۳۔ عملی اخلاق پر سلیمان کی اَمثال (۱۰:۱۔۲۲:۱۶)
اَمثال کی کتاب میں یہاں تک، آیات کے مابین خیال اور ربط کا ایک تسلسل رہا ہے۔ مضامین کا پیروں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ ۱۰: ۱۔۲۲:۱۶ تک ۳۷۵ اَمثال بیان کی گئی ہیں اور اِن میں سے ہر ایک واضح اور مختلف ہے۔ اِن میں سے اکثر دو بیانات پیش کرتی ہیں جو لفظ ’’لیکن‘‘ سے علیٰحدہ کئے گئے اور ایک دوسرے کا موازنہ کرتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقیہ اَمر نہیں کہ عبرانی زبان میں سلیمان کے نام کا عدد ۳۷۵ ہے جو یہ اِس حصے میں اَمثال کی تعداد سے ہم آہنگ ہے۔
الف۔ راستی اور ناراستی کے طرزِ زندگی کا موازنہ (۱۰: ۱۔۱۵:۳۳)
۱۰:۱ بیٹے کا رویہ براہِ راست اپنے والدین کی نفسیاتی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر ایک بیٹا یا تو پولس (دانا بیٹا) یا پھر یہوداہ (احمق بیٹا) بن سکتا ہے۔
۱۰:۲ ناجائز طور پر حاصل کی ہوئی دولت دیرپا نہیں ہوتی۔ یہ ختم ہو جاتی ہے۔ اور موت کے لمحات میں عارضی مہلت بھی نہیں دے سکتی۔ اِس کے برعکس صداقت موت سے دو طرح سے چھڑاتی ہے۔ یہ اِنسان کو گناہ آلود زندگی کی مصیبت سے چھڑاتی ہے اور نئی زندگی کے ظاہری پھل کی حیثیت سے ثابت ہوتی ہے کہ اُسے ابدی زندگی حاصل ہے۔
۱۰:۳ یہ ایک عام اصول ہے کہ خدا صادق کی جان کو فاقہ نہ کرنے دے گا۔ داؤد نے کہا ’’ مَیں جوان تھا اور اَب بوڑھا ہوں، تو بھی مَیں نے صادق کو بے کس اور اُس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا‘‘ (زبور ۳۷:۲۵)۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ خداوند ’’شریروں کی ہوس کو دُور و دفع کرے گا۔‘‘ جب وہ اپنی ہوس کی تکمیل کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو یہ اُن سے دُور ہو جاتی ہے۔
۱۰:۴ سُست اور بے پروا شخص غربت کی فصل کاٹتا ہے، لیکن عقل مند اور محنتی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
۱۰:۵ گرمی کا موسم فصل کٹائی کا موسم ہے۔ اگر اِنسان فصل کٹائی کے وقت سو جائے، تو ہل چلانے، بیج بونے اور کاشت کرنے کی ساری محنت بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ یسوع اپنے تمام شاگردوں سے کہتا ہے: ’’اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے‘‘ (یوحنا ۴:۳۵)۔
۱۰:۶ فصل کٹائی کا اصول یہ ہے کہ جو کچھ ہم بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ اگر ہم راست باز زندگی گزارتے ہیں تو ہمیں خدا کی برکتیں ملیں گی اور لوگ ہماری تعریف کریں گے۔ اگر ہم گناہ کے نقصان دہ بیج بوئیں گے تو ہمارا منہ ظلم سے ڈھانک دیا جائے گا۔ یہی کچھ ہامان کے ساتھ ہوا۔ اُس کا منہ ڈھانک دیا گیا اور اُسے تشدد کی موت مرنا پڑا (آستر ۷:۸۔۱۰)۔
۱۰:۷ راستی کی زندگی کی موت کے بعد بھی یادیں قائم رہتی ہیں۔ شریر کا نام خوشبو نہیں بلکہ بدبو پیدا کرتا ہے۔ لوگ اب بھی اپنے بیٹوں کا نام یہوداہ نہیں بلکہ پولس رکھتے ہیں۔
