اِمثال ۱۱

۱۱:‏۱ دغاباز تاجر بعض اوقات دو طرح کے باٹ رکھتے تھے‏، ایک طرح کے خریدنے کے لئے اور دوسری طرح کے بیچنے کے لئے۔ خریدنے والے باٹ اپنے اصلی وزن کی نسبت بھاری ہوتے تھے‏، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکے۔ معیاری باٹوں کی نسبت بیچنے والے باٹ ہلکے ہوتے تھے‏، تاکہ گاہک نے جتنی قیمت دی ہے‏، اُس کی نسبت اُسے کم مل سکے۔ 

۱۱:‏۲ زوال سے قبل تکبر ہے اور اُس کے بعد زوال سے منسلک رسوائی ملتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں خاکساری میں ٹھوکر کھانے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ 

۱۱:‏۳ دیانت داری سب سے بہترین حکمتِ عملی ہے۔ راست بازوں کی راستی‏، صحیح راستے پر اُن کی راہنمائی کرے گی‏، یوسف کا تجربہ اِس کی مثال ہے۔ دغابازوں کی کج رَوی اُن کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ بلعام کی زندگی اِس کی تصدیق کرتی ہے۔ 

۱۱:‏۴ دولت خدا کے غضب کو نہ تو اِس دَور میں اور نہ ابدیت ہی میں ٹال سکتی ہے۔ صداقت قبل از وقت موت کے لئے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اور صرف راست بازی کا جامہ پہننے والے دوسری موت سے بچیں گے۔ 

۱۱:‏۵ صداقت راست باز کی راہنمائی کرے گی‏، یہ اُس کی مثالی راہنما ہے۔ شریر اپنی ہی شرارت کے باعث گر جائے گا۔ 

۱۱:‏۶ صداقت نہ صرف نیک اِنسان کی راہنمائی کرے گی‏، بلکہ یہ اُسے دیکھی اور اَن دیکھی مصیبتوں سے بھی رہائی بخشے گی۔ یہوداہ جیسے برگشتہ لوگ اپنی ہی خواہشوں اور لالچ میں پھنس جائیں گے۔ 

۱۱:‏۷ کہا جاتا ہے کہ احمق ایک ایسا شخص ہے جس کے سارے منصوبے قبر پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اُس وقت اُس کی ساری اُمیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جن چیزوں کے لئے وہ زندہ رہا‏، اب اُس کی نہیں رہیں اور اُس کی خوش حالی کی ساری توقعات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاتی رہیں۔ 

۱۱:‏۸ خدا صادق کو مصیبت سے مخلصی دیتا ہے اور اُس کے بجائے اُس مصیبت کو شریر پر نازل کر دیتا ہے۔ یوں تین عبرانیوں کو آگ کی بھٹی سے مخلصی ملی‏، لیکن اُنہیں سزائے موت دینے والے آگ سے جل گئے (‏دانی ایل ۳:‏۲۲۔۲۶)‏۔ 

۱۱:‏۹ برگشتہ اور ریاکار شخص اپنے پڑوسی کے ایمان کو شکوک اور اِنکار کے اِظہار سے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس کے برعکس سچائی کے علم سے راست باز‏، جعلسازی کو ڈھونڈ نکالتا ہے اور یوں اپنے آپ اور دوسروں کو بربادی سے بچا لیتا ہے۔ 

۱۱:‏۱۰ دو موقعوں پر شہر کے لوگ خوشی مناتے ہیں یعنی جب صادق خوش حال ہوتے اور جب شریر ہلاک ہوتے ہیں۔ 

۱۱:‏۱۱ راست باز شہر کے لئے یوں باعثِ برکت ہیں کہ وہ اِس کے لئے دعا کرتے ہیں (‏۱۔تیمتھیس۲:‏۱‏،۲)‏ یا اُن کے وجود اور دین دارانہ اثر سے شہر کو فوائد حاصل ہوتے ہیں (‏مقابلہ کریں یسوع کے پیروکار جو زمین کے نمک ہیں۔ متی ۵:‏۱۳)‏۔

