اِمثال ۸

ک۔ حکمت مجسم (‏باب ۸)‏

۸:‏۱ باب ۸ کا باب ۷ سے بہت ہی خوبصورت انداز میں موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ وہاں کسبی مردوں کو دعوت دیتی ہے۔ یہاں حکمت اُنہیں دعوت دیتی ہے کہ اُس کی پیروی کریں۔ اِس اقدام کے لئے وہ بہت زور دار دلائل دیتی ہے۔ عہد جدید میں اِس کا متوازی حصہ کلام یوحنا ۷:‏۳۷ ہے جہاں یسوع لوگوں کو اپنے پاس بلاتا ہے کہ وہ اس سے پئیں۔

۸:‏۲‏،۳ اِن آیات میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کہاں سے ملتی ہے۔ جگہوں کی فہرست ظاہر کرتی ہے کہ وہ بنی نوع اِنسان کے روزمرہ کے سفر میں پہلے سے دست یاب ہے۔ 

۸:‏۴‏،۵ وہ ادنیٰ اعلیٰ ہر طرح کے لوگوں کو دعوت دیتی ہے۔ وہ احمق اور سادہ دِلوں کو بلاتی ہے۔ وہ ہر شخص کی راہنمائی کرنے کے لئے تیار ہے۔ 

۸:‏۶۔۹ اِس کے بعد حکمت کی تعلیم کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ لطیف باتیں‏، راستی کی باتیں اور سچائی کو بیان کرتی ہے۔ اُس کے لبوں سے شرارت کی اور ٹیڑھی باتیں نہیں نکلتیں۔ جس میں تھوڑی سی اِمتیاز کی روح اور فہم ہو‏، وہ پہچانے گا کہ وہ صاف اور راست ہیں۔ 

۸:‏۱۰‏،۱۱ حکمت کی تربیت کی قدر و قیمت لاثانی ہے۔ ہمیں چاندی‏، کندن‏، مرجان اور کسی بھی اعلیٰ چیز کی نسبت اِس کے لئے زیادہ آرزو رکھنی چاہئے۔ 

۸:‏۱۲‏،۱۳ حکمت اور ہوشیاری دونوں اکٹھی رہتی ہیں۔ اُن کا چولی دامن کا ساتھ ہے‏، چنانچہ اگر آپ میں حکمت ہے تو آپ میں بصیرت بھی ہے۔ حکمت امور زندگی کے اِنتظام کے لئے علم اور تمیز دیتی ہے۔ 

بعض ایسی چیزیں ہیں جن کے ساتھ حکمت رہ نہیں سکتی۔ وہ اخلاقی طور پر اِس کے مخالف ہیں اور وہ اُن سے نفرت کرتی ہے۔ اُن میں ہر طرح کی بدی ہے خواہ وہ غرور‏، گھمنڈ‏، بُرا رویہ ہو یا جھوٹی گفتگو ہو۔ 

۸:‏ ۱۴۔۲۱ حکمت کے چند ایک فوائد یہ ہیں:‏

  • اچھی مشورت (‏آیت ۱۴ الف)‏
  • حمایت (‏آیت ۱۴ ب)‏
  • فہم (‏آیت ۱۴ ج)‏
  • درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت (‏۱۴۔ د)‏
  • راہنمائی کی صلاحیت (‏آیات ۱۵ الف‏، ۱۶ الف)‏
  • عدالتی مہارت (‏آیات ۱۵ ب‏، ۱۶ب)‏
  • محبت اور رفاقت (‏دیکھیں یوحنا ۱۴:‏۲۱؛ آیت ۱۷ الف)‏
  • سنجیدہ لوگوں کے لئے دست یابی (‏۱۷ ب)‏
  • دائمی دولت جس میں عزت اور صداقت شامل ہیں (‏آیت ۱۸ ب)‏
  • ایسا کردار جس کی کندن اور خالص چاندی سے بڑھ کر قدر و قیمت ہے (‏آیت ۱۹)‏ راستی اور اِنصاف کی راہوں میں راہنمائی جس سے دولت افزوں ہو گی۔(‏آیات ۲۰‏،۲۱)‏

