۲۰:۱ شراب اِنسان کے لئے تمسخر کا باعث ہوتی ہے۔ یہاں مفہوم یہ ہے کہ شراب نوشی کی وجہ سے اِنسان ایسی حرکتیں کرتا ہے جو اُسے مسخرہ بنا دیتی ہیں۔ وہ اُوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے ہنگامہ پیدا کرتا ہے۔ شراب نوشی کی عادت آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہے۔ پہلے پہل یہ محض محفل کے مشروب کے طور پر استعمال ہوتی ہے، پھر اِس کا استعمال بڑھنے لگتا ہے اور بڑھ کر عادت بن جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پینے والے کو شرابی کا ٹائٹل مل جاتا ہے۔ شرابی اپنی عادت سے پیچھا چھڑانے کی لاکھ کوشش کرتا ہے مگر شراب کی زنجیریں اُسے جکڑے رکھتی ہیں۔ مسیح ہر قسم کی زنجیروں سے آزاد کرتا ہے بشرطیکہ قیدی میں آزاد ہونے کی خواہش ہو۔
۲۰:۲ جب بادشاہ غصے میں آتا ہے تو ہر طرف خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ اُس کا رُعب شیر کی گرج کی مانند ہوتا ہے۔ جو کوئی بھی بادشاہ کو غصہ دلاتا ہے اپنی جان سے بدی کرتا ہے۔
ہمارے لئے رومیوں ۱۳:۴ میں اِس کا سبق ہے: ’’کیونکہ وہ (حکمران یا بادشاہ) تیری بہتری کے لئے خدا کا خادم ہے، لیکن اگر تُو بدی کرے تو ڈر کیونکہ وہ تلوار بے فائدہ لئے ہوئے نہیں اور خدا کا خادم ہے کہ اُس کے غضب کے موافق بدکار کو سزا دیتا ہے۔‘‘
۲۰:۳ ایک باعزت شخص نے مصمم ارادہ کیا ہوتا ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے سے دُور رہے گا۔ احمق کو اُس وقت تک خوشی نہیں ملتی جب تک وہ کسی سے جھگڑ نہیں لیتا۔
۲۰:۴ اسرائیل میں نومبراور دسمبر ہل چلانے کا موسم ہوتا ہے جب شمال سے ٹھنڈی ہوا چلتی ہے۔ کاہل آدمی سرد موسم کو ہل نہ چلانے کا عذر بنا لیتا ہے۔ ہل نہیں چلائے گا تو بیج کیسے بوئے گا اور بعد ازاں فصل کیسے کاٹے گا؟ وقت آنے پر وہ کھیت میں جائے گا مگر وہاں کچھ نہیں ہو گا۔
۲۰:۵ اِنسان کی سوچیں اور ارادے اکثر اُس کے باطن میں چھپے ہوتے ہیں۔ وہ خواہ مخواہ اُن کو منظرِ عام پر نہیں لاتا۔ لیکن سمجھ دار شخص جانتا ہے کہ دانش مندانہ سوالوں کے ذریعے اُنہیں کیسے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک اچھے کونسلر (صلاح کار) کو معلوم ہے کہ کسی کی ٹیڑھی یا تخریبی سوچ کو عیاں کیسے کیا جا سکتا ہے تاکہ اُن کی دُرستی کے لئے کچھ کیا جا سکے۔
۲۰:۶ وفاداری کا کھوکھلا دعویٰ کرنے والوں کا پتا چلانا اِتنا مشکل نہیں ہے، لیکن حقیقی وفادار لوگوں کو ڈھونڈ نکالنا بڑا مختلف اور مشکل ہے۔ اِس بات میں زمین آسمان کا فرق ہے کہ کوئی حقیقت میں ہے کیسا شخص اور کوئی دوسروں کو اپنے بارے میں کیا دکھانا چاہتا ہے۔
۲۰:۷ ایک راست رَو شخص دیانت داری اور ایمان داری کی زندگی گزارتا ہے۔ اُس کی اولاد کو یہی میراث ملتی ہے اور وہ اِس میراث سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