شریر کی فریب دہی‏، عہدشکنی‏، دھوکا اور دین کی بے حرمتی‏، کسی بھی مقامی حکومتی کو برباد کرنے کے لئے کافی ہیں۔ 

۱۱:‏۱۲ اپنے پڑوسی کی تحقیر کرنے والا بے عقل ہے‏، لیکن صاحب فہم خاموش رہتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی تحقیر کرنا خدا کی بے عزتی کرنا ہے۔ کسی کو دُکھ دینا جھگڑا برپا کرنا ہے اور یوں کسی کی مدد نہیں ہوتی۔ صاحبِ فہم جانتا ہے کہ اگر وہ کوئی تعمیری بات نہ کہہ سکے تو بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے۔ 

۱۱:‏۱۳ لُترا پن کرنے والا‏، بہتان کو اِدھر اُدھر پھیلانے‏، دوسروں کو خبریں دینے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ وہ کوئی راز رکھ نہیں سکتا بلکہ جو کچھ اُسے پتا ہوتا ہے وہ دوسروں کو بتا دیتا ہے۔ 

ایک وفادار دوست اعتماد کو قائم رکھنے اور اِدھر اُدھر باتیں پھیلانے سے گریز کرنا جانتا ہے۔ 

۱۱:‏۱۴ دانش مند قیادت اور تدبر کے بغیر لازماً لوگ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سارے نیک صلاح کاروں کے متفقہ فیصلے میں سلامتی ہے۔ 

۱۱:‏۱۵ کسی اجنبی کا ضامن ہونے کا مطلب اُس کے قرض کی ضمانت دینا یا اُس کے لئے قرض کی ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ اِس سے نقصان اُٹھائے گا یعنی اُسے سخت جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ جو شخص ضمانت دینے سے نفرت کرتا ہے وہ اپنے آپ کو کئی طرح کی سر دردی سے بچاتا ہے۔ دیکھیں ۶:‏۱۔۵ پر دی ہوئی تفسیر۔

۱۱:‏۱۶ ایک نیک سیرت عورت عزت اور وقار حاصل کرتی ہے جیسا کہ ابی جیل کے سلسلے میں دیکھا جاتا ہے (‏۱۔سموئیل ۲۵ باب)‏۔ تند خو لوگ گو بہت سا مال حاصل کر لیتے ہیں لیکن وہ کبھی نیک نامی نہیں حاصل کر سکتے۔ 

۱۱:‏۱۷ ہمارا مزاج ہماری صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رحم دل شخص بدہضمی‏، مرگی‏، انتڑیوں کے السر اور دل کی تکلیف سے بچ جاتا ہے‏، لیکن ظالم شخص اِن بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

ایک طبی جریدے میں یہ لکھا تھا کہ اِنسانی جسم میں ہر ایک خلیہ کا اُس کی روح یا مزاج سے گہرا تعلق ہے۔ ظالم کا مزاج اُس کے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایسے مراج والا شخص اپنے جسم کو دُکھ دیتا ہے۔ 

۱۱:‏۱۸ شریر کی کمائی باطل ہے لیکن صداقت بونے والا حقیقی اجر پاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ شریر کبھی کبھی راتوں رات امیر ہو جاتے ہیں‏، لیکن اُن کی دولت اِطمینان بخش اور دیرپا نہیں ہوتی اور جب اُنہیں اُس کی سخت ضرورت ہوتی ہے تو یہ اُن کی مدد نہیں کرتی۔ راست باز زندگی کا اجر حقیقی اور دائمی ہوتا ہے۔ 

۱۱:‏۱۹ ہر طرح کا رویہ یا تو زندگی یا موت کی طرف لے جاتا ہے۔ تاہم یہ مثلاً نیک کاموں کے ذریعے نجات نہیں دیتی۔ جب تک کسی شخص کے خدا سے تعلقات درست نہ ہوں اور وہ راست بازی میں قائم نہیں رہ سکتا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ نیا مخلوق ہو۔ بدی کا پیرو اِس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اُس کی زندگی کبھی تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ 

