۱۸:۱ اِس آیت میں اُس شخص کا ذِکر ہے جو مروجہ طور طریقوں کا پابند نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ اپنی راہ خود جنتا ہے اور ایسا کرنے میں خواہ اُسے آزمودہ علم اور مقبولِ عام طریقوں سے انحراف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ وہ اپنی من مانی کر کے معقول حکمت کے خلاف قدم اُٹھاتا ہے۔
۱۸:۲ احمق دانا لوگوں کی بات سننے سے اِنکار کرتا ہے۔ وہ تو صرف اِس بات میں دلچسپی لیتا ہے کہ اُسے اُس کے اپنے دل کا حال سنانے کا موقع ملے یا یہ دکھانے کا موقع کہ وہ درحقیقت میں کیا ہے۔
۱۸:۳ جب شریر آتا ہے تو اپنے ساتھ حقارت لاتا ہے اور پھر رُسوائی کے ساتھ ذِلت آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ظاہری شرمندگی اور ذلالت باطنی شرارت اور بدی کے پاؤں پر چل کر آتے ہیں۔
۱۸:۴ عام طور پر دیکھا جائے تو اِنسان کے منہ کی باتیں اُس کے بارے میں سب کچھ نہیں بتاتیں۔ وہ گہرے پانی کی مانند ہیں جو اُس کے پوشیدہ اور حقیقی خیالات اور محرکات کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اِس کے مقابلے میں حکمت کا چشمہ بہتا ہوا نالا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکمت کا پیغام صاف اور واضح ہے۔ بائبل مقدّس کے عالم Moffatt کے مطابق ’’دانا شخص کے منہ کی باتیں گہرا تالاب ہیں، بہتی ندی اور زندگی کا چشمہ ہیں۔ یہ باتیں سطحی نہیں بلکہ گہری ہیں، منجمد نہیں بلکہ بہتی ہیں اور بے لطف نہیں بلکہ تازگی بخش ہیں۔‘‘
۱۸:۵ خدا یہاں اخلاقی اِنصاف کرنے میں ناکام ہونے کی مذمت کر رہا ہے۔ شریر کی طرف داری کرنے کا مطلب اُس کی شرارت کی چشم پوشی کرنا ہے۔ اِسی طرح صادق سے بے اِنصافی کرنا بھی ایسے ہے جیسے سچائی کو کوڑے میں پھینکنا اور بدی کو تخت پر بٹھانا۔
۱۸:۶ بڑا بول بولنے والا احمق ہمیشہ جھگڑا کرنے کی جستجو میں رہتا ہے۔ اِس معاملے میں ایک شرابی کا کوئی جوڑ نہیں۔ لیکن جھگڑا کر کے اُسے چہرے اور جسم پر نیل پڑنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۱۸:۷ احمق کی گفتگو ہی اُس کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ بے سوچے سمجھے کہے اور بُرے الفاظ آخرکار اُسے ہلاکت میں دھکیل دیتے ہیں۔
۱۸:۸ غیبت گو کی باتیں تو گویا مزیدار میٹھی خوراک ہے، جس کو سننے والے مزے لے لے کر کھا جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی کہے ’’واہ! واہ! یہ تو بہت مزے کی باتیں ہیں! مجھے بہت پسند ہیں۔ مزید بتائیں آگے کیا ہوا؟‘‘
۱۸:۹ سُست آدمی اور تباہ وبرباد کرنے والے میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں بڑے پیمانے پر بربادی پیدا کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔ ایک مسیحی عالم لکھتا ہے:
ہمیں معلوم ہے کہ گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور عمارتوں وغیرہ میں ناقص کاریگری مہلک حادثات کا باعث بنتی ہے۔ اور یہی بات دفتروں اور کلیسیاؤں میں بھی سچ ہے۔ ذمہ داریوں سے غفلت رفاقت میں رخنے پیدا کر سکتی ہے۔ کسی کی احمقانہ غفلت اور سُستی سے کلیسیا تقسیم ہو جاتی ہے۔
۱۸:۱۰ خداوند کا نام اُس پر بھروسا کرنے والوں کے لئے چھپنے اور حفاظت کی جگہ ہے۔ اِس لئے کڑی آزمائش کے وقت خداوند کے نام کو پکاریں اور وہ آپ کو گناہ سے بچائے رکھے گا۔
۱۸:۱۱ امیر آدمی کا بھروسا اُس کی اپنی دولت پر ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ خطرات کے خلاف دولت اُونچی دیوار ہے جو اُسے ہر طرح سے محفوظ رکھے گی۔ لیکن افسوس یہی دولت اشد ضرورت کے وقت اُس کے کام نہیں آئے گی۔ آیت ۱۰ ایک حقیقت ہے اور آیت ۱۱ افسانہ۔ آیت ۱۰ کے صادق کا بھروسا حقیقت پر ہے اور آیت ۱۱ کے امیر آدمی کا افسانے پر۔
۱۸:۱۲ تکبر کا ایک پاؤں قبر میں ہوتا ہے اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر۔ فروتنی بڑے احتیاط سے عزت کی طرف چلتی رہتی ہے۔ ولیم لا (William Law) نے اِس تضاد کو بڑی خوب صورتی سے پیش کیا ہے، ’’تکبر کو محض نازیبا مزاج ہی نہ سمجھیں اور نہ فروتنی کو محض پسندیدہ خوبی۔ ایک جہنم ہے اور دوسری جنت‘‘۔
۱۸:۱۳ کسی بھی شخص کو اپنی رائے دینے سے پہلے سارے حقائق معلوم کر لینے چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں کرے گا تو ساری تفصیلات منظر عام پر آنے پر اُسے شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔ ہر مسئلے __ لڑائی، طلاق وغیرہ __ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ کسی ایک کی بات سن کر کوئی حتمی فیصلہ نہ کریں، بلکہ پہلے دونوں کی بات سن لیں۔
۱۸:۱۴ اِنسان کی روح ہر قسم کی جسمانی تکالیف سہنے کی متحمل ہے، لیکن افسردہ دلی (کمزور روح) کو برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ جذباتی پریشانیاں جسمانی پریشانیوں سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور بھاری ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک عمر رسیدہ خاتون کے کولھے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہسپتال میں آپریشن کے بعد وہ بڑی اچھی طرح سے بہتری کی طرف جا رہی تھیں۔ ہسپتال میں سے خارج ہونے کے بعد اُسے اولڈ ہوم میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں کے ماحول نے خاتون پر بڑے منفی اثرات مرتب کئے اور چند گھنٹوں میں ہی اُس کی جسمانی حالت بگڑتی چلی گئی۔ آخرکار ایک دن سے کم عرصے میں وہ چل بسی۔
ایک اَور شخص نے جنگی قیدی کے طور پر قید کی مشکلات بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ رہائی کے بعد اُسے معلوم ہوا کہ اُس کے اپنے بیٹے کی مخبری کی وجہ سے وہ قید میں ڈال دیا گیا تھا۔ اِس دل چیر دینے والی خبر نے اُس کو بے حال کر دیا۔ وہ اپنے دشمنوں کے مظالم تو سہہ گیا، مگر اپنے لختِ جگر کا وار اُس کی جان لے گیا۔
۱۸:۱۵ سمجھ دار آدمی کبھی اُس مقام پر نہیں پہنچتا جہاں وہ کہہ سکے، ’مجھے علم حاصل کرنے کی اب ضرورت نہیں رہی۔‘ اُس کا ذہن ہدایت حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور اُس کے کان علم کی بات سننے کے لئے۔
۱۸:۱۶ اِنسان کے تحائف اُسے اُن لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جن کو وہ متاثر کرنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات اِس آیت کے روحانی معانی نکالے جاتے ہیں کہ ایمان دار کی روحانی نعمتیں اُسے استعمال کے موقعے فراہم کرتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی میں تعلیم دینے یا منادی کرنے کی نعمت ہے تو اُس کے پاس اِن نعمتوں کے استعمال کے کئی مواقع ہوں گے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس آیت کا ایسا ہرگز کوئی معنی نہیں ہے۔
۱۸:۱۷ جب کوئی اپنی کہانی سناتا ہے تو اُس میں قائل کرنے کی بڑی قوت ہوتی ہے اور آپ اُسے قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر اُس کا ہمسایہ آ جاتا ہے اور چند چیدہ چیدہ سوال پوچھتا ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ اُس کی ساری کہانی سچائی پر مبنی نہیں تھی۔
۱۸:۱۸ پرانے عہدنامے میں جب ایمان دار قرعہ ڈالتے تھے تو درحقیقت وہ اِس بات کا اِظہار کرتے تھے کہ چونکہ وہ بذاتِ خود اِس معاملے کو حل کرنے کے اہل نہیں اِس لئے خدا سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ اسے حل کر دے۔ قرعہ دو زبردستوں کے مابین قوت استعمال کر کے فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے کا پُرامن اور منصفانہ حل ہوتا تھا۔ ہمیں بھی مشکل معاملات میں خداوند کو حتمی فیصلہ کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے ہمیں قرعہ ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ بائبل مقدس کا بغور مطالعہ کر کے اُس کی پیروی کرنی چاہئے، ایک دوسرے سے اپنی غلطیوں اور خطاؤں کا اِقرار کرنا چاہئے۔ دعا کرنی چاہئے اور خدا کے پاک روح کو موقع دینا چاہئے کہ وہ ہمارے دل کو اپنی مرضی سمجھنے کی توفیق بخشے۔
۱۸:۱۹ بھائیوں کے درمیان جھگڑوں کو سلجھانا مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ محکم شہر کو فتح کرنا ناراض بھائیوں کے درمیان صلح کرانے سے آسان ہے۔ اُن کے جھگڑے قلعے کے بینڈوں جیسے ہوتے ہیں __ سرد اور ٹس سے مس نہ ہونے والے۔ سرد جنگیں تلخ ترین ہوتی ہیں۔
۱۸:۲۰ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو اپنی کہی ہوئی باتیں بھگتنی پڑتی ہیں۔ اگر اچھے الفاظ منہ سے نکلے ہوں تو نتائج بھی اچھے ہی نکلتے ہیں جن سے وہ مطمئن ہوتا ہے۔
۱۸:۲۱ زبان نیکی یا بدی کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ لوگ جو اِس کا خوب استعمال کرتے ہیں اُنہیں اِس کے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔
۱۸:۲۲ اِس آیت میں بیوی سے پہلے ’’نیکوکار‘‘ کا لفظ نہیں لگایا گیا مگر یہاں مراد ’’نیکوکار بیوی ‘‘ ہی ہے۔ مثل یہ کہہ رہی ہے کہ جس کو نیک بیوی ملی اُس کو خزانہ مل گیا۔ اُس شخص کے لئے یہ خداوند کی طرف سے محبت و مہربانی کا ایک اِظہار ہے۔
۱۸:۲۳ غریب و مسکین لوگ اکثر حلیمی سے بات کرتے ہیں۔ منت سماجت کے انداز میں۔ اِس کے برعکس دولت مند کرخت اور رعب دار آواز میں بات کرتا ہے؟ تاہم سارے امیر لوگ اِس طرح بدتمیز نہیں ہوتے۔
۱۸:۲۴ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بہتوں سے دوستی کرنے کی نسبت ایک حقیقی اور مخلص دوست کا ہونا زیادہ بہتر ہے۔ بہت سارے دوست نقصان کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ وہ آپ کو گمراہ بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ بھی مفہوم پایا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ ظاہری طور پر تو دوستی دکھائیں گے، لیکن صرف ایک ہی ہے جو بھائی سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔ اِس میں موسمی دوستوں اور دُکھ مصیبت میں ساتھ دینے والے وفادار دوست میں موازنہ پیش کیا گیا ہے۔
مقدس کتاب
۱ جواپنے آپ کو سب سے الگ رکھتا ہے اپنی خواہش کا طالب ہے اور ہر معقول بات سے برہم ہوتا ہے۔
۲ احمق فہم سے خوش نہیں ہوتا لیکن ٖصرف اِس سے کہ دِل کا حال ظاہر کرے۔
۳ شریر کے ساتھ حقارت آتی ہے اور رسوائی کے ساتھ اِہانت ۔
۴ اِنسان کے منہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہیں اور حکمت کا چشمہ بہتا نالہ ہے۔
۵ شریر کی طرفداری کرنا یا عدالت میں صادق سے بے اِنصافی کرنا خوب نہیں ۔
۶ احمق کے ہونٹ فتنہ انگیز ی کرتے ہیں اور اُسکا منہ طمانچوں کے لئے پُکارتا ہے ۔
۷ احمق کامنہ اُسکی ہلاکت ہے اور اُسکے ہونٹ اُسکی جٓان کے لئے پھندا ہیں۔
۸ غیبت گوکی باتیں لذیذنوالے ہیں اور وہ خوب ہضم ہو جٓاتی ہیں۔
۹ کام میں سُستی کرنے والا مسرف کا بھائی ہے ۔
۱۰ خداوند کا نام محکم برج ہے۔صادق اُس میں بھاگ جٓاتا ہے اور امن میں رہتا ہے۔
۱۱ دولتمند آدمی کا مال اُسکا محکم شہر اور اُسکے تصور میں اُونچی دیوار کی مانند ہے۔
۱۲ آدمی کے دِل میں تکبر ہلاکت کا پیشرو ہے اور فروتنی عزت کی پیشوا۔
۱۳ جو بات سُننے سے پہلے اُسکا جواب دے یہ اُسکی حمایت اور خجالت ہے۔
۱۴ اِنسان کی رُوح اُسکی ناتوانی میں اُسے سبنھالیگی لیکن افسردہ دِلی کی کون برداشت کر سکتا ہے؟
۱۵ ہوشیار کا دِل علم حاصل کرتا ہے اور دانا کے کان علم کے طالب ہیں۔
۱۶ آدمی کا نذرانہ اُسکے لئے جگہ کر لیتا ہے اور بڑے آدمیوں کے حضور اُسکی رسائی کر دیتا ہے۔
۱۷ جو پہلے اپنا دعویٰ بیان کرتا ہے راست معلوم ہوتا ہےپر دُوسراآکر اُسکی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
۱۸ قرعہ جھگڑوں کو موقوف کرتا ہےاور زبردستوں کے درمیان فیصلہ کردیتا ہے۔
۱۹ رنجیدہ بھائی کو راضی کرنا محکم شہر لے لینے سے زیادہ مشکل ہے اور جھگڑے قلعہ کے بینڈوں کی مانند ہیں۔
۲۰ آدمی کا پیٹ اُسکے منہ کے پھل سے بھرتا ہے اور وہ اپنے لبوں کی پیداراو سے سیر ہوتا ہے ۔
۲۱ موت اور زندگی زبان کے قابو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں اُسکا پھل کھاتے ہیں۔
۲۲ جس کو بیوی ملی اُس نے تحفہ پایا اور اُس پر خداوند کا فضل ہوا۔
۲۳ محتاج منت سماجت کرتا ہےپر دولتمند سخت جواب دیتا ہے۔
۲۴ جو بہتوں سے دوستی کرتا ہے اپنی بربادی کے لئے کرتا ہے پر اَیسا دوست بھی ہے جو بھائی سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