۱۰:۸ دانا دل شخص اِن معنوں میں فرمان بجا لائے گا کہ وہ نصیحت کو سننے کے لئے تیار ہو گا۔ بکواسی احمق سیکھنا اور فرماں برداری نہیں کرنا چاہتا، اِس لئے وہ برباد ہو جائے گا۔
۱۰:۹ راستی کی زندگی میں تحفظ ہے، لیکن دھوکے اور فریب کی زندگی بے نقاب ہو جائے گی۔
۱۰:۱۰ ایک اَور ممکنہ ترجمہ یہ ہے : ’’آنکھ مارنے والا رنج پہنچاتا ہے، لیکن جو سختی سے ڈانٹتا ہے وہ اَمن و سکون پیدا کرتا ہے۔‘‘ آنکھ مارنا عیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس کے مقابلے میں جب اِس قسم کے فریب کے لئے واضح طور پر ملامت کی جاتی ہے، تو رنج نہیں بلکہ امن و سکون پیدا ہوتا ہے۔
۱۰:۱۱ صادق کا منہ حیات کا چشمہ ہے جس سے تربیت، تسلی اور مشورت کی باتیں نکلتی ہیں، لیکن شریر کا منہ ظلم اور حسد سے ڈھانک دیا جاتا ہے۔
۱۰:۱۲ نفرت کرنے والی روح معاف کرنے اور بھول جانے سے مطمئن نہیں ہوتی بلکہ پرانی باتوں کو دل میں رکھ کر جھگڑا کرنا چاہتی ہے۔ محبت بھرا دل دوسروں کی کمزوریوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اِن کمزوریوں اور ناکامیوں کا اِقرار کر کے ترک کر دینا چاہئے، لیکن محبت اِن کے بارے میں معاملات کو طول دینے کے لئے لترا پن نہیں کرتی پھرتی۔
۱۰:۱۳ ایک ذہین شخص کی گفتگو دوسروں کے لئے مدد کا باعث ہے۔ ایک احمق دوسروں کی کسی طور پر بھی مدد نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اپنی سزا کا باعث بنتا ہے۔
۱۰:۱۴ دانا آدمی علم کی قدر و قیمت جانتے ہیں اور وہ اِسے مناسب موقع کے لئے جمع کرتے ہیں۔ وہ اِسے مناسب وقت، مناسب جگہ اور مناسب شخصوں سے کہنے کے لئے جمع رکھتا ہے۔ لیکن آپ نہیں جانتے کہ منہ پھٹ احمق کے منہ سے اگلی بات کیا نکلے گی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے اور اپنے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
۱۰:۱۵ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ جن کے پاس پیسہ ہے وہ اِس سے روپیہ کماتے ہیں۔ غریب کہیں سے بھی اپنی مالی خوش حالی کا آغاز نہیں کر سکتا، اُس کی غربت اُس کی ہلاکت ہے۔ امیر شخص اعلیٰ اور دیرپا قسم کی چیزیں خرید سکتا ہے۔ غریب شخص استعمال شدہ اور ناکارہ چیزیں خریدتا ہے اور وہ اُن کی مرمت پر روپیہ خرچ کرتا ہے جس سے وہ اَور غریب ہو جاتا ہے۔ زندگی میں حالات ایسے ہیں لیکن جیسے ہونے چاہئیں نہیں ہیں۔
۱۰:۱۶ جائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی دولت باعث برکت ہے۔ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا نفع گناہ کو دعوت دیتا ہے۔ ایک مسیحی بڑھئی اور مے خانے کے غیر مسیحی ساقی کا موازنہ کیجئے۔ بڑھئی کی آمدنی مثبت اور تخلیقی کام کو ظاہر کرتی ہے اور سود مند مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ مے خانے کے ساقی کا کام تباہ کن ہے۔ جس قدر وہ زیادہ کام کرتا ہے، وہ گناہ کا زیادہ مرتکب ہوتا ہے اور جس قدر وہ زیادہ گناہ کرتا ہے اُسی قدر وہ زیادہ کماتا ہے۔
