اِمثال ۵

ح۔ زِناکاری کی حماقت (‏باب ۵)‏

۵:‏ ۱‏،۲ سلیمان فکر مند ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو جوانی کے ایام میں ایک خاص حملہ آور گناہ کے بارے میں آگاہ کرے۔ جو لوگ دانش مندانہ نصیحت پر توجہ دیتے اور دوسروں کے تجربے سے سیکھتے ہیں وہ صحیح طور پر اِمتیاز کرنا سیکھتے ہیں۔ دورِ حاضر میں صرف خدا کا کلام ہی بے قابو‏، جنسی بے راہ رَوی اور گناہ کے فریب سے بچا سکتا ہے۔ پولس رسول تیمتھیسکو نصیحت کرتا ہے کہ جب وہ گناہ کے فریب میں گر جائے تو خدا کے کلام پر قائم رہے (‏۲۔تیمتھیس۳:‏۱۳۔۱۷)‏۔

۵:‏۳ باب کے باقی ماندہ حصے میں عصمت فروشی پر توجہ دی گئی ہے۔ بیگانہ عورت سے مراد فاحشہ عورت ہے جو گھٹیا مقاصد کے لئے جسم فروشی کرتی ہے۔ بیگانہ عورت گناہ‏، بُری دُنیا‏، جھوٹے مذہب‏، بت پرستی یا کسی بھی نفسانی آزمائش کی علامت ہے جس سے بنی آدم دوچار ہو سکتے ہیں۔ اُس کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے۔ اِس سے مٹھاس اور پُرفریب گفتگو مراد ہے۔ وہ خوشامدی‏، چکنی چپڑی باتیں اور عیاری سے گفتگو کرنے والی ہے۔ 

۵:‏۴ پہلے تو وہ خوشگوار اور پسندیدہ دکھائی دیتی ہے‏، لیکن بالآخر وہ ناگدونے کی مانند کڑوی ہے۔ ناگدونا ایک پودا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کی لکڑی گھر میں ہو تو سانپ نہیں آتا۔ گناہ بظاہر بہت دل کش معلوم ہوتا ہے‏، لیکن حقیقت میں نہایت تلخ نتائج سے بھرا ہوتا ہے۔ 

اُس کے ساتھ ہم بستر ہونے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ضمیر کی ملامت‏، پچھتانا‏، رُسوائی‏، خطرناک بیماری‏، ازدواجی زندگی کی تباہی‏، خاندان کا ٹوٹنا‏، ذہنی پریشانی اور کئی طرح کے دیگر مسائل۔ 

۵:‏۵‏،۶ وہ اپنے شکار کو ایسی یک طرفہ گلی میں لے جاتی ہے جو اُسے آخرکار موت اور جہنم تک پہنچاتی ہے۔ بے ٹھکانہ عورت کو اچھی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اُس کا کردار غیر مستحکم ہے‏، اُسے بالکل یہ احساس نہیں کہ وہ کہاں تک گر چکی ہے۔ ’’وہ زندگی کی اعلیٰ اور صاف شاہراہ کو پسند نہیں کرتی‏، اُس کے راستوں میں پھسلن ہے‘‘ (‏Moffatt)‏۔

۵:‏۷ پُرخطر باتوں پر غور کرتے ہوئے سلیمان اپنے بچوں کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ اُس کی باتوں پر کان لگائیں اور جو کچھ وہ کہتا ہے اُس سے برگشتہ نہ ہوں۔ 

۵:‏۸ سب سے بڑا بچاؤ اور تحفظ کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آزمائش سے دُور رہا جائے۔ اگر ہم گناہ سے منسلک جگہوں اور اشیا سے تعلق رکھنے پر اصرار کرتے رہیں تو مخلصی کے لئے خدا سے دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ 

بعض حالات میں بھاگ جانا بہت ضروری ہے۔ یوسف نے یہی کیا‏، گو اُس کی چادر چھن گئی‏، لیکن اُس نے اپنی پاکیزگی کو قائم رکھا اور بعد ازاں تاج حاصل کیا۔ 

آیت ۸ پر عمل کرنے کے لئے شاید ہمیں نئی ملازمت حاصل کرنا پڑے‏، کسی مختلف علاقے میں سکونت کرنا پڑے یا اِسی طرح کا کوئی اَور قدم اُٹھانا پڑے۔ 

۵:‏۹‏،۱۰ جو لوگ قحبہ خانہ میں جاتے ہیں‏، وہ اپنی قوتِ مردانگی ضائع کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہترین سال بے رحم آزمانے والی کے حوالے کرتے ہیں۔ 

