۷۔ وہ باتیں جو لموایل کی ماں نے اُسے سکھائیں (۳۱:۱۔۹)
۳۱:۱ ہم کسی طرح یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ لموایل بادشاہ کون تھا۔ اُس کے نام کا مطلب ہے ’’خدا کے لئے مخصوص کیا گیا‘‘ یا ’’خدا کی ملکیت‘‘۔ اہم بات یہ ہے کہ اُس نے ہمارے لئے حکمت کی اُن باتوں کو محفوظ کر لیا جو اُس کی ماں نے اُسے سکھائی تھیں۔
۳۱:۲ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماں اپنے بیٹے سے کہہ رہی ہے، ’’اے میرے بیٹے جسے مَیں نے خدا کے لئے مخصوص کر دیا مَیں تجھے کیا بتاؤں اور حکمت کے کون سے موتی تجھے دوں؟‘‘
۳۱:۳ پہلی آگاہی یہ ہے کہ وہ عیاشی اور جنسی خواہشات کی تکمیل کے پیچھے اپنی زندگی تباہ نہ کرے۔ ایک مفسر لکھتا ہے، ’’عورتوں کی آزمائش صدیوں سے مشرقی بادشاہوں کے لئے لعنت کا باعث رہی ہے۔‘‘
۳۱:۴۔۷ دوسری خبرداری مے خواری اور شراب نوشی سے تعلق رکھتی ہے۔ اِس میں خطرہ یہ ہے کہ مے خواری اور شراب نوشی سے اُن کے اِنصاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔ ممکن ہے وہ اِنصاف کے معیاروں کو بھول جائیں اور یوں کسی مظلوم کی حق تلفی کر دیں۔ اگلی آیات میں اِن دونوں مشروبات کو بطور دوا استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ یہ اُن کو پلائی جا سکتی ہیں جو مرنے کو ہیں، یعنی بیمار ہیں اور اُن کی جان بیماری سے تلخ ہو گئی ہے۔
۳۱:۸،۹ یہ بادشاہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اُن لوگوں کا دفاع کرے جو اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ بے کسوں کا وکیل بن کر اُن کی وکالت کرے۔ اِس کے ساتھ وہ مسکینوں اور محتاجوں کا راستی سے فیصلہ کرے۔
۸۔ مثالی بیوی اور ماں (۳۱:۱۰۔۱۳)
کتاب کا آخری حصہ مثالی بیوی اور ماں کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ اِس حصے کی ہر نئی آیت بالترتیب عبرانی حروفِ ابجد سے شروع ہوتی ہے۔
۳۱:۱۰۔۱۲ نیکوکار بیوی باصلاحیت، محنتی، قابلِ قدر اور شریف خاتون ہے۔ اُس کی قدر و قیمت بیش قیمت موتیوں سے بھی زیادہ ہے۔ اُس کے خاوند کو اُس پر مکمل اعتماد ہے اور ’’اُسے منافع کی کمی نہ ہو گی۔‘‘ وہ بڑی محنت کے ساتھ اپنے خاوند کی مدد کرتی ہے اور کبھی بھی اُس کے ساتھ تعاون کرنے میں کوتاہی نہیں کرتی۔
۳۱:۱۳۔۱۵ وہ ہمیشہ اُون اور کتان ڈھونڈتی رہتی ہے اور بڑے شوق سے اُن کو استعمال کر کے کپڑے بنتی ہے۔ جب وہ خریداری کے لئے جاتی ہے تو وہ ایسے ہے جیسے سوداگروں کے جہاز جو واپسی پر مفید چیزوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ صبح سویرے بہت جلدی بیدار ہوتی ہے تاکہ خاندان کے افراد کے لئے کھانا تیار کرے اور اپنی لونڈیوں کو سارے دن کا کام دے۔
