اِمثال ۱

تفسیر

۱۔ تعارُف (‏۱:‏۱۔۷)‏

۱:‏۱ سلیمان بن داؤد اسرائیل کے سب بادشاہوں میں سے زیادہ عاقل‏، دولت مند اور معزز بادشاہ تھا (‏۱۔سلاطین ۳:‏۱۲‏،۱۳؛ ۴:‏۳۰‏،۳۱)‏۔ اُس نے تین ہزار اَمثال کہیں‏، لیکن اُن میں صرف کچھ ہی اِس کتاب میں محفوظ کی گئی ہیں۔ یہ ۱:‏۱ سے ۲۹:‏۲۷ تک ہیں۔ 

۱:‏۲‏،۳ آیات ۲۔۶ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُس نے یہ اَمثال کیوں کہیں۔ المختصر وہ زندگی گزارنے کے لئے عملی حکمت مہیا کرتی ہیں۔ 

اِن میں حکمت اور تربیت سکھائی گئی ہے تاکہ لوگ اِسے عملی زندگی میں اپنا سکیں۔ یہاں وہ فہم کی باتوں کا اِمتیاز کرنا سیکھ لیں گے یعنی نیکی اور بدی میں‏، نفع و نقصان میں‏، فائدہ مند اور نقصان دہ باتوں میں۔ یہاں اُنہیں تعلیم دی گئی ہے کہ کیا کیا عقل مند‏، راست باز‏، موزوں اور معزز ہے۔ 

۱:‏۵ اِن اَمثال پر عمل کرنے سے دانا آدمی مزید دانا ہو گا اور فہیم آدمی سیکھے گا کہ اپنی راہنمائی کیسے کر سکے اور دوسروں کو بھی نصیحت کر سکے۔ کیا یہ نہایت ہی اہم بات نہیں کہ جو کتاب بنیادی طور پر نوجوانوں کے لئے ہے وہ شروع میں ہی یہ اعلان کرے کہ ’’دانا آدمی سن کر علم میں ترقی کرے‘‘؟ اَمثال کی کتاب میں دانا آدمی کا یہی مطلب ہے۔ یہی شخص قابلِ تربیت ہے۔ وہ سننا چاہتا ہے اور سارا وقت باتیں ہی نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ایسا شخص نہیں جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ 

۱:‏۶ یہ کتاب اِس انداز سے ترتیب دی گئی ہے کہ اِنسان مثل اور تمثیل کو سمجھ سکے‏، یعنی اُس سبق کو حاصل کر سکے جسے سطحی طور پر نہیں بلکہ گہرے طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ اُس کی مدد کرتی ہے کہ وہ دانائی کی باتوں اور اُن میں پوشیدہ حقیقتوں کے معانی جان سکے۔ 

۱:‏۷ اب ہم کتاب کی کلیدی آیت کی طرف آتے ہیں (‏دیکھیں ۹:‏۱۰)‏۔ ’’خداوند کا خوف علم کا شروع ہے۔‘‘ اگر کوئی شخص عقل مند بننا چاہتا ہے تو مقامِ آغاز یہ ہے کہ وہ خدا پر بھروسا رکھے اور اُس کی فرماں برداری کرنے سے اُس کی تعظیم کرے۔ اِ س سے بڑھ کر اَور معقول بات کیا ہو سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق پر اعتماد کرے؟ دوسری طرف اِس سے بڑھ کر اَور نادانی کیا ہو سکتی ہے کہ اِنسان خدا کے کلام کو ردّ کر کے اپنی غیر معقول باتوں کے مطابق زندگی گزارے؟ عقل مندی کا عملی اِقدام یہ ہے کہ اِنسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے‏، خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے کہ وہ اُس کا نجات دہندہ ہے اور خلوص دلی سے اُس کے لئے زندگی گزارے۔ 

احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔ جیسے اِس کتاب میں دانا وہ شخص ہے جو سیکھنے اور تربیت حاصل کرنے کا خواہاں ہے‏، ویسے ہی احمق شخص وہ ہے جسے کوئی بات نہیں سکھائی جا سکتی۔ وہ خود سر اور خود پسند ہے اور اگر اُسے سبق سیکھنا بھی پڑے تو مشکلات سے گزر کر سیکھے گا۔ 

