اِمثال ۷

۷:‏۱ ساتویں باب میں نوجوانوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو جنسی بے راہ روی سے برباد نہ کریں۔ اُنہیں اِن الہامی احکام کو دُنیوی اور مادی دولت کی نسبت زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔ 

۷:‏۲ خدا کے کلام کی فرماں برداری کثرت کی زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ اِس لئے ہمیں اس کو دل میں ایسے محفوظ رکھنا چاہئے جیسے ہم اپنی آنکھ کی پتلی کی حفاظت کرتے ہیں۔ 

آنکھ کی پُتلی آنکھ کا مرکز ہے۔ جب کبھی ہلکا سا بھی خطرہ ہو‏، پپوٹے فوری طور پر بند ہو جاتے ہیں تاکہ اُس کی حفاظت کر سکیں۔ یوں وہ ایسی چیز کی علامت ہے جو اِتنی قیمتی ہے کہ اُس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ 

۷:‏۳ ہم جو کچھ کرتے ہیں‏، وہ خداوند کے کلام کی مرضی کے مطابق ہو (‏اپنی اُنگلیوں پر باندھ لے)‏۔ ہم بلا چُوں و چرا اُس کی فرماں برداری کریں (‏اپنے دل کی تختی پر لکھ لے)‏۔

۷:‏۴ ہم حکمت کا ایسے احترام کریں جیسے ہم اپنی بہن کا احترام کرتے ہیں اور فہم کو اپنا قریبی رشتہ دار متصور کریں۔ اِس پیرے میں حکمت کا بُری عورت سے موازنہ کیا گیا ہے جس سے بڑی احتیاط سے گریز کرنا چاہئے۔ 

۷:‏۵ جو حکمت اور تعلیم کی پیروی کرتے ہیں‏، وہ بُری عورت اور بیگانہ عورت کی چاپلوسی سے محفوظ رہتے ہیں۔ اِس عورت کو بیان کرنے کے لئے یہاں دو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں۔ پرائی عورت سے مراد اپنی شادی کے عہد سے بے وفائی کرنے والی عورت ہے۔ بیگانہ عورت سے مراد غیر عورت ہے۔ 

۷:‏۶ آیات ۶۔۲۳ میں ایک کسبی کے دھندے کے طریق کار اور ایک نوجوان کے اُس کے پھندے میں پھنسنے کا بیان ہے۔ 

۷:‏۷ ایک بے عقل اور بے مقصد نوجوان شہر میں پھر رہا ہے۔ شاید اُس کا بہت اچھے اور شریف گھرانے سے تعلق ہو‏، لیکن اب وہ اپنا دل بہلانے کی تلاش میں ہے۔ فی الحقیقت وہ سخت قسم کا گناہ گار نہیں ہے بلکہ محض کسی چھوٹے قصبے کا ناتجربہ کار لڑکا ہے۔

۷:‏۸ اَب وہ بازارِ حسن میں پہنچ چکا ہے۔ وہ اُس کی گلی کے کونے سے گزر جاتا ہے۔ وہ سُستی سے آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ یہی مشکل ہے۔ اگر وہ کسی تعمیری کام میں مصروف ہوتا تو وہ یہاں نہ ہوتا۔ اگر اُس کے پاؤں میں صلح کی خوش خبری کے جوتے ہوتے تو وہ یوں بے کار نہ ہوتا۔ جب ہم اپنی زندگی خدا کے لئے مخصوص کرتے ہیں تو ہمیں گناہ سے حقیقی تحفظ ملتا ہے۔ شیطان سُست ہاتھوں کو آسانی سے اپنی شرارتوں کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ 

۷:‏۹ وہ ساری شام اِدھر اُدھر گھومتا رہتا ہے۔ غروبِ آفتاب سے لے کر شام کے دھند لکے اور آدھی رات کی تاریکی تک جب سائے گہرے ہوتے ہیں تو رات کی تاریکی نوجوان شخص کی زندگی پر چھا جاتی ہے۔