مزید برآں ایسے معزز شہری جو خفیہ طور پر زناکاری کرتے یا فحش فلمیں وغیرہ دیکھتے اُنہیں اکثر بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اگر وہ بلیک میل کرنے والوں کو خاموش رکھنے کے لئے ادائیگی نہیں کرتے تو اُنہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اُنہیں عوام میں بے نقاب کیا جائے گا۔ 

۵:‏۱۱ ایسی زندگی کا انجام یہ ہے کہ اِنسان شکست خوردہ ہو جاتا ہے اور اُس کی زندگی آہوں اور سسکیوں سے عبارت ہوتی ہے۔ اُس کا جسم مفلسی‏، اندھے پن‏، ایڈز اور جذباتی پریشانی سے گھل جاتا ہے۔ 

۵:‏۱۲‏،۱۳ مزید برآں اِنسان غم‏، افسردگی اور پچھتاوے سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ اِس بوجھ تلے پریشانی میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ اُس نے کیوں اپنے والدین‏، سنڈے سکول کے اُستادوں اور مسیحی دوستوں کا کہا نہ مانا۔ وہ کئی طرح کی مصیبتوں سے بچ سکتا تھا‏، لیکن وہ اِس قدر ضدی تھا کہ اُس پر تربیت اور آگاہی کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا۔ 

۵:‏۱۴ عوامی سطح پر ذلت و رسوائی بھی ممکن ہے۔ اِس آیت میں یہی خیال پایا جاتا ہے‏، گو اِس میں اُس کے بُرے کاموں کی علانیہ سزا کا تصور بھی شامل ہو سکتا ہے۔ 

۵:‏۱۵‏،۱۶ تمثیلی زبان میں سلیمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ صرف اپنی بیوی کے ساتھ پاک ازدواجی محبت کی زندگی میں جنسی تسکین حاصل کرے۔ شادی کے وفادار تعلقات کی برکتوں سے دوست اور خاندان کے لوگ بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ 

’’کیا تیرے چشمے باہر بہہ جائیں اور پانی کی ندیاں کوچوں میں؟‘‘ فاحشہ سے ہم آغوش ہونے سے اِنسانی تولیدی قوتوں کے ضیاع کا یہ تصویری بیان ہے۔ 

ناکس اِس آیت کا یوں ترجمہ کرتا ہے ’’یوں تیری اپنی ہی اولاد میں اضافہ ہو۔ یہ اُن ندیوں کی مانند ہو جو تیرے اپنے چشمے سے جاری ہو کر گلیوں میں بہتی ہیں۔‘‘ بیوی یہاں چشمے کی مانند ہے‏، ندیاں بچے ہیں‏، جو گھر کی چار دیواری سے باہر خوشی سے گلیوں میں کھیلتے ہیں۔ 

۵:‏۱۷ حقیقی ازدواجی تعلقات بلاشرکتِ غیرے ہے جس سے بچے تحفظ و ملکیت کے احساس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ آیت ناجائز اولاد کے المیہ کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔ یا اُن لوگوں کی مشکوک حیثیت کے لئے جو غلط جنسی ملاپ کے نتیجے میں پیدا ہوں۔ 

۵:‏۱۸ یہاں ’’سوتا‘‘ سے مراد کسی مرد کی اپنی بیوی ہے۔ اُسے اپنی جوانی کی بیوی کی رفاقت میں خوشی حاصل کرنا چاہئے۔ بلا شرکتِ غیرے تعلقات سے پیدا ہونے والی خوشی کی کوئی اِنتہا نہیں ہے اور ایسے گھر سے دوسروں کو برکت ملتی ہے۔ 

۵:‏۱۹‏،۲۰ مرد اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی اتحاد کی محبت کو قائم رکھے۔ اُس کی خوبصورت اور دلکش شکل اُسے فریفتہ کرے اور وہ اُس کی محبت سے ہمیشہ آسودہ ہو۔

وہ کسی بداخلاق عورت کی جھوٹی دلکشی پر کیوں فریفتہ ہو؟ یا وہ کسی کسبی کو اپنی آغوش میں کیوں لے؟

۵:‏ ۲۱‏،۲۲ گو کوئی اِنسانی آنکھ بازارِ حسن یا کسی ہوٹل یا کسی پوشیدہ جگہ میں اُس کا تعاقب نہ کرے‏، لیکن جو کچھ بھی ہوتا ہے خداوند اُسے دیکھتا ہے۔ زمین پر خفیہ گناہ آسمان پر کھلا راز ہے۔ 

اِنسان گناہ کے ارتکاب کے بعد اُس کے اثرات سے بچ نہیں سکتا۔ گناہ کے نتائج سے فرار حاصل کرنا ممکن نہیں۔ جے ایڈمز یوں رقم طراز ہے:‏