۲۔ حکمت اور حماقت کے متعلق سلیمان کی اَمثال (‏۱:‏۸۔۹:‏۱۸)‏

الف۔ حکمت کی نصیحت (‏۱:‏۸۔۳۳)‏

۱:‏۸ پہلے سات ابواب میں زیادہ تر ’’میرے بیٹے‘‘ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اِن الفاظ کا تقریباً ۱۵ بار ذِکر کیا گیا ہے۔ اِن ابواب میں ہم والدین کے دل کی دھڑکن کو سنتے ہیں جو اپنے بچے کی زندگی کی بہتری چاہتے ہیں۔ اپنے والدین کی نصیحت کو سننے سے نوجوان احمقانہ مذاق سے گریز کرے گا اور عملی زندگی اور روزمرہ کے معاملات میں مہارت پیدا کرے گا۔

ہم خدا پرست والدین اور خصوصی طور پر خدا پرست ماؤں کے ممنون ہیں۔ ہنری بوش ہمیں یاد دلاتا ہے:‏

ماضی کے اکثر عظیم لوگوں نے ماں کے قدموں میں بیٹھ کر بہت زیادہ برکت حاصل کی۔ موسیٰ‏، سموئیل اور تیمتھیس کی زندگیوں پر غور کریں۔ ماں کی نگہداشت اور مذہبی اثرات کے تجربے سے اِن روحانی قائدین کی زندگیوں میں بہت اعلیٰ نتائج پیدا ہوئے۔ اوگسطین‏، جان نیوٹن اور ویزلی برادران پر غور کیجئے۔ اگر اِن حضرات کی دیندار مائیں اپنے گھروں میں اُنہیں محبت کی شریعت اور مسیحی گواہی کے بارے میں نہ سکھاتیں جو اُن کی روزمرہ کی زندگی میں راہنمائی اور تحریک کا باعث بنیں‏، تو غالباً تاریخ کے اوراق میں اُن کے نام درخشاں نظر نہ آتے۔ 

۱:‏۹ جب والدین کی نصیحت پر عمل کیا جاتا ہے تو یہ سر کے لئے زینت کا سہرا اور زیور کے طور پر گلے کا طوق بن جاتی ہے۔ یہ اِس بات کے کرنے کا شاعرانہ انداز ہے کہ فرماں برداری دانا بیٹے کی زندگی میں عزت اور اخلاقی خوبصورتی کو جنم دیتی ہے۔ 

۱:‏۱۰ جب کوئی نوجوان اپنی زندگی کو برباد کر لیتا ہے تو اُس کی عموماً یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ غلط صحبت میں پڑ گیا۔ آیات ۱۰۔۱۹ میں بڑے خوبصورت انداز سے اِس عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ 

سب سے پہلے تو خبردار کیا گیا ہے کہ زندگی بدی کی دعوتوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمیں ہر ہفتے کے دوران ہزاروں بار ’’نہ‘‘ کہنے کی جرأت کرنی چاہئے۔ 

۱:‏۱۱ یہاں بازاری ٹولہ ہمارے نوجوان کو مسلح ڈکیتی میں شامل ہونے کے لئے دعوت دیتا ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو وہ اپنے ہدف کو حاصل بھی کر لیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ خوش ہو جائے کہ وہ اُسے اپنے ٹولے میں شامل کر لیں گے۔ ’’وہ کہیں ہمارے ساتھ چل۔‘‘ شاید وہ اِس وجہ سے شامل ہو جائے کہ اُن کی جرأت سے مزہ آئے گا۔ 

۱:‏ ۱۲۔۱۴ شاید وہ معمول کے مطابق چلنے سے بوریت محسوس کرے اور کوئی جرأت مندانہ کام کرنے کا خواہاں ہو۔ یوں وہ ایک دم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اچانک وہ کسی کو موت کے گھاٹ اُتار کر ہر طرح کی شہادت کو جلدی سے ختم کر دیتے ہیں۔ اُن کے لئے سب سے بڑی تحریک تو یہ ہے کہ وہ راتوں رات امیر بن جائیں گے۔ اِتنا کچھ اُن کے ہاتھ لگ جائے گا کہ سب ساتھیوں کے گھر بھر جائیں گے۔ وہ یہ لالچ دیتے ہیں‏، ’’ہمارے ساتھ مل جا اور تجھے ٹھیک ٹھاک حصہ ملے گا۔ ہر ایک کو برابر حصہ ملے گا۔ یہ تمہارے لئے گھاٹے کا سودا نہیں۔‘‘

