۵۔ حزقیاہ کے لوگوں کی جمع کردہ سلیمان کی اَمثال (۲۵:۱۔۲۹:۲۷)
۲۵:۱ ابواب ۲۵ سے ۲۹ میں پائی جانے والی اَمثال سلیمان کی مرتب کردہ ہیں، مگر کئی سال بعد حزقیاہ کے لوگوں نے اِن کی نقل تیار کی۔ اِن اَمثال کی تعداد ۱۴۰ ہے جو کہ عبرانی حروف کے مطابق حزقیاہ کے نام کی عددی قیمت کے مطابق ہے۔
۲۵:۲ خدا کا جلال اِس بات میں ہے کہ چیزیں یا معاملات پوشیدہ رہیں۔ خدا کی تخلیق میں، اُس کے لکھے ہوئے کلام میں اور اُس کی پروردگاری میں پوشیدہ رازوں پر ذرا غور کریں۔ ایک ماہر علمِ الٰہیات نے کہا، ’’اگر اُس کے ارادے اور کام اِنسانی عقل سے بالاتر نہ ہوتے تو خدا خدا نہ ہوتا۔‘‘
بادشاہوں کا جلال معاملات کی تفتیش میں ہے۔ اِس سیاق و سباق میں غالباً اِس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دانا بادشاہ اِرد گرد ہونے والے اہم معاملات پر جو اُس کی حکومت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کڑی نظر رکھے گا اور راست فیصلے کرنے اور درست منصوبے بنانے کے لئے وہ مکمل تحقیق کرے گا۔
ہمارے لئے اِس کا اطلاق یہ ہے کہ بائبل مقدس میں پوشیدہ روحانی خزانے تلاش کرنے کے لئے ہمیں شوق و لگن سے محنت کرنی چاہئے۔
۲۵:۳ آسمان کی اُونچائی کی کوئی حد نظر نہیں آتی اور زمین کی گہرائی بھی معلوم کرنے سے بعید نظر آتی ہے۔ اِسی طرح نیک بادشاہوں کے دل کے خیالات کو جاننا بھی بہت مشکل نظر آتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔
۲۵:۴،۵ جب چاندی کو پگھلایا جاتا ہے تو اُس کی میل سطح پر آ جاتی ہے۔ اِس میل کو دُور کرکے سنار خوبصورت زیورات تیار کر سکتا ہے۔ یہاں میل سے مراد وہ بدکردار مشیر ہیں جو بادشاہ کے حضور کھڑے رہتے ہیں۔ اُن کو دُور کرنے سے بادشاہت دُرست بنیادوں پر اُستوار ہو جاتی ہے۔
جب یسوع مسیح بادشاہت کرنے کے لئے دوبارہ آئے گا تو سب سے پہلے یہی صفائی کا کام کرے گا۔ وہ اپنی بادشاہت میں سے بغاوت، لاقانونیت اور ہر ایسی بات کو دُور کر دے گا جو ٹھوکر کا باعث بنتی ہے۔
۲۵:۶،۷ دانش مندانہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ شاہی محل میں اپنے آپ کو سب سے آگے نہ دھکیلا جائے یا اپنے لئے بڑے بڑے مشہور لوگوں میں جگہ تلاش نہ کی جائے۔ کسی بھی بڑے آدمی کے حضور یہ سننا بہتر ہے کہ ’’آگے آ کر عزت کی جگہ پر بیٹھ جاؤ‘‘ بجائے اِس کے کہ خود جا کر اعلیٰ مقام پر بیٹھ جائیں اور پھر یہ سن کر ندامت اُٹھانی پڑے کہ یہاں سے اُٹھ کر پیچھے چلا جا۔
یہ نصیحت یرمیاہ ۴۵:۵ کی یاد دلاتی ہے، ’’کیا تُو اپنے لئے اُمورِ عظیم کی تلاش میں ہے؟ اُن کی تلاش چھوڑ دے‘‘ اور یسوع کے وہ الفاظ بھی جو اُس نے لوقا ۱۴:۸۔۱۰ میں کہے۔
۲۵:۸۔۱۰ بائبل مقدس مقدمہ بازی کی روح کی مذمت کرتی ہے، یعنی ہر جھگڑے کو لے کر عدالت جانے کے شوق کی۔ ایک آدمی جو کچھ اُس کے ساتھ ہوا ہے وہ سب کچھ بیان تو کر سکتا ہے، مگر اُس وقت شرمندہ ہو سکتا ہے جب اُس کا ہمسایہ گواہی دے گا۔ اِسی لئے بہتر یہی ہے کہ جھگڑوں کو مل جل کر حل کر لیا جائے (دیکھیں متی ۱۸:۱۵)۔ کسی نے اِس کے بارے میں یوں لکھا ہے:
کسی دوست کے ساتھ کسی چھوٹی سی بات پر نااتفاقی ہو جاتی ہے اور آپ میں اِتنا حوصلہ نہیں کہ جا کر اُس دوست سے بات چیت کی جائے، اِس لئے آپ کسی دوسرے یہ بات کر دیتے ہیں۔ یوں خدا کے کلام میں درج اصول کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور معاملہ بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اِس طرح کی گفتگو کسی دوسرے کے ساتھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اِس سے جدائی بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہم اِس طرح کی آیات یا حوالہ جات کو بطور راہنما اصول سامنے رکھیں اور اُن کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم کئی چھوٹی چھوٹی وجوہات کو نظر انداز کر دیں گے اور اپنے آپ کو کئی پریشانیوں سے بچا لیں گے۔
آیت ۱۰ بتاتی ہے کہ جب کوئی تیسرا شخص تیرا اور تیرے ہمسائے کا معاملہ سنے گا تو تجھے یہ کہہ کر ملامت کرے گا کہ تُو نے جا کر اُس سے بات کیوں نہیں کی جس سے تجھے شکایت ہے۔ تیرے بارے میں یہ بات مشہور ہونے لگ جاتی ہے کہ تُو لگائی بجھائی کرنے والا شخص ہے۔
۲۵:۱۱ باموقع باتیں چاندی کی ٹوکریوں میں سونے کے سیبوں کی طرح ہیں۔ درست الفاظ اخلاقی طور پر اُسی طرح خوب صورت اور موزوں ہیں جس طرح پُرکشش اور قیمتی دھاتیں ہوتی ہیں۔
۲۵:۱۲ سونے کی بالی اور کندن کا زیور کسی کی بھی جسمانی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اِسی طرح ملامت بھی سننے اور قبول کرنے والے کے اخلاقی حُسن میں نکھار لاتی ہے۔
۲۵:۱۳ عام طور پر فصل کاٹنے کے وقت برف کی موجودگی مشکلات پیدا کر دیتی ہے، لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ برف کو کاٹنے والوں کے مشروب میں ڈالا گیا ہے۔ اِس مشروب کو پینے سے کاٹنے والوں کو تسکین ملتی ہے۔ جس طرح تپتی دھوپ میں ٹھنڈا مشروب تازگی بخشتا ہے اِسی طرح وفادار ایلچی بھی اپنے بھیجنے والوں کے لئے تازگی کا باعث ہوتا ہے۔
۲۵:۱۴ جو کوئی بھی کسی لیاقت کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ اُس میں ہوتی نہیں اُن بادلوں اور ہوا کی طرح ہے جن کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں بارش ہو گی مگر وہ بارش برسائے بغیر گزر جاتے اور لوگوں کو مایوس کر دیتے ہیں۔
اگرچہ اِس مثل کا تعلق روحانی نعمتوں سے نہیں، تاہم اِس میں جائز اطلاق ضرور پایا جاتا ہے۔ کوئی آدمی بڑا مبلغ اور اُستاد ہونے کا ڈھونگ تو رچا سکتا ہے، مگر اُس وقت لوگوں کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اُترتا۔
۲۵:۱۵ جوش و خروش کی نسبت حلیمی اور تحمل حاکم کو اکثر زیادہ راضی کر لیتے ہیں۔ اِسی طرح نرم زبان ہڈی کو بھی توڑ ڈالتی ہے۔ مطلب یہ کہ نرم زبان زبردست جبڑوں اور دانتوں کی نسبت زیادہ نتائج حاصل کر سکتی ہے۔
۲۵:۱۶ شہد اچھا ہے بشرطیکہ اعتدال سے استعمال کیا جائے۔ کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی۔ ہمیں زندہ رہنے کے لئے کھانا چاہئے نہ کہ کھانے کے لئے زندہ رہنا چاہئے۔ اِس کو سمجھنے کے لئے یہ مثال دیکھیں:
ایک جوڑے کو ہم جانتے ہیں جن کو خدا نے آٹھ بچوں کی برکت سے نوازا ہے اور سارے بچے آئس کریم کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ گرمیوں کے ایک دن چھوٹی بیٹی نے کہا، ’’میری خواہش ہے مجھے سارا وقت آئس کریم ہی ملے اور بس کچھ نہیں۔‘‘ دوسروں نے بھی اُس کی بات کی تائید کی۔ باپ نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا، ’’اچھا اگر تم سب کی یہی مرضی ہے توکل تم سب کو آئس کریم ہی ملے گی اور جتنی چاہو کھا لینا۔‘‘ بچے خوشی سے اُچھلنے لگے۔ بڑی بے صبری سے اگلے دن کا اِنتظار کیا۔ صبح سویرے جب ناشتے پر آئے تو ہر ایک نے اپنی من پسند آئس کریم طلب کی۔ ونیلا، چاکلیٹ، سٹرابیری وغیرہ۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو پھر آئس کریم سامنے رکھ دی گئی۔ لیکن اِس مرتبہ سب نے قدرے تھوڑی تھوڑی آئس کریم لی۔
رات کے کھانے کے لئے ماں نے مزیدار بریانی پکائی۔ بریانی کی خوشبو سارے گھر میں پھیل رہی تھی۔ بڑے بیٹے نے کہا، ’’واہ کیسی مزیدار خوشبو ہے!‘‘ اُس نے ماں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہی تھا کہ ماں نے کہا، ’’یاد نہیں تمہیں؟ کل تم سب نے کہا تھا کہ سارا دن آئس کریم ہی کھاؤ گے۔‘‘ لاؤ اپنا پیالہ مَیں اُسے آئس کریم سے بھر دیتی ہوں۔‘‘ ’’نہیں، بڑی مہربانی!‘‘ بیٹے نے جواب دیا، ’’مجھے آئس کریم کے بدلے چند نوالے بریانی دے دیں۔‘‘ تقریباً سارے بچے بڑے بیٹے کی بات سے متفق تھے کہ آئس کریم کی بجائے تھوڑی سی بریانی مل جائے۔
۲۵:۱۷ اعتدال پسندی کا تعلق نہ صرف شہد کھانے سے ہے بلکہ دوسرے کے گھر بطور مہمان جانے سے بھی ہے۔ اِس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ کتنی دیر بطور مہمان ٹھہرا جائے اور کب اجازت لے کر رُخصت ہوا جائے۔ زیادہ دیر رُکنا مشکل پیدا کر دیتا ہے۔ اِنسان کی نسبت خدا سے دوستی کتنی مختلف ہے! ہم جتنی مرتبہ چاہیں اُس کو جا کر مل سکتے ہیں اور وہ ہمارے زیادہ دیر رُکنے سے اُکتاتا بھی نہیں۔
۲۵:۱۸ اِس مثل میں ہمسائے کے خلاف جھوٹی گواہی دینے والے کے بارے میں نہایت موزوں تین تشبیہات ملتی ہیں:
| گُرز | __ | (ایک ہتھیار جو اُوپر سے گول، موٹا اور نیچے سے پتلا ہوتا ہے) جو توڑ کر چکنا چور کر دیتا ہے۔ |
| تلوار | __ | جو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ |
| تیز تیر | __ | جو چھید کر زخمی کر دیتا ہے۔ |
۲۵:۱۹ اگر آپ ٹوٹے ہوئے دانت کے ساتھ کسی چیز کو کاٹنے یا چبانے کی کوشش کریں گے تو آپ کو بہت درد ہو گا۔ اِسی طرح اگر آپ اپنے اُس پاؤں پر وزن ڈالنے کی کوشش کریں گے جس کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو تو آپ خواہ مخواہ گر جائیں گے۔ اِس طرح کی صورتِ حاصل اُس وقت ہوتی ہے جب آپ کسی ناقابلِ بھروسا آدمی پر مصیبت کی گھڑی میں اعتماد کرتے ہیں __ نتیجہ نہایت درد ناک اور مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے۔
۲۵:۲۰ کسی غم زدہ شخص کے سامنے گیت گانا اُسے پسند نہیں آتا بلکہ یہ عمل اُسے غصہ دلاتا اور پریشان کرتا ہے۔ یہ اُتنا ہی غیر موزوں ہے جتنا یہ کہ سخت سردی کے موسم میں کسی کے گرم کپڑے اُس سے لے لئے جائیں یا سجی پر سرکہ پھینکا جائے۔
ایک دفعہ کا ذِکر ہے ایک بڑا جوشیلا نوجوان پادری کسی کی تیمارداری کے لئے ہسپتال گیا۔ بے چارہ مریض حادثے کی وجہ سے بڑا پریشان تھا۔ دونوں بازوؤں اور ٹانگوں پر پلستر ہوا تھا اور وہ درد سے آہ و پکار کر رہا تھا۔ پادری صاحب نے اندر داخل ہوتے ہی مسکراتے ہوئے پوچھا ’’بھائی سناؤ! خوش ہو؟‘‘ مریض کے چہرے کے تاثرات صاف بتا رہے تھے کہ وہ پادری صاحب کے سوال کی وجہ سے کس قدر مزید رنجیدہ اور پریشان ہو گیا تھا۔
۲۵: ۲۱،۲۲ پولس رسول نے اِن آیات کو رومیوں ۱۲:۲۰ میں بطور اقتباس استعمال کیا ہے۔ ہم ہر بُرائی کا بدلہ نیک کاموں سے دے کر بدی پر غالب آ سکتے ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ناراض خاتون اپنی ہمسائی کی بیٹی کی شرارتوں کی شکایت کرنے آئی۔ ’’آپ کی بیٹی نے ہمارے لان کی گھاس تباہ کر کے رکھ دی ہے! پھولوں کے گملے توڑ دیئے ہیں‘‘ وغیرہ۔ ہمسائی ایمان دار مسیحی تھی۔ اُس نے تجویز پیش کی کہ کسی وقت بیٹھ کر اِس پر بات چیت کی جائے۔ اگلے دن جب خاتون آئی تو مسیحی عورت نے میز کھانے پینے کی چیزوں سے سجایا ہوا تھا۔ ناراض ہمسائی نے کہا، ’’اوہ، بے وقت آنے کے لئے معافی چاہتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ کے گھر میں کوئی پارٹی ہے۔‘‘ مسیحی خاتون نے جواب دیا، ’’نہیں پارٹی تو کوئی نہیں۔ مَیں نے سوچا تھا کہ ہم چائے پیتے ہوئے بیٹی کی شرارتوں کے بارے میں بات چیت کر لیں گے۔‘‘ گفتگو سے پہلے مسیحی خاتون نے چائے کے لئے خدا کا شکر ادا کیا اور گفتگو کے لئے خدا سے حکمت مانگی۔ دعا کے بعد جب اُس نے آنکھیں کھولیں تو ناراض ہمسائی آنسوؤں کے ساتھ رو رہی تھی۔ ’’اِس سارے معاملے میں آپ کی بیٹی کا کوئی قصور نہیں۔‘‘ اُس نے روتے ہوئے مسیحی خاتون سے کہا، ’’سارا قصور میرا ہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم مَیں نے سارا غصہ آپ پر کیوں نکالنا چاہا۔ مَیں اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔‘‘
جونہی اُس خاتون نے یہ الفاظ کہے مسیحی خاتون نے خداوند یسوع کے بارے میں اُسے بتانا شروع کر دیا۔ چھے ہفتوں کے اندر اُس خاتون اور اُس کے خاندان نے یسوع کو قبول کر لیا۔
۲۵:۲۳ شمالی ہوا بارش لاتی ہے، اِسی طرح غیبت گوئی بھی ترش رُوئی یعنی بدمزاجی، غصہ لاتی ہے۔ غیبت گوئی سے غصہ تو اُس شخص کو ہوتا ہے جس کے بارے میں غیبت کی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں غیبت سننے والوں کے چہرے پر بھی غیبت سننے سے غصہ و ناراضی آنی چاہئے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو غیبت گو کی حوصلہ شکنی ہو گی اور آئندہ غیبت گوئی سے پرہیز کرے گا۔
۲۵:۲۴ یہ مثل ۲۱:۹ سے کم و بیش ملتی ہے۔ یہاں تاکیداً اُس کا دوبارہ لکھا جانا اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
۲۵:۲۵ انجیل دُور کے ملک سے آنے والی خدا کی خوش خبری ہے۔ یہ تھکے ماندہ کی جان کے لئے ٹھنڈا پانی ہے جو پیاس بجھاتی اور تازہ دم کرتی ہے۔
۲۵:۲۶ جب صادق لوگ بُرے لوگوں کے ساتھ بُرائی پر سمجھوتا کر کے یا سچائی پر قائم نہ رہ کر شریر کے آگے جھک جاتے ہیں تو یہ گویا ایسے ہے جیسے گدلا چشمہ اور ناپاک سوتا۔ آپ چشمے کے پاس صاف پانی کی تلاش میں جاتے ہیں مگر مایوس لوٹتے ہیں۔
