۲۶:۱ گرمی کے موسم میں برف باری کا ہونا خلافِ عقل ہے اور فصل کی کٹائی کے وقت بارش کا ہونا خطرناک ہے۔ اِسی طرح احمق کی عزت بھی خلافِ عقل اور خطرناک ہے۔ اُس کو خواہ مخواہ عزت دینا اخلاقی طور پر بھی دُرست نہیں۔ اِس طرح کا فعل اُس کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ مزید حماقت کرے۔
۲۶:۲ گورِیّا اور ابابیل ہوا میں اِدھر اُدھر اُڑتی رہتی ہیں مگر کبھی بھی ہمارے اُوپر آ کر نہیں بیٹھتیں۔ اِسی طرح بے سبب لعنت کبھی بھی کسی پر اثر نہیں کرے گی۔ بلعام نے اسرائیل پر لعنت کرنے کی بڑی کوشش کی، مگر ایسا نہ کر سکا (گنتی ۲۳:۸؛ استثنا ۲۳:۵)۔
۲۶:۳ گھوڑے کے لئے چابک اور گدھے کے لئے لگام ضروری ہوتے ہیں اور اِسی طرح احمق بھی تند اصلاح کے علاوہ کوئی اَور زبان نہیں سنتا۔ ’’تم گھوڑے یا خچر کی مانند نہ بنو جن میں سمجھ نہیں۔ جن کو قابو میں رکھنے کا ساز دہانہ اور لگام ہے ورنہ وہ تیرے پاس آنے کے بھی نہیں‘‘ (زبور ۳۶:۹)۔
۲۶:۴،۵ اِن دو آیات میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ آیت ۴ کہتی ہے، ’’احمق کو … جواب نہ دے۔‘‘ آیت ۵ کہتی ہے، ’’احمق کو … جواب دے‘‘ اِس کی کیا وضاحت کی جا سکتی ہے؟ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ احمق کو اِس طرح سے جواب نہ دے کہ تُو بھی احمق سمجھا جانے لگے۔ نہ تو غصے میں آ، نہ مغروری دکھا اور نہ بدتمیزی ہی کر۔ البتہ اُس کو اِس طرح جواب دے (آیت ۵) کہ وہ اپنی حماقت کو پہچان سکے۔ ضرورت کے تحت اور اُس کی حماقت کے مطابق اُسے تنبیہ اور ملامت کر تاکہ وہ جان جائے کہ دانا نہیں بلکہ غلطی پر ہے۔
۲۶:۶ احمق کے ہاتھ پیغام بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنا ہی نقصان کر لینا۔ اِسی لئے مثل کہتی ہے ’’اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنا‘‘ یا بعض صورتوں میں زہر پینا۔ احمق درست طور سے پیغام نہیں پہنچائے گا، اُلٹا آپ کے لئے مصیبت بن جائے گا۔ پاؤں پر کلہاڑا مارنے سے مراد اپنے آپ کو بے یار و مددگار کر لینا ہے۔
۲۶:۷ لنگڑے شخص کی ٹانگ لڑکھڑاتی ہے مگر اُس کو کوئی فائدہ نہیں۔ یہی حال احمق کے منہ میں تمثیل کا ہے، کیونکہ اُسے نہیں معلوم کہ تمثیل کو کیسے، کب یا کس طرح استعمال کرنا ہے۔
۲۶:۸ احمق اپنی حماقت کی وجہ سے تعظیم کے لائق نہیں۔ اِس لئے اگر کوئی اُس کی حماقتوں کو جانتے ہوئے بھی خواہ مخواہ اُس کی لڑائی کرتا ہے تو قیمتی جواہر کو پتھروں میں رکھتا ہے۔ جس طرح قیمتی جواہر کو پتھروں میں رکھنا غلط ہے اُسی طرح تعظیم کو بھی احمق سے منسوب کرنا غلط ہے۔
۲۶:۹ جب کسی شرابی کے ہاتھ میں کانٹے ہوں تو وہ اُس کے اپنے اور دوسروں کے لئے خطرناک اور درد ناک ہوتے ہیں۔ یہی حال احمق کے منہ میں تمثیل کا ہے۔ وہ اِسے بڑی آسانی سے غلط استعمال کر سکتا ہے اور اُس کے مفہوم کو بھی غلط بنا سکتا ہے۔ ممکن ہے وہ اِسے اپنی حماقت کو دُرست ثابت کرنے کے لئے استعمال کرے اور یوں اِس سے غلط نتائج اخذ کرے۔
۲۶:۱۰ عبرانی زبان کی اِس آیت کے مختلف تراجم کئے گئے ہیں تاہم رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ اُردو تراجم میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ اِس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ جو احمق اور غلط کام کرنے والوں کو کام پر لگاتا ہے وہ کئی لوگوں کے لئے مصیبت پیدا کرتا ہے۔
۲۶:۱۱ جس طرح کتے کو اُگلے ہوئے کو کھانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اِسی طرح احمق کو اپنی حماقت دُہرانے میں بھی کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ وہ دونوں وہی کام کرتے ہیں جو نہایت کراہیت انگیز ہیں۔ اِس آیت کو ۲۔پطرس ۲:۲۲ میں اُن لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جن میں اخلاقی اصلاح کاری تو ہو گی مگر اُنہوں نے کبھی بھی نئی پیدائش کا تجربہ نہیں کیا۔ اِس لئے آخرکار وہ اپنے پرانے طریقوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
۲۶:۱۲ جو اپنی نظر میں دانا ہے اُس کی بذریعہ ہدایت یا ملامت اصلاح کاری نہیں کی جا سکتی۔ اُس میں اصلاح کی کوئی اُمید نہیں۔ کسی جاہل احمق کی تو بذریعہ سزا کبھی بھی اصلاح کی جا سکتی ہے مگر اپنی نظر میں دانا پر نصیحت یا ہدایت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
۲۶:۱۳۔۱۶ یہاں ایک مرتبہ پھر سُست آدمی کی تصویر ہے، جس کے سامنے اُس کے وہم کا شیر ہے جو اُسے باہر کام پر جانے سے روک رہا ہے۔ اُس کی حالت ایسی ہے جس طرح دروازے پر جو اپنی چولوں پر پھرتا ہے۔ کبھی وہ اِس کروٹ لیٹتا ہے تو کبھی اُس کروٹ۔ اُس کا بدن اِدھر اُدھر حرکت تو بہت کرتا نظر آتا ہے مگر فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ بعد ازاں جب وہ کھانا کھانے بیٹھتا ہے تو وہ اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے، لیکن اِتنی ہمت نہیں کرتا کہ نوالہ اُٹھا کر منہ تک لے آئے۔ اُس کے سُست پن کی یہ حالت ہے کہ کھانا کھانے جیسا خوش گوار کام بھی اُس کے لئے تھکا دینے والی محنت ہے۔
وہ اپنی نظر میں دلیل دینے والے سات شخصوں سے زیادہ دانا ہے۔ یہ سات ذہین افراد اِس بات پر متفق ہیں کہ وہ غلطی پر ہے، لیکن اُن سب کا متفقہ فیصلہ اُس کی سوچ میں رَتی بھر فرق نہیں ڈالتا۔
۲۶:۱۷ راستہ چلتا ہوا آدمی اگر کسی پرائے جھگڑے میں خواہ مخواہ دخل اندازی کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنے لئے مصیبت ڈھونڈتا ہے۔ اِس کا عمل ایسے ہے جیسے کتے کو کان سے پکڑنا۔ اوّل تو آپ یہ کرنا نہیں چاہتے، اور اگر کر بھی لیں تو کتے کا کان چھوڑنا نہیں چاہیں گے، کیونکہ جونہی آپ نے چھوڑا وہ آپ کو کاٹ لے گا۔
۲۶:۱۸، ۱۹ جیسے کوئی پاگل شخص جو جلتی لکڑیاں اور موت کے تیر پھینکتا ہے ویسے ہی وہ شخص ہے جو اپنے ہمسائے کو دغا دیتا ہے اور جب ہمسائے کا نقصان ہو جاتا ہے تو کہتا ہے مَیں تو مذاق کر رہا تھا۔ قتل کر کے کہا جا سکتا ہے، ’’یہ تو محض مذاق تھا‘‘؟ اِس مثل کا اطلاق اُن جوانوں پر خاص طور پر ہو سکتا ہے جو دل لگی کے طور پر جنسِ مخالف سے تعلقات جوڑتے ہیں۔
۲۶:۲۰،۲۱ جس طرح تیل پھینکنے سے آگ بھڑک اُٹھتی ہے اُسی طرح غیبت کی موجودگی سے جھگڑے میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب جھوٹ اور غیبت کو ختم کر دیا جاتا ہے تو جھگڑا بھی جلد ختم ہو جاتا ہے۔ چند سال پہلے غیبت کے بارے میں ایک اخبار نے کچھ یوں لکھا:
’’ مَیں کسی بھی اسلحے یا بارود سے زیادہ مہلک ہوں۔ مَیں مارے بغیر فتح کر لیتی ہوں۔ مَیں گھروں کو ڈھا دیتی ہوں، دلوں کو توڑتی ہوں، اور زندگیوں کو برباد کر دیتی ہوں۔ مَیں ہوا کے پروں پر سفر کرتی ہوں۔ کوئی بھی معصوم اِتنا معصوم نہیں کہ مجھے ڈرا سکے، اور کوئی بھی اِتنا پاک باس نہیں کہ میری زد میں نہ آ سکے۔ مجھے سچائی کی کوئی پروا نہیں، قانون کا کوئی احترام نہیں، اور مسکینوں کے لئے کوئی ہمدردی نہیں۔ میرے شکار بے شمار ہیں۔ نہ تو مَیں کبھی بھولتی ہوں اور نہ معاف کرتی ہوں۔ میرا نام ہے غیبت۔‘‘
۲۶:۲۲ یہاں ۱۸:۸ کو دُہرایا گیا ہے۔ گناہ آلود فطرت غیبت کو لذیذ نوالوں کی طرح کھا جاتی ہے۔
۲۶:۲۳۔۲۶ اُوپر اُوپر سے تو ہونٹوں سے بڑی محبت کی باتیں نکل رہی ہوں مگر اندر دل میں بدی بھری ہو تو ایسا شخص اُس ٹھیکرے کی مانند ہے جس پر کھوٹی چاندی منڈھی ہو۔ چاندی کی چمک دمک ٹھیکرے کے بے قدر ہونے کو چھپا لیتی ہے۔ اِسی طرح فریب سے بھرے ہونٹ بھی اکثر اوقات دل میں بھری نفرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ یہوداہ اسکریوتی کی فریب سے بھری محبت اِس کا واضح ثبوت ہے۔
کینہ رکھنے والا شخص لطیف باتوں سے دل میں چھپی عداوت کو تو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ساتھ ساتھ دل میں نفرت کو جوں کا توں قائم رکھتا ہے۔ اِس لئے خواہ وہ آپ سے حلیمی اور محبت سے بولے آپ اُس پر بھروسا نہیں کر سکتے۔ اُس کے دل میں کمال نفرت ہے۔ اگرچہ اُس کی بدخواہی مکر میں چھپی ہے تو بھی اُس کی بدی سب کے سامنے ظاہر ہو جائے گی۔
۲۶:۲۷ اِنسان کی بدی اُس کے آگے آ جاتی ہے۔ اِنسانی تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری ہے۔ آستر کی کتاب میں ہامان کی مثال اِس کا واضح ثبوت ہے۔ اُس نے مردکی کے خلاف جو منصوبہ تیار کیا تھا وہی اُس کے گلے آن پڑا۔
۲۶:۲۸ یہ مثل جھوٹی زبان اور چاپلوس منہ کی سرزنش کرتی ہے۔ جھوٹی زبان اُن سے نفرت رکھتی ہے ہے جن کو خود اُس نے گھایل کیا ہے اور چاپلوس منہ اپنے شکاروں کو تباہ کرتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ جس طر ح ایام گرمی میں برف اور درو کے وقت بارش اُسی طرح احمق کو عزت زیب نہیں دیتی۔
۲ جس طرح گوریا آوارہ پھرتی اور ابابیل اُڑاتی رہتی ہے اُسی طرح بے سبب لعنت بے محل ہے۔
۳ گھوڑے کے لئے چابک اور گدھے کے لئے لگام لیکن احمق کی پیٹھ کے لئے چھڑی ہے۔
۴ احمق کو اُسکی حمایت کے مطابق جواب نہ دے مبادا تو بھی اُسکی مانند ہوجٓائے ۔
۵ احمق کو اُسکی حمایت کے مطابق جواب دے مبادا وہ اپنی نظر میں دانا ٹھہرے ۔
۶ جو احمق کے ہاتھ پیغام بھیجتا ہے اپنے پاوں پر کلہاڑا مارتا اور نقصان کا پیالہ پیتا ہے۔
۷ جس طرح لنگڑے کی ٹانگ لڑکھڑاتی ہے اُسی طرح احمق کے منہ میں تمثیل ہے۔
۸ احمق کی تعظیم کرنے والا گویا جواہر کو پتھروں کے ڈھیر میں رکھتا ہے ۔
۹ احمق کے منہ میں تمثیل شرابی کے ہاتھ میں چبھنے والے کانٹے کی مانند ہے ۔
۱۰ جو احمقوں اور راہگذروں کو مزدوری پر لگاتا ہے اُس تیر انذاز کی مانند ہے جو سب کو زخمی کرتا ہے۔
۱۱ جس طرح کتا اپنے اُگلے ہوئے پھر کھاتا ہے اُسی طرح احمق اپنی حمایت کو دہراتا ہے۔
۱۲ کیا تو اُسکوجو اپنی نظر میں دانا ہے دیکھتا ہے ؟ اُسکے مقابلہ میں احمق سے زیادہ اُمید ہے۔
۱۳ سست آدمی کہتا ہے راہ میں شیر ہے۔شیر ببر گلیوں میں ہے۔
۱۴ جس طرح دروازہ اپنی چولوں پر پھرتا ہے اُسی طرح سست آدمی اپنے بستر پر کروٹ بدلتا رہتا ہے۔
۱۵ سست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اُسے پھر منہ تک لانا اُسکو تھکا دیتا ہے
۱۶ کاہل اپنی نظر میں دانا ہے بلکہ دلیل لانے والے سات شخصوں سے بڑھکر ۔
۱۷ جو راستہ چلتے ہوئے پرائے جھگرے میں دخل دیتا ہے اُسکی مانند ہے جو کتے کو کان سے پکڑتا ہے۔
۱۸ جیسا وہ دیوانہ جو چلتی لکڑیاں اور موت کے تیر پھینکتا ہے
۱۹ ویسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے ہمسایہ کو دغا دیتا ہے اور کہتا ہے میں تو دِل لگی کر رہا تھا۔
۲۰ لکڑی نہ ہونے سے آگ بجھ جٓاتی ہے سو جہاں غیبت گو نہیں وہاں جھگڑا موقوف ہو جٓاتا ہے۔
۲۱ جیسے انگاروں پر کوئلے اور آگ پر ایندھن ہے ویسے ہی جھگڑالو جھگڑابرپاکرنے کے لئے ہے۔
۲۲ غیبت گو کی باتیں لذیذنوالے ہیں اور وہ خوب ہضم ہو جٓاتی ہیں۔
۲۳ اُلفتی لب بدخواہ دِل کے ساتھ اُس ٹھیکرے کی مانند ہیں جس پر کھٹی چاند ی منڈھی ہو۔
۲۴ کینہ ور دِل میں دغا رکھتا ہے لیکن اپنی باتوں سے چھپاتا ہے۔
۲۵ جب وہ میٹھی میٹھی باتیں کرے تو اُسکا یقین نہ کر کیونکہ اُسکے دِل میں کمال نفرت ہے۔
۲۶ اگرچہ اُسکی بدخواہی مکر میں چھپی ہے تو بھی اُسکی بدی جماعت کے روبرو فاش کی جٓائیگی ۔
۲۷ جو گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گریگا۔اور جو پتھر ڈھلکاتا ہے وہ پلٹ کر اُسی پر پڑیگا ۔
۲۸ جھوٹی زبان اُنکا کینہ رکھتی ہے جنکو اُس نے گھایل کیا ہے اور چاپلوس منہ تباہی کرتا ہے۔