۲۹:۱ کوئی شخص جو بار بار نصیحت پا کر بھی گناہ سے توبہ نہیں کرتا اچانک برباد ہو جائے گا۔ اُسے مزید کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ نوح کے زمانے کے لوگوں نے نوح کی بات سننے سے اِنکار کر دیا۔ طوفان آیا اور سب کچھ برباد کر گیا۔
۲۹:۲ قوم کے حکمرانوں کا کردار قوم کے حوصلے کو متاثر کرتا ہے۔ جب صادق حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں، لیکن شریر حکمران کے آنے پر سب آہیں بھرتے ہیں۔
۲۹:۳ وہ بیٹا جو حکمت سے محبت رکھتا ہے یعنی بڑی وفاداری سے پاکیزہ زندگی گزارتا ہے اپنے باپ کو خوش کرتا ہے، لیکن جو بدکرداری میں زندگی بسر کرتا ہے وہ اپنے باپ کے پیسے اُجاڑتا ہے۔ مسرف بیٹے کی کہانی تو آپ کو یاد ہو گی۔ اُس نے اپنے باپ کا مال بدچلنی میں اُڑا دیا۔
۲۹:۴ بادشاہ عدل و اِنصاف سے حکومت کر کے اپنی مملکت کو مضبوط کرتا ہے، لیکن جو رشوت لے کر اِنصاف کا خون کرتا ہے وہ اپنی حکومت کے اِستحکام کو کھوکھلا کرتا ہے۔
۲۹:۵ خوشامدی اپنے ہمسائے کو سچائی نہ بتا کر بلکہ اُس کی جھوٹی تعریف کر کے اُس کے لئے خطرات پیدا کر دیتا ہے۔ خوشامدی کی باتیں ہمسائے کو مغرور کر دیتی ہیں اور یہ غرور اُسے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
۲۹:۶ بدکردار اِنسان اپنے ہی گناہ کے پھندے میں پھنس جاتا ہے۔ صادق ہمیشہ خوش رہتا ہے کیونکہ اُسے اپنی خطاؤں کے نتائج بھگتنے کا کوئی خوف نہیں۔ وہ گاتا اور خوشی کرتا ہے۔
۲۹:۷ صادق لوگ مسکینوں کی مدد کرنے میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ شریروں کو اِس کی کوئی پروا نہیں کہ غریبوں پر کیا گزر رہی ہے۔
۲۹:۸ ٹھٹھاباز شہر میں آگ لگاتے ہیں۔ وہ لوگوں کو غصہ دلا کر اور اُن میں تفرقے ڈال کر اُن میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ اِس کے برعکس عقل مند لوگ لڑائی جھگڑے کو ختم کرا کے امن و سلامتی کو فروغ دیتے ہیں۔
۲۹:۹ اِس مثل کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، لیکن زیادہ غالب مفہوم یہ ہے: جب کوئی دانا احمق سے بحث کرے گا تو احمق یا غصے میں آ جائے گا یا مذاق میں بات ٹال دے گا۔ وہ قائل کبھی بھی نہیں ہو گا اور یوں صلح کا اِمکان کبھی نہیں ہو گا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے: جب کوئی دانا احمق سے بحث کرتا ہے تو دانا شخص خواہ سخت زبان استعمال کرے یا پُر مزاح، احمق پر اِس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ وہ ٹس سے مس نہ ہو گا۔
۲۹:۱۰ اِس مثل میں ’’خوں ریز‘‘ بدکردار لوگ ہیں۔ وہ کامل آدمی سے نفرت کرتے ہیں، لیکن راست کار اُس کی جان بچانے میں لگے رہتے ہیں۔
۲۹:۱۱ احمق شخص اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ وہ غصے میں جو منہ میں آتا ہے بک دیتا ہے، اِس بات کی پروا کئے بغیر کہ اِس کے نتائج کیا نکلیں گے۔ وہ تو یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ دوسرے کی بات بھی سن لے۔ لیکن دانا شخص ایسا نہیں کرتا۔ اُسے معلوم ہے کہ غصے پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔
۲۹:۱۲ اِس مثل کے پیچھے یہ خیال نظر آتا ہے کہ اگر کوئی حکمران صرف اچھی، من پسند اور خوشامد خبریں ہی سننا چاہتا ہے تو اُس کے سارے غلام اُسے ایسی ہی خبریں لا کر دیں گے۔ وہ اُس کے سامنے جھوٹی اور خوشامد کی باتیں کرتے رہیں گے۔
۲۹:۱۳ اِنسانی معاشرے میں مسکین اور زبردست ظالم شخص کے درمیان گو بہت بڑا فاصلہ نظر آتا ہے، مگر خدا کے حضور وہ ایک ہی جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔ خداوند ہی دونوں کی آنکھیں روشن کرتا ہے۔
۲۹:۱۴ خدا جب حکمرانوں کا اِنصاف کرتا ہے تو اِس بات کو خاص طور پر سامنے رکھتا ہے کہ اُنہوں نے غریبوں کے ساتھ غیر متعصبانہ اور غیر جانب دارانہ سلوک روا رکھا یا نہیں۔ اگر اُنہوں نے ایسا کیا ہے تو وہ اُن کے تخت کو ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔ حقیقت میں صرف ایک ہی بادشاہ ہے جس نے ایسا کیا ہے، اُس بادشاہ کا نام یسوع ہے۔
۲۹:۱۵ یہ مثل جدید دَور کے ماہرین کی سرِعام مذمت کرتی ہے جو بچوں کی چھڑی کے ذریعے تربیت کے خلاف ہیں۔ چھڑی اور تنبیہ کے ذریعے دونوں قسم کی تربیت بہت ضروری ہے۔ والدین کی طرف سے دونوں اقسام کی یہ تربیت حکمت بخشتی ہے۔ موجودہ دَور کے ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ اِس طرح کی تربیت سے بچے کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے، لیکن یہ دُرست نہیں ہے۔
۲۹:۱۶ جب شریر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ طاقت میں بھی ترقی کر جاتے ہیں تو جرائم کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن صادق اُن کا زوال اور بربادی دیکھنے کے لئے زندہ رہیں گے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مرتبہ ایسا نہیں ہوتا یعنی بعض حالات میں صادق اُن کی بربادی دیکھ نہیں پاتے۔ تاہم اصول قائم رہتا ہے کہ شریر ایک دن اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔
۲۹:۱۷ جس بچے کی باقاعدہ طور پر تربیت کی گئی ہے وہ اپنے والدین کے لئے رنج و پریشانی کے بجائے خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔
۲۹:۱۸ یہاں رُویا سے مراد خدا کا کلام ہے (دیکھیں ۱۔سموئیل ۳:۱)۔ اِس مثل میں خیال یہ پایا جاتا ہے کہ جب خدا کے کلام کو جانا اور اُس کا احترام نہیں کیا جاتا اُس وقت لوگ بے قابو ہو جاتے ہیں۔ تاہم جو خدا کی شریعت یعنی اُس کے کلام پر عمل کرتے ہیں وہ برکت پائیں گے۔
۲۹:۱۹ اِس آیت میں ضدی اور ڈھیٹ مزاج نوکروں کا بیان نظر آتا ہے۔ اُن کے لئے زبانی کلامی دی جانے والی ہدایات کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ وہ دی جانے والی ہدایات کو سمجھ تو لیتے ہیں، مگر پیروی نہیں کرتے بس چپ سادھے رکھتے ہیں۔ یسوع نے کہا ’’جب تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو کیوں مجھے خداوند خداوند کہتے ہو؟‘‘ (لوقا ۶:۴۶)۔