ہم پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں کہ حکمت سے متعلق اِن حوالہ جات کا مسیح یسوع پر اطلاق بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عہد جدید میں اُسے حکمت بھی کہا گیا ہے (‏متی ۱۱:‏۱۹؛ لوقا ۱۱:‏۴۹؛ ۱۔کرنتھیوں ۱:‏۲۴‏،۳۰؛ کلسیوں ۲:‏۳)‏۔ اَمثال ۸:‏ ۱۔۲۱ کے بعد کی آیات میں اِس کا اطلاق بہت خوبصورت ہے۔ مسیحی کلیسیا نے اِس پیرے کا ہمیشہ خداوند یسوع مسیح پر اطلاق کیا۔ 

ہم اِس میں مسیح کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟

۸:‏۲۲ اِس کی ازلی تولید ’’خداوند نے اپنی قدیم صنعتوں سے پہلے مجھے پیدا کیا۔‘‘ عبرانی میں جس لفظ کا ترجمہ ’’پیدا کیا‘‘ ہوا ہے‏، اِس کا بنیادی مطلب ’’حاصل کرنا اور حاصل ہونا‘‘ ہے۔ یوں اِس کا بہتر اور زیادہ لغوی ترجمہ یہ ہے:‏ ’’ مَیں خداوند کو اِنتظامِ عالم کے شروع میں‏، اپنی قدیمی صنعتوں سے پہلے حاصل تھی۔‘‘

یوں ہمیں ’’پیدا کیا‘‘ سے کبھی بھی یہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ مسیح کا کبھی شروع تھا۔ خدا کا حکمت کی خوبی کے بغیر کبھی بھی وجود نہیں تھا اور نہ ہی کبھی اُس کا اپنے بیٹے کے اقنوم کے بغیر وجود تھا۔ یہاں اِس کا بالکل وہی مطلب ہے جیسا کہ یوحنا ۱:‏۱ میں بیان کیا گیا ہے:‏ ’’ابتدا میں … کلام خدا کے ساتھ تھا۔‘‘

۸:‏۲۳ وہ ازل سے مقرر ہوئی۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُسے مسح کیا گیا یا مقرر کیا گیا۔ 

تخلیق کے وجود سے بہت قبل اُسے اسرائیل کا مسیح اور دُنیا کا نجات دہندہ مقرر کیا گیا۔

۸:‏ ۲۴۔۲۶ اُس کا پہلے سے وجود۔ اِن الفاظ ’’خلق ہوئی‘‘ (‏آیت ۲۵)‏ سے کبھی بھی یہ مطلب اخذ نہ کریں کہ مسیح کو کبھی خلق کیا گیا اور یوں اُس کی کبھی ابتدا تھی۔ یہ شاعرانہ زبان ہے جس میں بیٹے کے ازلی وجود کو بیان کیا گیا اور یہ بتایا گیا ہے کہ اُس کا اقنوم خدا باپ سے مختلف ہے۔ 

زمین کی خاک کی ابتدا (‏آیت ۲۶)‏ کا تعلق دُنیا کے آغاز سے ہے۔ 

۸:‏۲۷۔۲۹ تخلیق کے وقت اُس کی موجودگی۔ وہ اُس وقت وہاں موجود تھا جب آسمان کو زمین اور سمندر پر تانا گیا‏، جب بادلوں کو بنایا گیا اور جب چشموں سے پانی نکلنا شروع ہوا۔ وہ اُس وقت وہاں تھا جب سمندر کی حدوں کا تعین کیا گیا اور پانی کو حکم دیا گیا کہ ٹھہرائی ہوئی حدوں سے آگے نہ جائے۔ وہ اُس وقت وہاں تھا جب زمین کی بنیاد رکھی گئی۔ 

۸:‏۳۰ الف تخلیق میں اُس شمولیت۔ یہاں ہمیں پتا چلتا ہے کہ خداوند یسوع تخلیق میں سرگرم عمل تھا۔ لکھا ہے کہ ’’اُس وقت ماہرکاری گر کی مانند مَیں اُس کے پاس تھی۔‘‘ یہ یوحنا ۱:‏۳؛ کلسیوں ۱:‏۱۶ اور عبرانیوں ۱:‏۲ سے ہم آہنگ ہے۔ 

