اِمثال ۲۸

۲۸:‏۱ اندر احساسِ جرم ہو تو اِنسان ہلکی سی آواز پر چونک اُٹھتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کا ضمیر صاف ہوتا ہے اُنہیں کسی بات کا کھٹکا لگا نہیں رہتا۔ صادق شیر ببر کی مانند دلیر ہوتا ہے۔ 

۲۸:‏۲ جب کسی ملک میں خطاکاری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوتی ہے تو وہاں حکومتیں یکے بعد دیگرے بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن جب کوئی دیانت دار اور علم و بصیرت رکھنے والا شخص حکومت کرتا ہے تو ملک خوش حالی‏، ترقی اور اِستحکام کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ 

شمالی سلطنت (‏اسرائیل)‏ کے ۲۰۰ سال میں ۱۹ بادشاہوں نے حکومت کی یعنی کہ ہر بادشاہ نے اوسطاً دس سال حکومت کی۔ 

۲۸:‏۳ جب کوئی غریب آدمی ترقی کر کے کسی اِختیار و طاقت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اکثر وہ اُن لوگوں کی نسبت جو شروع ہی سے امیر ہوں اور صاحبِ اِختیار بن جائیں مسکینوں پر زیادہ سختی کرتا ہے۔ اُس کا حال موسلادھار مینہ کا سا ہے جو فصل کے لئے فائدہ مند ہونے کے بجائے کھیت کو جل تھل کر دیتا ہے یہاں تک کہ فصل تباہ ہو جاتی ہے۔ 

۲۸:‏۴ جو لوگ خدا کی شریعت اور ملکی قانون کو ترک کر دیتے ہیں وہ اکثر شریروں کی تعریف کرتے ہیں۔ اِس کے پیچھے بے شک اپنے غلط کاموں کو جائز قرار دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ اِن کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو شریعت کی پیروی کرتے ہیں اور یوں راست بازی کی زندگی گزارنے کی آواز بلند کرتے ہیں۔ 

۲۸:‏۵ شریر آدمی عدل سے واقف نہیں ہے۔ چونکہ وہ خود عدل و اِنصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے اِس لئے وہ اِسے سمجھ بھی نہیں پاتے۔ 

لیکن جو خداوند کی مرضی کے طالب ہوتے ہیں اُنہیں سمجھ بوجھ کی صلاحیت عطا کی جاتی ہے۔ سمجھ بوجھ اور اعلیٰ معیاری زندگی میں گہرا تعلق ہے (‏دیکھیں زبور ۱۱۹:‏۱۰۰)‏۔

۲۸:‏۶ ایک غریب شخص جو صاف ستھری دیانت داری کی زندگی گزارتا ہے اُس امیر آدمی سے بہتر ہے جو ٹیڑھی ترچھی راہوں پر چلتا ہے۔ دوسروں کے سامنے وہ اپنے آپ کو بڑا پاک باز ظاہر کرتا ہے مگر ہر طرح کے بُرے اور ٹیڑھے کام کرتا ہے۔ 

۲۸:‏۷ تعلیم پر عمل کرنے والا بیٹا سمجھ دار ہے‏، لیکن جو عیاش اور شرابی لوگوں کے ساتھ صحبت رکھتا ہے وہ باپ کے لئے رُسوائی کا باعث بنتا ہے۔ 

۲۸:‏۸ موسوی شریعت کے تحت عبرانی لوگوں کو اپنی قوم کے لوگوں سے سُود وصول کرنے کی اجازت نہ تھی‏، بے شک وہ غیر اقوام سے سود لے سکتے تھے (‏اِستثنا ۲۳:‏۱۹‏،۲۰)‏۔ آج کل کے دَور میں سُود سے مراد ناروا شرحِ منافع ہے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو سُود یا غیر قانونی منافع سے امیر بناتے ہیں اپنی دولت کھو بیٹھیں گے۔ اُن سے یہ دولت لے کر اُن کو دے دی جائے گی جو اُس کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا جانتے ہیں اور مسکینوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔ 

۲۸:‏۹ اگر کوئی خدا کی شریعت پر دھیان نہیں لگاتا اور نہ اُس کی اطاعت کرتا ہے تو خدا بھی اُس کی دعا نہیں سنے گا۔ حقیقت میں اُس کی دعا خدا کے نزدیک نفرت انگیز ہے۔

۲۸:‏۱۰ جو کوئی صادق کی آزمائش کرتا ہے کہ وہ گناہ میں گر جائے وہ خود ہی سزا کے گڑھے میں گر جائے گا۔ یسوع نے کیا خوب خبردار کیا ہے‏، ’’جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے جو مجھ پر ایمان لائے ہیں کسی کو ٹھوکر کھلاتا ہے اُس کے لئے یہ بہتر ہے کہ بڑی چکی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جائے اور وہ گہرے سمندر میں ڈبو دیا جائے‘‘ (‏متی ۱۸:‏۶)‏۔ 