۲۹:۲۰ اَمثال کی کتاب میں جتنے موضوعات پر بات ہوئی ہے اُن میں سب سے اہم ہمارے منہ کی باتوں کا موضوع ہے۔ یہاں ہم سیکھتے ہیں کہ جو بغیر سوچے سمجھے بولتا ہے اُس کی حالت احمق سے بھی بدتر ہے۔ اِس طرح بغیر سوچے سمجھے بولنے والا شخص اُسی درجے پر ہے جہاں وہ شخص ہے جو اپنی نظر میں دانا بنتا ہے (۲۶:۱۲)۔
۲۹:۲۱ اگر آپ کسی نوکر کے ناز و نخرے اُٹھا کر اُسے خراب کر دیں گے تو وہ اپنا اصل مقام بھول جائے گا۔ جلد ہی وہ یہ توقع کرنے لگے گا کہ آپ اُس کے ساتھ بیٹے کا سا سلوک کریں۔ آجر اور ملازم کے درمیان غیر مناسب رشتہ اکثر اوقات مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
۲۹:۲۲ ہم سے اکثریت کی ملاقات اِن دونوں قسم کے لوگوں سے کسی نہ کسی وقت ہوئی ہو گی۔ قہر آلود آدمی ہر قسم کا فتنہ برپا کرتا ہے اور غضب ناک آدمی بہت سا گناہ کرتا ہے۔
۲۹:۲۳ مغرور آدمی کا انجام یقیناًپستی ہو گا، لیکن فروتن آدمی عزت کے مقام پر سرفراز کیا جائے گا۔
۲۹:۲۴ چور کے شریک کا عمل اِس بات کی علامت ہے کہ اُسے اپنی جان سے محبت نہیں۔ کیوں؟ اِس لئے کہ وہ سچائی بتانے کا حلف اُٹھاتا تو ہے، مگر ایسا کرتا نہیں اور یوں اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔ موسیٰ کی شریعت کے مطابق اگر کوئی گواہ ہو اور اُسے قسم دی جائے، مگر پھر بھی وہ جو کچھ اُسے معلوم ہے نہ بتائے تو مجرم ٹھہرے گا اور اُس کی سزا بھگتنی پڑے گی (دیکھیں احبار ۵:۱)۔
۲۹:۲۵ اِنسان کا ڈر کسی بھی شخص پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ بدی کرے یا درست کام کرنے سے باز رہے۔ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے یہ سوچ کر مسیح کو قبول نہ کیا اور جہنم کے وارث ہوئے کہ اگر وہ مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو اُن کے دوست احباب کیا کہیں گے۔ لیکن جو خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہے گا، حالات خواہ کیسے بھی کیوں نہ ہو جائیں۔ ایک مسیحی عالم William Gurnall نے کہا:
’’ہم لوگوں سے اِتنا اِس لئے ڈرتے ہیں کیونکہ ہم خدا سے بہت کم ڈرتے ہیں۔‘‘
۲۹:۲۶ بہت سے لوگ دُنیاوی حاکم کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے سارے مسائل کا حل اُسی کے پاس ہے، لیکن اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِنسان کا فیصلہ خداوند کی طرف سے ہے۔
۲۹:۲۷ بے اِنصاف اور صادق شخص کے درمیان کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ اِنصاف سے پیار کرنے والا بے دین شخص کو پسند نہیں کرتا اور شریر صادق سے نفرت کرتا ہے۔ جس طرح سیدھی اور ٹیڑھی چھڑی کو اگر آمنے سامنے کھڑا کر دیں تو ٹیڑھی چھڑی کا ٹیڑھا پن نمایاں ہو جاتا ہے اِسی طرح صاف ستھری اور شرارتی زندگی کے درمیان فرق بھی بڑا نمایاں ہو جاتا ہے۔
