اِمثال ۱۴

۱۴:‏۱ ایک دانا عورت اپنے گھر میں اپنے خاندان کے لئے کام کرتی ہے۔ نادان عورت اپنے شوہر اور بچوں کو نظر انداز کرتی ہے اور پریشان ہوتی ہے کہ اُس کا گھرانا کیوں برباد ہو رہا ہے۔ 

۱۴:‏۲ کسی شخص کا کردار‏، خداوند کے بارے میں اُس کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ صادق وہ کام کرے گا جس کے بارے میں اُسے پتا ہو کہ یہ خدا کو پسندیدہ ہو۔ لیکن کج رَو کو کوئی پروا نہیں کہ خدا کیا سوچتا ہے اور یوں اُس سے حقارت کا اِظہار کرتا ہے۔ 

۱۴:‏۳ احمق کے منہ میں تکبر کا ڈانڈ ہے۔ اُس کی بے ہودہ گفتگو کے لئے اُسے مار پڑے گی۔ دانش مندوں کی گفتگو اُنہیں ایسی سزا سے محفوظ رکھے گی۔ 

۱۴:‏۴ جہاں بیل نہیں‏، وہاں باڑا بالکل صاف ستھرا ہو گا۔ لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ بیل ہو چاہے اِس سے کچھ مٹی اور گندگی کیوں نہ گھر آ جائے‏، کیونکہ بیل کی محنت سے کثرت سے غلہ پیدا ہو گا۔ محنت کے ثمرات اُس کے ناپسندیدہ پہلوؤں کی نسبت زیادہ ہیں۔ 

اِس مثل کا یہ مطلب نہیں کہ گھر اور عبادت خانے گندے نظر آئیں۔ لیکن یہ صفائی کے ایسے کام کی حوصلہ شکنی کرتی ہے جو ترقی اور پیداوار کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ 

۱۴:‏۵ اچھے ضمیر کے ساتھ آسمان پر جانا‏، زمین پر بُرے ضمیر کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔ ہمیں سچ بولنے کے لئے ہر وقت کس قدر محتاط رہنا چاہئے۔ 

۱۴:‏۶ ٹھٹھاباز مسلسل سننے سے اِنکار کر کے سننے کی صلاحیت کو کھو دیتا ہے جب تک وہ خداوند کو ردّ کر ے گا تب تک اُسے حقیقی حکمت حاصل نہیں ہو سکتی۔ 

صاحبِ فہم درست بات کو بڑی جلدی سے سمجھ لیتا ہے ’’کیونکہ جس کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ ہو جائے گا‘‘ (‏متی ۱۳:‏۱۲)‏۔ 

۱۴:‏ ۷ احمق کے ساتھ دوستی پیدا نہ کریں کیونکہ آپ کو اُس سے عقل کی باتیں نہ ملیں گی۔ 

۱۴:‏۸ ہوشیار آدمی کے لئے حکمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ کس طرح دیانت داری‏، ایمان داری اور فرماں برداری سے چلے۔ احمق جسے حکمت تصور کرتا ہے‏، درحقیقت وہ حماقت ہے‏، اور اِس حماقت کی روح یہ ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکا دیتا ہے۔ اِس سے وہ بالآخر خود دھوکا کھا جاتا ہے۔ 

۱۴:‏۹ گو اِس مثل کا عبرانی متن کافی مشکل ہے‏، لیکن اُردو ترجمے میں اِسے کافی حد تک سہل زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ 

احمق لوگ گناہ کا مذاق اُڑاتے ہیں اور وہ نہیں مانیں
گے کہ اِس کی آستین میں خوف ناک چھرا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’’یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسی شے جو اِس قدر شیریں ہو‏، اِس میں کوئی ایسا زہریلا ڈنک ہو؟‘‘
وہ نہیں جانتے کہ یہی وہ فریبِ گناہ ہے جو
اُن سے قہقہے لگوا کر اُنہیں دوزخ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
اپنے آپ پر نگاہ ڈالیں اور گناہ کے ساتھ مزید تعلق نہ رکھیں‏،
کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جو نجات دیتا ہے آپ کے سامنے دروازہ بند کر دے۔ 

راست کار خداوند کی حمایت سے لطف اندوز ہوتے ہیں‏، اور وہ گناہ کے الزام اور سزا سے بری ہیں۔

۱۴:‏۱۰ اِنسانی دل میں ایسے غم ہیں جنہیں دوسرا شخص نہیں جان سکتا (‏گو خداوند جانتا ہے)‏۔ اور ایسی خوشی بھی ہے جس سے متعلقہ شخص ہی لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ 

۱۴:‏۱۱ گھر اور خیمہ کا تضاد ملاحظہ فرمائیے۔ ہمارے خیال کے مطابق گھر دائمی ہے اور خیمہ عارضی ہے۔ لیکن راست باز کا خیمہ قائم رہے گا‏، جبکہ شریر کا گھر برباد ہو جائے گا۔ 

۱۴:‏۱۲ جو راہ اکثر لوگوں کو سیدھی معلوم ہوتی ہے‏، وہ اپنے نیک کاموں یا نیک کردار کے ذریعے نجات کا حصول ہے۔ اکثر لوگ اِسی غلط تصور کے تحت محنت کرتے ہوئے جہنم میں پہنچ جاتے ہیں۔ 

اپنے وسیع تر معنوں میں جو راہ اِنسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہے وہ اُس کی اپنی راہ ہے‏، اپنی مرضی کی روِش جو الٰہی راہنمائی اور اِنسانی مشورت کی حقارت کرتی ہے۔ اور اِس کا انجام صرف تباہی اور روحانی موت ہے۔ 

۱۴:‏۱۳ زندگی میں بغیر کسی ملاوٹ کے خوشی جیسی کوئی شے نہیں ہے۔ اِس میں کسی نہ کسی حد تک غم ملا ہوتا ہے۔ ناکس لکھتا ہے‏، ’’خوشی میں غم کی آمیزش ہوتی ہے اور قہقہہ آنسو کے ساتھ کوچ کرتا ہے۔‘‘

۱۴:‏۱۴ ’’برگشتہ دل اپنی روِش کا اجر پاتا ہے اور نیک آدمی اپنے کام کا۔‘‘ جو شخص خداوند سے برگشتہ ہوتا ہے اُسے اپنی برگشتگی کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ نعومی نے کہا‏، ’’قادر مطلق میرے ساتھ نہایت تلخی سے پیش آیا ہے۔ مَیں بھری پوری گئی اور خداوند مجھ کو خالی پھیر لایا‘‘ (‏رُوت ۱:‏۲۰‏،۲۱ الف)‏۔ اور مسرف بیٹے نے کہا‏، ’’میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور مَیں یہاں بھوکا مر رہا ہوں‘‘ (‏لوقا ۱۵:‏ ۱۷)‏۔

نیک آدمی اپنی راہوں سے مطمئن ہے کیونکہ وہ خداوند کی راہیں ہیں۔ وہ داؤد کا ہم نوا ہو کر کہہ سکتا ہے ’’میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے‘‘ (‏زبور ۲۳:‏۵)‏ یا پولس کے ساتھ مل کر کہے گا‏، ’’ مَیں اچھی کُشتی لڑ چکا۔ مَیں نے دوڑ کو ختم کر لیا۔ مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا‘‘ (‏۲۔تیمتھیس۴:‏۷)‏۔ 

۱۴:‏۱۵ ایک کمزور شخص ہر ایک نئے خیال کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ ہوشیار آدمی بغور جائزہ لیتا ہے اور اپنی روِش میں غلطی کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ ایمان یقینی شہادت مانگتا ہے جو اُسے خدا کے کلام میں ملتی ہے۔ ضعیف الاعتقاد ہر ایک سائنس دان‏، فلسفی اور ماہر نفسیات کی بات کا یقین کر لیتا ہے۔ 

۱۴:‏۱۶ دانا اِن معنوں میں ڈرتا ہے کہ وہ محتاط ہے۔ اِس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خداوند سے ڈرتا ہے۔ 

احمق ضدی اور غیر محتاط ہے اور اپنے آپ کو ہر پابندی سے آزاد سمجھتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ بے باک ہے۔ 

۱۴:‏۱۷ زُودرنج (‏جلدی غصہ کرنے والا)‏ بے وقوفی کرتا ہے۔ غصے میں وہ نتائج کی پروا کئے بغیر حرکتیں کرتا جاتا ہے۔ وہ زور سے دروازہ بند کرتا ہے‏، ہاتھ میں آئی ہر شے کو زور سے پھینک دیتا ہے‏، فرنیچر کی توڑ پھوڑ کرتا‏، غصے میں لال پیلا باہر نکل جاتا ہے۔ لیکن اگر ہمیں اِنتخاب کرنا پڑے تو ہم گھنونے منصوبے بنانے والے کی نسبت اِسے زیادہ آسانی سے برداشت کر لیں گے۔ ہر ایک شخص اِس بے حس کے فریب سے نفرت کرتا ہے۔ 

۱۴:‏۱۸ ’’نادان حماقت کی میراث پاتے ہیں۔‘‘ اگر وہ صحیح تعلیم کے سننے سے اِنکار کر دیں‏، تو وہ مزید حماقت کریں گے۔ 

ہوشیار لوگوں کی عزت افزائی ہوتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ علم کے حصول کا اجر پاتے ہیں۔ 

۱۴:‏۱۹ یہ مثل اِس اَمر کی نشان دہی کرتی ہے کہ نیکی بالآخر بدی پر غالب آتی ہے۔ خدا راست باز کے کام کی تصدیق کرے گا۔ وہ دن آ گیا جب ہامان کو مردکی کے سامنے جھکنا پڑا۔ اور وہ دن آئے گا جب ہر ایک گھٹنا یسوع مسیح کے آگے جھکے گا کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا ہے۔ 

۱۴:‏۲۰ ’’کنگال سے اُس کا ہمسایہ بھی بیزار ہے۔‘‘ ایسا ہونا تو نہیں چاہئے‏، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے ذاتی مفادات کی بنا پر دوستی قائم کرتے ہیں‏، وہ غریب سے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور خود غرضی پر مبنی مفادات کے لئے امیر کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہیں۔ ہمیں اُن لوگوں میں دلچسپی لینی چاہئے جن کے لئے ہم کچھ کر سکیں‏، نہ کہ ہم اُن سے کچھ حاصل کر سکیں۔ 

ایک لحاظ سے مال دار کے دوست بہت ہیں‏، لیکن ہم کبھی یہ نہیں جان سکتے کہ اُس کے کتنے مخلص دوست ہیں۔ یعنی ایسے دوست جو اُس کے پیسے سے نہیں بلکہ خود اُسے پیار کرتے ہیں۔ 

۱۴:‏۲۱ اِس آیت کا گذشتہ آیت سے تعلق ہے۔ غریب سے نفرت کرنا گناہ ہے کیونکہ خدا نے اُسے چنا ہے (‏یعقوب ۲:‏۵)‏۔ جو شخص کنگال پر رحم کرتا ہے وہ مبارک ہے۔ 

ہمیں اِس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یسوع مسیح اِس دُنیا میں غربت کی حالت میں آیا۔ 

۱۴:‏۲۲ جو شرارت اور بدی کے منصوبے بناتے ہیں وہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور جو دوسروں کی بہتری چاہتے ہیں اُنہیں سچائی اور نیکی سے اجر دیا جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا اُن پر رحم کرتا ہے اور تحفظ اور اجر کے اپنے وعدوں میں سچا ہے۔

۱۴:‏۲۳ ہر ایک باعزت کام منافع بخش ہے۔ کوئی کام نہ کرنے اور صرف باتیں کرنے میں محتاجی ہے۔ ہم سب ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو گھنٹوں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں‏، لیکن اُنہیں حل کرنے کے لئے ہاتھ تک نہیں ہلاتے۔ وہ عالمی بشارت کے لئے دھواں دار تقریریں کریں گے‏، لیکن اپنے پڑوسی کو گواہی دینے کے لئے اپنی کرسی سے نہیں اُٹھیں گے۔ وہ ایک ہی سانس میں اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں آپ کو بتا ڈالیں گے‏، لیکن کبھی بھی اُنہیں عملی جامہ نہیں پہنائیں گے۔ 

۱۴:‏۲۴ داناؤں کا تاج اُن کی دولت ہے۔ خواہ ہم اِس دولت کو مادی یا روحانی معنوں میں لیں‏، اِن داناؤں کی حکمت کا پھل واضح طور پر نظر آتا ہے۔ احمق اپنی زندگی اور کاموں سے صرف حماقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 

۱۴:‏۲۵ قانون کی عدالت میں سچا گواہ بے گناہ لوگوں کو سزا سے چھڑائے گا۔ دروغ گو گواہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے اور اُس کی دغابازی سے تباہ کن نتائج نکلتے ہیں۔ 

انجیل کی منادی کرنے والا سچا گواہ ہے جو روحوں کو ابدی موت سے بچاتا ہے۔ آزاد خیال اور بدعتی گروہ دغاباز گواہ ہیں جو جھوٹ بولتے اور روحوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ 

۱۴:‏۲۶ خداوند سے ڈرنے والے کی قوی اُمید ہے۔ اگر خدا اُس کی طرف ہے تو کون اُس کی مخالفت کر کے کامیاب ہو سکتا ہے (‏رومیوں ۸:‏۳۱)‏؟ جب بدی حملہ آور ہو گی تو ایسے لوگوں کی اولاد کو خداوند کے پَروں میں پناہ ملے گی۔

۱۴:‏۲۷ خدا پر بھروسا روحانی قوت اور تازگی کا منبع ہے۔ یہ اِنسان کو موت کے پھندوں سے بچنے کے قابل بناتا ہے۔ 

۱۴:‏۲۸ بادشاہ کے وقار کا تعین اِس بات سے ہوتا ہے کہ اُس کی رعایا کی تعداد کتنی ہے‏، اُس کے لوگ کس قدر خوش حال و مطمئن ہیں اور اُس کے کتنے وفادار ہیں۔ ایسے شخص کو بادشاہ کہلانے کا کیا فائدہ اگر اُس کی رعایا کی تعداد ہی بہت تھوڑی یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

۱۴:‏۲۹ ایسا شخص جو طیش دلانے والی باتوں کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیتا ہے بہت سمجھ داری دکھاتا ہے۔ لیکن جو جلد غصے میں آ جاتا ہے حماقت کو فروغ دیتا ہے۔

۱۴:‏۳۰ یہاں ’مطمئن دل‘ سے مراد مطمئن ذہن ہے۔ اِسی لئے بعض تراجم میں اِس حصے کا ترجمہ ’’مطمئن ذہن جسم کی جان ہے‘‘ کیا گیا ہے۔

حسد جیسے منفی جذبات اِنسانی صحت کے لئے مفید نہیں ہیں۔ ایک ماہر نفسیات لکھتا ہے:‏

’’ماہر نفسیات نے ذہنی امراض کے پیچھے جن اہم ترین وجوہات کا ذِکر کیا ہے اُن میں احساسِ جرم‏، ناراضی (‏معاف نہ کرنا)‏‏، خوف‏، احساسِ محرومی‏، بے استقلالی‏، شک‏، حسد‏، خود غرضی اور بوریت سرِ فہرست ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سے ماہرِنفسیات ذہنی امراض میں مبتلا کرنے والی وجوہات کی تو کامیابی سے نشان دہی کر لیں گے مگر اِن کا علاج کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے علاج میں خدا پر بھروسا کرنے کو شامل نہیں کرتے۔‘‘

۱۴:‏۳۱ جو کوئی بھی غریب پر ظلم کرتا ہے وہ اُس کے خالق کی بے عزتی کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا نے اِنسان کو اپنی صورت اور شبیہ پر پیدا کیا ہے اور غریب اِنسان تو یسوع مسیح کی غربت کی مہر لئے پھرتا ہے۔ آیت کے دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ جو کوئی غریب پر رحم کرتا ہے وہ حقیقت میں خدا کی عزت کرتا ہے۔

۱۴:‏۳۲ موت کے دروازے پر شریر اپنے کئے کا پھل پاتا ہے جبکہ صادق مرتے وقت بھی پُرامید ہے۔

یہوداہ اسکریوتی اوّل الذکر کی واضح مثال ہے جبکہ پولس موخرالذکر کی۔ 

۱۴:‏۳۳ حکمت عقل مند آدمی کی دل میں بسیرا کئے ہوئے ہے جبکہ احمقوں کے بارے میں بہت جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ اُن کے دل میں کیا ہے۔ 

۱۴:‏۳۴ کسی بھی قوم کی ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اُس کے راہنما اور عوام کا کردار درست نہیں ہو جاتا۔ دوسرے لفظوں میں وہ راست باز نہیں بن جاتے۔ بدعنوانی‏، رشوت‏، غلیظ ہتھ کنڈے اور ہر طرح کی اخلاقی ناراستی قوم کے لئے بے عزتی کا باعث ہوتے ہیں۔ 