’’لیکن کامل اچھی چیزوں کے وارث ہوں گے۔‘‘ یہاں ’کامل‘ سے مراد وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو دوسروں کی گناہ کی راہ کی بجائے پاکیزگی کی راہ پر راہنمائی کرتے ہیں۔ یا اِس سے مراد وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو گناہ کی آزمائش پر غالب آتے ہیں۔ 

۲۸:‏۱۱ امیر آدمی جو اپنی دھن دولت پر بڑا ناز کرتا ہے سمجھتا ہے کہ وہ بڑا دانا ہے۔ اپنی دولت پر ناز کر کے وہ اپنی نظر میں تو بڑا دانا ہو جاتا ہے مگر اُس کی یہ دانائی اُس کی بڑی خام خیالی ہے۔ اُس نے دولت اور حکمت کو خلط ملط کر دیا ہے۔ ایک غریب آدمی جس میں سمجھ بوجھ ہے وہ اِس خام خیالی کو بھانپ لیتا ہے۔ 

۲۸:‏۱۲ جب راست باز حکومت پر فائز ہوتے ہیں تو بڑی خوشی منائی جاتی ہے اور جب شریر فاتح ہوتا ہے تو ہر کوئی مارے خوف کے چھپ جاتا ہے۔ 

۲۸:‏۱۳ خدا ہمیں دو طرح سے معافی عنایت کرتا ہے۔ اوّل‏، جب ہم مسیح کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتے ہیں تو خدا بطور عادل منصف ہونے کے ہمارے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ بعد ازاں جب ہم خدا کے فرزند ہونے کے ناتے اپنے گناہوں کا اِقرار کرتے ہیں تو خدا بطور شفیق باپ ہمیں معاف کر دیتا ہے (‏۱۔یوحنا ۱:‏۹)‏۔ اِس سے خدا باپ سے ہماری رفاقت برقرار رہتی ہے۔ 

جو شخص اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے یعنی اُنہیں کھینچ کر خدا کی حضوری میں لانے اور خدا سے اُن کی معافی پانے بلکہ ہر اُس شخص کے معافی پانے کے لئے تیار نہیں ہوتا جس کا اُس نے گناہ کیا ہو‏، اُس کے لئے خدا کی طرف سے کوئی برکت نہیں۔ لیکن جو اُن کا اقرار کر کے اُنہیں ترک کرتا ہے اُس کے لئے خدا کا وعدہ یہ ہے کہ اُس کے گناہ معاف ہو جائیں گے بلکہ خدا اُنہیں کبھی یاد بھی نہ کرے گا (‏عبرانیوں ۱۰:‏۱۷)‏۔ 

۲۸:‏۱۴ خوش حال زندگی گزارنے کے لئے نرم دل کا ہونا ایک بنیادی شرط ہے۔ جو اپنا دل سخت کرتا ہے اور توبہ نہیں کرتا وہ مصیبت میں پڑ جاتا ہے۔ خدا گھمنڈیوں اور سخت دلوں کا مقابلہ کرتا ہے‏، مگر فروتن دلوں کو توفیق بخشتا ہے۔ 

۲۸:‏۱۵ مسکینوں پر ظلم کرنے والے شریر حاکم کو درندوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وہ گرجتے ہوئے شیر اور شکار کے طالب ریچھ کی مانند ہے۔

۲۸:‏۱۶ جس بے عقل حاکم کا ذِکر ہمیں یہاں ملتا ہے یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو ہر قیمت پر دولت مند بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہ بھی بڑا ظالم ہے کیونکہ وہ دوسروں کے حقوق کو کچل کر دولت اکٹھی کرتا ہے۔ لیکن وہ حاکم جو لالچ سے نفرت کرتا ہے اور خود غرضی سے پاک دوسروں کی بھلائی سوچنے والی زندگی گزارتا ہے لمبی عمر پائے گا۔

۲۸:‏۱۷ قاتل بھگوڑا ہے‏، یعنی وہ اپنے انجام کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی اُس کا راستہ نہیں روکنا چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں کسی کو بھی اِنصاف کے راستے میں نہیں آنا چاہئے۔ ’’جو آدمی کا خون کرے اُس کا خون آدمی سے ہو گا‘‘ (‏پیدائش ۹:‏۶)‏۔

۲۸:‏۱۸ یہاں رہائی سے مراد زندگی میں آنے والے نقصانات سے رہائی ہے‏، نہ کہ ابدی ہلاکت سے رہائی۔ گناہوں کی سزا سے اَبدی نجات راست رَوی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سے ہوتی ہے۔ راست رَوی اُس نجات کا ثمر ہے جو ہمیں مسیح میں حاصل ہوتی ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی صداقت کی راہ پر چلے گا وہ زندگی میں آنے والے کئی پھندوں سے بچا رہے گا۔ 