۱۰:۱۷ جس شخص کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ دیندارانہ تربیت کو سنتا ہے، وہ زندگی کی راہ پر ہے۔ جو شخص اچھی نصیحت کو نہیں سنتا وہ گمراہ ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔
۱۰:۱۸ یہ مثل دو اشخاص کا موازنہ پیش کرتی ہے۔ ایک تو جھوٹی باتوں سے اپنی نفرت کو چھپاتا ہے، جبکہ دوسرا کھلے بندوں اپنے پڑوسی پر بہتان تراشی سے اِس کا اِظہار کر دیتا ہے۔ پہلا ریاکار ہے اور دوسرا احمق ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کے اِنتخاب کی گنجائش نہیں۔ ایمان دار اِس بات پر عمل کریں کہ کسی طرح کی نفرت اپنے دل میں نہ رکھیں۔
۱۰:۱۹ جس قدر ہم زیادہ بولتے ہیں، اُسی قدر کسی غلط بات کہنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ باتونی لوگوں کو خبردار رہنا چاہئے۔ مسلسل بولنے کی عادت سے اکثر مبالغہ آرائی، لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور گناہ کے ارتکاب کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ کسی دوسرے کے لطیفے سے بہتر لطیفہ سنانے کی کوشش میں اکثر گفتگو بدمزہ ہو جاتی ہے۔
جو شخص اپنی گفتگو پر ضبط کرتا ہے وہ عقل مند ہے۔ وہ اپنے آپ کو ندامت، معذرت اور گناہ سے بچاتا ہے۔
۱۰:۲۰ صادق جو کچھ کہتا ہے، یہ اُس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ چونکہ اُس کا کردار خالص ہے اِس لئے اُس کی گفتگو بھی ایسی ہی ہے۔ چونکہ شریر کا دل (ذہن) اچھا نہیں، اِس لئے اُس کے منہ سے نکلنے والی گفتگو بھی اچھی نہیں ہے۔
۱۰:۲۱ کسی نے اِس مثل کی یوں وضاحت کی ہے: ’’نیک اور اچھے لوگ اپنے آپ کو اور دوسروں کو روزی بہم پہنچاتے ہیں، لیکن بُرا شخص اپنے آپ کو بھی زندہ نہیں رکھ سکتا۔‘‘ یہاں احمق ضدی اور قابلِ نفرت لوگ ہیں۔
۱۰:۲۲ خداوند کی برکت ہی زندگی کو حقیقی طور پر دولت مند بناتی ہے۔ لیکن کیا یہ سچ ہے کہ وہ اُس کے ساتھ دُکھ نہیں ملاتا؟ اُسے ہم اِس حقیقت سے کیونکر ہم آہنگ کریں کہ بہت ہی دین دار لوگوں کو بہت بڑے دُکھوں میں سے گزرنا پڑتا ہے؟
مثل کے دوسرے حصے کے لئے کئی ممکنہ تفسیریں یہ ہیں۔
- خدا دُکھ نہیں بھیجتا۔ ہر طرح کا غم، بیماری اور مصیبت شیطان کی طرف سے ہے۔ خدا اکثر اپنے لوگوں کی زندگیوں میں اُن کی اجازت دیتا ہے لیکن وہ اُن کا بانی نہیں ہے۔
- غم خدا کی برکت میں شامل نہیں ہے جبکہ وہ خدا کے بغیر حاصل ہونے والی خوش حالی میں ضرور شامل ہے۔
- اِس کا ایک اَور ممکنہ ترجمہ یہ ہے: ’’اور محنت اِس میں کچھ اضافہ نہیں کرتی۔‘‘ یہاں تصور یہ ہے کہ خدا کے بغیر برکت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا۔ محنت اچھی تو ہے، لیکن جب تک یہ خدا کی طرف سے نہ ہو، یہ عبث ہے (زبور ۱۲۷:۱،۲)۔