سلیمان کی اَمثال اِس مقام پر ختم ہو جاتی ہیں۔
مقدس کتاب
۱ جو بار بار تنبیہ پا کر بھی گردن کشی کرتا ہے ناگہان بر باد کیا جٓائیگا اور اُسکا کوئی چارہ نہ ہوگا ۔
۲ جب صادق اِقبالمند ہوتے ہیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن جب شریر اِقتدار پاتے ہیں تو لوگ آہیں بھرتے ہیں۔
۳ جو کوئی حکمت سے اُلفت رکھتا ہے اپنے باپ کو خوش کرتا ہے لیکن جو کسبیوں سے صحبت رکھتا ہے اپنا مال اُڑاتا ہے۔
۴ بادشاہ عدل سے اپنی مملکت کو قیام بخشتا ہے لیکن رِشوت ستان اُسکوویران کرتا ہے ۔
۵ جو اپنے ہمسایہ کی خوشامد کرتا ہے اُسکے پاوں کے لئے جٓال بچھاتا ہے۔
۶ بد کردار کے گناہ میں پھندا ہے لیکن صادق گاتا اور خوشی کرتا ہے
۷ صادق مسکینوں کے معاملہ کا خیال رکھتا ہے لیکن شریر میں اُسکو جٓاننے کی لیاقت نہیں۔
۸ ٹھٹھا باز شہر میں آگ لگاتے ہیں لیکن دانا قہر کو دور کر دیتے ہیں۔
۹ اگر دانا احمق سے مباحثہ کرے تو خواہ وہ قہر کرے خواہ ہنسے کچھ اِطمینان نہ ہوگا۔
۱۰ خونریزلوگ کاہل آدمی سے کینہ رکھتے ہیں لیکن راستکار اُسکی جٓان بابچانے کا قصد کرتے ہیں ۔
۱۱ احمق اپنا قہر اُگل دیتا ہے لیکن دانا اُسکو روکتا اور پی جٓاتا ہے ۔
۱۲ اگر کوئی حاکم جھوٹ پر کان لگاتا ہے تو اُسکے سب خادم شریر ہو جٓاتے ہیں۔
۱۳ مسکین اور زبردست ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور خداوند دونوں کی آنکھیں روشن کرتا ہے۔
۱۴ جو بادشاہ دِیانتداری سے مسکینوں کی عدالت کرتا ہے اُسکا تخت ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔
۱۵ چھڑی اور تنبیہ حکمت بخشتی ہیں لیکن جو لڑکا بے تربیت چھوڑدیا جٓاتا ہے اپنی ماں کو رسوا کریگا۔
۱۶ جب شریر اِقبالمند ہوتے ہیں تو بدی زیادہ ہوتی ہے لیکن صادق اُنکی تباہی دیکھینگے ۔
۱۷ اپنے بیٹے کی تربیت کر آرام دیگا اور تیری جٓان کو شادمان کریگا ۔
۱۸ جہاں رویا نہیں وہاں لوگ بے قید ہو جٓاتے ہیں لیکن شریعت پر عمل کرنے والا مبارک ہے۔
۱۹ نوکر باتوں ہی سے نہیں سدھرتا کیونکہ اگرچہ وہ سمجھتا ہے تو بھی پروا نہیں کرتا۔
۲۰ کیا تو بے تامل بولنے والے کو دیکھتا ہے؟ اُسکے مقابلہ میں احمق سے زیادہ اُمید ہے۔
۲۱ جو اپنے خانہ زاد کو لڑکپن سے ناز میں پالتا ہے وہ آخر کار اُسکا بیٹا بن بیٹھیگا۔
۲۲ قہر آلودہ آدمی فتنہ برپاکرتا ہے اور غضبناک گناہ میں زیادتی کرتا ہے ۔
۲۳ آدمی کا غرور اُسکو پست کر یگا لیکن جو دِل سے فروتن ہے عزت حاصل کریگا۔
۲۴ جو کوئی چور شریک ہوتا ہے اپنی جٓان سے دشمنی رکھتا ہے۔وہ حلف اُٹھاتا ہے اور حال بیان نہیں کرتا۔
۲۵ اِنسان کا ڈر پھندا ہے لیکن جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔
۲۶ حاکم کی مہربانی کے طالب بہت ہیں لیکن اِنسان کا فیصلہ خداوند کی طرف سے ہے۔
۲۷ صادق کو بے اِنصاف سے نفرت ہے اور شریر کو راست رو سے۔