ط۔ ضامن بننے، کاہلی اور دھوکا دہی کی حماقت (۶:۱۔۱۹)
۶:۱ پہلی پانچ آیات میں کسی کا ضامن بننے کے خلاف آگاہی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے قرض کو ادا نہ کر سکے تو اُس کی ذمہ داری اُٹھانا حماقت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کا دوست قسطوں پر کار خریدنا چاہتا ہے، لیکن اُس کے پاس حسبِ ضرورت رقم نہیں ہے۔ قرضہ دینے والی کمپنی کسی ایسے شخص کے دستخط مانگتی ہے جو قرض لینے والے کی طرف سے عدم ادائیگی کی صورت میں قرض ادا کر سکے۔ پڑوسی آپ کے پاس آ کر کہتا ہے کہ آپ دستخط کریں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر وہ رقم ادا نہیں کرتا تو آپ ادا کریں گے۔
اِس آیت میں دوست آپ کا پڑوسی ہے۔ بیگانہ قرض دینے والی کمپنی ہے جس کو آپ نے ضمانت دی ہے۔
۶:۲ ’’تو تُو اپنے ہی منہ کی باتوں میں پھنسا، تُو اپنے ہی منہ کی باتوں سے پکڑا گیا۔‘‘ دوسرے لفظوں میں اگر آپ نے جلد بازی سے وعدہ کر لیا تو آپ جال میں پھنس گئے۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔
۶:۳ اب سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اِس معاہدے سے جلد از جلد آزاد ہو جائیں۔ اپنے دوست کو قائل کریں کہ دستاویزی معاہدے سے اپنے دستخط ختم کر ڈالے، جس کے لئے آپ کو فریب سے پھنسا لیا گیا تھا۔
۶:۴،۵ یہ معاملہ اِس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ آپ کو اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک آپ اُس بوجھ سے آزاد نہیں ہو جاتے۔ آپ کو ایسے آزاد ہو جانا چاہئے جیسے ہرنی صیاد سے اور چڑیا چڑیمار سے آزاد ہو جاتی ہے۔
لیکن بائبل ہمیں کیوں اِس قدر سختی سے ضمانت کے خلاف خبردار کرتی ہے؟ کیا یہ کسی پڑوسی یا دوست سے مہربانی کا اِظہار نہیں ہے؟ ممکن ہے کہ اگرچہ یہ مہربانی دکھائی دیتی ہو لیکن یہ مہربانی نہ ہو۔
- ممکن ہے کہ خدا کی مرضی نہ ہو کہ اُس کے پاس یہ چیز ہو جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
- ممکن ہے کہ آپ اُس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوں کہ وہ فضول خرچ یا جوئے باز بن جائے۔
- اگر وہ اِس چیز کے پیسے ادا نہیں کرے گا اور آپ کو ادا کرنا پڑے تو آپ کی دوستی ختم ہو جائے گی اور تلخی کا آغاز ہو جائے گا۔
اگر کوئی جائز ضرورت ہو تو بہتر یہ ہے کہ آپ فوراً روپے سے اُس کی مدد کریں، لیکن کسی بھی صورت میں ضمانت نہ دیں۔
۶:۶،۷ آیات ۶۔۱۱ میں کاہلی کے خلاف احتجاج ہے۔ چیونٹی کے نمونے سے ہمیں سکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چیونٹی اِدھر اُدھر پھرتی ہے اور متحرک رہتی ہے۔ وہ اکثر اپنے سے بڑے بوجھ کو اُٹھاتی ہے۔ یہ کسی نگران یا افسرانِ اعلیٰ کے بغیر بہت سا کام سرانجام دیتی ہے۔ اگر ہم بہت سی چیونٹیوں کے گروہ کا مشاہدہ کریں تو وہ بڑی تیزی سے مختلف سمتوں میں جاتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ لیکن اُن کی سرگرمی بامقصد ہوتی ہے، حالانکہ اُنہیں کوئی واضح احکام نہیں دیئے جاتے۔