۱۰:۲۳ احمق شرارت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ اُس کا من پسند مشغلہ ہے۔ لیکن عقل مند سمجھ داری سے کام کرنے سے خوشی حاصل کرتا ہے۔
۱۰:۲۴ شریر جس مصیبت سے خائف ہیں، وہ اُن پر آ پڑے گی۔ صادق کی مراد اِس زندگی میں خدا کی مرضی اور آئندہ زندگی میں خدا کی حضوری کی خواہش پوری ہو گی۔ اِس سلسلے میں سی۔ ایس۔ لوئیس (Lewis) لکھتا ہے:
آخرت میں مسیح کے خوشی یا دہشت پیدا کرنے والے چہرے کا ہم سب کو سامنا کرنا پڑے گا۔ نتیجے میں ہمیں یا تو ناقابلِ بیان جلال ملے گا یا ہم ایسی ندامت کا سامنا کریں گے جس کا ابد تک کوئی علاج نہیں ہو گا۔
۱۰:۲۵ جب خدا کی عدالت کا بگولا گزرتا ہے، تو شریر کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ لیکن راست باز شخص کی زمانوں کی چٹان پر بنیاد ہے اور اُسے کسی طرح کی جنبش نہیں ہو سکتی۔
۱۰:۲۶ سرکہ دانتوں کو چبھتا اور دھواں آنکھوں کو تکلیف دیتا ہے۔ اِسی طرح ایک کاہل پیغام رساں جو راستے میں سستی سے کام لیتا ہے، اپنے بھیجنے والوں کے لئے پریشان کا باعث بنتا ہے۔
۱۰:۲۷ خدا کے خوف میں بسر ہونے والی زندگی دراز ہوتی ہے۔ شریر وقت سے پہلے مر جاتے ہیں۔ مثلاً وہ قتل و غارت میں مر جاتے ہیں۔ شراب میں متوالے ہونے سے، نشہ بازی اور عیاشی کی زندگی گزارنے سے موت وقت سے پہلے واقع ہو جاتی ہے۔
۱۰:۲۸ صادق جن چیزوں کی خواہش کرتا ہے اُسے بخوشی مل جائیں گی۔ شریر ایسے نہیں۔ اُن کی اُمیدیں بالکل خاک میں مل جائیں گی۔ جی۔ ایس۔ باوز (Bowes) یوں وضاحت کرتا ہے:
سکندر اعظم نے جب قوموں کو مکمل طور پر مطیع و محکوم کر لیا تب بھی وہ مطمئن نہ ہوا۔ وہ روتا تھا کہ دنیا کا مزید ایسا کوئی حصہ نہیں جس کو وہ فتح کر سکے۔ عیاشی کی حالت میں وہ جوانی ہی میں مر گیا۔ جولیس سیزر نے ’’اپنے لاکھوں دشمنوں کے خون سے اپنا لباس رنگا۔‘‘ اُس نے ۸۰۰ شہروں کو فتح کیا۔ لیکن آخرکار اپنی ایک بہت بڑی فتح کے موقع پر اُس کے دوست نے خنجر مار کر اُسے قتل کر دیا۔ نپولین ایک زور آور فاتح تھا جس سے لوگ ڈرتے تھے، یورپ کو بہت زیادہ زَک پہنچانے کے بعد اُس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات جلاوطنی میں گزارے۔
یقیناًشریر کی توقعات خاک میں مل جاتی ہیں۔
۱۰:۲۹ خداوند اپنی پروردگاری کی بنا پر راست باز کے لئے پناہ گاہ اور شریروں کے لئے ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔
۱۰:۳۰ خدا راست باز کے لئے جائے سکونت کی ضمانت دیتا ہے، لیکن شریر جلاوطن ہو جائے گا۔ وہ آوارہ و بے خانماں ہو گا۔ بنی اسرائیل کی اسیری اِس اَمر کی وضاحت کرتی ہے۔
۱۰:۳۱ ایک صادق شخص کا منہ اُس درخت کی مانند ہے جس سے حکمت کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ کج گوئی اور غلط گفتگو کو کاٹ ڈالا جائے گا۔
