اِمثال ۱۳

۱۳:‏۱ ترقی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں خواہ وہ جسمانی ہوں یا روحانی۔ مثلاً ضروری ہے کہ بچہ چلنے اور باتیں شروع کرنے سے پہلے رینگنا شروع کرے۔ روحانی زندگی میں بھی ضرور ہے کہ نومرید سنے اور سیکھے اِس سے پیشتر کہ وہ خدمت شروع کرے۔ دانش مند بیٹا اپنے باپ کی تنبیہ کو سنتا ہے۔ لیکن ٹھٹھاباز تنبیہ کو نہیں سنتا کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ اُس کے پاس سب باتوں کا جواب ہے۔ لہٰذا وہ سرزنش سے اِنکار کرتا ہے۔

۱۳:‏۲ یہاں ایک ایسا شخص ہے جس کی گفتگو روحانی طور پر ترقی دینے والی‏، حوصلہ افزا اور تسلی بخش ہے۔جب وہ اپنی گفتگو کے تسلی بخش نتائج دیکھتا ہے‏، تو اُسے اُس کا اجر حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اِس کے برعکس دغاباز شخص دوسروں کے لئے تشدد کے منصوبے بناتا ہے۔ اِس کے عوض اُسے یہی کچھ ملتا ہے۔ 

۱۳:‏۳ جو شخص اپنی گفتگو پر قابو پاتا ہے وہ اپنی ساری زندگی پر قابو پا لیتا ہے (‏دیکھیں یعقوب ۳:‏۲ ب)‏۔ جسے اپنے آپ پر ضبط نہیں‏، وہ مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ اِس سے ہم یہ سبق حاصل کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں‏، اُس کے لئے محتاط رہیں‏، کہیں یہ آپ کے خلاف نہ استعمال ہو۔

۱۳:‏۴ ’’اگر خواہشات گھوڑے ہوتے‏، تو گداگر اُن پر سوار ہوتے۔‘‘ سُست آدمی کی بہت زیادہ خواہشیں ہوتی ہیں‏، لیکن محض خواہشات کا ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ ’’خواہش محنت کے بغیر بے سود ہے۔‘‘ محنتی شخص اپنا کام کرتا ہے اور گھر میں روٹی لاتا ہے۔ اِس اصول کا اطلاق دُنیوی اور روحانی امور دونوں پر کیا جا سکتا ہے۔ بوش (‏Bosh)‏ اِس کی یوں وضاحت کرتا ہے:‏

ایڈم کلارک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے کتابِ مقدس کی تفسیر لکھنے پر چالیس سال صرف کئے۔ Noah Webster نے اپنی لغات تالیف کرنے کے لئے چھتیس سال تک محنت کی۔ اُس نے دو بار سمندر پار کا سفر کیا تاکہ اپنی کتاب کو بالکل درست حالت میں پیش کرنے کے لئے مطلوبہ مواد حاصل کرے۔ جان ملٹن صبح چار بجے اُٹھتا تاکہ اپنے شعروں کو ترتیب دینے کے لئے اُس کے پاس کافی وقت ہو۔ اُس کی شاعری دُنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتی ہے۔ گبن (‏Gibbon)‏ نے اپنی کتاب ’’رومی سلطنت کا عروج و زوال‘‘ پر چھبیس سال صرف کئے۔ یہ تحقیق کا ایک بہترین شاہکار ہے اور یہ اُس کی محنت کا خوبصورت نمونہ ہے۔ یہ لوگ جو کچھ کرتے تھے‏، اُس سے لطف اندوز ہوتے تھے اور اُن میں سے ہر ایک نے اپنی پوری محنت اور قوت صرف کی خواہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ 

سب سے زیادہ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو بنی نوع اِنسان کی فلاح اور خدا کے جلال کے لئے محنت کرتے ہیں۔ 

۱۳:‏۵ صادق ہر طرح کی بددیانتی سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن شریر اِس طور سے کام کرتا ہے جس سے وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ جے۔ ایلن بلیر (‏Blair)‏ ایک عظیم امریکی کی زندگی کی مثال دیتے ہوئے یوں وضاحت کرتا ہے:‏

