۱۲:۱ جو شخص تربیت اور علم کو قبول کرتا ہے وہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فی الحقیقت سیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن جو شخص تنبیہ کا اِنکار کرتا ہے وہ احمق ہے۔
۱۲:۲ بااخلاق شخص خداوند کا منظورِ نظر ہو گا۔ لیکن بُرے منصوبے باندھنے والے شخص کو وہ ردّ کرے گا۔
۱۲:۳ شرارت کی زندگی بسر کرنے والوں میں اِستحکام و پائیداری نہیں۔ وہ اُس بیج کی مانند ہیں جو پتھریلی زمین پر گرا (متی ۱۳:۵،۶)۔ گہری مٹی نہ ملنے کی وجہ سے وہ جڑ نہ پکڑ سکا اور بیج اُگا تو سہی لیکن جلد ہی سوکھ گیا۔
ایک راست باز شخص کی جڑیں خداوند میں گہری ہیں۔ جب زندگی کے طوفان آئیں گے تو وہ قائم رہے گا۔ اِس شخص کا زبور ۱:۳ میں ذِکر کیا گیا ہے۔
۱۲:۴ نیک سیرت عورت اپنے شوہر کے لئے خوشی اور شادمانی کا باعث ہے۔ لیکن جو اپنے خاوند کی ذلت کا باعث بنتی ہے وہ اُس کا سر شرم سے جھکا دیتی ہے۔ یہ اُس کے لئے ہڈیوں کی بوسیدگی کی مانند ہے۔
۱۲:۵ صادقوں کے مقاصد راست اور قابل تعظیم ہیں، لیکن شریروں کے منصوبے بُرے ہیں۔ یعنی اِنسان کے مقاصد اُس کے کردار کے آئینہ دار ہیں۔
۱۲:۶ شریر اپنی باتوں سے معصوم اور غیر محتاط لوگوں کا خون بہانے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن راست باز شخص سچ بولنے سے اپنے آپ کی اور دوسروں کی رہائی کا باعث بنتے ہیں۔
۱۲:۷ جب اِنصاف شریروں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو وہ ختم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ دین دار لوگوں کی بنیاد اچھی ہے اور مصیبت اُنہیں ہلا نہیں سکے گی۔
۱۲:۸ لوگ عقل مند اور صاحبِ بصیرت کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ وہ بے اصول شخص کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
۱۲:۹ ’’جو چھوٹا سمجھا جاتا ہے لیکن اُس کے پاس ایک نوکر ہے، اُس سے بہتر ہے جو اپنے آپ کو بڑا جانتا اور روٹی کا محتاج ہے۔‘‘ اگر کسی کو ادنیٰ مقام حاصل ہو لیکن اُس کے دستر خوان پر روٹی ہو تو یہ اُس سے بہتر ہے جو اپنے آپ کو بڑا جتاتا ہے لیکن بھوکا مرتا ہے۔
۱۲:۱۰ صادق اپنے بے زبان چوپائے پر بھی رحم دل ہے، لیکن شریر اُس وقت بھی ظالم ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ رحم دل تصور کرتا ہے۔
گو خدا بہت زیادہ بلند و برتر ہے، لیکن اُسے جانوروں کی بھی فکر ہے۔ بلکہ وہ اُن کے لئے بھی قانون وضع کرتا ہے (خروج ۲۰:۱۰؛ ۲۳:۴،۵)۔ حتیٰ کہ وہ پرندے کے گھونسلے کے لئے بھی قانون بناتا ہے استثنا ۲۲:۶)۔
۱۲:۱۱ اگر کوئی شخص کھیتی باڑی جیسا مثبت اور تعمیری کام کرتا ہے، تو اُس کی ضروریات پوری ہوں گی۔ لیکن جو شخص بے سود کاموں کے پیچھے بھاگتا ہے، نہ صرف اُس کی جیب خالی ہو گی، بلکہ اُس کا دماغ بھی عقل سے خالی ہے۔
۱۲:۱۲ بدکرداروں کے دام کا مطلب ہے جو کچھ بدی کے جال میں پکڑا جاتا ہے، یعنی جو کچھ دوسروں سے ناراستی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں شریر اُن چیزوں کے مشتاق ہیں جو دوسروں کی ملکیت ہیں۔
لیکن اِس کے برعکس صادق خاموشی سے اپنی ضروریات کے پورا ہونے سے مطمئن ہے۔
۱۲:۱۳ بے دین لوگ اکثر اپنی ہی باتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ ایک جھوٹے شخص کے لئے لازم ہے کہ اُس کا حافظہ تیز ہو، ورنہ اُس کے بیان آپس میں نہیں ملیں گے۔ اور اُسے اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے اَور جھوٹ بولنا پڑے گا۔
صادق مصیبت سے بچ نکلے گا۔ خدا یہ وعدہ نہیں کرتا کہ اُس کے لوگوں پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی بلکہ وہ مصیبت سے بچ نکلیں گے۔
