اِمثال ۳

ج۔ حکمت کے اجر (‏۳:‏۱۔۱۰)‏

۳:‏۱ تمام اچھے والدین کی طرح حکمت اپنے بچوں کے لئے بہتر سے بہتر چیزوں کی خواہاں ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ چیزیں اُنہیں صرف اُس کی تعلیم کی فرماں برداری سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب کچھ اُنہیں مقدس نوشتوں پر عمل کرنے سے حاصل ہو گا۔ چنانچہ یہاں وہ اپنے بیٹے کو تلقین کرتی ہے کہ وہ اپنے ذہن سے یاد رکھے اور دل سے اُس کے حکموں کو مانے۔

۳:‏۲ جو لوگ اپنے والدین کی فرماں برداری کرتے ہیں‏، بہتر اور لمبی عمر پاتے ہیں۔ جو اپنے والدین کے ضبط اور تربیت کی نافرمانی کرتے ہیں وہ بیماریوں‏، حادثات‏، المیوں اور قبل از وقت موت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ آیت پانچویں حکم سے ہم آہنگ ہے (‏خروج ۲۰:‏۱۲)‏ جس میں والدین کی فرماں برداری کرنے والوں کے لئے عمر کی درازی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جے ایڈمز (‏Jay Adams)‏ لکھتا ہے:‏

بائبل میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ذہنی اِطمینان سے طویل اور پُرمسرت زندگی حاصل ہوتی ہے۔ یہ اِطمینان خدا کے احکام پر عمل کرنے سے ملتا ہے۔ صاف ضمیر ایک اہم سبب ہے جس سے جسمانی صحت اور عمر کی درازی حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ جسمانی بھلائی‏، روحانی بھلائی سے جنم لیتی ہے۔ 

۳:‏۳‏،۴ شفقت اور سچائی کا خارجی رویے میں اِظہار ہو (‏اپنے گلے کا طوق بنانا)‏۔ یہ چیزیں اِنسان کے اندر بھی موجود ہوں (‏اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا)‏۔ یہ خدا اور اِنسان کی نظر میں مقبولیت اور عقل مندی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ مطمئن زندگی وہ ہے جو خدا کی مرضی کو محور بنا کر بسر کی جائے۔ لیکن اِس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے‏، ’’ مَیں اپنی زندگی میں کیسے خدا کی مرضی کو جان سکتا ہوں؟‘‘ آئندہ دو آیات میں اِس کا ایک مصدقہ جواب دیا گیا ہے۔ 

۳:‏۵ اوّل‏، ہم کلی طور پر خداوند کے لئے مخصوص ہوں۔ جسم‏، جان اور روح کے لحاظ سے۔ ہم بھروسا رکھیں کہ وہ ہمارا نجات دہندہ ہے‏، لیکن ساتھ ہی اُس پر توکل کریں کہ وہ ہماری راہنمائی کرے۔ لازم ہے کہ یہ غیر مشروط مخصوصیت ہو۔ 

دوم‏، اپنی خودی پر صحت مند اعتماد ہو۔ یہ اِس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لئے بہتر کیا ہے یعنی ہم اپنی راہنمائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یرمیاہ نے نہایت واضح طور پر اِس اَمر کی نشان دہی کی:‏ ’’اے خداوند! مَیں جانتا ہوں کہ اِنسان کی راہ اُس کے اِختیار میں نہیں۔ اِنسان اپنی روِش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا‘‘ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳)‏۔ 

۳:‏۶ بالآخر مسیح کی خداوندیت کو ضرور تسلیم کیا جائے۔ ’’اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان۔‘‘ ہماری زندگی کا ہر ایک شعبہ اُس کے اِختیار میں ہو۔ ہماری واحد آرزو یہ ہو کہ ہم اُس کی مرضی کو جانیں اور اُسے پورا کریں۔ 

اگر اِن شرائط کو پورا کر لیا جائے تو یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ خدا تیری راہنمائی کرے گا۔ ممکن ہے کہ وہ بائبل‏، روحانی مسیحیوں کی مشورت‏، حالات‏، روح کے باطنی سکون یا اِن تمام چیزوں کے اِمتزاج کے ذریعے یہ راہنمائی فراہم کرے۔ اگر ہم اِنتظار کریں تو وہ اُس حد تک واضح طور راہنمائی کرے گا کہ اِس کا اِنکار کرنا صریحاً نافرمانی ہو گی۔ 