۱:‏ ۱۵‏،۱۶ لیکن ایک دانش مند آواز یہ کہتی ہے کہ ’’میرے بیٹے! ایسا نہ کرنا۔ جہاں تک ممکن ہو اُن لوگوں سے دُور رہنا۔ فوری طور پر دولت کے حصول کے لئے اُن کے منصوبے میں شامل نہ ہونا۔ تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘

’’تجھے ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لوگ مسلسل مجرمانہ زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور گولی چلانے میں بہت تیز ہیں۔ وہ یکے بعد دیگرے تیزی سے قتل کرتے ہیں۔‘‘

۱:‏ ۱۷‏،۱۸ ایک پرندے میں اِتنی عقل تو ہوتی ہے کہ اگر اُس کے سامنے جال بچھایا جائے تو وہ اُس سے گریز کرے گا۔ لیکن یہ لوگ اپنی ہی جان کے لئے جال بچھا کر اُس میں پھنس جاتے ہیں۔ 

۱:‏۱۹ اِس سے ایک سبق اخذ کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ جلدی سے امیر بننے کی کوشش کرتے ہیں‏، اُنہیں اپنے لالچ کے لئے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ ’’نفع کے لالچی کی راہیں ایسی ہی ہیں۔ ایسا نفع اُس کی جان لے کر ہی چھوڑتا ہے۔‘‘

یہاں تشدد کے ذریعے امیر بننے کی کوشش پر غور کیا گیا ہے‏، لیکن اِس کا اطلاق وسیع تر ہے۔ اِس میں جلدی امیر بننے کا ہر ایک منصوبہ مثلاً جوئے بازی یا ذخیرہ اندوزی شامل ہے۔ 

اِس کے بعد گزرنے والے لوگوں کو دو آوازیں بلاتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔ ایک تو حکمت کی آواز ہے اور دوسری بیگانہ عورت کی۔ حکمت کو گو یہاں عورت کے رُوپ میں پیش کیا گیا ہے‏، تاہم یہ خداوند یسوع مسیح کی علامت ہے۔ بیگانہ عورت گناہ آلود آزمائش اور بے دین دُنیا کی علامت ہے۔ 

آیات ۲۰۔۳۰ میں حکمت اُن لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے جو سوچتے ہیں کہ وہ اُس کے بغیر بھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ 

۱:‏۲۰ ملاحظہ فرمایئے کہ حکمت نمایاں مقامات پر کھڑی ہو کر پکارتی ہے تاکہ ہر شخص اُس کے پیغام کو سن سکے۔ وہ شہر کے کوچے میں زور سے پکارتی ہے۔ 

۱:‏۲۱ اَب وہ شہر کے مصروف مقام یعنی پُر ہجوم بازار اور پھاٹکوں کے مدخل پر آتی ہے۔ ہمارا خداوند بھی بنی نوع اِنسان کو یوں بلاتا ہے۔

’’جہاں زندگی کے پُرہجوم راستے ہیں‏،
جہاں نسلوں اور قبیلوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں‏،
جہاں خود غرضی کا شور ہوتا ہے‏،
وہاں اے ابنِ آدم! تیری آواز سنائی دیتی ہے‘‘
(‏فرینک میسن نارتھ)‏۔

۱:‏۲۲ حکمت سادہ لوحوں‏، ٹھٹھا بازوں اور احمقوں کو بلاتی ہے۔ سادہ لوح کمزور اور اثرپذیر لوگ ہیں۔ وہ اچھے بُرے ہر طرح کے اثر کو قبول کر لیتے ہیں۔ یہاں اُن کی ناپائیداری اُنہیں غلط سمیت میں دھکیل دیتی ہے۔ ٹھٹھاباز وہ لوگ ہیں جو دانش مندی کے مشوروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اُن کے لئے کچھ بھی مقدس اور سنجیدہ نہیں ہے۔ احمق وہ لوگ ہیں جو بے وقوفی سے ہر نصیحت کو رد کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی جہالت سے لائی لگ بن جاتے ہیں۔ 

۱:‏۲۳ ہم اِس آیت کو دو طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ اِس کا پہلا مطلب تو یہ ہو سکتا ہے:‏ ’’چونکہ تم میری دعوت کو قبول نہیں کرو گے اِس لئے اب میری ملامت سننے کے لئے متوجہ ہو۔ مَیں عدالت کی زبان میں اپنی روح تم پر اُنڈیلوں گی اور تمہیں بتاؤں گی کہ تمہارا انجام کیا ہو گا۔‘‘