۲۰:۸ تختِ عدالت پر بیٹھا بادشاہ ہر طرح کی بُرائی کو پرکھ لیتا ہے۔ جب یسوع اپنے تختِ عدالت پر بیٹھے گا تو اُس کی آنکھیں جو آگ کے شعلوں کی مانند ہیں اِنسان کے ہر طرح کے مکرو فریب کو جان لیں گی اور وہ بُرائی کو جانچ لے گا۔
۲۰:۹ اپنی کوششوں سے کوئی بھی اپنے آپ کو گناہ سے پاک نہیں کر سکتا۔ ’’کون کہہ سکتا ہے کہ مَیں نے اپنے دل کو صاف کر لیا ہے اور مَیں اپنے گناہوں سے پاک ہو گیا ہوں؟‘‘ اگر کوئی اپنے آپ کو پاک سمجھتا ہے تو مکمل طور پر فریب کا شکار ہے۔ لیکن یسوع کے قیمتی خون سے پاک صاف ہو سکتے ہیں۔ سچے ایمان داروں نے ’’اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں‘‘ (مکاشفہ ۷:۱۴)۔
۲۰:۱۰ خدا کو دھوکے والے باٹوں اور پیمانوں سے نفرت ہے۔ اِس میں ہر طرح کی بے ایمانی کے طریقے شامل ہیں جن کے تحت کوئی دوسروں کو نقصان پہنچا کر خود کو فائدہ دیتا ہے۔ اِس میں قصاب کا انگلی سے ترازو کو ایک طرف جھکا دینا شامل ہے اور گوالے کا دودھ میں پانی ملانا اور پھر چھوٹے پیمائشی آلے سے دودھ ناپ کر دینا بھی شامل ہیں۔
۲۰:۱۱ کسی بھی شخص کی بنیادی طبیعت اُس کی زندگی کے اِبتدائی سالوں ہی میں معلوم ہو جاتی ہے۔ کچھ بچے شروع ہی سے چڑچڑے اور ضدی ہوتے ہیں جبکہ کچھ خوش مزاج۔ یہی طبیعت وہ آگے لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے میں لے جاتا ہے۔
۲۰:۱۲ ’’سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ دونوں کو خداوند نے بنایا ہے‘‘ سے کیا مراد ہے؟ مطلب یہ کہ خدا کی ملکیت ہیں اِس لئے اُنہیں اُس کے جلال کے لئے استعمال ہونا چاہئے۔
۲۰:۱۳ ہر وقت سوتا ہی نہ رہ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو کنگال ہو جائے۔ اُٹھ کام کے لئے جا اور کچھ کما تاکہ تیرے پاس کھانے کے لئے اور خدا کے کام کے لئے دینے کے لئے روپیہ ہو۔
۲۰:۱۴ یہ پرانی چیزیں خریدنے کا آزمودہ طریقہ ہے۔ جیسے ہی وہ پرانی کار پر نگاہ کرتا ہے اُس کے نقص گنوانے لگ جاتا ہے __ ’’آگے پیچھے کئی جگہوں پر ڈینٹ پڑے ہوئے ہیں، ٹائر ردّی ہو چکے ہیں، انجن آوازیں دے رہا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ بیچنے والا اتنے نقائص سن کر قیمت کم کر دیتا ہے۔ خریدار پیسے دیتا ہے اور کار لے جا کر سب کے سامنے ڈینگیں مارتا ہے کہ اُس نے کیسی چالاکی سے اِتنا اچھا سودا کیا ہے۔
۲۰:۱۵ ممکن ہے کوئی جواہر کے زیورات پہنے، لیکن سب سے قیمتی آسائش دانش مندانہ گفتگو ہے۔ اِسے پہنے رکھیں۔
۲۰:۱۶ کوئی بھی شخص جو کسی اجنبی کی مالی ضمانت دیتا ہے نہایت احمق ہے کیونکہ اُس کو نہیں معلوم کہ اِس میں کتنا خطرہ ہے۔ اگر ضامن کے ساتھ تیرا کوئی لین دین ہے تو اِس بات کا یقین کر لے کہ اُس کے پاس ضمانت کے طور پر رکھی گئی رقم یا جائیداد کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ بالفرض اگر اِس ضمانت کی وجہ سے اُس کی رقم یا جائیداد ضبط بھی ہو جائے تو تجھے تو تحفظ حاصل رہے۔ یہ نصیحت اُس وقت زیادہ اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے جب جس اجنبی کو ضمانت دی گئی ہو بدچلن کردار کا مالک ہو۔