۸:‏۳۰ ب خدا کے حضور اُس کی محبت اور خوشی کی حالت۔ یہاں باپ کی اپنے بیٹے کے ساتھ ابدی اور لامحدود محبت نظر آتی ہے۔ اِس سے ہماری حیرت میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ کسی وقت اپنے بیٹے کو گناہ گاروں کی خاطر موت کا دُکھ سہنے کے لئے بھیجے گا۔

۸:‏۳۰ ج خدا کے حضور اُس کی شخصی خوشی۔ اِس سے ہمارے خداوند یسوع مسیح کے فضل کی وسعت کا اِظہار ہوتا ہے۔ کہ وہ اِس پاک اور کامل خوشی کے منظر کو چھوڑ کر کبھی ندامت‏، غم اور مصیبت کے چنگل میں آئے گا۔ 

۸:‏۳۱ آبادی کے لائق زمین سے اُس کی شادمانی۔ یہ کیسا حیران کن اَمر ہے کہ تمام وسیع کائنات کو چھوڑ کر اُس کی دلچسپی ایک چھوٹے سے سیارے میں ہو۔

بنی آدم میں اُس کی خصوصی خوشی۔ حیرت کی آخری بات یہ ہے کہ وہ باغی نسلِ اِنسانی سے محبت کرے۔ 

۸:‏ ۳۲۔۳۶ آخری پیرے میں حکمت کے بلاوے کے سلسلے میں اِنسان کے جواب سے متعلقہ نتائج کو طے کیا گیا ہے۔ جو اُس کی تعلیم کو سنتے اور اُس کی راہوں پر چلتے ہیں‏، یہ اُن کے لئے برکت کا اعلان کرتی ہے۔ یہ اُن سے خوشی کے وعدے کرتی ہے جو ہر روز اُس کے پھاٹکوں پر اِنتظار کرتے ہیں‏، جو وفاداری سے اُس کے دروازوں کی چوکھٹوں پر ٹھہرے رہتے ہیں۔ جو اُسے پا لیتے ہیں یہ اُنہیں زندگی اور خداوند کی مقبولیت دیتی ہے۔ لیکن جو اُسے کھو دیتے ہیں یہ اُن کے لئے شخصی نقصان اور موت کا باعث ہے۔ 

اِن آخری دو آیات کا مسیح یسوع پر اطلاق کیجئے۔ جو اُسے ڈھونڈتا ہے اُسے ابدی زندگی اور خدا کی مقبولیت حاصل ہوتی ہے (‏دیکھیں یوحنا ۸:‏۵۱؛ ۱۷:‏۳؛ اِفسیوں ۱:‏۶؛ ۱۔یوحنا ۵:‏۱۲)‏۔ لیکن جو اُسے تلاش نہیں کرتے وہ اپنے آپ کو زخمی کرتے ہیں۔ جو اُس سے عداوت رکھتے ہیں وہ موت سے محبت رکھتے ہیں (‏بمقابلہ یوحنا ۳:‏۳۶ ب)‏۔ 