اِس کے مطابق آیات ۲۴۔۲۷ اِن کا انجام بیان کرتی ہیں۔ 

دوسرے اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے:‏

’’جب مَیں تمہیں ملامت کروں گی تو باز آ کر توبہ کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو مَیں اپنی روح کو تم پر اُنڈیلوں گی تاکہ تم برکت پاؤ۔ مَیں تمہیں اپنی حکمت کی باتیں بتاؤں گی۔‘‘

یہاں لفظ ’’روح‘‘ سے مراد ’’خیالات‘‘ یا ’’عقل‘‘ ہو گی۔ اگرچہ خداوند یسوع مسیح اُن لوگوں پر پاک روح نازل کرتا ہے جو اُس کے بلاوے کا جواب دیتے ہیں‏، تاہم اِس حقیقت کو عہد عتیق میں عہد جدید کی طرح واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا۔

۱:‏۲۴ حکمت کی پُرفضل التجاؤں کو سختی سے ردّ کرنا زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ حکمت کو کوہِ زیتون پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑا‏، ’’ مَیں نے چاہا … لیکن تم نے نہ چاہا۔‘‘

۱:‏۲۵ حکمت اُن لوگوں کے لئے اظہارِ افسوس کرتی ہے جو اُس کی مشورت کی قدر نہیں کرتے اور اُس کی تعمیری تنقید کی پروا نہیں کرتے۔ 

اِنسان کا اِنکار کرنا اِس لئے نامعقول ہے کہ خدا کے احکام اور تنبیہ خدا کی نہیں بلکہ اِنسان کی بھلائی کے لئے ہے۔ ڈی۔ جی۔ بارن ہاؤس نے ایک کہانی کے ذریعے اِس کی وضاحت کی ہے۔ ایک چھوٹی لڑکی چڑیا گھر کے شیروں کے بیرونی جنگلے میں سے گزر کر اندرونی جنگلے کی طرف چلی گئی۔ اُس کے دادا نے اُسے باہر آنے کا حکم دیا‏، لیکن اُس نے دادا کو تنگ کرنے کی غرض سے مزید پیچھے جانا شروع کر دیا۔ ایک شیر نے اُسے اندر کھینچ لیا اور اُسے جان سے مار دیا۔ اِس کا اخلاقی سبق یہ ہے:‏

خدا نے ہماری بھلائی کے لئے احکام و اصول دیئے ہیں۔ خدا ہمیں کبھی احکام اِس لئے نہیں دیتا کہ وہ من مانی کرتے ہوئے ہم پر ظلم کرنا چاہتا ہے یا کہ وہ ہمیں لطف اندوز ہونے سے روکتا ہے۔ جب خدا کہتا ہے‏، ’’میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا‘‘ تو یہ حکم اِس لئے نہیں دیا گیا کہ خدا اپنی حیثیت اور بالادستی کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتا ہے‏، بلکہ اِس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اِس سے ہمیں تکلیف ہو گی۔ اگر ہم اِس حقیقت کے پسِ پشت کارفرما اصول کو سمجھ گئے ہوں‏، تو ہم یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ خدا کیوں تنبیہ کرتا ہے۔ ’’جس سے خداوند محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے‘‘ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۶)‏۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہم پیچھے چلتے چلتے شیر کے پاس پہنچ جائیں‏، کیونکہ ایک شیر یعنی شیطان ہے جو ہمیں نگلنے کے لئے ڈھونڈتا پھرتا ہے (‏۱۔پطرس ۵:‏۸)‏۔ 

۱:‏۲۶ اگر اِنسان بات نہ سننے پر بضد رہے تو لازماً اِس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہو گا۔ تب حکمت کی باری ہو گی کہ وہ ٹھٹھا مارے۔ ’’اِس لئے مَیں بھی تمہاری مصیبت کے دن ہنسوں گی اور جب تم پر دہشت چھا جائے گی تو ٹھٹھا ماروں گی۔‘‘