وہ اُس پروانے کی مانند ہے جو اُڑ کر شعلے کی طرف جاتا ہے۔ جب گناہ کی آزمائش اور گناہ کرنے کا موقع ہم آہنگ ہوتے ہیں‏، تو یہ بہت خطرناک لمحات ہوتے ہیں۔ ہمیں مسلسل دعا کرنا چاہئے کہ ہماری زندگیوں میں یہ دونوں کبھی اکٹھے نہ آئیں۔

۷:‏۱۰ کسبی اب بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگائے نمودار ہوتی ہے۔ اُس کے دلکش ظاہر کے نیچے شہوانی اور عیار دل چھپا ہوا ہے۔ 

۷:‏ ۱۱‏،۱۲ یہ کوئی شریف اور باحیا خاتون نہیں ہے۔ وہ غوغائی اور خود سر ہے۔ وہ کوئی گھریلو عورت نہیں ہے۔ وہ اپنے گاہکوں کو پھنسانے کے لئے گلیوں میں پھرتی ہے۔ 

وہ تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ ابھی وہ کوچوں میں ہے اور ابھی بازاروں میں اور موڑ پر گھات میں بیٹھتی ہے۔ گناہ بالکل اِسی طرح ہے‏، اِسے معلوم کرنا بہت آسان ہے۔ خوش خبری کو جاننا بھی بہت آسان ہونا چاہئے‏، لیکن افسوس کہ ہم وسیع سطح پر اِس کی تشہیر کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ 

۷:‏۱۳ اُس کے طریقۂ کار کا پہلا قدم یہ ہے کہ وہ مرد کو دم بخود کر دیتی ہے۔ وہ تیزی سے اُس کی طرف بڑھتی‏، اُس کے گلے میں باہیں ڈال کر اُسے چومنے لگتی ہے۔ محبت کے اِس پُرجوش اِظہار سے اُس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ یہ محبت نہیں بلکہ شہوت ہے۔ 

۷:‏۱۴ اِس کے بعد مذہبی اندازِ گفتگو شروع ہو جاتا ہے۔ وہ کہتی ہے‏، ’’سلامتی کی قربانی کے ذبیحے مجھ پر فرض تھے۔ آج مَیں نے اپنی نذریں ادا کی ہیں۔‘‘ نوجوان کو اپنی ماں اور اپنی بیٹھک کی میز پر بائبل یاد آتی ہے۔ پھر وہ اپنے آپ سے کہتا ہے‏، ’’یہ عورت ٹھیک ہو گی۔ وہ مذہبی ہے جو سلامتی کی قربانی کے ذبیحے اور اپنی نذریں ادا کرتی ہے‏، مَیں اِس کی صحبت میں غلطی نہیں کر سکتا۔‘‘ اب وہ پھندے میں پھنسنے والا ہے۔ 

سلامتی کے ذبیحوں میں ایک اَور کشش ہے۔ گزراننے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اِن ذبیحوں کو اُسی دن یا اگلے دن کھائیں (‏احبار ۷:‏۱۵ ومابعد)‏۔ چنانچہ اُس کے پاس کافی اچھا کھانا ہے جس سے وہ اُس کی ضیافت اُڑا سکتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کسی مرد کے دل تک اُس کے معدے کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔ 

۷:‏۱۵ تب وہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اِسی کی تلاش میں تھی۔ یہ کس قدر جھوٹ ہے! وہ ہر ایک آنے والے شخص سے چمٹ جاتی ہے۔ لیکن لڑکے کو یہ تصور دیا گیا ہے کہ اُس کی اہمیت بہت زیادہ ہے‏، کوئی اُس کا قدردان ہے اور کوئی اُس کی چاہنے والی ہے۔ 

۷:‏۱۶‏،۱۷ وہ اپنے بستر کے بیان سے اپنی تجویز کے اشارے کی نسبت زیادہ کچھ کہتی ہے:‏ ’’ مَیں نے اپنے پلنگ پر کام دار غالیچے اور مصر کے سوت کے دھاری دار کپڑے بچھائے ہیں۔ مَیں نے اپنے بستر کو مُر اور عود اور دار چینی سے معطر کیا ہے۔‘‘ یہاں کی ہر شے اور انداز اُس کی شہوانی فطرت کو لبھاتی ہے۔ حتیٰ کہ اُس کے سونگھنے کی حس کو عطر کی خوشبو سے مسحور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