۲۰:۱۷ بددیانتی سے کمائی گئی دولت عارضی طور پر تو خوشی و مسرت کا باعث ہو سکتی ہے، لیکن آخرکار دُکھ تکلیف پیدا کرتی ہے۔ یہ مثل انکم ٹیکس چوری کرنے، خریدوفروخت میں ہیرا پھیری کرنے، رِشوت دینے اور لینے اور غیر معیاری مصنوعات کی بڑھا چڑھا کر مشہوری کرنے والوں کی مذمت کرتی ہے۔
۲۰:۱۸ کوئی بھی منصوبہ بنانے سے پہلے خوب مشورہ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ کوئی بھی جنگی جرنیل عسکری قیادت سے مشورہ کئے بغیر جنگ کے لئے نہیں نکلتا۔
۲۰:۱۹ گپ شپ اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اِس لئے گپ شپ کرنے والوں کے ساتھ دوستی کرنا یا اپنا راز بتانا گھاٹے کا سودا ہے۔ اگر وہ آپ کے سامنے دوسروں کے خلاف بات چیت کرتا ہے تو یقیناًدوسروں کے سامنے آپ کی بھی بدگوئی کرے گا۔
۲۰:۲۰ موسیٰ کی شریعت کے تحت ماں باپ پر لعنت کرنے کی سزا موت تھی (خروج ۲۱:۱۷)۔ یہ اُن نوجوانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے جو اپنے دل میں والدین کے لئے عداوت رکھتے ہیں۔ اگر وہ دل کی اِس تلخی کو دُور نہیں کر دیتے تو یہ اُنہیں ابدی ہلاکت کی طرف لے جائے گی۔
۲۰:۲۱ مسرف بیٹے نے جلدی سے میراث کا حصہ لے لیا، لیکن اُتنی ہی جلدی سے اُس سے ہاتھ بھی دھو بیٹھا۔ یہ مثل راتوں رات امیر ہونے والی سکیموں کے لئے بھی دُرست ہے۔ دولت جتنی جلدی آتی ہے اُتنی ہی جلدی جاتی ہے۔
۲۰:۲۲ اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے کا ارادہ نہ کر۔ بدلہ لینا خداوند کا کام ہے۔ وہی تیری طرف سے بدلہ لے گا۔ تیرا کام خداوند کی آس رکھنا ہے اور وہ تجھے بچائے گا۔
۲۰:۲۳ ایڈم کلارک ریشم کے کپڑے کا کاروبار کرنے والے سوداگر کا ملازم تھا۔ سوداگر نے ایڈم کو کہا کہ کپڑے کی پیمائش ذرا کھینچ کر کیا کرو تاکہ کچھ اضافی بچت ہو سکے۔ ایڈم نے جواب دیا، ’’جناب آپ کا ریشم تو کھینچا جا سکتا ہے، مگر مَیں اپنے ضمیر کو نہیں کھینچ سکتا۔‘‘ خدا نے ایڈم کلارک کی ایمان داری کی بڑی عزت افزائی کی اور اُسے سالوں بعد بائبل مقدس کی مشہور تفسیر لکھنے کا اعزاز بخشا۔
۲۰:۲۴ یہ آیت اِنسان کی آزاد مرضی پر نہیں بلکہ خدا کے قادرِ مطلق ہونے پر زور دیتی ہے، اگرچہ اپنی اپنی جگہ پر دونوں باتیں دُرست ہیں۔ یہاں خیال یہ پایا جاتا ہے کہ خدا اِنسانی معاملات پر مکمل اختیار رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اِنسان کے لئے بہترین اِنتخاب کیا ہے۔ اِس لئے ہمیں ہدایت و راہنمائی کے لئے اُس کی طرف نظر لگانی چاہئے اور نہ اپنی قسمت آپ بنانے کی طرف دھیان دینا چاہئے اور نہ اپنی مرضی پوری کرنے کی کوشش میں ہی لگے رہنا چاہئے۔