جیسا کہ یہاں اور زبور ۲:‏۴ میں اشارہ ملتا ہے‏، کیا واقعی خداوند اُس وقت ٹھٹھا مارے گا جب بے دین پر مصیبت آئے گی؟ اگر ہم یہ خیال کریں کہ ٹھٹھا مارنے میں ظلم‏، حسد اور اِنتقام کے عناصر ہیں‏، تو صاف جواب ہے ’’نہیں۔‘‘ یہاں اِس حقیقت کو تمثیلی زبان میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اِنسان کے لئے یہ کس قدر مہمل اور مضحکہ خیز بات ہے کہ وہ قادرِ مطلق کے احکام کو خاطر میں نہ لائے‏، گویا کہ مچھر‏، لوہا پگھلانے والی بھٹی کی پروا نہ کرے۔ اِنسان حکمت کے احکامات پر ٹھٹھا مار تو سکتا ہے‏، لیکن جب وہ اپنی حماقت کا پھل کاٹے گا‏، تو احکام گویا ٹھٹھاباز پر ٹھٹھا ماریں گے۔ 

۱:‏۲۷ حساب چکانے کا وقت ضرور آئے گا۔ لوگ جس سزا سے ڈرتے تھے وہ اُن پر بگولے کی طرح آئے گی۔ مصیبت طوفان کی طرح دہاڑے گی۔ پریشانی‏، جاں کنی اور مایوسی اُن پر ٹوٹ پڑے گی۔ 

۱:‏۲۸ تب لوگ حکمت کو پکاریں گے‏، لیکن یہ اُس وقت بے سود ہو گا۔ وہ اُسے ڈھونڈنے کی بہت زیادہ کوشش کریں گے‏، لیکن وہ اُسے تلاش نہ کر پائیں گے۔ اُنہیں بڑی دیر سے یہ احساس ہو گا کہ جس نے روشنی کو ردّ کیا ہے وہ روشنی سے محروم رہے گا۔ اُس وقت وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے‏، لیکن اَب وہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ خدا کی روح ہمیشہ اُن کے ساتھ مزاحمت کرتی نہ رہے گی (‏پیدائش ۶:‏۳)‏۔ 

۱:‏۲۹ اُن ٹھٹھابازوں کو سزا اِس لئے ملی کیونکہ اُنہوں نے حکمت کی باتوں سے نفرت کی اور بڑی سرکشی سے یہوواہ کی تعظیم کرنے سے اِنکار کیا۔ ’’وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بے وقوف بن گئے‘‘ (‏رومیوں ۱:‏۲۲)‏۔ حکمت سے نفرت کا یوحنا ۳:‏۱۹۔۲۱ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ 

۱:‏۳۰ خدا کے کلام میں لکھی ہوئی اچھی مشورت کے لئے اُن کی زندگی میں کوئی گنجائش نہیں تھی اور جب خدا کا کلام اُن کی باتوں اور کاموں کو ملامت کرتا تو وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑا دیتے۔ 

۱:‏۳۱ ضرور ہے کہ اب وہ اپنی ہٹ دھرمی کی قیمت ادا کریں اور اپنی تدبیروں کا گلا ہوا پھل کھائیں۔ یہ حکمت کی نہیں بلکہ اُن کی اپنی غلطی تھی۔ وہ سننا نہیں چاہتے تھے۔

۱:‏۳۲ ہر ایک شخص اِنتخاب کرنے کے لئے آزاد ہے‏، لیکن اُسے اپنے اِنتخابات کے نتائج کو بھگتنا پڑتا ہے۔ خدا نے دُنیا میں چند ایک اخلاقی اصول قائم کئے ہیں۔ یہ اصول ہر ایک اِنتخاب کے نتائج طے کرتے ہیں۔ اور یہ نتائج ہر صورت میں قائم رہتے ہیں۔ 