۶:۸ یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی عقل مندی اور محنت سے گرمی کے موسم میں کام کرتی اور فصل کٹائی کے وقت اپنی خوراک جمع کرتی ہے۔ یہاں پر مستقبل کے لئے خوراک جمع کرنے پر نہیں بلکہ محنت سے کام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اِس پیرے کو مسیحیوں کو یہ تعلیم دینے کے لئے استعمال نہ کیا جائے کہ اُنہیں لازماً وقت بے وقت کے لئے وسائل جمع کرنا چاہئے۔ ہمیں زمین پر خزانہ جمع کرنے کے لئے منع کیا گیا ہے (متی ۶:۱۹)۔ اگرچہ چیونٹیاں اپنے مستقبل کے لئے جمع کرتی ہیں اور مسیحیوں کو بھی اپنے مستقبل کے لئے جمع کرنا چاہئے، تاہم فرق یہ ہے کہ چیونٹی کا مستقبل اِس دُنیا میں ہے جب کہ ایمان دار کا مستقبل آسمان پر ہے۔ اِس لئے عقل مند مسیحی زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر خزانہ جمع کرتے ہیں۔
۶:۹ سُست شخص بہت زیادہ سونے کا عادی ہے۔ اُس کا فلسفہ یہ ہے کہ ’’صبح کے وقت اُٹھنا بہت اچھا ہے لیکن بستر پر لیٹے رہنا اِس سے بھی اچھا ہے۔‘‘ الارم کلاک کے لئے اُس کے کان بند ہیں۔
۶: ۱۰،۱۱ بالآخر بیدار ہو کر وہ کہتا ہے کہ ’’ مَیں اَور تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر لوں اور تھوڑی سی نیند، بس تھوڑا سا اَور آرام کر لوں۔‘‘
ممکن ہے کہ گھرانے کے دوسرے افراد اُس کے بیدار ہونے کا اِنتظار کر لیں، لیکن مفلسی اِنتظار نہیں کرے گی۔ ’’اِسی طرح تیری مفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مسلح آدمی کی طرح آ پڑے گی۔‘‘
۶:۱۲ آیات ۱۲۔۱۵ میں دغاباز شخص کا بہترین خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اُس کی مکارانہ مسکراہٹ، اُس کے دل کی مکاری چھپاتی ہے۔ وہ اِدھر اُدھر جھوٹ بولتا پھرتا ہے۔
۶:۱۳،۱۴ اپنے ساتھیوں کو آگاہ کرنے کے لئے اور دوسرے شخص کو اپنا تختہ مشق بنانے کے لئے وہ ہر طرح کے اشارے کنایے استعمال کرتا ہے۔ وہ آنکھ مارتا، وہ پاؤں اور اُنگلیوں سے اشارے کرتا ہے۔
اُس کا دل کجی اور بُرائی سے بھرا ہے، وہ مسلسل شرارت اور فتنہ انگیزی کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔
۶:۱۵ ’’اِس لئے آفت اُس پر ناگہاں آ پڑے گی۔ وہ یک لخت توڑ دیا جائے گا اور کوئی چارہ نہ ہو گا۔‘‘ آج کل کے اخباروں میں اِس کی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔
۶:۱۶ شریر اِنسان کی باتوں (آیات ۱۲:۱۵) سے خدا کو نفرت ہے (آیات ۱۶۔۱۹) خاص کر اُس کی فتنہ انگیزی سے (آیات ۱۴ اور ۱۹ کا موازنہ کیجئے)۔
اِس فارمولے ’’چھ … بلکہ سات چیزوں‘‘ کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ فہرست خصوصی لیکن جامع نہیں ہے یا اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ساتویں چیز سب سے بُری ہے۔
۶:۱۷ اونچی آنکھیں۔ تکبر وہ خاک ہے جو اپنے آپ کو خدا کے برابر بنانا چاہتی ہے۔ ایک شہنشاہ کے نوکر نے کہا:
مَیں اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ میرا آقا خود نما اور خود پسند تھا۔ وہ ہر جگہ مرکزی حیثیت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ کسی بچے کی رسمِ بپتسمہ پر جاتا، تو وہ بچہ بن جانا چاہتا تھا، اگر وہ کسی شادی پر جاتا تو وہ دُولھا کا مقام حاصل کرنا چاہتا اور اگر وہ کسی جنازے میں شمولیت کے لئے جاتا وہ میت بننا چاہتا۔
جھوٹی زبان۔ زبان تو خدا کی تعریف کرنے کے لئے بنائی گئی۔ جھوٹ بولنا اِس کے استعمال کو تبدیل کرنا ہے اور یہ کمینگی ہے۔ کیا ایمان دار کا کبھی جھوٹ بولنا درست ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ خدا کبھی جھوٹ نہیں بولتا، اور وہ یہ حق کسی اَور کو بھی نہیں دے سکتا۔