۳۱:۱۶۔۱۸ جب اُسے پتا چلتا ہے کہ قریب میں کوئی کھیت برائے فروخت ہے تو وہ فوراً اُسے دیکھنے کو جاتی ہے۔ وہاں جا کر اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیت اچھا ہے اِسی لئے وہ اُس کا سودا کر کے خرید لیتی ہے۔ پھر ہاتھوں کی محنت کے ساتھ وہاں تاکستان لگاتی ہے۔ وہ بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ اُس جفاکش کام کو کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔ وہ محنت کرنے سے نہیں گھبراتی۔ وہ اپنی محنت کے نتائج کو دیکھ کر بڑی حلیمی کے ساتھ مطمئن ہوتی ہے۔ رات کو وہ دیر تک کام میں لگی رہتی ہے۔
۳۱:۱۹۔۲۲ ’’وہ تکلے پر اپنے ہاتھ جلاتی ہے اور اُس کے ہاتھ اٹیرن پکڑتے ہیں،‘‘ مطلب یہ کہ وہ چرخے پر رُوئی سے سُوت بناتی ہے۔ یہ کام کرنے کے بعد بھی وہ مفلسوں کی مدد کے لئے وقت نکالتی ہے۔ وہ ضرورت مندوں کی بے غرض مدد کرتی ہے۔ سردیوں کے موسم کے آنے سے وہ گھبراتی نہیں کیونکہ خاندان کے ہر فرد کے گرم کپڑے تیار ہیں۔ وہ اپنے نگارین بالا پوش بناتی ہے اور اُس کے اپنے کپڑے مہین کتانی اور ارغوانی ہیں۔
۳۱:۲۳ اُس کا شوہر معاشرے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ وہ شہر کے پھاٹک پر بزرگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، وہ گھریلو فکروں سے آزاد ہے اِسی لئے وہ عوامی مسائل حل کرنے پر پوری توجہ دے سکتا ہے۔
۳۱:۲۴۔۲۷ نیکوکار بیوی مہین کتانی کپڑے بنا کر بیچتی ہے۔ وہ سوداگروں کو پٹکے بنا کر مہیا کرتی ہے اور یوں اضافی آمدنی حاصل کرتی ہے۔ محنتی اور خود مختار ہونے کی وجہ سے وہ بڑے اعتماد کے ساتھ مستقبل کا سامنا کر سکتی ہے۔ جو ہدایات وہ اپنے گھرانے کو دیتی ہے وہ حکمت اور شفقت سے بھری ہوتی ہیں۔ وہ اپنے گھرانے کے معاملات پر بخوبی نظر رکھتی ہے۔ وہ اپنا وقت ضائع نہیں کرتی اور نہ فضول سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔
۳۱:۲۸،۲۹ اُس کے بچے جانتے ہیں کہ اُن کی ماں بہت سگھڑ اور غیر معمولی عورت ہے اور وہ اِس کا اِظہار بھی کرتے ہیں۔ اُس کا خاوند بھی اِس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ خدا نے اُسے بیوی کے رُوپ میں بہت اچھا تحفہ دیا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’دُنیا میں کئی اچھی بیویاں ہیں مگر تُو اُن سب سے بہتر ہے۔‘‘
۳۱:۳۰،۳۱ مصنف اِن آیات میں خاوند کی کہی ہوئی بات کی تائید کرتا ہے۔ یہ بالکل سچ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت بہت دل کش ہو مگر عقل اور سمجھ بوجھ سے خالی ہو۔ وہ بہت حسین و جمیل ہو سکتی ہے مگر گھر گرہستی میں بالکل صفر۔ تاہم وہ عورت جو خداوند سے ڈرتی ہے وہ بہترین ہے۔ وہ اپنی محنت اور نیک کردار کی وجہ سے قابلِ تحسین ہے۔ جب شہر کے بڑے لوگ سماجی مرکز میں جمع ہوں تو اُس کی کامیابیوں کی وجہ سے اُس کی تعریف کی جائے۔
یہ قابلِ غور اور نہایت موزوں ہے کہ اَمثال کی کتاب عورتوں کے بارے میں اِس طرح کے مثبت بیان کے ساتھ اِختتام پر پہنچے۔ اِس کتاب میں تین عورتیں بڑی نمایاں ہیں: اوّل، حکمت مجسم صورت میں عورت کے رُوپ میں نظر آتی ہے۔ وہ اپنے سننے والوں کو دعوت دیتی ہے کہ آ کر اُس سے سیکھیں۔ دوم، زانیہ جو مردوں کو اپنے جال میںپھنساتی ہے اور سوم، نیکوکار بیوی جو ہر لحاظ سے قابلِ احترام اور قابلِ تقلید ہے۔
مقدس کتاب
۱ لموایل بادشاہ کے پیغام کی باتیں جو اُسکی ماں نے اُسے سکھائیں۔
۲ اَے میرے بیٹے! اَے میرے رحم کے بیٹے !تجھے جسے میں نے نذریں مان کر پایا کیا کہوں؟
۳ اپنی قوت عورتوں کو نہ دے اور اپنی راہیں بادشاہوں کو بگاڑنے والوں کی طرف نہ نکال ۔
۴ بادشاہوں کو اَے لموایل !بادشاہ کو میخواری زیبا نہیں اور شراب کی تلاش حاکموں کو شایان نہیں۔
۵ مبادا وہ پیکر قوانین کو بھول جٓائیں اور کسی مظلوم کی حق تلفی کریں ۔
۶ شراب اُسکو پلاو جو مرنے پر ہے اور مے اُسکو جو تلخ جٓان ہے
۷ تاکہ وہ پئے اوراپنی تنگدستی فراموش کرےاور اپنی تباہ حالی کو پھریاد نہ کرے ۔
۸ اپنا منہ گونگے کے لئے کھول ۔اُن سب کی وکالت کو جو بکیس ہیں ۔
۹ اپنا منہ کھول۔راستی سے فیصلہ کر اور مسکینوں اور ور محتاجوں کا اِنصاف کر۔
۱۰ نیکوکار بیوی کس کو ملتی ہے؟کیونکہ اُسکی قدر مرجٓان سے بھی بہت زیادہ ہے۔
۱۱ اُسکے شوہر کے دِل کو اُس پر اعتماد ہے اور اُسے منافع کی کمی نہ ہوگی ۔
۱۲ وہ اپنی عمر کے تمام ایام میں اُس سے نیکی ہی کریگی۔بدی نہ کریگی ۔
۱۳ وہ اُون اور کتان ڈھونڈتی ہے اور خوشی کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے ۔
۱۴ وہ سوداگروں کے جہاز وں کی مانند ہے۔ وہ اپنی خورِش دور سے لے آتی ہے۔
۱۵ وہ رات ہی کو اُٹھ بیٹھتی ہے اور اپنے گھرانے کو کھلاتی ہے اور اپنی لونڈیوں کو کام دیتی ہے
۱۶ وہ کسی کھیت کی بابت سوچتی ہے اور اُسے خرید لیتی ہے اور اپنے ہاتھوں کے نفع سے تاکستان لگاتی ہے۔
۱۷ وہ مضبوطی سے اپنی کمر باندھتی ہے اور اپنے بازووں کو مضبوط کرتی ہے۔
۱۸ وہ اپنی سوداگری کو سود مند پاتی ہے۔رات کو اُسکا چراغ نہیں بجھتا ۔
۱۹ وہ تکلے پر ہاتھ چلاتی ہے اور اُسکے ہاتھ اٹیرن پکڑتے ہیں۔
۲۰ وہ مفلسوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتی ہے ہاں وہ اپنے ہاتھ محتاجوں کی طرف بڑھاتی ہے۔
۲۱ وہ اپنے گھرانے کے لئے برف سے نہیں ڈرتی لہونکہ اُسکے خاندان میں ہر ایک سرخ پوش ہے۔
۲۲ وہ اپنے لئے نگارین بالا پوش بناتی ہے۔اُسکی پوشاک مہین کتانی اور ارغوانی ہے۔
۲۳ اُسکا شوہر پھاٹک میں مشہور ہے جب وہ ملک کے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
۲۴ وہ مہین کتانی کپڑے بناکر بیچتی ہے اور ٹپکے سوداگروں کے حوالہ کرتی ہے۔
۲۵ عزت اور حرمت اُسکی پوشاک ہیں اور وہ آیندہ ایام پر ہنستی ہے۔
۲۶ اُسکے منہ سے حکمت کی باتیں نکلتی ہیں ۔اُسکی زبان پر شفقت کی تعلیم ہے۔
۲۷ وہ اپنے گھرانے پر بخوبی نگاہ رکھتی ہے اور کاہلی کی روٹی نہیں کھاتی ۔
۲۸ اُسکے بیٹے اُٹھتے ہیں اور اُسے مبارک کہتے ہیں۔اُسکا شوہر بھی اُسکی تعریف کرتا ہے
۲۹ کہ بُہتیری بیٹیوں نے فضیلت دِکھائی ہے لیکن تو سب پر سبقت لے گئی ۔
۳۰ حُسن دھوکا اور جمال بے ثبات ہے لیکن وہ عورت جو خداوند سے ڈرتی ہے ستودہ ہو گی ۔
۳۱ اُسکی محنت کا اجر اُسے دو اور اُسکے کاموں سے مجلس میں اُسکی ستایش ہو۔