وہ شخص جو ایک قسم کی کج رَوی سے دوسری قسم کی کج رَوی میں پھنستا جاتا ہے ناگہان گر پڑے گا۔ 

۲۸:‏۱۹ اِس مثل میں وافر خوراک کا موازنہ وافر غربت سے کیا گیا ہے۔ محنتی کسان کے ہاں خوراک کی کثرت ہو گی‏، لیکن جو کھوکھلی‏، غیر موثر سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے وہ غربت سے دوچار ہو گا۔ 

۲۸:‏۲۰ دیانت دار آدمی اپنے کاموں میں ہیرا پھیری نہیں کرتا اور نہ دولت کا لالچی ہے۔ اِسی لئے وہ برکتوں سے معمور ہو گا۔ لیکن جو بددیانتی کے ذرائع استعمال کر کے جلدی جلدی امیر ہونے کی کوشش کرتا ہے سزا پائے گا۔ 

۲۸:‏۲۱ اگر منصف جانب داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اُس کا یہ فعل بے اِنصافی کے زمرے میں آئے گا۔ کتنی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ آدمی روٹی کے ٹکڑے کی خاطر ایسا ہی کرتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اِنسان زندگی کی معمولی سی ضرورت کے پیشِ نظر بددیانتی جیسے جرم کا اِرتکاب کرتا ہے۔ 

۲۸:‏۲۲ ایک کنجوس‏، تنگ نظر اِنسان امیر ہونے کے پیچھے بھاگتا ہے‏، لیکن یہ نہیں سمجھتا کہ بہت جلد غربت اُسے آ دبائے گی۔ 

۲۸:‏۲۳ جب کوئی محبت کرنے والا دوست آپ کو سرزنش کرتا ہے تو اُس وقت اُس کی سرزنش بڑی بُری معلوم ہوتی ہے‏، کیونکہ اِس سے آپ کی عزت کو صدمہ پہنچتا ہے۔ بعدازاں خیال کرنے سے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ چونکہ اُسے آپ کی فکر ہے اِسی لئے تو اُس نے آپ کی غلطیوں کی نشان دہی کی ہے۔ نتیجے میں آپ اُس کے شکرگزار ہوتے ہیں۔

ممکن ہے خوشامد بعض اوقات بڑی اچھی معلوم ہو‏، لیکن آخرِکار آپ جان جاتے ہیں کہ وہ سچ نہیں تھا‏، بلکہ خوشامد کرنے والا آپ سے محض فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ غالباً وہ ہر ملنے والے کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے۔ 

۲۸:‏۲۴ وہ فرزند جو اپنے والدین کو لُوٹتا ہے یہ وجہ بیان کر سکتا ہے کہ آخرِکار تو یہ دولت مجھے ہی ملنی ہے یا یہ کہ اُس نے وہ چیز خدا کو نذر کر دی ہے (‏مرقس ۱۱:‏۷)‏۔ یوں وہ اپنے آپ کو تو دھوکا دے سکتا ہے‏، مگر خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ خدا ایسے شخص کو قاتلوں اور غارت گروں کا ساتھی کہتا ہے۔ 

۲۸:‏۲۵ لالچی شخص جھگڑا شروع کرتا ہے۔ وہ یہ کام شاید امیر بننے یا اِختیار حاصل کرنے کی کوشش میں سب کو ایک طرف دھکیل کر کرتا ہے (‏دیکھیں یعقوب ۴:‏۱)‏۔ اِس کے برعکس خدا کا خوف رکھنے والا شخص اِطمینان اور سکون حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ 

۲۸:‏۲۶ جو اپنی زندگی کے معاملات میں راہنمائی کے لئے اپنی حکمت پر بھروسا کرتا ہے بڑا بے وقوف ہے۔ یوں سمجھیں کہ وہ اپنی کشتی کا لنگر کشتی کے اندر ہی پھینکتا ہے‏، اِسی لئے لگاتار کامیابی سے دُور ہوتا جائے گا۔ لیکن جو راہنمائی کے لئے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے دانائی سے چلتا ہے (‏دیکھیں یرمیاہ ۹:‏۲۳‏،۲۴)‏۔

۲۸:‏۲۷ جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے خدا تعالیٰ اُسے اِس کا صلہ دے گا۔ جو حقیقی ضرورت مند سے آنکھ چراتا ہے وہ بہت دُکھ اُٹھائے گا۔ 