بے گناہ کے خون بہانے والے ہاتھ۔ ہر ایک اِنسانی زندگی کی خدا کے ہاں بہت زیادہ قدر و قیمت ہے۔ اُس نے ہماری مخلصی کے لئے کوہِ کلوری پر بیش بہا قیمت ادا کرنے سے یہ ثابت کر دیا۔ سزائے موت کا قانون (پیدائش ۹:۶) قتل کے بارے میں خدا کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
۶:۱۸ بُرے منصوبے باندھنے والا دل۔ اِس کا تعلق ایسے ذہن سے ہے جو ہر وقت کوئی نہ کوئی شرارت سوچتا رہتا ہے۔ خداوند یسوع نے مرقس ۷:۲۱،۲۲ میں ان میں سے چند ایک بُرے خیالات کا ذِکر کیا۔
شرارت کے لئے تیز رَو پاؤں۔ خدا نہ صرف بدی کے منصوبے باندھنے والے دل سے نفرت کرتا ہے بلکہ اُن پاؤں سے بھی جو اِن منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بے چین ہیں۔
۶:۱۹ جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کرتا ہے۔ اِس سے مراد قانون کی عدالت میں عوامی طور پر گواہی دینا ہے۔ آیت ۱۷ ب میں اِس کا تعلق روزمرہ کی گفتگو سے ہے۔
جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ خدا بھائیوں میں نفاق ڈالنے والوں کو قاتلوں اور جھوٹ بولنے والوں کی صف میں شمار کرتا ہے۔
مذکورہ سات گناہوں میں سے کتنے گناہوں کا تعلق مسیح کی گرفتاری اور تصلیب سے ہے؟
ی۔ زِناکاری اور حرام کاری کی حماقت (۶:۲۰۔۷:۲۷)
۶:۲۰ زِناکاری اور بے وفائی کے گناہ پر یہاں پھر ذِکر کیا گیا ہے۔ اِس کا بار بار ذِکر اتفاقاً نہیں ہوا ہے۔ آیت ۲۰ کے الفاظ ایک قسم کا فارمولا ہیں جنہیں اہم نصیحت کے لئے متعارف کرایا گیا ہے۔
۶:۲۱ یسوع کے ایام میں بعض خدا پرست اِس آیت کی لفظی طور پر پابندی کے لئے کلام کے حصوں کو چمڑے کے تعویذوں میں بند کر کے پہنتے تھے۔ دعا کے دوران یہ یہودی ایک تعویذ کو بائیں بازو (دل کے نزدیک) اور ایک کو سر پر (گردن کے نزدیک) باندھتے تھے۔ بعض یہودی آج بھی ایسے تعویذوں کو استعمال کرتے ہیں۔
درحقیقت اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا کلام ہماری زندگیوں کا اِس حد تک حصہ بن جائے کہ ہم جہاں کہیں جائیں یہ ہمارے ساتھ جائے اور ہماری راہنمائی کرے۔ خدا تعالیٰ کے کلام کا نہ صرف ظاہری طور پر احترام کریں بلکہ دلی طور پر اُس کی فرماں برداری کریں۔
۶:۲۲ خدا کے کلام کی فرماں برداری درج ذیل طور پر آپ کی مدد کرے گی۔
| راہنمائی | __ | یہ چلتے وقت تیری راہبری کرے گی۔ |
| تحفظ | __ | سوتے وقت تیری نگہبانی کرے گی۔ |
| ہدایت | __ | جاگتے وقت تجھ سے باتیں کرے گی۔ |
۶:۲۳ یہ آیت گذشتہ آیت کی تشریح کرتی ہے۔
| فرمان چراغ ہے | __ | راہنمائی کے لئے |
| تعلیم نور ہے | __ | تحفظ کے لئے |
| تربیت کی ملامت حیات کی راہ ہے | __ | ہدایت و تعلیم کے لئے |
۶:۲۴،۲۵ خدا کے کلام کی ایک خاص خدمت یہ ہے کہ وہ مردوں کو فاحشہ عورت کی چرب زبانی اور چاپلوسی سے بچائے۔
کوئی شخص اُس کی فطری خوبصورتی اور پلکوں کے اشارہ سے متاثر نہ ہو۔
۶:۲۶ فاحشہ عورت (چھنال) مرد کو کنگال کر دیتی ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ زانیہ اُس کی قیمتی جان کو ختم کر دیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں اِنسان کو بہت زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے۔