گناہ آلودہ عادات کو توڑنا مشکل ہے‏، لیکن اگر اُنہیں نہ توڑا جائے‏، تو وہ اِنسان کو سختی سے باندھ لیں گی۔ اُس کے اپنے گناہ کی رسیاں اُسے مضبوطی سے جکڑ لیں گی۔ وہ گناہ کی دائمی مضبوط رسیوں سے جکڑا جاتا ہے۔ بالآخر وہ گناہ کا غلام بن جاتا ہے۔ 

۵:‏۲۳ اِس آیت کو عیاش اِنسان کی زندگی کا آخری منظر قرار دیا جا سکتا ہے‏، اُس نے ضبطِ نفس کا اِنکار کیا اور نتیجے میں وہ مر جاتا ہے۔ ’’حکمت کی کمی کے باعث وہ مر جاتا ہے اور اُس کی حماقت اُسے برباد کر دیتی ہے۔‘‘ 

انگریزی شاعر شیلے اِس پیرے کی ایک واضح مثال تھا۔ اُس نے اپنے نظریے کے مطابق یک زوجگی کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عورت سے شادی کر کے ہزاروں کو مایوس کرتے ہیں۔ اِس نظریے کے نتائج بے وفائی‏، خود کشی‏، ناجائز بچے اور حسد تھے۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے میرے بیٹے!میری حکمت پر توجہ کر ۔میرے فہم پر کان لگا۔
۲ تاکہ تو تمیز کو محفوظ رکھے اور تیرے لب علم کے نگہبان ہوں۔
۳ کیونکہ بی یگا عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے اور اُسکا مُنہ تیل سے زیادہ چکنا ہے
۴ پر اُسکا انجام ناگدونے کی مانندتلخ اور دودھاری تلوار کی مانند تیز ہے۔
۵ اُسکے پاؤں موت کی طرف جٓاتے ہیں ۔اُسکے قدم پاتال تک پہنچتے ہیں ۔
۶ سواُسے زندگی کا ہموار راستہ نہیں ملتا ۔اُسکی راہیں بے ٹھکانا ہیں پر وہ بے خبر ہے۔
۷ اِسلئے اَے میرے بیٹو !میری سُنو اور میرے مُنہ کی باتوں سے برگشتہ نہ ہو۔
۸ اُس عورت سےاپنی راہ دور رکھ اور اُسکے گھر کے دروازہ کے پاس بھی نہ جٓا۔
۹ اَیسا نہ ہو کہ تواپنی آبروکسی غیر کے اور اپنی عمر بے رحم کے حوالہ کرے۔
۱۰ اَیسا نہ ہو کہ بی یگا تیری قوت سے سیر ہوں اور تیری کمائی کسی غیر کے گھر جٓائے۔
۱۱ اور جب تیرا گوشت اور تیرا جسم گھل جٓائیں توتو اپنے انجام پر نوحہ کرے
۱۲ اور کہے میں نے تربیت سے کیسی عدوات رکھی اور میرے دِل نے ملامت کو حقیر جٓانا۔
۱۳ نہ میں نے اُستادوں کا کہا مانا نہ اپنے تربیت کرنے والوں کی سُنی!
۱۴ میں جماعت اور مجلس کے درمیان قریباًسب بُرائیوں میں مبتلا ہوا۔
۱۵ تو پانی اپنے ہی حوض سے اور بہتا پانی اپنے ہی چشمہ سے پینا۔
۱۶ کیا تیرے چشمے باہر بہ جٓائیں اور پانی کی ندیاں کوچوں میں؟
۱۷ وہ فقط تیرے ہی لئے ہوں۔نہ تیرے ساتھ غیروں کے لئے بھی۔
۱۸ تیرا سوتا مُبارک ہواور تو اپنی جوانی کی بیوی کے ساتھ شادرہ ۔
۱۹ پیاری ہرنی اور دلفریب غزال کی ماننداُسکی چھاتیاں تجھے ہر وقت آسودہ کریں اور اُسکی محبت تجھے ہمیشہ فریفتہ رکھے۔
۲۰ اَے میرے بیٹے !تجھے ب یگا عورت کیوں فریفتہ کرے اور تو غیر عورت سے کیوں ہم آغوش ہو؟
۲۱ کیونکہ اِنسان کی راہیں خداوند کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہی اُسکے سب راستوں کو ہموار بناتا ہے۔
۲۲ شریر کو اُسی کی بدکاری پکڑیگی اور وہ اپنے ہی گناہ کی رسیوں سے جکڑا جٓایئگا ۔
۲۳ وہ تربیت نہ پانے کے سبب سے مر جٓائیگا ۔اور اپنی سخت حمایت کے سبب سے گمراہ ہو گا۔