۷:‏۱۸ اب پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ اب وہ کھلے طور پر اُسے ہم بستری کے لئے دعوت دیتی ہے۔ نہایت محتاط طور پر منتخب الفاظ سے وہ یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ یہ سب کچھ بہت زیادہ قابلِ لذت ہے۔ 

۷:‏۱۹‏،۲۰ وہ یہ بتا کر اُسے نہتا کر دیتی ہے کہ اُس کا شوہر گھر میں نہیں اور وہ طویل عرصے کے لئے گھر میں نہیں ہو گا‏، کیونکہ وہ دُور کے سفر پر گیا ہے۔ وہ کافی عرصے کے لئے گھر سے باہر رہے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھ کافی بڑی رقم لے کر گیا ہے۔ وہ پورے چاند کے وقت تک گھر نہیں آئے گا۔ آیت ۹ میں تاریکی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عرصے کے لئے پورا چاند نہیں ہو گا۔ 

۷:‏۲۱ جوں جوں وہ باتیں کرتی ہے توں توں اُس مرد کی قوتِ مدافعت ختم ہوتی جاتی ہے۔ مزید چاپلوسی سے وہ اُسے بہکا لیتی ہے۔

۷:‏۲۲ وہ اُس عورت کے گھر جانے کے لئے فوری فیصلہ کرتا ہے۔ 

جب وہ اُس کے پیچھے ہو لیتا ہے تو بالکل ایسے لگتا ہے جیسے بیل نہ جانتے ہوئے ذبح ہونے کے لئے جاتا ہے۔ 

آیت کے دوسرے حصے ’’یا بیڑیوں میں احمق سزا پانے کو‘‘ کا مطلب واضح ہے کہ مظلوم بیڑیاں پہننے اور سزا کے لئے بغیر کسی مدافعت کے جا رہا ہے۔ 

۷:‏۲۳ ’’حتیٰ کہ تیر اُس کے جگر کے پار ہو جائے گا۔‘‘ اِن الفاظ کے درج ذیل معانی ہو سکتے ہیں:‏

  1. وہ طریقِ کار جس سے بیل کو ذبح کیا جاتا ہے یعنی چھری اُس کے پیٹ میں گھونپ دی جاتی ہے‏، لیکن یہ یہودیوں کا ذبح کرنے کا طریقہ نہیں تھا۔ 
  2. اِنسان کے جذبات کا شدت سے بھڑکنا۔
  3. اِنسان کے جسم میں بدچلنی کے نتائج۔ نوجوان کسبی کے پاس ایسے جاتا ہے جیسے پرندہ جال میں پھنس جاتا ہے اور اُسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اُسے اُس کی کتنی بڑی قیمت چکانا پڑے گی (‏مثلاً ایڈز یا جنسی بیماریاں)‏۔

۷:‏۲۴‏،۲۵ لہٰذا اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مصنف اپنے بیٹوں سے توجہ سے سننے کے لئے اپیل کرتا ہے۔ اُنہیں اپنے دل کو محفوظ رکھنا چاہئے تاکہ وہ اِس قسم کی کسی عورت سے تعلق نہ رکھیں۔ اُنہیں اپنے قدموں کی حفاظت کرنا چاہئے کہ وہ اُس کی راہوں کی طرف نہ جائیں۔ 

۷:‏۲۶‏،۲۷ جن لوگوں کو اُس نے تختہ مشق بنایا اُن کی فہرست بہت زیادہ طویل ہے۔ اُس نے بہت بڑے گروہ کو برباد کیا یا مار ڈالا ہے۔ 