ابرہام لنکن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی ایسے مقدمے کی پیروی کی ہامی نہ بھرتا جس میں اِنصاف اُس کا ساتھ نہ دیتا۔ ایک دفعہ ایک شخص اُس کے پاس آیا کہ وہ اُس کا مقدمہ لڑے۔ لنکن نے چھت کی طرف دیکھنا شروع کر دیا‏، لیکن وہ حقائق کو بڑے غور سے سن رہا تھا۔ اچانک اُس نے اپنی کرسی کو گھمایا اور اُس سے کہنے لگا:‏ 

’’قانونی نقطہ نگاہ سے آپ کا مقدمہ کافی مضبوط ہے‏، لیکن اِنصاف کے تقاضوں کی رُو سے بہت کمزور ہے۔ آپ کسی اَور وکیل سے کہیں کہ وہ آپ کا مقدمہ لڑے۔ اگر مَیں آپ کی مدد کرتا تو مَیں جج کے سامنے سارا وقت یہی سوچتا رہتا:‏ لنکن! ’تم جھوٹے ہو‘۔ جھوٹ اور ہر طرح کے گناہ سے خدا کا دل رنجیدہ ہوتا ہے۔ کسی بھی مسیحی کو نتائج کی پروا کئے بغیر جھوٹ اور فریب سے گریز کرنا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ کبھی بھی خدا کی باتوں میں ترقی نہیں کرے گا۔‘‘ 

۱۳:‏۶ صداقت کی زندگی محفوظ زندگی ہے۔ خدا راست رَو کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے۔ لیکن شریر مسلسل مصیبت میں رہتا ہے‏، کیونکہ جلد یا بدیر اُس کی شرارت اُسے گرا دے گی۔ 

۱۳:‏۷ اِس مثل کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اوّل‏، ممکن ہے کہ ایک شخص کے پاس کوئی مادی اَملاک نہ ہوں‏، لیکن وہ یہ تاثر دے کہ وہ امیر ہے۔ جبکہ ایک شخص کے پاس بہت زیادہ دولت ہو‏، لیکن وہ اپنے آپ کو غریب ظاہر کرے۔ 

اِس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے:‏ ایک بے دین کروڑ پتی‏، روحانی طور پر مفلوک الحال ہے‏، جبکہ ایک خاکسار ایمان دار گو مالی لحاظ سے غریب ہو‏، لیکن وہ خدا کا وارث اور مسیح کا ہم میراث ہے۔ مورگن اِس کی یوں وضاحت کرتا ہے:‏

ہمارے اِس دَور میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو دولت مند بنایا‏، جبکہ درحقیقت روحانی طور پر اُن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ اُنہوں نے بہت سی دولت جمع کی ہے‏، لیکن زندگی کی حقیقی چیزوں کو خریدنے کے لئے اُن میں قوتِ خرید نہیں ہے۔ دولت صحت کی ضمانت نہیں دے سکتی‏، خوشی نہیں دے سکتی بلکہ اکثر اوقات سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو غریب بنایا جبکہ اِس اقدام سے اُنہوں نے اپنے آپ کو روحانی طور پر بہت زیادہ امیر بنایا۔ اِس کی کیسے وضاحت کریں؟ اپنے آپ کو امیر بنانے سے کوئی شخص زندگی کی صلاحیت کو برباد کرتا ہے۔ اپنے آپ کو غریب بنانے اور دوسروں کو امیر بنانے میں زندگی ہے۔

۱۳:‏۸ ایک دولت مند شخص کو اکثر وہ لوگ دھمکیاں دیتے ہیں جو اُس کا مال حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اُسے ڈاکہ‏، استحصال اور اغوا برائے تاوان کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا اُسے اپنی جان کے لئے محافظ تعین کرنا پڑتے ہیں۔ غریب آدمی کو ایسی دھمکیاں سننی نہیں پڑتیں۔ 

۱۳:‏۹ راست بازوں کی گواہی اُس چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی تیز ہو گی۔ لیکن شریر کی زندگی اور اُمیدیں ایک ایسے چراغ کی مانند ہیں جو بجھا دیا جائے گا۔ 