۱۲:۱۴ اچھی گفتار اور اچھے کردار کا اپنا اجر ہے۔ عقل مندی، تحمل اور درست گفتگو کا اجر محبت، حمایت اور عزت کی صورت میں ملے گا۔ نیک کام، برکت کی صورت میں واپس آتے ہیں۔
۱۲:۱۵ آپ احمق کو کوئی بات نہیں بتا سکتے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ آپ کی بات نہیں سنے گا۔ لیکن عقل مند شخص نصیحت کو قبول کرے گا۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ ایک شخص کے لئے کسی مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔
۱۲:۱۶ احمق اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکتا۔ وہ چھوٹی سی بات پر مشتعل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہوشیار شخص بے عزتی کو نظر انداز کرنا اور اپنے آپ پر قابو پانا جانتا ہے۔
۱۲:۱۷ سچ بات کہنے والا عدالت میں سچی گواہی دے گا۔ ایک جھوٹا گواہ جھوٹ بولے گا۔
۱۲:۱۸ بعض لوگ اپنی زبانوں کو تلوار کی طرح استعمال کرتے ہوئے دوسروں پر کیچڑ اُچھالتے اور اُنہیں زخمی کر دیتے ہیں۔ لیکن دانش مند کی باتیں صحت بخش ہیں، یعنی یہ اُن زخموں کو مند مل کرتی ہیں جو نادانی کی باتیں کرنے والے کی طرف سے لگے ہیں۔
۱۲:۱۹ سچائی ابدی ہے۔ کیوں؟ سچائی وہ ہے جو خدا کسی چیز کے بارے میں کہتا ہے، اِس لئے یہ کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔
جھوٹ بولنے والی زبان جھپکی کی مانند ہے۔
۱۲:۲۰ شرارت کے منصوبے باندھنے والے لوگوں کا دل فریب سے بھرا ہوتا ہے۔ صلح کی بات کرنے والوں کا دل خوشی سے معمور ہوتا ہے۔
۱۲:۲۱ عمومی طور پر یہ سچ ہے کہ صادق پر کوئی بھاری آفت نہیں آتی۔ یہ اصول ہر جگہ پر لاگو نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ہر صورت میں سچ ہے کہ راست باز شریروں کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج سے محفوظ رہتے ہیں۔
لیکن شریر اِس طرح کی کئی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔
۱۲:۲۲ خدا کو جھوٹے لوگوں سے نفرت ہے۔ ہمیں سچائی کو چھپانے، سفید جھوٹ، مبالغہ آرائی اور نصف سچائی کا اِظہار کرنے سے کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خداوند کو خوش کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے یعنی کلی طور پر دیانت داری اور اعتماد کا اِظہار کریں۔
۱۲:۲۳ ہوشیار آدمی ویسے ہی اِدھر اُدھر یہ ظاہر نہیں کرتا پھرتا کہ وہ کیا کچھ جانتا ہے۔ وہ بڑے خوبصورت انداز میں اپنے عالم ہونے کو چھپاتا ہے۔ لیکن جونہی آپ احمقوں کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو وہ اپنی حماقت کا اِظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
۱۲:۲۴ زندگی کے عام معمول میں محنتی لوگ بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں جیسے بالائی دودھ پر آ جاتی ہے۔ کاہلی اِنسان کو غریب بنا دیتی ہے اور غربت اِنسان کو مزدوری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آسولڈ چیمبرز نے کہا کہ بے سلیقہ ہونا روح القدس کے لئے بے عزتی کا باعث ہے۔ یہی بات کاہلی پر بھی صادق آتی ہے۔
۱۲:۲۵ فکر مندی سے افسردگی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اچھی، حوصلہ افزا اور تسلی بخش بات، کسی بھی شخص کی بحالی کے لئے موثر ہوتی ہے۔
۱۲:۲۶ صادق پڑوسی، شریر پڑوسی کی نسبت بہت بہتر ہے، حالانکہ کبھی کبھی ایسا نہیں لگتا۔ بظاہر گناہ گار کا ہر کام اُس کی مرضی کے مطابق چلتا ہے۔ اِس سے لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ ممنوع پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اِس لئے مسیحیوں کو چاہئے کہ وہ بڑی احتیاط سے اپنے دوستوں کا اِنتخاب کریں۔