۱:‏۳۳ مثبت پہلو یہ ہے کہ جو حکمت کی باتوں کی پروا کرتا ہے وہ خوف سے محفوظ اور آزاد رہے گا۔ حکمت کی پیروی کرنے والے اچھی زندگی سے لطف اندوز ہوں گے۔ وہ اُن دُکھوں‏، مصیبتوں اور ندامت سے بچ جائیں گے جو شریر اور سرکش لوگوں کا مقدر ہوتی ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اِسرائیل کے بادشاہ سلیمان داؤد کی امثال۔
۲ حکمت اور تربیت حاصل کرنے اور فہم کی باتوں کا امتیاز کر نے کے لئے۔
۳ عقلمندی اورصداقت اور عدل اور راستی میں تربیت حاصل کرنے کے لئے
۴ سادہ دِ لوں کو ہوشیا ری ۔جوان کو علم اور تمیز بخشنے کے لئے
۵ تاکہ دانا آدمی سُنکر علم میں ترقی کرے اور فہیم آدمی دُرست مشورت تک پُہنچے ۔
۶ جِس سے مثل اور تمِثیل کو۔داناؤں کی باتوں اور اُنکے معموں کو سمجھ سکے۔
۷ خداوند کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔
۸ اَے میرے بیٹے !اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر ۔
۹ کیونکہ وہ تیرے سر کے لئےزینت کا سہرا اور تیرے عملے کے لیے طوق ہونگی۔
۱۰ اَے میرے بیٹے !اگر گنہگارتجھے پُھسلا تورضا مند نہ ہونا ۔
۱۱ اگر وہ کہیں ہمارے ساتھ چل ۔ ہم خون کرنے کے لئےتاک میں بیٹھیں اور چھپکر بیگُناہ کے لئےناحق گھات لگائیں ۔
۱۲ ہم اُنکو اِس طرح جیتا اور سمو چانگل جٓا ئیں طرح پاتال مردوں کو نگل جٓاتا ہے۔
۱۳ ہمکو ہر قسم کا نفیس مال میلگا۔ہم اپنے گھروں کو لوٹ سے بھر لینگے ۔
۱۴ تو ہمارے ساتھ مل جٓا ۔ہم سب کی ایک ہی تھیلی ہو گی
۱۵ تو اَے میرے بیٹے !تو انکے ہمراہ نہ جٓانا ۔ اُنکی راہ سے اپنا پاوں روکنا ۔
۱۶ کیونکہ اُنکے پاوں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں اور خُون بہانے کے لئے جلدی کرتے ہیں ۔
۱۷ کیونکہ پرندہ کی آنکھوں کے سامنے جٓال بچھانا عبث ہے۔
۱۸ اور یہ لوگ تو اپنا ہی خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں اور چھپکر اپنی ہی جٓان کی گھات لگاتے ہیں ۔
۱۹ نفع کے لالچی کی راہیں اَیسی ہی ہیں ۔اَیسا نفع اُسکی جٓان لیکر ہی چھوڑتا ہے۔
۲۰ حکمت کو چہ میں زور سے پُکارتی ہے۔وہ راستوں میں اپنی آواز بلند کرتی ہے ۔
۲۱ وہ پُر ہجوم بازار میں چلاتی ہے۔وہ چھاٹکوں کے مدخل پر اور شہر میں یہ کہتی ہے۔
۲۲ اَے نادانو!تم کب تک نادانی کو دوست رکھو گے؟اور ٹھٹھا باز کب تک ٹھٹھابازی سے خوش رہنیگے اور احمق کب تک علم سے عداوت رکھینگے ؟
۲۳ تم میری ملامت کو سُنکر باز آو۔دیکھو !میں اپنی روح تم پر اُنڈیلونگی۔ میں تمکو اپنی بایتں بتا ؤنگی ۔
۲۴ چونکہ میں نے بُلایا اور تم نے اِنکار کیا میں نے ہاتھ پھیلایا اور کسی نےخیال نے کیا ۔
۲۵ بلکہ تم نے میری تمام مشورت کو نا چیز جٓانا اور میری ملامت کی بیقدری کی
۲۶ اسلئے میں بھی تمہاری مصیبت کے دن ہنسونگی اور جب تم پر دہشت چھا جٓاینگی تو ٹھٹھامارونگی ۔
۲۷ یعنی جب دہشت طوفان کی طرح آپڑیگی اور آفت بگولے کی طرح تم کو آلیگی ۔جب مُصبیت اور جٓا نکنی تم پر ٹوٹ پڑیگی
۲۸ تب وہ مجھے پکار ینگے لیکن میں جواب نہ دونگی اور دل وجٓان سے مجھے ڈھونڈینگے پر نہ پاینگے ۔
۲۹ اسلئےکہ اُنہوں نے علم سے عداوت رکھی اور خداوند کے خوف کو اخیتار نہ کیا ۔
۳۰ اُنہوں نے میری تمام مشورت کی بے قدری کی اور میری ملامت کو حقیر جٓانا۔
۳۱ پس وہ اپنی ہی روش کا پھل کھا ئینگے اور اپنے ہی منصوبوں سے پیٹ بھر ینگے ۔
۳۲ کیونکہ نادانوں کی برگشتگی اُنکو قتل کر یگی اور احمقوں کی فارغ البالی انکی ہلاکت کا باعث ہو گی۔
۳۳ لیکن جو میری سُنتا ہے وہ محفوظ ہو گا اور آفت سے نڈر ہو کر اِطمینان سے رہیگا۔