۶:۲۷،۲۸ کسی دوسرے شخص کی بیوی سے ناجائز تعلقات سینے میں آگ رکھنے کے مترادف ہے۔ آپ اِس کے مرتکب ہونے سے جلیں گے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کہ آپ انگاروں پر چلیں۔ اِس سے آپ کے پاؤں ضرور جلیں گے۔ Griffiths خبردار کرتا ہے:
’’زِناکاری کا اِرتکاب حماقت ہے، کیونکہ اِس کا نتیجہ ذاتی تباہی ہے۔ اِس سے لوگ مجروح ہو جاتے ہیں اور اِنسان رُسوا ہوتا ہے۔ یہ تذلیل کا باعث ہے اور جن لوگوں سے زیادتی کی گئی ہو اُن کے غصے کی اِنتہا نہیں ہے۔
۶:۲۹ جو شخص اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جاتا ہے، اُس کی حالت بھی ایسی ہی ہو گی۔ وہ پکڑا جائے گا اور اُسے سزا ملے گی۔ کائنات میں ایک ایسا اخلاقی اصول ہے جس کے تحت ایسا گناہ عموماً ظاہر ہو جاتا ہے۔ اگر یہ گناہ کسی وجہ سے اِس دُنیا میں ظاہر نہ ہو، تو بھی یہ آئندہ زندگی میں ضرور ظاہر ہو جائے گا۔
۶:۳۰،۳۱ اِن آیات کے دو طرح سے معانی اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ اوّل، اگر کوئی شخص اپنے اور اپنے بھوکے خاندان کو روٹی کھلانے کی غرض سے چوری کرے تو کسی حد تک لوگوں کی اُس کے ساتھ ہمدردیاں ہوں گی۔ لیکن اگر وہ پکڑا جائے، تو اُسے اِس کا معاوضہ ادا کرنا ہو گا خواہ اُسے اپنی ہر ایک شے سے ہاتھ دھونا پڑیں۔
دوم، آیت ۳۰ کا سوالیہ انداز سے بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر اِس کا یہ مطلب بنتا ہے کہ لوگ ہر صورت میں چور سے نفرت کرتے ہیں خواہ وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے کیوں نہ چوری کرے اور اُسے اِس کا مکمل معاوضہ ادا کرنا ہو گا: ’’اگر چور بھوک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کو چوری کرے تو کیا لوگ اُسے حقیر نہیں جانیں گے؟ اور اگر وہ پکڑا جائے تو سات گنا بھرے گا۔‘‘
بہرکیف قابلِ غور بات یہ ہے کہ چور اپنے گناہ کا فدیہ دے سکتا ہے جبکہ زِناکار اپنے نقصان کو پورا نہیں کر سکتا۔
۶:۳۲ زِناکار بے عقل ہے کیونکہ وہ سماجی، روحانی، اخلاقی اور شاید جسمانی طور پر بھی اپنے آپ کو برباد کرتا ہے (استثنا ۲۲:۲۲)۔
۶:۳۳ ایک لمحے کی لذت کے لئے اُسے زخم اور ذِلت اُٹھانا پڑتی ہے، شاید غصے میں آگ بگولا خاوند کے ہاتھوں اُسے اپنی باقی ماندہ زندگی میں ندامت اور ذلت برداشت کرنا پڑے گی (خدا کا شکر ہو کہ اگر کوئی شخص توبہ کرے، اپنے گناہ کا اِقرار کر کے اُسے ترک کرے، تو خداوند اُسے معاف کر سکتا ہے)۔
۶:۳۴ یہاں ہم غیرت مند شوہر کے غضب کو دیکھتے ہیں جو غیر متوقع طور پر واپس آتا ہے اور اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کی آغوش میں دیکھتا ہے۔ جب وہ اِنتقام لیتا ہے تو وہ کسی طرح کے بہانے نہیں سنے گا۔
۶:۳۵ زناکار کی طرف سے کسی طرح کا فدیہ شوہر کے غصے کو ٹھنڈا نہیں کرے گا، اُس کی شادی کے بندھن میں دخل اندازی کے لئے کسی طرح کی رشوت کافی نہیں ہو گی۔
مقدس کتاب
۱ اے میرے بیٹے !اگر تو اپنے پڑوسی کا ضامن ہوا ہے ۔اگر تو ہاتھ مار کر کسی ب یگا کا ذمہ وار
۲ تو تو اپنے ہی منہ کی باتوں میں پھنسا ۔تو اپنے ہی منہ کی باتوں سے پکڑا گیا ۔