۳:‏۷‏،۸ اپنی ذاتی دانش مندی پر فخر خدا کی راہنمائی میں دخل دیتا ہے۔ جب ہم خداوند سے ڈرتے اور بدی سے کنارہ کرتے ہیں‏، تو ہم نتیجے میں صحت مند رہتے ہیں۔ اِس سے جسم کو صحت اور ہڈیوں کو تازگی ملتی ہے۔ یہاں ہمیں ایک بار پھر بتایا گیا ہے کہ اِنسان کی اخلاقی اور روحانی حالت اور اُس کی جسمانی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ 

تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ ہماری ۶۰ فیصد بیماریوں کی وجہ خوف‏، غم‏، حسد‏، بیزاری‏، نفرت‏، احساسِ جرم اور دوسرے جذباتی دباؤ ہوتے ہیں۔ شراب کی وجہ سے جگر متاثر ہوتا ہے‏، تمباکو نوشی سے سرطان اور دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور جنسی بے راہ روی سے اِنسان ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ’’وہ تیری راہنمائی کرے گا‘‘ (‏آیت۶)‏ کا لغوی مطلب ’’وہ تیرے راستوں کو ہموار اور سیدھے بنائے گا‘‘ ہے‏، لیکن اِس وعدے میں راہنمائی بھی شامل ہے۔ سلیمان الٰہی الہام کے ذریعے طبی سائنس کے شعبے میں اپنے دَور کے لحاظ سے بہت آگے تھا۔ 

۳:‏۹ اپنے مسیح کی خداوندیت کی تعظیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے مال کے استعمال میں اِس اَمر کا اِظہار کریں۔ ہم اِن چیزوں کے مختار اور اِن کے ذمہ دار ہیں۔ یہ ہمارا اعزاز ہے کہ ہم اپنے لئے سادہ طرزِ زندگی اِختیار کریں‏، خداوند کی خاطر کام کو ہر دوسری بات پر ترجیح دیں اور مستقبل کے لئے خدا پر بھروسا رکھیں۔ ڈیوڈ لونگسٹن کی مانند ہم اپنے تمام مال و وسائل خدا کی بادشاہت سے منسلک کریں۔ 

۳:‏۱۰ عہد عتیق میں فیاض یہودی سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اُس کے کھتے خوب بھرے رہیں گے اور اُس کے حوض مے سے لبریز رہیں گے۔ خواہ ہماری برکتیں زیادہ روحانی نوعیت کی ہوں تاہم ہم آج کل بھی خدا کو اِس سے زیادہ نہیں دے سکتے جو وہ ہمیں پہلے دے چکا ہے۔ 

د۔ حکمت انعام ہے (‏۳:‏۱۱۔۲۰)‏

۳:‏ ۱۱‏،۱۲ ہم خداوند کو یوں بھی تسلیم کر سکتے ہیں کہ اُس کی تنبیہ کو قبول کریں۔ اکثر اوقات ہم تنبیہ کو سزا متصور کرتے ہیں‏، لیکن اِس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو کسی بچے کی مناسب تربیت کے لئے ضروری ہیں‏، یعنی ہدایت‏، آگاہی‏، حوصلہ افزائی‏، نصیحت‏، ملامت اور تادیب وغیرہ۔ خداوند جس بات کی بھی ہماری زندگی میں اجازت دیتا ہے وہ بامقصد ہوتی ہے۔ نہ تو ہم اِسے حقیر جانیں اور نہ اِس سے بیزار ہوں۔ نہ تو ہم اِس سے گریز کریں اور نہ اِس کے دوران ہمت ہار جائیں۔ بلکہ ہماری یہ خواہش ہو کہ خدا کا مقصد تنبیہ کے ذریعے پورا ہو۔ تب ہم اِس سے زیادہ سے زیادہ اِستفادہ کر سکیں گے۔ ہماری زندگی میں خدا کی تنبیہ کا حتمی مقصد یہ ہے کہ ہم اُس کی پاکیزگی میں شامل ہوں۔ 

تنبیہ غصے کا نہیں بلکہ محبت کا ثبوت ہے۔ تنبیہ اِبنیت کا ثبوت ہے (‏عبرانیوں ۱۲:‏ ۶۔۸)‏۔ انگور کے باغ میں مالی کانٹوں کو نہیں بلکہ انگوروں کو چھانٹتا ہے۔ 

۳:‏۱۳ مبارک ہے وہ شخص جو حکمت کو پاتا ہے‏، خاص کر اِس صورت میں جب ہم یاد کرتے ہیں کہ حکمت یہاں پس پردہ مسیح کو پیش کرتی ہے۔ آئیے ہم درج ذیل آیات میں مسیح کو دیکھیں اور ملاحظہ فرمائیں کہ کیا نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ 

۳:‏۱۴ مسیح خداوند کو جاننے کا فائدہ سونے چاندی کے حصول کے نفع سے بڑھ کر ہے۔ وہ ہمیں وہ کچھ دے سکتا ہے جو ہم روپے سے نہیں خرید سکتے۔ 

۳:‏۱۵ وہ مرجان سے زیادہ بیش بہا ہے‏، وہ کسی بھی ہیرے سے قیمتی ہے۔ کسی بھی دوسرے انعام کی نسبت مجھے اُسے حاصل کرنے کی زیادہ آرزو ہے۔ 

۳:‏۱۶ وہ ایک ہاتھ سے ابدی زندگی کی پیش کش کرتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے روحانی دولت اور عزت دیتا ہے۔ 

۳:‏۱۷ اُس کی سب راہیں خوشگوار ہیں۔ اُس کے سب راستے سلامتی کے ہیں۔ ’’جہاں وہ راہنمائی کرتا ہے وہاں سفر خوشگوار ہے اور جس راستے کی وہ نشاندہی کرتا ہے وہاں سلامتی ہے‘‘ (‏ناکس)‏۔

۳:‏۱۸ وہ جو اُسے پکڑے رہتے ہیں وہ اُس درخت کی مانند ہیں جس کا پھل بامعنی زندگی ہے۔ جو اُس کے قریب رہتے ہیں وہ مبارک ہیں۔ 

۳:‏۱۹‏،۲۰ یہ دونوں آیات خدا کی حکمت کو اُس کی تخلیق‏، بصیرت اور پروردگاری میں بیان کرتی ہیں۔ تخلیق میں اُس نے زمین کی بنیاد ڈالی اور آسمان کو قائم کیا۔ اُس کے فہم سے طوفانِ نوح کے وقت زمین کے سوتے پھوٹ نکلے۔ اپنی پروردگاری سے وہ سمندر سے پانی کو اُٹھا کر بادلوں میں لے جاتا ہے اور پھر زمین پر بارش کی صورت میں تقسیم کرتا ہے۔ 

اِس کام میں الوہیت کا کون سا اقنوم سرگرمِ عمل ہے؟ مسیح جو خدا کی حکمت ہے (‏یوحنا ۱:‏۳؛ کلسیوں ۱:‏۱۶؛ عبرانیوں ۱:‏۲)‏۔ 

ہ۔ حکمتِ عملی تجربے میں (‏۳:‏۲۱۔۳۵)‏

۳:‏۲۱ یہ نہایت اعزاز کی بات ہے کہ جس حکمت نے کائنات کو تخلیق کیا اور اُسے سنبھالتی ہے وہ ہمیں نصیحت دیتی ہے۔ اِس لئے اِس استحقاق کو ردّ نہ کریں۔ ہمیں چاہئے کہ دانائی اور تمیز کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ 

۳:‏۲۲۔۲۴ وہ ہمیں تقویت مہیا کرتے ہیں (‏جان کی حیات)‏ اور ظاہری خوبصورتی (‏گلے کی زینت)‏ مہیا کرتے ہیں۔ 

وہ ہمیں اپنی راہوں پر حفاظت سے چلنے کے قابل بناتے ہیں تاکہ ہمیں پھسلنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ 

وہ رات کے وقت نیند کی بھی ضمانت دیتے ہیں۔ پھر ضمیر پر کسی طرح کا احساسِ جرم نہیں ہوتا اور ذہن میں کسی طرح کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ 

۳:‏۲۵ وہ اِنسان کو ایسی ناگہان دہشت سے محفوظ رکھتے ہیں‏، جس سے شریر دوچار ہوتے ہیں۔ جو لوگ شریروں کی ظاہری خوش حالی سے حسد کرتے ہیں وہ اِس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ سب کچھ زندگی کے ہر طرح کے خطرات میں گھرے ہوئے حاصل کیا ہے۔ یعنی وہ استیصال‏، چوری‏، انتقام‏، بلیک میل کرنے‏، اغوا اور قتل جیسے خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔

۳:‏۲۶ جو لوگ خداوند کی راہوں پر چلتے ہیں وہ اُن کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ہمارے پاؤں کو پھندے میں نہیں پھنسنے دے گا۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ خداوند کریم عجیب و غریب طریقے سے ہماری مدد کر کے ہمیں مخلصی دیتا ہے۔ یہ تو بہت بڑی مخلصی کی محض جھلکیاں ہیں۔ لیکن ایک دن ہم پورے طور پر محسوس کریں گے کہ ہم کن کن باتوں سے بچائے اور کس لئے بچائے گئے ہیں۔ 

۳:‏۲۷ آیات ۲۷۔۳۱ میں منفی انداز ملاحظہ فرمائے:‏ ’’دریغ نہ کرنا۔ یہ نہ کہنا۔ منصوبہ نہ باندھنا … جھگڑا نہ کرنا … اِختیار نہ کرنا۔‘‘

اوّل‏، جس شخص کو کوئی اچھی چیز ملنے کا حق ہو اُسے یہ چیز دینے سے گریز نہ کریں۔ شاید اِس کا اشارہ اُس مزدوری سے ہے جس کے لئے کام کیا گیا ہو‏، یا اُس قرض سے جو دینا ہو یا اُن اوزاروں سے جو مستعار لئے گئے ہوں۔ 

لیکن وسیع تر معنوں میں اِس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے‏، ’’کسی سے بھلائی کرنے سے گریز نہ کرنا جو اِس کا حق دار ہو۔‘‘ اِس ناتے سے یہاں راست باز کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دوسروں کے لئے اپنی ذمہ داری کو نظر انداز نہ کرے (‏یعقوب ۴:‏۱۷)‏۔ 

۳:‏۲۸ اگر تُو آج اپنے پڑوسی کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے تو اُسے کل تک نہ ٹال دینا۔ میرا پڑوسی کون ہے؟ ہر شخص جسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ 

میرے پڑوسی کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ اُسے نجات کی خوش خبری سننے کی ضرورت ہے۔

اگر روح القدس مجھے قائل کرتا ہے کہ مَیں کسی کو آج گواہی دوں‏، تو مجھے آج ہی یہ کام سر انجام دینا چاہئے۔ کبھی روح القدس کی قائلیت کا اِنکار نہ کریں۔ 

۳:‏۲۹ اپنے پڑوسی سے محبت ہمیں منع کرتی ہے کہ اُس کے خلاف بُرائی کا منصوبہ نہ بنائیں‏، کیونکہ وہ ہمارے گھر کے ساتھ بغیر شک و شبہ کے بڑے اعتماد سے سکونت کرتا ہے۔ اِس سے ہر طرح کا گھٹیا‏، طنزیہ اور ظالمانہ انتقام مسترد ہو جاتا ہے‏، جن کی بنا پر اکثر پڑوسیوں میں فضول جھگڑا ہو جاتا ہے۔ 

۳:‏۳۰ یہاں ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے غصہ دلانے والی کوئی بات ہی نہیں کی تو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کیا جائے۔ دُنیا میں تو پہلے ہی بہت جھگڑے ہو رہے ہیں۔ ہم بلاوجہ ایک اَور جھگڑے کا اضافہ نہ کریں۔

۳:‏۳۱‏،۳۲ ممکن ہے کہ تندخو شخص کو فوری کامیابی حاصل ہو۔ لیکن ہمیں اُس کی خوش حالی پر حسد نہیں کرنا چاہئے اور نہ اُس کی روِشوں کو اِختیار کرنا چاہئے۔ خداوند کج رَو شخص سے نفرت کرتا ہے‏، لیکن راست باز سے محبت کرتا ہے (‏یوحنا ۱۴:‏۲۳)‏۔

۳:‏۳۳ ہم خدا کی برکت یا اُس کی لعنت کا اِنتخاب کر سکتے ہیں۔ شریر کے گھر پر تاریکی کے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں۔ راست باز کے گھر پر خدا کی رحمت کی کرنیں پڑتی ہیں۔ 

۳:‏۳۴ ہم اُس کی نفرت یا اُس کا فضل منتخب کر سکتے ہیں۔ وہ ٹھٹھے بازوں پر ٹھٹھے مارتا لیکن فروتنوں کو فضل دیتا ہے۔ عہد جدید میں اِس آیت کا دو بار حوالہ دیا گیا ہے۔ اِس سے اِس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے (‏یعقوب ۴:‏۶؛ ۱۔پطرس ۵:‏۵)‏۔