۲۸:‏۲۸ جب شریر صاحبِ اِختیار بن جاتا ہے تو لوگ خوف کے مارے چھپ جاتے ہیں۔ لیکن جب شریر کا تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے تو صادق ترقی کرتے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اگر چہ کوئی شریر کا پیچھا نہ کرے تو بھی وہ بھاگتا ہے لیکن صادق شیر ببر کی مانند دلیر ہے۔
۲ ملک کی خطا کاری کے سبب سے حاکم بہت سے ہیں لیکن صاحب علم وفہم سے اِنتظام بحال رہیگا۔
۳ مسکین پر ظلم کرنے والا کنگال موسلا دھار مینہ ہے جو ایک دانہ بھی نہیں چھوڑتا ۔
۴ شریعت کو ترک کرنے والے شریروں کی تعریف کرتے ہیں لیکن شریعت پر عمل کرنے والے اُنکا مقابلہ کرتے ہیں۔
۵ شریر عدل سے آگاہ نہیں لیکن خداوند کے طالب سب کچھ سمجھتے ہیں۔
۶ راست رو مسکین کجرو دولتمند سے بہتر ہے۔
۷ تعلیم پر عمل کرنے والا دانا بیٹا ہے لیکن مسرفوں کا ہمنشین اپنے باپ کو رسوا کرتا ہے۔
۸ جو نا جٓائز سود اور نفع سے اپنی دولت بڑھاتا ہے وہ مسکینوں پر رحم کرنے والے کے لئے جمع کرتا ہے ۔
۹ جو کان پھیر لیتا ہے کہ شریعت کو نہ سنے اُسکی دعا بھی نفرت انگیز ہے۔
۱۰ جو کوئی صادق کو گمراہ کرتا ہے تاکہ وہ بری راہ پر چلے وہ اپنے گڑھے میں آپ ہی گر یگا لیکن کاہل لوگ اچھی چیزوں کے وارِث ہونگے ۔
۱۱ مالدار اپنی نظر میں دانا ہے لیکن عقلمند مسکین اُسے پرکھ لیتا ہے۔
۱۲ جب صادق فتحیاب ہوتے ہیں تو بڑی دھوم دھام ہوتی ہے لیکن جب شریر برپا ہوتے ہیں تو آدمی ڈھونڈے نہیں ملتے ۔
۱۳ جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو اُنکا اِقرار کرکے اُنکو ترک کرتا ہے اُس پر رحمت ہوگی۔
۱۴ مبارک ہے وہ آدمی جو سدا ڈرتا رہتا ہے لیکن جو اپنے دِل کو سخت کرتا ہے مصیبت میں پڑیگا ۔
۱۵ مسکینوں پر شریر حاکم گرجتے ہوئے شیراور شکار کے طالب ریچھ کی مانند ہے۔
۱۶ بے عقل حاکم بھی بڑا ظالم ہے لیکن جو لالچ سے نفرت رکھتا ہے اُسکی عمر دراز ہوگی ۔
۱۷ ج س کے سر پر کسی کا خون ہے وہ گڑھے کی طرف بھاگیگا ۔اُسے کوئی نہ روکے۔
۱۸ جو راست رو ہے رہائی پایئگالیکن کجرو ناگہان گر پڑیگا۔
۱۹ جو اپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہوگا لیکن بطالت کا پیرو بہت کنگال ہوجٓائیگا ۔
۲۰ دیانتدار آدمی برکتوں سے معمور ہوگا لیکن جو دولتمند ہونے کے لئے جلدی کرتا ہے بے سزا نہ چھوٹیگا۔
۲۱ طرفداری کرنا خوب نہیں اور نہ یہ کہ آدمی روٹی کے ٹکڑے کے لئے گناہ کرے ۔
۲۲ تنگ چشم دولت جمع کرنے میں جلدی کرتا ہے اور یہ نہیں جٓانتا کہ افلا س اُسے آدبا یئگا۔
۲۳ آدمی کو سرزنش کرنے والا آخرکار زبانی خوشامد کرنے والے سے زیادہ مقبول ٹھہر یگا۔
۲۴ جو کوئی اپنے والدین کو لوٹتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ گناہ نہیں وہ غارت گر کا ساتھی ہے ۔
۲۵ جس کے دِل میں لالچ ہے وہ جھگڑا برپا کرتا ہے لیکن جس کا توکل خداوند پر ہے وہ فربہ کیا جٓایئگا۔
۲۶ جو اپنے ہی دِل پر بھروسا رکھتا ہے بیوقوف ہے لیکن جو دانائی سے چلتا ہے رہائی پائیگا ۔
۲۷ جو مسکینوں کو دیتا ہے محتاج نہ ہوگا لیکن جو آنکھ چراتا ہے بہت ملعون ہوگا۔
۲۸ جب شریر برپاہوتے ہیں تو آدمی ڈھونڈے نہیں ملتے لیکن جب وہ فنا ہوتے ہیں تو صادق ترقی کرتے ہیں۔