۳ سو اَے میرے بیٹے !چونکہ تو اپنے پڑوسی کے ہاتھ میں پھنس گیا ہے۔اب یہ کر اور اپنے آپ کو بچالے ۔جٓا۔خاکسار بن کر اپنے پڑوسی سے اِصرار کر۔
۴ تو نہ اپنی آنکھوں میں نیند آنے دے اور نہ اپنی پلکوں میں جھپکی۔
۵ اپنے آپ کو ہرنی کی مانند صیاد کے ہاتھ سے اور چڑیاکی ما نند یمار کے ہاتھ سے چھڑا۔
۶ اَے کاہل !چیو نٹی کے پاس جٓا ۔اُسکی روشوں پر غورکر اور دانشمندبن ۔
۷ جو با ؤجودیکہ اُسکانہ کوئی نہ سردار نہ ناظر نہ حاکم ہے۔
۸ گرمی کے موسم میں اپنی خوراک مہیا کرتی ہے اور فصل کٹنے کے وقت اپنی خورش جمع کرتی ہے۔
۹ اَے کاہل !تو کب تک پڑارہیگا؟تو نیند سے کب اُٹھیگا ؟
۱۰ تھوڑی سی نیند ۔ایک اور جھپکی۔ذراپڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ ۔
۱۱ اِسی طرح تیری مُفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مسلح آدمی کی طرح آپڑیگی۔
۱۲ خبیث وبدکارآدمی ٹیڑھی ترچھی زبان لئے پھرتا ہے۔
۱۳ وہ آنکھ مارتا ہے۔وہ پاؤں سے باتیں اور اُنگلیوں سے اِشارہ کر تا ہے۔
۱۴ اُسکے دِل میں کجی ہے ۔وہ بُرائی کے منصوبے باندھتا رہتا ہے۔وہ فتنہ انگیز ہے۔
۱۵ اِسلئے آفت اُس پر ناگہاں آپڑیگی ۔وہ یک لخت توڑدِیا جٓا ئیگااورکوئی چارہ نہ ہو گا ۔
۱۶ چیزیں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہےسات ہیں جن سے اُسے کراہیت ہے۔
۱۷ اوچی آنکھیں ۔جھوٹی زبان ۔بے گناہ کاخون بہانے والے ہاتھ ۔
۱۸ بُرے منصوبے باندھے والا دِل ۔شرارت کے لئے تیز رو پاؤں ۔
۱۹ جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کر تا ہےاور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔
۲۰ اَے میرے بیٹے !اپنے باپ کے فرمان کو بجالا اور اپنی ماں کی تعلیم کو نہ چھوڑ۔
۲۱ اِنکو اپنے دِل پر باندھے رکھ اور اپنے گلے کا طوق بنالے ۔
۲۲ یہ چلتے وقت تیری رہبری اور سوتے وقت تیری نگہبانی اور جٓاگتے وقت تجھ سے باتیں کر یگی ۔
۲۳ کیونکہ فرمان چراغ ہے اور تعلیم نُور اور تربیت کی ملامت حیات کی راہ ہے۔
۲۴ تاکہ تجھ کو بری عورت سے بچائے یعنی ب یگا عورت کی زبان کی چاپُلوسی سے۔
۲۵ تو اپنے دِل میں اُسکے حُسن پر عاشق نہ ہواور وہ تجھ کو اپنی پلکوں سے شکار نہ کرے ۔
۲۶ کیونکہ چھنال کے سبب سے آدمی ٹکڑ ے کا محتاج ہو جٓا تا ہے۔اور زانیہ قیمتی جٓان کا شکار کرتی ہے۔
۲۷ کیا ممکن ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں آگ رکھےاور اسکے کپڑے نہ جلیں ؟
۲۸ یا کوئی انگاروں پر چلے اور اُسکے پاؤں نہ جھلسیں ؟
۲۹ وہ بھی اَیسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جٓاتا ہے۔جو کوئی اُسے چھوئے بے سزا نہ رہیگا۔
۳۰ چوراگر بھو ک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کو چوری کرے تو لوگ اُسے حقیر نہیں جٓانتے ۔
۳۱ پر اگر وہ پکڑا جٓائے تو سات گنا بھر یگا ۔اُسے اپنے گھر کا سارا مال دینا پڑیگا ۔
۳۲ جو کسی عورت سے زنا کر تا ہے وہ بے عقل ہے ۔ وہی اَیسا کرتا ہے جو اپنی جٓان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
۳۳ وہ زخم اور ذلت اُٹھائیگا اور اسکی رُسوائی کبھی نہ ہٹیگی ۔
۳۴ کیونکہ غیرت سے آدمی غضبناک ہو تا ہےاور وہ اِنتقام کے دِن نہیں چھوڑیگا ۔
۳۵ وہ کوئی فدیہ منظور نہیں کر یگا اور گو تو بہت سے انعام بھی دے تو بھی وہ راضی نہ ہو گا ۔