۲۰:۲۵ ’’جلد بازی سے کسی چیز کو مقدّس ٹھہرانا اور منت ماننے کے بعد دریافت کرنا آدمی کے لئے آدمی کے لئے پھندا ہے۔‘‘ خداوند کے لئے کسی چیز کو وقف کر دینا اور پھر بعد میں نظرثانی کرنے لگ پڑنا خطرناک معاملہ ہے۔ منت ماننے سے پہلے آدمی کو پکا یقین کر لینا چاہئے کہ وہ اپنی منت پوری کر سکے گا اور کہ وہ حقیقت میں یہ منت ماننا چاہتا ہے۔
۲۰:۲۶ دانا بادشاہ شریروں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ اُن پر داؤنے کا پہیا پھرواتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اُنہیں راست بازوں سے علیٰحدہ کرتا ہے، اُن کی عدالت کرتا ہے اور سزا دیتا ہے۔
۲۰:۲۷ خداوند نے ہمیں ضمیر چراغ کے طور پر دیا ہے جو ہمارے خیالات، ارادوں، منصوبوں اور کاموں پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا کوئی ارادہ یا خیال خدا کی نظر میں مقبول ہو گا یا نہیں (دیکھئے رومیوں ۲:۱۴،۱۵)۔
۲۰:۲۸ جس بادشاہ میں شفقت اور سچائی کی خوبیاں ہیں اُس کی رعایا اُس کی عزت اور حماقت کرے گی۔ وہ اپنی شفقت کی وجہ سے اپنے منصب پر قائم رہے گا نہ کہ اپنے ظلم کے باعث۔
۲۰:۲۹ جوانوں کی عزت اُن کی جوانی کی طاقت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ بوڑھے لوگوں کے سفید بال اُن کی سمجھ داری اور تجربے کو پیش کرتے ہیں۔ ہر کلیسیا میں خدمت کے لئے زور اور دانا صلاح مشورے کے لئے بزرگ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
۲۰:۳۰ یہاں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جسمانی سزا اخلاقی بدی کو دُور کرنے کے لئے فائدہ مند ہے۔ ایک بچے پر جب ماں کے بٹوے سے پیسے چوری کرنے کی آزمائش آتی ہے تو اُسے پچھلی مار کی درد چوری کرنے سے روکتی ہے۔
مقدس کتاب
۱ مے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی اِن سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں ۔
۲ بادشاہ کا رُعب شیر کی گرج کی مانند ہے۔جو کوئی اُسے غصہ دلاتا ہے اپنی جٓان سے بدی کرتا ہے ۔
۳ جھگڑے سے الگ رہنے میں آدمی کی عزت ہے لیکن ہر ایک احمق جھگڑتا رہتا ہے
۴ کاہل آدمی جٓاڑے کے باعث ہل نہیں چلاتا اِسلئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بھیک مانگیگااور کچھ نہ پائیگا۔
۵ آدمی کے دِل کی بات گہرے پانی کی مانند ہے لیکن صاحب فہم آدمی اُسے کھینچ نکالیگا ۔
۶ اکثر لوگ اپنا اپنااِحسان ج تے ہیں لیکن وفا دار آدمی کس کو ملیگا ؟
۷ راست رو صادق کے بعد اُسکے بیٹے مُبارک ہوتے ہیں۔
۸ بادشاہ جو تخت عدالت پر بیٹھتا ہےخود دیکھ کر ہر طرح بدی کو پھٹکتا ہے۔
۹ کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنے دِل کو صاف کر لیا ہے اور میں اپنے گناہ سے پاک ہوگیا ہوں؟
۱۰ دوطرح کے باٹ اور دو طرح کے پیمانے ۔ اِن دونوں سے خداوند کو نفرت ہے۔
۱۱ بچہ بھی اپنی حرکات سے پہچانا جