اِمثال ۲

ب۔ حکمت کے طریقے (‏باب ۲)‏

باب ۲ میں سلیمان اپنے بیٹے کو تاکید کرتا ہے کہ وہ حکمت کی راہوں پر چلے۔ پہلی چار آیات میں خدا کے علم کو حاصل کرنے کے لئے شرائط دی گئی ہیں۔ اِنسان کو چاہئے کہ وہ اِسے خلوص دلی سے حاصل کرے۔ باقی ماندہ باب میں وعدہ کیا گیا ہے کہ متلاشی کو حکمت اور اِمتیاز دیئے جائیں گے۔ اِس باب کی ۲۲ آیات عبرانی کے ۲۲ حروفِ تہجی کے مطابق ہیں۔ 

۲:‏۱ سب سے پہلے بیٹے کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ باپ کی تعلیم کو اپنے دل میں رکھے اور اُس کے فرمان کو نگاہ میں رکھے۔ اَمثال کا مقصد یہ تھا کہ اُنہیں زبانی یاد کیا جائے۔ 

۲:‏۲ لازم ہے کہ بیٹا اپنے کانوں اور ذہن کو کھلا رکھے۔ ضرور ہے کہ وہ توجہ سے سننے والا ہو نہ کہ زیادہ باتیں کرنے والا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے مسائل ہی بتاتا رہے‏، بلکہ اُسے دوسروں کی عقل مندی کی صلاح کو سننا چاہئے۔ 

۲:‏۳‏،۴ اگر وہ سنجیدہ ہے تو اُسے عقل کو پکارنا چاہئے اور فہم کے لئے درخواست کرنا چاہئے۔ مقصد کے لئے سنجیدگی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ زندگی کا ایک اصول ہے کہ جس چیز کو ہم تلاش کرتے ہیں اُسے ہم حاصل کرتے ہیں۔ 

جس چیز کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے یہ اُسی قسم کی تحریک ہے جس کی بنا پر لوگ چاندی کو کھود کر نکالتے ہیں اور پوشیدہ خزانوں کی تلاش کرتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ اکثر اوقات لوگ روحانی دولت کی نسبت مادی دولت کے حصول کے لئے جاں فشانی کرتے ہیں۔ 

۲:‏۵ لیکن جو ڈھونڈتے ہیں وہ پاتے ہیں۔ جو خداوند کے ساتھ صحیح تعلقات قائم کرنے اور حقیقی طور پر اُسے جاننے کے خواہاں ہیں وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسیا کے ایک بزرگ نے کہا کہ جو خدا کو تلاش کرتے ہیں‏، وہ پہلے ہی اُسے پا چکے ہیں۔ جو لوگ مسیح پر ایمان لاتے ہیں وہ اُن پر خدا باپ کو ظاہر کرتا ہے۔ مسیح کو جاننا خدا کو جاننا ہے۔ 

۲:‏۶ مسیح پر ایمان لانے کے ذریعے حصولِ نجات کے بعد ہی ہم خداوند سے الٰہی حکمت سیکھنے کے قابل بن جاتے ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کیسے صحیح طور پر سوچیں‏، کیسے تجزیہ کریں‏، سچائی اور بُرائی میں کیسے اِمتیاز کریں اور کیسے الٰہی بصیرت حاصل کریں۔

۲:‏۷ وہ راست بازوں کو دانش مندی اور حکمت دیتا ہے اور جو دیانت داری سے چلتے ہیں وہ اُنہیں تحفظ کی سپر دیتا ہے۔ 

۲:‏۸ جو لوگ اخلاقی طور پر پاک اور صاف زندگیاں گزارتے ہیں‏، خداوند اُن کی راہوں کی نگہبانی کرتا ہے۔ اُس کے مقدسین اُس تکلیف اور درد سے بچ جاتے ہیں جو گناہ پیدا کرتا ہے۔ ’’خدا کے دوست حفاظت سے آتے اور حفاظت میں چلے جاتے ہیں‘‘ (‏ناکس)‏۔ 

۲:‏۹ یہ آیت‏، آیت ۵ کی مانند ہے۔ دونوں میں خدا کے علم کو سنجیدگی سے حاصل کرنے کے فوائد کی فہرست دی گئی ہے۔ 

جو شخص دلی خواہش سے خداوند کو جاننا اور اُس کی مرضی کو پورا کرنا چاہتا ہے وہ سیکھ لیتا ہے کہ کیسے راستی سے کردار ادا کیا جائے؟ کیسے اچھے طریقے سے عمل کیا جائے؟ کیسے دیانت داری سے کام کرے؟ المختصر کیسے اچھی راہ کو منتخب کرے؟