۱۱:‏۲۰ خداوند کے نزدیک جھوٹا دل مکروہ ہے۔ وہ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے جو دیانت دار ہو۔ خدا کے بارے میں کوئی نظریہ بھی درست نہیں جب تک اِس میں یہ حقیقت شامل نہ ہو کہ وہ نفرت بھی کر سکتا ہے اور محبت بھی۔ 

دوسری طرف اُس کی خوشنودی بے الزام شخص میں ہے۔ 

۱۱:‏۲۱ اِس غیر یقینی دُنیا میں شریر کی سزا اور صادق کی نسل کی رہائی یقینی ہے۔ 

۱۱:‏۲۲ سؤر کی ناک میں سونے کی نتھ جچتی نہیں۔ اُس کی ناک بھدی ہے جبکہ نتھ خوبصورت ہے۔ خوبصورت لیکن بے تمیز عورت میں دو متضاد چیزوں …یعنی جسمانی خوبصورتی اور اخلاقی کمی کا اتحاد ہے۔ 

۱۱:‏۲۳ صادق صرف نیکی کے خواہش مند ہوتے اور وہ اُسے حاصل کر لیتے ہیں۔ شریر بدی کے متلاشی ہوتے ہیں اور یہ اُنہیں غضب اور سزا کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ 

اِس مثل میں نیک مقاصد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کیونکہ زندگی میں جس چیز کا پیچھا کرتے ہیں اُسے حاصل کر لیتے ہیں۔ 

۱۱:‏۲۴ یہاں پر بہت خوبصورت موازنہ ہے۔ ہم فیاضی سے اپنے آپ کو دولت مند بناتے ہیں۔ ہم زمین پر مال جمع کرنے سے کنگال ہوتے ہیں۔ 

جو کچھ ہم بچاتے ہیں اُسے ہم کھو دیتے ہیں۔ جو کچھ ہم دیتے ہیں‏، اُسے ہم بچاتے ہیں۔ 

ڈاکٹر بارن ہاؤس کا مشاہدہ ہے کہ ہر شخص دہ یکی دیتا ہے‏، یا تو خداوند کو یا ڈاکٹر کو‏، دندان ساز کو یا پھر موٹر مکینک کو۔ 

۱۱:‏۲۵ فیاض دل ایسا منافع حاصل کرتا ہے جس کو کنجوس شخص نہیں جانتا۔ جو کچھ ہم دوسروں کے لئے کرتے ہیں وہ ہمیں برکتوں کی صورت میں واپس مل جاتا ہے۔

جب سنڈے سکول کی اُستانی اپنے اسباق بڑی محنت سے تیار کرتی اور پھر اپنی جماعت کو پڑھاتی ہے تو آپ کے خیال میں کون اِس سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرے گا __ طالب علم یا اُستانی؟

۱۱:‏۲۶ خود غرض شخص قحط کے ایام کے لئے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تاکہ قیمتیں بڑھنے سے زیادہ منافع حاصل کر سکے۔ وہ دوسروں کو غریب تر کر کے اور اُنہیں بھوکا رکھنے سے اپنے آپ کو دولت مند بناتا ہے۔ وہ منافع خور ہے۔ کیا عجب کہ لوگ اُس پر لعنت بھیجیں گے۔ اُنہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو اب اُن کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ 

یہ دُنیا زندگی کی روٹی کے لئے مر رہی ہے۔ یہ روٹی مفت ہے اور ہمیشہ مفت ہی رہے گی۔ یہ روٹی ہمارے پاس ہے تاکہ اِسے دوسروں میں تقسیم کریں۔ ہم کس بات کا اِنتظار کر رہے ہیں؟ جو غلہ بیچتا ہے اُس کے سر پر برکت ہو گی یعنی وہ جو اِنجیل کی خوش خبری دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ 

