مجرم کو معصوم قرار دے کر رہا کر دے لوگ اُس پر لعنت بھیجیں گے اور قومیں اُس سے نفرت کریں گی۔ اِس کے برعکس جو گناہ کی مذمت کرے خدا سے اجر پائے گا اور آدمیوں کی نظر میں مبارک ہو گا۔ درست اور سچا اِنصاف کرنے والا لوگوں کا منظورِ نظر ہو گا۔
۲۴:۲۷ جس طرح جہاں گھر تعمیر کرنا ہے وہاں پر لگے ہوئے درختوں کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے، اِسی طرح کسی بھی شخص کے لئے خاندانی زندگی شروع کرنے سے پہلے اپنی زندگی کو ہموار اور درست کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ مثل بغیر موزوں تیاری کے شادی کرنے کے خلاف خبرداری بھی ہو سکتی ہے۔ شادی کرنا کوئی عام سی بات نہیں ہے۔ اِس میں بہت سی اضافی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو روحانی، جذباتی اور معاشی طور پر تیار ہوئے بغیر زندگی کا یہ اہم قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔
۲۴:۲۸،۲۹ حالات خواہ کیسے بھی ہوں اِنسان کو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹے الزمات نہیں لگانے چاہئیں اور نہ اُس کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلانی چاہئیں۔ اگر پڑوسی نے اُس آدمی کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے ہوں اور جھوٹی افواہیں پھیلائی ہوں تو بھی ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ بدی کا جواب بدی سے دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
۲۴:۳۰۔۳۴ مثل کا مصنف بے عقل کے تاکستان کے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ وہ چاروں طرف کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ اِس کے علاوہ بچھو بوٹی بھی ہر طرف نظر آ رہی تھی اور اُس کی سنگین دیوار گری ہوئی تھی۔ اِس میں ایک سبق پوشیدہ تھا۔ جب کوئی کہتا ہے، ’’بس تھوڑی سی نیند، ایک اَور جھپکی، چند ایک جمائیاں‘‘ تو سمجھ لیں کہ غربت راہزن کی طرح اور تنگ دستی مسلح آدمی کی طرح آ پڑے گی۔ روحانی معاملات میں بھی جب ہم سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہماری زندگی کا تاکستان بھی جسمانی کاموں (اُونٹ کٹارے) سے بھر جاتا ہے۔ زندگی میں روحانی پھل نہیں لگتے۔ ہماری روحانی دفاع کی دیوار گر جاتی ہے اور اِبلیس قابض ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے ٹھنڈے پن اور برگشتگی کا نتیجہ روحانی مفلسی کی صورت میں نکلتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ تو شریروں پر رشک نہ کرنا اور اُنکی صحبت کی خواہش نہ رکھنا
۲ کیونکہ اُنکے دِل ظلم کی فکر کرتے ہیں اور اُنکے لب شرارت کا چرچا۔
۳ حکمت سے گھر تعمیر کیا جٓاتا ہے اور فہم سے اُسکوقیام ہوتا ہے۔
۴ اور علم کے وسیلہ سے کوٹھریاں نفیس ولطیف مال سے معمور کی جٓاتی ہیں۔
۵ دانا آدمی زور آور ہے بلکہ صاحب علم کا زور بڑھتا رہتا ہے
۶ کیونکہ تو نیک صلاح لیکر جنگ کرسکتا ہےاور صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
۷ حکمت احمق کے لئے بہت بلند ہے۔وہ پھاٹک پر منہ نہیں کھول سکتا ۔
۸ جو بدی کے منصوبے باندھتا ہے فتنہ انگیز کہلایئگا۔
۹ حمایت کا منصوبہ بھی گناہ ہے اور ٹھٹھاکرنے والے سے لوگوں کو نفرت ہے۔
۱۰ اگر تومصیبت کے دِن بیدِل ہو جٓائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔
۱۱ جو قتل کے لئے گھسیٹےجٓاتے ہیں اُنکو چھڑا۔جو مارے جٓانے کو ہیں اُنکو حوالہ نہ کر۔
۱۲ اگر توکہے دیکھوہمکویہ معلوم نہ تھاتو کیا دِلوں کوجٓانچنے والا یہ نہیں سمجھتا؟اور کیا تیری جٓان کا نگہبان یہ نہیں جٓانتا؟اور کیا وہ ہر شخص کو اُسکے کام کے مطابق اجر نہ دیگا؟
۱۳ اَے میرے بیٹے !تو شہد کھا کیونکہ وہ اچھا ہے اور شہد کا چھتا بھی کیونکہ وہ مجھے میٹھا لگتا ہے۔
۱۴ حکمت بھی تیری جٓان کے لئے اَیسی ہی ہوگی۔اگر وہ تجھے مل جٓائے تو تیرے لئے اجر ہوگااور تیری آس نہیں ٹوٹیگی ۔
۱۵ اَے شریر تو صادق کے گھر کی گھات میں نہ بیٹھنا اُسکی آرامگاہ کو غارت نہ کرنا۔
۱۶ کیونکہ صادق سات بار گرتا ہے اور پھر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن شریر بلا میں گرکر پڑاہی رہتا ہے۔
۱۷ جب تیرا دشمن گر پڑے تو خوشی نہ کرنا اور جب وہ پچھاڑکھائے تو دلشاد نہ ہونا
۱۸ مبادا خداوند اِسے دیکھکر ناراض ہو اور اپنا قہر اُس پر سے اُٹھا لے۔
۱۹ تو بد کرداروں کے سبب سے بی نہ ہونا اور شریر پر رشک نہ کر۔
۲۰ کیونکہ بد کردار کے لئے کچھ اجر نہیں۔شریروں کا چراغ بجھادِیا جٓائیگا۔
۲۱ اَے میرے بیٹے!خداوند سے اور بادشاہ سے ڈر اور مفسدوں کے ساتھ صحبت نہ رکھ
۲۲ کیونکہ اُن پر ناگہان آفت آیئگی اور اُن دونوں کی طرف سے آنے والی ہلاکت کوکون جٓانتا ہے؟
۲۳ یہ بھی داناوں کے اقوال ہیں۔ عدالت میں طرفداری کرنااچھا نہیں۔
۲۴ جو شریر سے کہتا ہے تو صادق لوگ اُس پر لعنت کر ینگے اور اُمتیں اُس سے نفرت رکھینگی ۔
۲۵ لیکن جو اُسکو ڈانٹتے ہیں خوش ہو نگے اور اُنکو بڑی برکت ملیگی ۔
۲۶ جو حق بات کہتا ہے لبوں پر بوسہ دیتا ہے۔
۲۷ اپنا کام باہر تیار کر۔اُسے اپنے لئے کھیت میں دُرست کر لے اور اُسکے بعد اپنا گھر بنا۔
۲۸ بے سبب اپنے ہمسایہ کے خلاف گواہی نہ دینا اور اور اپنے لبوں سے فریب نہ دینا۔
۲۹ یوں نہ کہہ میں اُس نے مجھ سے کیا۔میں اُس آدمی سے اُسکے کام کے مطابق سلوک کرونگا۔
۳۰ میں کاہل کے کھیت کے اور بے عقل کے تاکستان کے پاس سے گذرا
۳۱ اور دیکھووہ سب کا سب کانٹوں سے بھرا تھا اور بچھوبوٹی سے ڈھکا تھااور اُسکی سنگین دیوار گرائی گئی تھی۔
۳۲ تب میں نے دیکھ اور اُس پر خوب غور کیا۔ہاں میں نے اُس پر نگاہ کی اور عبرت پائی ۔
۳۳ تھوڑی سی نیند ۔ایک اور جھپکی ۔ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ ۔
۳۴ اِسی طرح تیری مفلسی راہزن کی طرح اور رتیری تنگدستی مسلح آدمی کی طرح آپڑیگی۔