۳:‏۳۵ بالآخر جلال اور شرمندگی میں سے اِنتخاب پیش کیا گیا ہے۔ دانا لوگوں کو جلال ملتا ہے‏، لیکن احمق ذِلت میں گرنے سے مشہور ہوتے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے ۔
۲ کیونکہ تو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کریگا۔
۳ شفقت اور سچائی تجھ سے جدانہ ہوں۔تو اُنکو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا۔
۴ یوں تو خدا اور اِنسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کریگا ۔
۵ سارے دِل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر ۔
۶ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا ۔
۷ تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔
۸ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔
۹ اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے خداوند کی تعظیم کر۔
۱۰ یُوں تیرے کھتے خوب بھرے رہینگے اور تیرے حوض نئی مے سے لبریز ہونگے ۔
۱۱ اے میرےبیٹے!خداوند کی تنبیہ کو حقیر نہ جٓاناور اُسکی ملامت سے بی نہ ہو ۔
۱۲ کیونکہ خداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے ج سے اُسے محبت ہے ۔ جیسے باپ اُس بیٹے کو جِس سے وہ خوش ہے۔
۱۳ مُبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہےاور وہ جو فہم حاصل کرتا ہے
۱۴ کیونکہ اِسکا حصول چاندی کے حصول سے اور اُسکا نفع کندن سے بہتر ہے۔
۱۵ وہ مرجٓان سے زیادہ بی بہا ہے اور تیری مرغوب چیزوں میں بے نظیر۔
۱۶ اُسکے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی ہے اور اُسکے با ہاتھ میں دولت وعزت۔
۱۷ اُسکی راہیں خوشگوار راہیں ہیں اور اُسکے سب راستے سلامتی کے ہیں۔
۱۸ جو اُسے پکڑے رہتے ہیں وہ اُنکے لئے حیات کا درخت ہےاور ہر ایک جو اُسے لئے رہتا ہے مبارک ہے۔
۱۹ خداوند نے حکمت سے زمین کی بُنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔
۲۰ اُسی کے علم سے گہراؤ کے سوتے پھوٹ نکلے اور افلاک شبنم ٹپکاتے ہیں۔
۲۱ اَے میرے بیٹے !دانائی اور تمیز کی حفاظت کر۔اُنکو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے ۔
۲۲ یوں وہ تیری جٓان کی حیات اور تیرے گلے کی زینت ہو نگی ۔
۲۳ تب تو بے کھٹکے اپنے راستہ پر چلیگا اور تیرےپاؤں کو ٹھیس نہ لگیگی۔
۲۴ جب تو لیٹیگا تو خوف نہ کھا یئگا ۔ بلکہ تو لیٹ جٓایئگا اور تیری نیند میٹھی ہو گی۔
۲۵ نا گہانی دہشت سے خوف نہ کھانااور نہ شریروں کی ہلاکت سے جب وہ آئے۔
۲۶ کیونکہ خداوند تیرا سہارا ہوگا اور تیرے پاؤں کو پھنس جٓانے سے محفوظ رکھیگا۔
۲۷ بھلائی کے حقدار سے اُسے دریغ نہ کر نا
۲۸ جب تیرے پاس دینے کو کُچھ ہو تواپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا اب جٓا ۔پھر آنا۔میں تجھے کل دُونگا ۔
۲۹ اپنے ہمسا یہ کے خلاف بُرائی کا منصوبہ نہ باندھنا ۔جِس حال کہ وہ تیرے پڑوس میں بے کھٹکے رہتا ہے۔
۳۰ اگر کسی تجھے نقصان نہ پہنچایا ہو تو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کرنا۔
۳۱ تندخو آدمی پر حسد نہ کرنا اور اُسکی کسی روش کو اختیار نہ کرنا ۔
۳۲ کیونکہ کجروسے خداوند کو نفرت ہےلیکن راستباز اُسکے محرم راز ہیں۔
۳۳ شریروں کے گھرپر خداوند کی لعنت ہے لیکن صادقوں کے مسکن پر اُسکی برکت ہے ۔
۳۴ یقیناًوہ ٹھٹھابازوں پر ٹھٹھے مارتاہے لیکن فروتنوں پر فضل کرتا ہے۔دانا جلال کے وارِث ہونگےلیکن احمقوں کی ترقی شرمندگی ہو گی ۔
۳۵