۱۰: ۳۲ آپ صادق پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہے گا پسندیدہ ہو گا۔ لیکن شریر حقائق کو مسخ کرتا اور کج گوئی سے کام لیتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ سلیمان کی امثال دانا بیٹا باپ کو خوش رکھتا ہےلیکن احمق بیٹا اپنی ماں کا غم ہے۔
۲ شرارت کے خزانے عبث ہیں لیکن صادقت موت سے چھڑاتی ہے۔
۳ خداوند صادق کی جٓان کو فاقہ نہ کرنے دیگاپر شریروں کی ہوس کو دور ودفع کریگا۔
۴ جو ڈھیلے ہاتھ سے کام کرتا ہے کنگال ہو جٓاتا ہےلیکن محنتی کا ہاتھ دولتمند بنا دیتا ہے ۔
۵ وہ جو گرمی میں جمع کرتا ہے دانا بیٹا ہےپر وہ بیٹا جو درو کے وقت سوتا رہتا ہے شرم کا باعث ہے۔
۶ صادق کے سر پر برکتیں ہوتی ہیں لیکن شریروں کے منہ کو ظلم ڈھانکتا ہے ۔
۷ راست آدمی کی یاد گار مبارک ہے لیکن شریروں کانام سڑجٓائیگا ۔
۸ دانادل فرمان بجالائیگا پر بکواسی احمق پچھاڑ کھایئگا ۔
۹ راست رو بے کھٹکے چلتا ہےلیکن جو کجروی کرتا ہے ظاہر ہو جٓایئگا۔
۱۰ آنکھ مارنے والارنج پہنچاتا ہےاور بکواسی احمق پچھاڑکھا یئگا۔
۱۱ صادق کا منہ حیات کا چشمہ ہے لیکن شریروں کے منہ کو ظلم ڈھانکتا ہے۔
۱۲ عداوت جھگڑے پیدا کرتی ہےلیکن محبت سب خطاؤں کو ڈھانک دیتی ہے۔
۱۳ عقلمند کے لبوں پرحکمت ہے لیکن بے عقل کی پیٹھ کے لئے لٹھ ہے ۔
۱۴ داناآدمی علم جمع کرتے ہیں لیکن احمق کا منہ قریبی ہلاکت ہے۔
۱۵ دولتمند کی دولت اسکا محکم شہر ہے۔
۱۶ صادق کی محنت زندگانی کا باعث ہے ۔شریر کی اقبالمندی گناہ کراتی ہے۔
۱۷ تربیت پذیر زندگی کی راہ پر ہےلیکن ملامت کو ترک کرنے والا گمراہ ہو جٓاتا ہے
۱۸ عداوت کو چھپانے والا دروغگو ہےاور تہمت لگانے والا احمق ہے۔
۱۹ کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابو میں رکھنے والا دانا ہے ۔
۲۰ صادق کی زبان خالص چاندی ہے۔شریروں کے دل بے قدر ہیں ۔
۲۱ صادق کے ہونٹ بہتوں کو غذا پہنچاتے ہیں لیکن احمق بے عقلی سے مرتے ہیں۔
۲۲ خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہےاور وہ اسکے ساتھ دکھ نہیں ملاتا ۔
۲۳ احمق کے لئے شرارت کھیل ہےپر حکمت عقلمند کے لئے ہے۔
۲۴ شریر کا خوف اُس پر آپڑیگا اور صادقوں کی مراد پوری ہوگی ۔
۲۵ جب بگولا گذرتا ہے تو شر یر نیست ہو جٓاتا ہےلیکن صادق ابدی بُنیاد ہے۔
۲۶ جیسا دانتوں کے لئے سرکہ اور آنکھوں کے لئے دھواں ویسا ہی کاہل اپنے بھیجنے والوں کے لئے ہے۔
۲۷ خداوند کا خوف عمر کی درازی بخشتا ہےلیکن شریروں کی زندگی کو تازہ کر دی جٓائیگی ۔
۲۸ لیکن شریروں کی توقع خاک میں مل جٓائیگی ۔
۲۹ خداوند کی راہ راستباروں کے لئے پناہگاہ لیکن بدکرداروں کے لئے ہلاکت ہے۔
۳۰ صادقوں کو کبھی جبنش نہ ہوگی لیکن شریر زمین پر قائم نہیں رہینگے
۳۱ صادق کے منہ سے حکمت نکلتی ہےلیکن کجگو زبان کاٹ ڈالی جٓایئگی ۔
۳۲ صادق کے ہونٹ پسندیدہ بات سے آشنا ہیں لیکن شریروں کے منہ کجگوئی سے۔