مقدس کتاب

۱ کیا حکمت پکار نہیں رہی اور فہم آواز بلند نہیں کر رہا ؟
۲ وہ راہ کے کنارے کی اُونچی جگہوں کی چوٹیوں پر جہاں سڑکیں ملتی ہیں کھڑی ہو تی ہے۔
۳ پھاٹکوں کے پاس شہر کے مدخل پر یعنی دروازوں کے مدخل پر وہ زور سے پکارتی ہے۔
۴ اَے آدمیو!میں تمکو پکارتی ہوں اور بنی آدم کو آواز دیتی ہوں۔
۵ اَے سادہ دِلو !ہو شیاری سیکھو اور اے احمقو! دانا دِل بنو ۔
۶ سنو !کیونکہ میں لطیف باتیں کہونگی اور میرے لبوں سے راستی کی باتیں نکلینگی ۔
۷ اِسلئے کہ میرا منہ سچا ئی کو بیان کر یگا اور میرے ہونٹوں کو شرارت سے نفرت ہے۔
۸ میرے منہ کی سب باتیں صداقت کی ہیں ۔اُن میں کچھ ٹیڑھا ترچھانہیں ہے ۔
۹ سمجھنے والے کے لئے وہ سب صاف ہیں اور علم حاصل کرنے والوں کے لئے راست ہیں ۔
۱۰ چاندی کو نہیں بلکہ میری تربیت کو قبول کرو اور کندن سے بڑھ کر علم کو۔
۱۱ کیونکہ حکمت مر جٓان سے افضل ہےاور سب مرغوب چیزوں میں بے نظیر ۔
۱۲ مجھ حکمت نے ہو شاری کو اپنا مسکن بنایا ہےاور علم اور تمیز کو پالیتی ہوں۔
۱۳ خداوند کا خوف بدی سے عداوت ہے۔غرور اور گھمنڈاور بری راہ اور کجومنہ سے مجھے نفرت ہے۔
۱۴ مشورت اور حمایت میری ہیں ۔فہم میں ہی ہوں ۔مجھ میں قدرت ہے۔
۱۵ میری بدولت سلطنت کرتے اور اُمرا انصاف کافتوی دیتے ہیں۔
۱۶ میری ہی بدولت حاکم حکومت کرتے ہیں اور سردار یعنی دُنیا کے سب قاضی بھی۔
۱۷ جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں میں ان سے محبت رکھتی ہوں اورجو مجھے دل سے ڈھونڈتے ہیں وہ مجھے پا لینگے ۔
۱۸ دولت وعزت میرے ساتھ ہیں۔بلکہ دائمی دولت اور صداقت بھی۔
۱۹ میراپھل سونے سے بلکہ کندن سے بھی بہتر ہےاور میرا حاصل خالص چاندی سے ۔
۲۰ میں صداقت کی راہ پر انصاف کے راستوں میں چلتی ہوں۔
۲۱ تاکہ میں اُنکو جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں مال کے وارث بناوں اور انکے خزانوں کو بھردوں۔
۲۲ خداوند نے انتقام عالم کےشروع میں اپنی قدیمی صنعتوں سے پہلے مجھے پیدا کیا ۔
۲۳ میں ازل سے یعنی ابتدا ہی سے مقرر ہوئی ۔اس سے پہلے کہ زمین تھی۔
۲۴ میں اس وقت پیدا ہوئی جب گہراو نہ تھے ۔جب پانی سے بھرے ہوئے چشمے بھی نہ تھے۔
۲۵ میں پہاڑوں کے قائم کئے جٓانے سے پہلے اور ٹیلوں سے پہلے خلق ہوئی ۔
۲۶ جب کہ اُس نے ابھی نہ زمین کو بنایا تھا نہ میدانوں کو اور نہ زمین کی خاک کی ابتداتھی۔
۲۷ جب اُس نے آسمان کو قائم کیا میں وہیں تھی ۔جب اُس نے سمندر کی سطح پر دائرہ کھینچا۔
۲۸ جب اس نے اوپر افلاک کو استوار کیا اور گہراو کے سوتے مضبوط ہو گئے ۔
۲۹ جب اُس نے سمندر کی حد ٹھہرائی تاکہ پانی اُسکے حکم کو نہ توڑے۔ جب اُس نے زمین کی بنیاد کے نشان لگائے
۳۰ اس وقت ماہرکاریگرکی مانند میں اسکے پاس تھی اور میں ہر روز اسکی خوشنودی تھی اور ہمیشہ اسکے حضور شادمان رہتی تھی ۔
۳۱ آبادی کے لالق زمین سے شادمان تھی اور میری خوشنودی بنی آدم کی صحبت میں تھی۔
۳۲ اسلئے اَے بیٹو !میری سنوکیونکہ مبارک ہیں وہ جو میری راہوںپر چلتے ہیں ۔
۳۳ تربیت کی بات سنو اور دانا بنو اور اسکو ردّنہ کرو ۔
۳۴ مبارک ہے وہ آدمی جو میری سنتا ہے اور ہر روز میرے پھاٹکوں پر انتظار کرتا ہےاور میرے دروازوں کی چوکھٹوں پر ٹھہرا رہتا ہے۔
۳۵ کیونکہ جو مجھ کو پاتا ہے زندگی پاتا ہےاور وہ خداوند کا مقبول ہوگا۔
۳۶ لیکن جو مجھ سا بھٹک جٓاتا ہے اپنی ہی جٓان کو نقصان پہنچتاہے۔مجھ سے عداوت رکھنے والے سب موت سے محبت رکھتے ہیں۔