۱۱:‏۲۷ جب کسی شخص کے مقاصد پاک اور بے غرض ہیں تو وہ لوگوں میں مقبول ہو گا۔ لیکن جو شخص دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہے‏، وہ دراصل اپنے لئے بدی کا بیج بوتا ہے۔ 

۱۱:‏۲۸ اِس مثل کے متبادل عہد جدید میں ۱۔تیمتھیس ۶:‏۱۷۔۱۹ میں موجود ہے۔ دولت بے یقینی ہے اِس لئے اُس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا اعتقاد زندہ خدا پر ہونا چاہئے جو لطف اندوز ہونے کے لئے ہمیں تمام چیزیں کثرت سے دیتا ہے۔ 

صادق یعنی خداوند پر بھروسا رکھنے والے ہرے پتوں کی طرح زندگی‏، زور اور تازگی کے ساتھ ترقی کریں گے۔ 

۱۱:‏۲۹ کئی طرح کے ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی گھر کے لئے مصیبت کا باعث ہیں مثلاً شرابی‏، خبطی اور زناکار۔ لیکن یہاں غالباً اُس شخص کا ذِکر ہے جو نفع کا لالچی ہے (‏دیکھیں ۱۵:‏۲۷)‏‏، جو دولت کی ہوس میں زندگی کی اقدار کو کھو دیتا ہے۔ وہ ہوا کا وارث ہو گا یعنی بالآخر اُسے کوئی چیز حاصل نہیں ہو گی جو اُس کی ہوس پوری کر سکے۔ اُس کے احمق ہونے کی سزا یہ ہو گی کہ وہ اُس شخص کا خادم بنے گا جو عقل مندی سے کام کرتا ہے۔ 

۱۱:‏۳۰ ایک راست باز کی زندگی پھل دینے والے درخت کی سی ہے‏، جو دوسروں کے لئے قوت اور تازگی کا باعث ہے۔ 

روحوں کو جیتنے والوں کے لئے یہ ایک بہترین آیت ہے۔ یہ آیت اُس وعدے کی یاد دلاتی ہے جو یسوع نے پطرس سے کیا:‏ ’’اب سے تُو آدمیوں کا شکار کیا کرے گا‘‘ (‏لوقا ۵:‏۱۰)‏۔ یہ کس قدر عظیم استحقاق ہے کہ خدا ہمیں اِنسانی زندگیوں میں کام کرنے کے لئے استعمال کرے جس کا نتیجہ ابدی برکت ہو گا۔ خداوند کے لئے جیتی ہوئی ہر روح خدا کے برّے کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پرستش کرے گی۔ 

۱۱:‏۳۱ صادقوں کو بھی اُن کے بُرے کاموں کے لئے اِس دُنیا میں ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ موسیٰ کو موعودہ ملک سے خارج کر دیا گیا اور داؤد کو چوگنا ادا کرنا پڑا۔ اگر صادق جو بوتے ہیں سو کاٹتے ہیں‏، تو شریر اور گناہ گار کو اِس سے کہیں زیادہ بدلہ دیا جائے گا‏، یا جیسا کہ پطرس نے کہا ہے‏، ’’جب راست باز ہی مشکل سے نجات پائے گا تو بے دین اور گناہ گار کا کیا ٹھکانا؟‘‘ (‏۱۔پطرس ۴:‏۱۸)‏۔ 