۱۲:۲۷ سُست آدمی یا تو شکار نہیں کرتا اور اگر اُس نے شکار کر بھی لیا تو وہ اُسے بھونتا نہیں۔ اوّل تو وہ کاہلی کی وجہ سے کسی کام کو شروع نہیں کر پاتا۔ اور اگر وہ شروع کر بھی لے تو اُسے مکمل نہیں کر سکتا۔
پہلے حصے کی طرح اِس مثل کے دوسرے حصے کی عبرانی بھی مشکل و مبہم ہے، لیکن اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک محنتی شخص اُس چیز کی قدر و قیمت جانتا ہے جس کے لئے اُس نے کام کیا ہے اور بھرپور طریقے سے اُس سے استفادہ کرتا ہے۔ رُوت بالکل ایسی تھی، جو گیہوں اُس نے چنا تھا اُسے پھٹکا (رُوت ۲:۱۷)۔ بائبل کے مطالعہ کے سلسلے میں ہم نے جو کچھ سیکھا اُس میں ترقی کر سکتے ہیں اور یہ گیان دھیان، دعا اور عملی فرماں برداری سے ممکن ہے۔
۱۲:۲۸ صداقت کے تنگ راستے پر زندگی ہے اور سفر کے آخر میں بھی زندگی ہے۔ اِس میں کوئی موت نہیں ہے جیسا کہ اُس کشادہ راستے میں ہے جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے۔ یہاں ’’زندگی‘‘ کا موت کے بعد زندگی، یعنی ابدی زندگی کی طرف اشارہ ہے۔
مقدس کتاب
۱ جو تربیت کو دوست رکھتا ہے علم کو دوست رکھتا ہے لیکن جو تنبیہ سے نفرت رکھتا ہے وہ حیوان ہے ۔
۲ نیک آدمی خداوند کا مقبول ہوگالیکن برے منصوبے باند ھنے والے کو وہ مجرم ٹھہرایئگا ۔
۳ آدمی شرارت سے پایدار نہیں ہوگا لیکن صادقوں کی جڑ کو کبھی جنبش نہ ہوگی ۔
۴ نیک عورت اپنے شوہر کے لئے تاج ہے لیکن ندامت لانے والی اسکی ہڈیوں میں بوسیدگی کی مانند ہے ۔
۵ صادقوں کے خیالات دُرست ہیں لیکن شریروں کی مشورت مکر ہے ۔
۶ شریروں کی باتیں یہی ہیں کہ خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھیں لیکن صادقوں کی باتیں انکو رہائی دینگی ۔
۷ شریر پچھاڑکھاتے اور نیست ہوتے ہیں لیکن صادقوں کا گھر قائم رہیگا ۔
۸ آدمی کی تعریف اسکی عقلمندی کے مطابق کی جٓاتی ہے لیکن بے عقل حقیر ہوگا ۔
۹ جو چھوٹا سمجھاجٓاتا ہے لیکن اسکے پاس ایک نوکر ہے اس سے بہتر ہے جو اپنے آپکو بڑاجٓانتا اور روٹی کا محتاج ہے۔
۱۰ صادق اپنے چوپائے کی جٓان کا خیال رکھتا ہے لیکن شریروں کی رحمت بھی عین ظلم ہے۔
۱۱ جو اپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہوگالیکن بطالت کا پیرو بے عقل ہے ۔
۱۲ شریر بد کرداروں کے دام کا مشتاق ہے لیکن صادقوں کی جڑپھلتی ہے۔
۱۳ لبوں کی خطارری میں شریر کے لئے پھنداہے لیکن صادق مصبیت سے بچ نکلیگا۔
۱۴ آدمی کے کلام کا پھل اسکو نیکی سے آسودہ کریگا اور اسکے ہاتھوں کے کئے کی جزا اُسکوملیگی ۔
۱۵ احمق کی روش اسکی نظر میں درست ہے لیکن دانا نصیحت کو سنتا ہے
۱۶ احمق کا غضب فوراًظاہر ہو جٓاتا ہے لیکن ہوشیار ندامت کو چھپاتا ہے ۔
۱۷ راستگوصداقت ظاہر کرتا ہے لیکن جھوٹاگواہ دغابازی ۔
۱۸ بے تامل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھید تی ہیں لیکن دانشمندکی زبان صحت بخش ہے۔
۱۹ سچے ہونٹ ہمیشہ تک قائم رہینگے لیکن جھوٹی زبان ٖصرف دم بھرکی ہے۔
۲۰ بد ی کے منصوبے باندھنے والوں کے دل میں دغاہےلیکن صلح کی مشورت دینے والوں کے لئے خوشی ہے
۲۱ صادق پر کوئی آفت نہیں آیئگی لیکن شریر بلامیں مبتلا ہونگے۔
۲۲ جھوٹے لبوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن راستکا ر اسکی خوشنودی ہیں۔
۲۳ ہوشیارآدمی علم کو چھپاتا ہےلیکن احمق کا دل حمایت کی منادی کرتاہے۔
۲۴ محنتی آدمی کا ہاتھ حکمران ہو گا ۔لیکن سُست آدمی باج گذار بنیگا ۔
۲۵ آدمی کا دل فکرمندی سے دب جٓاتا ہے لیکن اچھی بات سے خوش ہوتا ہے۔
۲۶ صادق اپنے ہمسایہ کی راہنمائی کرتا ہے لیکن شریروں کی روش انکو گمراہ کر دیتی ہے۔
۲۷ سست آدمی شکارپکڑکر کباب نہیں کرتا لیکن اِنسان کی گران بہا دولت محنتی پاتا ہے۔
۲۸ صداقت کی راہ میں زندگی ہے اور اُسکے راستہ میں ہرگز موت نہیں۔