جو شخص اُس کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ وہ پاتال کی طرف جانے والے راستے پر چلتا ہے۔ وہ موت کی کوٹھڑیوں کی طرف جاتا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے میرے بیٹے !میری باتوں کو مان اور میرے فرما ن کو نگاہ میں رکھ۔
۲ میرے فرمان کو بجالا اور زندہ رہ اور میری تعلیم کو اپنی آنکھ کی پتلی جٓان ۔
۳ اُنکو اپنے اُنگلیوں پر باندھ لے ۔اُنکو اپنے دِل کی تختی پر لکھ لے۔
۴ حکمت سے کہہ تو میری بہن ہے اور فہم کو اپنا رشتہ دار قراردے ۔
۵ تاکہ وہ تجھ کو پرائی عورت سے بچائیں یعنی ب یگا عورت سے جو چاپلوسی کی باتیں کرتی ہے
۶ کیونکہ میں نے اپنے گھر کی کھڑکی سے یعنی جھروکے میں سے باہر نگاہ کی
۷ اور میں نے ایک بے عقل جوان کو نادانوں کے درمیان دیکھا۔یعنی نوجوانون کے درمیان وہ مجھے نظر آیا
۸ کہ اُس عورت کے گھر کے پاس گلی کے موڑسے جٓارہا ہے اور اُس نے اُسکے گھر کا راستہ لیا ۔
۹ دِن چھپے شام کے وقت ۔رات کے اندھیرے اور تاریکی میں
۱۰ اور دیکھو !وہاں اُس سے ایک عورت آملی جو دِل کی چالاک اور کسبی کا لباس پہنےتھی ۔
۱۱ وہ غوغائی اور خود سر ہے۔اُسکے پاؤں اپنے گھر میں نہیں ٹکتے ۔
۱۲ ابھی وہ کوچوں میں ہے۔ابھی بازاروں میں اور ہر موڑ پر گھات میں بیٹھتی ہے۔
۱۳ سو اُس نے اُسکو پکڑکر چوما اور بے حیامنہ سے اُس سے کہنے لگی
۱۴ سلامتی کی قربانی کے ذبی مجھ پر فرض تھے۔آج میں نے اپنی نذریں ادا کی ہیں۔
۱۵ اِسی لئے میں تیری ملاقات کو نکلی کہ کسی طرح تیرا دِیدار حاصل کروں ۔سو تو مجھے مل گیا۔
۱۶ میں نے اپنے پلنگ پر کامدار غالیچےاور مصر کے سوت کے دھاری دار کپڑے بچھائے ہیں۔
۱۷ میں نے اپنے بستر کو مرا ور عود اور دار چینی سے معطر کیا ہے۔
۱۸ آہم صبح تک دِل بھر کر عشق بازی کریں اور محبت کی باتوں سے دِل بہلائیں ۔
۱۹ کیونکہ میرا شوہر گھر میں نہیں ۔اُس نے دُور کا سفر کیا ہے۔
۲۰ وہ اپنے ساتھ روپے کی تھیلی لے گیا ہےاور پورے چاند کے وقت گھر آیئگا ۔
۲۱ اُس نے میٹھی میٹھی باتوں سے اُسکوپُھسلا لیا اور اپنےلبوں کی چاپلوسی سے اُسکو بہکا لیا ۔
۲۲ وہ فوراً اسکے پیچھے ہو لیا۔جیسے ب ذبح ہونے کو جٓاتا ہے یا ب ڑوں میں احمق سزا پانے کو۔
۲۳ جیسے پرندہ جٓال کی طرف تیز جٓاتا ہےاور نہیں جٓانتا کہ وہ اُسکی جٓان کے لئے ہے۔حتی کہ تیراسکے جگر کے پار ہو جٓائیگا ۔
۲۴ سواب اے بیٹو!میری سنو اور میرے منہ کی باتوں پر توجہ کرو
۲۵ تیرا دل اسکی راہوں کی طرف مائل نہ ہو۔تو اسکے راستوں میں گمراہ نہ ہونا ۔
۲۶ کیونکہ اُس نے بہتوں کو زخمی کرکے گرا دیا ہے۔بلکہ اسکے مقتول بے شمار ہیں ۔
۲۷ اسکا گھر پاتال کا راستہ ہےاور موت کی کوٹھریوں کو جٓاتا ہے۔