۲۵:۲۷ حد سے زیادہ شہد کھانا اچھا نہیں۔ ہر چیز کی زیادتی بُری ہوتی ہے۔ اِس کے ساتھ اپنی عزت کروانے کے پیچھے پڑے رہنا بھی درست کام نہیں۔
۲۵:۲۸ وہ شخص جس نے ضبط کرنا نہیں سیکھا اُس شہر کی مانند ہو گا جس کی کوئی فصیل نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کے حملوں کی زد میں رہتا ہے اور اُس پر ہر قسم کی آزمائش آتی ہے۔
مقدس کتاب
۱ یہ بھی سلیمان کی امثال ہیں جنکی شاہ یہوداہ حزقیاہ کے لوگوں نے نقل کی تھی
۲ خداکا جلال رازداری میں ہے لیکن بادشاہوں کا جلال معاملات کی تفتیش میں۔
۳ آٓسمان کی اُونچائی اور زمین کی گہرائی اور بادشاہوں کے دِل کی انتہا نہیں ملتی ۔
۴ چاندی کی میل دور کرنے سے سُنار کے لئے برتن بن جٓاتا ہے۔
۵ شریروں کو بادشاہ کے حضور سے دور کرنے سے اُسکا تخت صداقت پر قائم ہو جٓایئگا۔
۶ بادشاہ کے حضور اپنی بڑائی نہ کرنا اور بڑے آدمیوں کی جگہ کھڑا نہ ہونا
۷ کیونکہ یہ بہترہے کہ حاکم کے روبُروجس کو تیری آنکھوں نے دیکھا ہے تجھ سے کہا جٓائے آگے بڑھ کر بیٹھ نہ کہ پیچھے ہٹا دیا جٓائے۔
۸ جھگڑا کرنے میں جلدی نہ کر۔آخرکار جب تیرا ہمسایہ تجھ کو ذلیل کرے تب تو کیا کریگا؟
۹ تو ہمسایہ کے ساتھ اپنے دعویٰ کا چرچا کر لیکن کسی دوسرے کا راز فاش نہ کر۔
۱۰ مبادا جو کوئی اُسے سنے تجھے رسوا کرے اور تیری بدنامی ہوتی رہے۔
۱۱ باموقع باتیں روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سبب ہیں۔
۱۲ دانا ملامت کرنے والے کی بات سننے والے کے کان میں سونے کی بالی اور کندن کا زیور ہے۔
۱۳ وفادار ایلچی اپنے بھیجنے والوں کے لئے اَیسا یے جیسے فصل کاٹنے کے ایام میں برف کی ٹھنڈک کیونکہ وہ اپنے مالکوں کی جٓان کو تازہ دم کرتا ہے۔
۱۴ جو کسی جھوٹی لیاقت پر فخر کرتا ہے وہ بے بارش بادل اور ہوا کی مانند ہے۔
۱۵ تحمل کرنے سے حاکم راضی ہوجٓاتا ہےاور نرم زبان ہڈی کو بھی توڑڈالتی ہے۔
۱۶ کیا تو نے شہد پایا؟ تو اِتنا کھا جتنا تیرے لئے کافی ہےمبادا تو زیادہ کھا جٓائے اور اُگل ڈالے۔
۱۷ اپنے ہمسایہ کے گھر با ر بار جٓانے سے اپنے پاوں کو روک مبادا وہ دق ہو کر تجھ سے نفرت کرے ۔
۱۸ جو اپنے ہمسایہ کا خلاف جھوٹی گواہی دیتا ہے وہ گرزاور تلوار اور تیز تیر ہے۔
۱۹ مصیبت کے وقت بیوفا آدمی پر اِعتماد ٹوٹا دانت اور اُکھڑا پاوں ہے۔
۲۰ جو کسی غمگینکے سامنے گیت گاتا ہے۔وہ گویا جٓاڑے میں کسی کے کپڑے اُتارتا اور سجی پر سرکہ ڈالتا ہے۔
۲۱ اگر تیرا دشمن بھوکا ہوتو اُسے روٹی کھلا اور اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پلا
۲۲ کیونکہ تو اُسکے سر پر انگاروں کا ڈھیرلگائیگا اور خداوند تجھ اجر دیگا۔
۲۳ شمالی ہوا مینہ کو لاتی ہے اور غیبت گو زبان ترش روئی کو۔
۲۴ گھر کی چھت پر ایک کونے میں رہنا جھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ مکان میں رہنے سے بہتر ہے۔
۲۵ وہ خوشخبری جو دور کے ملک سے آئے اَیسی ہے جیسے تھکے ماندہ کی جٓان کے لئے ٹھنڈا پانی ۔
۲۶ صادق کا شریر کے آگے گرنا گویا گدلا چشمہ اور ناپاک سوتا ہے۔
۲۷ بہت شہد کھانا اچھا نہیں اور اپنی بزرگی کا طالب ہونا زیبا نہیں ہے۔
۲۸ جو اپنے نفس پر ضابط نہیں وہ بے فصیل اور مسمار شدہ شہر کی مانند ہے۔