۱۴:‏۳۵ حکمران اُس نوکر پر مہربان ہوتا ہے جو عقل مندی سے کام کرتا ہے (‏موازنہ کریں یوسف‏، مردکی اور دانی ایل کی زندگی سے)‏‏، لیکن اُس کا قہر اُس پر ہو گا جو رسوائی کے کام کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ دانا عورت اپنا گھر بناتی ہےپر احمق اُسے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کرتی ہے۔
۲ راست رو خداوند سے ڈرتا ہے پر کجرو اسکی حقارت کرتا ہے۔
۳ احمق میں غرور پھوٹ نکلتا ہے پر دانشمند وں کے لب انکی نگہبانی کرتے ہیں۔
۴ جہاں بیل نہیں وہاں چرنی صاف ہے لیکن غلہ کی افزایش بیل کے زور سے ہے ۔
۵ دیانتدار گواہ جھوٹ نہیں بولتا لیکن جھوٹا گواہ جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔
۶ ٹھٹھا باز حکمت کی تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا لیکن صاحب فہم کو علم آسانی سے حاصل ہوتا ہے ۔
۷ احمق سے کنارہ کر کیونکہ تو اُس میں علم کی باتیں نہیں پائیگا ۔
۸ ہوشیار کی حکمت یہ ہے کہ اپنی راہ پہچانے لیکن احمقوں کی حمایت دھوکہ ہے۔
۹ احمق گناہ کرکے ہنستے ہیں پر راستکاروں میں رضامندی ہے۔
۱۰ اپنی تلخی کو دل ہی خوب جٓانتا ہے اور بغیانہ اُسکی خوشی میں داخل نہیں رکھتا۔
۱۱ شریر کا گھر برباد ہو جٓائیگا پر راست آدمی کا خیمہ آباد رہئیگا۔
۱۲ ایسی راہ بھی ہے جو انسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہےپر اسکی انتہا میں موت کی راہیں ہیں۔
۱۳ ہنسنےمیں بھی دل غمگین ہے اور شادمانی کا انجام غم ہے ۔
۱۴ برگشتہ دل اپنی روش کا اجر پاتا ہےاور نیک آدمی اپنے کام کا۔
۱۵ نادان ہر بات کا یقین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روش کو دیکھتا بھالتا ہے۔
۱۶ دانا ڈرتا ہے اور بدی سے الگ رہتا ہے پر احمق جھنجھلاتا ہے اور بیباک رہتا ہے۔
۱۷ زودرنج بیوقوفی کرتا ہے اور برے منصوبے باندھنے والا گھنونا ہے۔
۱۸ نادان حمایت کی میراث پاتے ہیں پر ہوشیاروں کے سر پر علم کا تاج ہے۔
۱۹ شریر نیکوں کے سامنے جھکتے ہیں اور خبیث صادقوں کے دروازوں پر۔
۲۰ کنگال سے اُسکا ہمسایہ بھی بیزار ہے پر مالدار کے دوست بہت ہیں۔
۲۱ اپنے ہمسایہ کو حقیر جٓاننے والا گناہ کرتا ہےلیکن کنگال پر رحم کرنے والا مبارک ہے۔
۲۲ کیا بدی کے موجد گمراہ نہیں ہوتے؟پر شفقت اور سچائی نیکی کے موجد کے لئے ہیں۔
۲۳ ہر طرح کی محنت میں نفع ہے پر منہ کی باتوں میں محض محتاجی ہے۔
۲۴ داناوں کا تاج انکی دولت ہے پر احمقوں کی حمایت ہی حمایت ہے۔
۲۵ گواہ جٓان بچانے والا ہے پر دروغگودغا بازی کرتا ہے۔
۲۶ خداوند کے خوف میں قوی امید ہے اور اسکے فررزندوں کو پناہ کی جگہ ملتی ہے۔
۲۷ خداوند کا خوف حیات کا چشمہ ہے جو موت کے پھندوں سے چھٹکارے کا باعث ہے۔
۲۸ رعایا کی کثرت میں بادشاہ کی شان ہے پر لوگوں کی کمی میں حاکم کی تباہی ہے۔
۲۹ جو قہر کرنے میں دَھیما ہے بڑا عقلمند ہے پر وہ جو جھکی ہے حمایت کو بڑھاتا ہے۔
۳۰ مطمن دل جسم کی جٓان ہے لیکن حسد ہڈیوں کی بوسیدگی ہے۔
۳۱ مسکین پر ظلم کرنے والا اسکے خالق کی اِہانت کرتا ہے لیکن اسکی تعظیم کرنے والا محتاجوں پر رحم کرتا ہے ۔
۳۲ شریر اپنی شرارت میں پست کیا جٓاتا ہے لیکن صادق مرنے پر بھی امیدوار ہے۔
۳۳ حکمت عقلمندکے دل میں قائم رہتی ہے پر احمقوں کا دلی راز فاش ہو جٓاتا ہے۔
۳۴ صداقت قوم کو سر فرازی بخشتی ہےپرگناہ سے امتوں کی رسوائی ہے۔
۳۵ عقلمند خادم پر بادشاہ کی نظر عنایت ہےپر اسکا قہر اس پر ہے جو رسوائی کا باعث ہے۔