۲:‏۱۰ یہ اِس لئے وقوع پذیر ہوتا ہے کہ حکمت اِنسان کے ذہن و قلب پر قابض ہو جاتی ہے۔ یوں وہ راست اقدام کے علم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اُسے پسند کرتا ہے۔ حقیقی ایمان دار کے لئے خدا کے احکام اُکتا دینے والے نہیں ہیں۔ مسیح کا جوأ ملائم اور اُس کا بوجھ ہلکا ہے۔ 

۲:‏۱۱ اِمتیاز یا صحیح فیصلوں کی صلاحیت اِنسان کو طویل چکروں سے بچا لیتی ہے۔ صحیح طور پر پرکھنے سے ہم شریر کے ساتھ تعلقات رکھنے سے بچ سکتے ہیں۔ کسی شخص کو بھی اِس بات کا اندازہ نہیں کہ ہمیں کس حد تک ہر روز روحانی‏، جسمانی اور اخلاقی پریشانیوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ مسیحی نہایت محفوظ زندگی گزارتا ہے کیونکہ وہ اُس بدی سے بچا ہوا ہے جو اِس دُنیا میں لالچ کے ذریعے موجود ہے۔ 

۲:‏۱۲ ہمیں شریر مردوں کا ساتھی بننے (‏آیات ۱۲۔۱۵)‏ اور بازاری عورتوں کی آغوش سے محفوظ رکھا جاتا ہے (‏آیات ۱۶۔۱۹)‏۔ 

اوّل۔ ہمیں بے دین لوگوں کی دُنیا سے محفوظ رکھا جاتا ہے جو حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور سچائی کو بگاڑتے ہیں۔ اُن کی گفتگو کلی طور پر ناقابلِ بھروسا ہے۔ 

۲:‏۱۳۔۱۵ یہ وہ لوگ ہیں جو راست بازی کی روشن شاہراں ہوں کو چھوڑ کر جرم اور عیاری کی تاریک گلیوں میں گھس جاتے ہیں۔ 

وہ بدی کرنے سے اپنے دل بہلاتے ہیں اور وہ اُس راہ میں خوش رہتے ہیں جس میں گناہ ہر شے کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے۔ 

وہ ٹیڑھی راہوں پر چلتے ہیں اور اُن کا رویہ بھی چالاک اور ٹیڑھا ہے۔ 

۲:‏۱۶ حکمت نہ صرف ایسے لوگوں کا ساتھی بننے سے بچاتی ہے‏، بلکہ فاحشہ عورت کی گرفت سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اِس خاتوں سے کیا مراد ہے؟ اِسے لفظی طور پر بازاری عورت سمجھا جا سکتا ہے‏، لیکن یہ عورت اِس بے دین دُنیا اور جھوٹے مذاہب کی علامت بھی ہے۔ 

خوشامد اُس کا طریقہ کار ہے:‏ ’’گھر میں جس قدر آپ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے‏، نہیں ہوتی۔ آپ اِس قدر خوبصورت ہیں اور آپ میں کتنی صلاحیتیں ہیں۔ آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کو محبت اور ہمدردی کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ مَیں آپ کو دینے کے لئے تیار ہوں۔‘‘

۲:‏۱۷ وہ اپنی جوانی کے ساتھی یعنی اپنے خاوند سے بے وفائی کرتی ہے۔ وہ خدا کے عہد یعنی خدا کے سامنے شادی کے لئے اپنے عہد کو بھول جاتی ہے۔ یہاں ’’اپنے خدا کے عہد‘‘ سے دس احکام مراد ہے اور خاص کر ساتواں حکم جو زِناکاری کی ممانعت کرتا ہے۔ 

۲:‏۱۸ آیت ۱۸ کے پہلے حصے کا یوں ترجمہ کیا جا سکتا ہے‏، ’’کیونکہ اُس کا گھر موت کے گھاٹ اُتارتا ہے۔‘‘ اگر ہم اِس آیت کے پہلے اور دوسرے حصے کو ملا کر پڑھیں تو یہ تصور سامنے آتا ہے:‏ اُس کا گھر موت کی طرف لے جاتا اور جو اُس گھر میں داخل ہوتے ہیں وہ پھسلتے ہوئے قبر میں اُتر جاتے ہیں۔ اُس کی راہیں مُردوں کی طرف لے جاتی ہیں‏، اِس لئے اُس کے پیچھے چلنے والے جلد ہی مُردوں کے جہان میں چلے جائیں گے۔ چونکہ ہر ایک شخص کسی نہ کسی دن مر جائے گا‏، اِس لئے یہاں موت کا مطلب اخلاقی موت ہے جو ابدی موت کی طرف لے جائے گی۔ 

۲:‏۱۹ اگر کوئی شخص ایک دفعہ اُس کے دام میں پھنس جائے‏، تو اِس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔ اگر ایک دفعہ کوئی شخص اُس کے رازوں میں شامل ہو جائے تو صحیح راستے پر پھر واپس لوٹنا اُس کے لئے نہایت مشکل ہے۔

۲:‏۲۰ آیت ۲۰ کو آیت ۱۱ سے منسلک کیجئے۔ حکمت نہ صرف شریر مردوں اور بیگانہ عورتوں سے محفوظ رکھتی ہے‏، بلکہ نیکوں اور صادقوں سے رفاقت کے لئے حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ 

۲:‏ ۲۱‏،۲۲ موسیٰ کی شریعت کے مطابق راست باز اور کامل یعنی دیانت دار لوگوں کو کنعان کے ملک میں محفوظ جگہ کا اجر دیا جاتا تھا۔ اِس کے مقابلے میں نئے عہدنامے میں زمینی مقاموں کی یہ مادی برکتیں‏، آسمانی مقاموں میں روحانی برکتوں سے تبدیل ہو جاتی ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ اصول جاری ہے کہ راست بازی اور شائستگی کا اِس جہان اور آنے والے جہان میں بھی اجر دیا جاتا ہے۔ 

اِس کے برعکس شریر برکتوں کی سرزمین سے کاٹ ڈالے جائیں گے۔ دغابازوں کے لئے کوئی دائمی برکتیں نہیں ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اے میرے بیٹے !اگرتو میری باتوں کوقبول کرے اور میرےفرمان کو نگاہ میں رکھے۔
۲ اَیساکہ توحکمت کی طرف کان لگاے اور فہم سے دل لگاے
۳ بلکہ عقل کو پُکارے اور فہم کے لئے آوازبلندکرے۔
۴ اور اُسکو اَیسا ڈھونڈےجیسےچاندی کواور اُسکی ایسی تلاش کرے جیسی پوشیدہ خزانوں کی
۵ توتوخداوندکے خوف کو سمجھایگا اور خدا کی معرفت کو حاصل کر یگا
۶ کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔علم وفہم اُسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔
۷ وہ راستبازوں کے لئے مدد تیار رکھتا ہےاور راست روکے لئے سپر ہے۔
۸ تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نگہبانی کرے اور اپنے مقدسوں کی راہ کو محفوظ رکھے۔
۹ تب تو صداقت اور عدل اور راستی کو بلکہ ہر ایک اچھی راہ کو سمجھیگا۔
۱۰ کیونکہ حکمت تیرے دِل میں داخل ہوگیااور علم تیری جٓان کو مرغوب ہوگا ۔
۱۱ تمیزتیری نگہبان ہوگی۔فہم تیری حفاظت کریگا
۱۲ تاکہ تجھے شریر کی راہ سے اور کجگوسے بچائیں۔
۱۳ جو راستبازی کی راہ کو ترک کرتے ہیں تاکہ تاریکی کی راہوں میں چلیں۔
۱۴ جو بدکاری خوش ہوتے ہیں اور شرارت کی کجروی میں خوش رہتےہیں۔
۱۵ جنکی روشیں نا ہموار اور جنکی راہیں ٹیڑھی ہیں۔
۱۶ تاکہ تجھے بی عورت سے بچائیں یعنی چکنی چپڑی باتیں کرنے والی پرائی عورت سے
۱۷ جو اپنی جوانی کے ساتھی کو چھوڑ دیتی اور اپنے خدا کے عہد کو بھول جٓاتی ہے۔
۱۸ کیونکہ اُسکا گھر موت کی اُتر ائی پر ہے اور اُسکی راہیں پاتال کوجٓاتی ہیں۔
۱۹ جو کوئی اُسکے پاس جٓاتا ہےواپس نہیں آتااور زندگی کی راہوں تک نہیں پہنچتا ۔
۲۰ تاکہ تو نیکوں کی راہ پر چلے اور صادقوں کی راہوں پرقائم رہے۔
۲۱ کیونکہ راستباز ملک میں بسینگے اور کامل اُس میں آباد رہینگے ۔
۲۲ لیکن شیریر زمین پر سے کاٹ ڈالے جٓائینگے اور دغاباز اُس سے اُکھاڑ پھینکے جٓائینگے۔