مقدس کتاب

۱ دغا کے ترازوسے خداوند کو نفرت ہےلیکن پورا باٹ اُسکی خوشی ہے۔
۲ تکبر کے ہمراہ رسوائی آتی ہےلیکن خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے۔
۳ راستبازوں کی راستی انکی راہنما ہو گی لیکن دغا بازوں کی کجروی اُنکو برباد کریگی ۔
۴ قہر کے دن مال کام نہیں آتا لیکن صداقت موت سے رہائی دیتی ہے۔
۵ کامل کی صداقت اُسکی راہنمائی کریگی لیکن شریر اپنی ہی شررات سے گرپڑیگا۔
۶ راستبازوں کی صداقت انکو رہائی دیگی لیکن دغاباز اپنی ہی بد نیتی میں پھنس جٓا یئنگے ۔
۷ مرنے پر شریر کی توقع خاک میں مل جٓاتی ہےاور ظالموں کی امید نیست ہو جٓاتی ہے۔
۸ صادق مصبیت سے رہائی پاتا ہے اور شریر اس میں پڑجٓاتا ہے۔
۹ بے دین اپنی باتوں سے اپنے پڑوسی کو ہلاک کرتا ہےلیکن صادق علم کے ذریعہ سے رہائی پایئگا ۔
۱۰ صادقوں کی خوشحالی سے شہر خوش ہوتا ہےاور شریروں کی ہلاکت پر خوشی کی للکار ہوتی ہے
۱۱ راستبازوں کی دعاسے شہر سرفرازی پاتاہے لیکن شریروں کی باتوں سے برباد ہوتا ہے
۱۲ اپنے پڑوسی کی تحقیر کرنے والا بے عقل ہے لیکن صاحب فہم خاموش رہتا ہے۔
۱۳ جو کوئی لتراپن کرتا پھرتا ہے راز فاش کرتا ہے لیکن ج س میں وفا کی روح ہے وہ راز دار ہے ۔
۱۴ نیک صلاح کے بغیر لوگ تباہ ہوتے ہیں لیکن صلا حکاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
۱۵ جو بغیانہ کا ضامن ہوتا ہے سخت نقصان اُٹھایئگا لیکن جس ضمانت سے نفرت ہے وہ بے خطر ہے
۱۶ نیک سیرت عورت عزت پاتی ہے اور تند خوآدمی مال حاصل کرتے ہیں ۔
۱۷ رحمدل اپنی جٓان کے ساتھ نیکی کرتا ہےلیکن بےرحم اپنے جسم کو دکھ دیتا ہے۔
۱۸ شریر کی کمائی باطل ہے لیکن صداقت بونے والا حقیقی اجر پاتا ہے ۔
۱۹ صداقت پر قائم رہنے والا زندگی حاصل کرتا ہے اور بدی کا پیرواپنی موت کو پہنچتا ہے۔
۲۰ کج دلوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن کامل رفتار اُسکی خوشنودی ہیں۔
۲۱ یقیناًشریر بے سزا نہ چھوٹیگا لیکن صادقوں کی نسل رہائی پایئگی ۔
۲۲ بے تمیز عورت میں خوبصورتی گویا سوار کی ناک میں سونے کی نتھ ہے۔
۲۳ صادقوں کی تمنا صرف نیکی ہےلیکن شریروں کی اُمید غضب ہے۔
۲۴ کوئی تو بتھراتا ہے پر تو بھی ترقی کرتا ہے اور واجب خرچ سے دریغ کرتا ہے پر توبھی کنگال ہے۔
۲۵ فیاض دل موٹا ہوجٓایئگا اور سیراب کرنے والا خود بھی سیراب ہوگا ۔
۲۶ جو غلہ روک رکھتا ہے لوگ اس پر لعنت کرینگے لیکن جو اُسے بیچتا ہے اسکے سر پر برکت ہو گی ۔
۲۷ جو دل سے نیکی کی تلاش میں ہے مقبولیت کا طالب ہے لیکن جو بدی کی تلاش میں ہے وہ اُسی کےآگے آیئگی ۔
۲۸ جو اپنے مال پر بھروساکرتا ہے گر پڑیگا لیکن صادق ہرے پتوں کی طرح سرسبز ہونگے ۔
۲۹ جو اپنے گھرانے کو دکھ دیتا ہے ہوا کا وارث ہوگا اور احمق دانا دل کا خادم بنیگا ۔
۳۰ صادق کا پھل حیات کا درخت ہے اور جو دانشمند ہے دِلوں کو موہ لیتاہے۔
۳۱ دیکھ صادق کو زمین پر بدلہ دیا جٓایئگا تو کتنا زیادہ شریر اور گنہگار کو!