۱۳:‏۱۰ تکبر سے کوئی اچھی چیز پیدا نہیں ہوتی۔ صرف تلخی اور جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ سی۔ ایس۔ لوئیس لکھتا ہے:‏

جب سے دُنیا قائم ہوئی ہے‏، ہر خاندان اور قوم میں صرف تکبر ہی مصیبت کی سب سے بڑی وجہ بنا ہے۔ ممکن ہے کہ دوسری بُرائیاں لوگوں کو اکٹھا کر دیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ نے بُرے لوگوں اور شرابیوں میں رفاقت‏، اور ایک دوسرے کے ساتھ قہقہے لگاتے دیکھا ہو۔ لیکن غرور کا مطلب دشمنی ہے۔ نہ صرف اِنسان اور اِنسان کے درمیان دشمنی بلکہ خدا اور اِنسان کے درمیان بھی دشمنی ہے۔

جو لوگ اچھی صلاح سننے پر رضا مند ہیں وہ عقل مند ہیں‏، وہ غرور اور ذاتی جھگڑوں سے گریز کرتے ہیں۔ 

۱۳:‏۱۱ بطالت سے حاصل کی ہوئی دولت بغیر محنت سے راتوں رات حاصل کی ہوئی دولت ہوتی ہے۔ اِس میں جوئے بازی‏، گھوڑ دوڑ پر جوا اور سٹاک مارکیٹ میں سٹے بازی سے حاصل کی ہوئی دولت شامل ہے۔ اِن طریقوں سے حاصل کردہ روپیہ کسی نہ کسی طریقے سے ضائع ہوتا رہتا ہے۔ 

لیکن دیانت داری سے حاصل کی ہوئی دولت ضائع ہونے کے بجائے بڑھتی جائے گی۔ 

۱۳:‏۱۲ توقعات کے پورا ہونے میں تاخیر سے دل شکنی ہوتی ہے‏، لیکن جب آرزو پوری ہو جاتی ہے‏، یہ بہت زیادہ تسکین کا باعث ہے۔ اِس کا خداوند کی آمد پر اطلاق کیجئے۔ 

۱۳:‏۱۳ ’’کلام‘‘ یہاں پر خدا کا کلام ہے۔ اِس کے بارے میں ہماری سوچ‏، زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ جو اُس کی حقارت کرتا ہے وہ اپنی بربادی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ جو فرمان پر بھروسا کرتا اور اُس کی تعمیل کرتا ہے وہ کثرت کے ساتھ اجر پائے گا۔

۱۳:‏۱۴ دانش مند کا مشورہ اور تعلیم حیات کا چشمہ ہیں اور جو اُسے سنتے ہیں اُن کے لئے تازگی کا باعث ہیں۔ یہ اِنسان کو زندگی کے راستوں پر مُہلک پھندوں سے بچائیں گے۔ 

۱۳:‏۱۵ فہم کی درستی سے اِنسان‏، خدا تعالیٰ اور اِنسان کی مقبولیت حاصل کرتا ہے۔ سمجھ دار شخص کی قدر کی جاتی ہے۔ ہر روز اخبارات میں اِس حقیقت کے متعدد ثبوت ملتے ہیں۔ 

۱۳:‏۱۶ کسی شخص کا رویہ اُس کے کردار کا مظہر ہے۔ اگر کوئی شخص ہوشیار ہے تو وہ نہایت ذمہ داری سے کام کرے گا۔ ایک احمق اپنی حماقت کا اِظہار کرے گا جو ہر شخص کو نظر آئے گی۔

۱۳:‏۱۷ ناقابلِ اعتماد قاصد ہر ایک متعلقہ شخص کے لئے مصیبت پیدا کرے گا۔ بہتر ہے کہ دیانت دار قاصد بھیجا جائے۔ وہ اپنے مشن کو مکمل کرے گا جو ہر ایک کے لئے اِطمینان کا باعث ہو گا۔ 

’’پس ہم مسیح کے ایلچی ہیں‘‘ (‏۲۔کرنتھیوں ۵:‏۲۰)‏۔ 

۱۳:‏۱۸ جو شخص تنبیہ اور ضبط کو ردّ کرتا ہے وہ اپنی ضد کے باعث کنگال اور رُسوا ہو گا‏، لیکن جو تنبیہ کو سنتا ہے وہ عزت پائے گا۔

۱۳:‏۱۹ جب نیک لوگوں کے مقاصد پورے ہوتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں‏، لیکن احمق اپنے گناہ کو ترک نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں اِس بات کا موازنہ کیا گیا ہے کہ نیک اچھے مقاصد کے حصول کے خواہاں ہیں‏، لیکن گنہگار لوگ اپنی بُرائی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ 

۱۳:‏۲۰ ہمیں داناؤں کی صحبت کو اِختیار کرنا چاہئے۔ وہ ہماری ترقی کا باعث ہوں گے۔ ’’ بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں‘‘ (‏۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳)‏۔ اکثر اِنسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ احمقوں کا ساتھی ہلاک ہو گا۔

۱۳:‏۲۱ مصیبت‏، جسمانی نقصان‏، بدنامی‏، مال و دولت کا نقصان‏، شریروں کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ صادق نیک نامی‏، اچھی زندگی اور نیک جزا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 

۱۳:‏۲۲ نیک شخص نہ صرف اپنی اولاد بلکہ اپنے پوتوں کے لئے بھی میراث چھوڑتا ہے۔ عہد عتیق میں زیادہ اِس کا یہ مطلب تھا کہ وہ اُن کے لئے دُنیوی دولت چھوڑتا تھا۔ لیکن مسیحی کو یہ خواہش رکھنی چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے بہت زیادہ روحانی میراث چھوڑے۔ 

گنہگار کی دولت صادقوں کے لئے فراہم کی جاتی ہے۔ بُرے طریقوں سے حاصل کردہ دولت آخرکار اچھے ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہے۔ 

۱۳:‏۲۳ غریب لوگ اپنی تھوڑی سی زمین پر بڑی محنت سے کاشت کاری کرتے ہیں اُنہیں بہت زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ وہ بہترین حصول کے لئے اپنی تمام قوتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔

آیت کے دوسرے حصے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:‏ 

  1. جن امیر لوگوں کی بہت زیادہ زمینیں ہوتی ہیں وہ اپنی نااِنصافی کے باعث برباد ہو جاتے ہیں۔ 
  2. غریب کی کاشت کاری اکثر نااِنصافی سے برباد ہو جاتی ہے۔ 

۱۳:‏۲۴ خواہ دورِ حاضر کے ماہرین متفق ہوں یا نہ ہوں‏، بائبل جسمانی سزا کی تعلیم دیتی ہے۔ بچے کو واجبی سزا نہ دینا‏، گناہ کے لئے اُس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے‏، جس کا بالآخر نتیجہ اُس کی تباہی ہو گا۔ جو والدین چھڑی کو باز رکھتے ہیں‏، وہ اپنے خیال کے مطابق محبت کا اظہار کرتے ہیں‏، جبکہ خدا کہتا ہے کہ یہ فی الحقیقت نفرت کا اِظہار ہے۔ 

کئی سالوں تک مشہور امریکی ڈاکٹر بنجمن سپاک نے والدین کو تلقین کی کہ وہ بچوں کو سزا نہ دیں۔ لیکن جب اُس نے اِس کا نتیجہ شرارتی اور تکلیف دہ بچوں کی صورت میں دیکھا تو اُس نے تسلیم کیا کہ وہ غلطی پر تھا۔ اُس نے کہا‏، ’’میرے خیال میں دورِ حاضر میں امریکیوں کا عام مسئلہ یہ ہے کہ وہ تربیت دینے میں ثابت قدم نہیں رہ سکتے۔‘‘

جو والدین حقیقتاً اپنے بچے کو پیار کرتے ہیں‏، وہ اُس کی شرارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے‏، بلکہ بروقت اُس کو تنبیہ کرتے ہیں۔ 

۱۳:‏۲۵ خدا یقین دلاتا ہے کہ صادق کی ضروریات پوری کی جائیں گی‏، لیکن شریروں کو بھی یقین دلایا گیا ہے کہ اُن کا پیٹ نہیں بھرتا۔ 

مقدس کتاب

۱ دانشمند بیٹا!اپنے باپ کی تعلیم کو سنتا ہے لیکن ٹھٹھاباز سرزنش پر کان نہیں لگاتا ۔
۲ آدمی اپنے کلام کے پھل سے اچھاکھا یئگا لیکن دغا بازوں کی جٓان کے لئے ستم ہے۔
۳ اپنے منہ کی نگہبانی کرنے والا اپنی جٓان کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو اپنے ہونٹ پسارتا ہے ہلاک ہوگا۔
۴ سُست آدمی آرزو کرتا ہے پر کچھ نہیں پاتا لیکن محنتی کی جٓان فربہ ہوگی ۔
۵ صادق کو جھوٹ سے نفرت ہے لیکن شریر نفرت انگیز ورسوا ہوتا ہے۔
۶ صداقت راست رو کی حفاظت کرتی ہے لیکن شرارت شریر کو گرا دیتی ہے۔
۷ کوئی اپنے آپ کو دولتمند جتاتا ہے لیکن نادار ہےاور کوئی اپنے آپ کو کنگال بتاتا ہے پر بڑا مالدار ہے۔
۸ آدمی کی جٓان کا کفارہ اُسکا مال ہےپر کنگال دھمکی کو نہیں سنتا۔
۹ صادقوں کا چراغ روشن رہیگا لیکن شریروں کا دیا بجھایا جٓایئگا۔
۱۰ تکبر سے صرف جھگڑاپیدا ہوتا ہےلیکن مشورت پسند کے ساتھ حکمت ہے۔
۱۱ جو دولت بطالت سے حاصل کی جٓائے کم ہو جٓائیگی لیکن محنت سے جمع کرنے والے کی دولت بڑھتی رہئیگی۔
۱۲ اُمید کے بر آنے میں تاخیردل کو بیمار کرتی ہےپر آرزو کا پورا ہونا زندگی کا درخت ہے۔
۱۳ جو کلام کی تحقیرکرتا ہے اپنے آپ پر ہلاکت لاتا ہے پر جو فرمان سے ڈرتا ہے اجر پائیگا ۔
۱۴ دانشمند کی تعلیم حیات کا چشمہ ہے جو موت کے پھندوں سے چھٹکارے کا باعث ہو۔
۱۵ فہم کی دُرستی مقبولیت بخشتی ہےلیکن دغابازوں کی راہ کٹھن ہے۔
۱۶ ہر ایک ہوشیار آدمی دانائی سے کام کرتا ہےپر احمق اپنی حمایت کو پھیلادیتا ہے۔
۱۷ شریر قاصد بلا میں گرفتار ہوتا ہےپر دیانتدار ایلچی صحت بخش ہے۔
۱۸ تربیت کو رد کرنے والا کنگالااور رسوا ہو گا پر وہ جو تنبیہ کا لحاظ رکھتا ہے عزت پائیگا ۔
۱۹ جب مراد بر آتی ہے تب جی بہت خوش ہوتا ہےپر بدی کو ترک کرنے سے احمق کو نفرت ہے۔
۲۰ وہ جو داناوں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کیا جٓائیگا ۔
۲۱ بدی گنہگاروں کا پیچھا کرتی ہےپر صادوقوں کو نیک جزاملیگی ۔
۲۲ نیک آدمی اپنے پوتوں کے لئے میراث چھوڑتا ہے پر گنہگار کی دولت صادقوں کے لئے فراہم کی جٓاتی ہے۔
۲۳ کنگالوں کی کھیتی میں بہت خوراک ہو تی ہے پر ایسے لوگ بھی ہیں جو بے انصافی سے برباد ہو جٓاتے ہیں۔
۲۴ وہ جو اپنی چھڑی کو باز رکھتا ہے اپنے بیٹے سے کینہ رکھتا ہے پر وہ جو اس سے محبت رکھتا ہے بروقت اسکو تنبیہ کرتا ہے۔
۲۵ صادق کھا کر سیر ہو جٓاتاہے پر شریر کا پیٹ نہیں بھرتا ۔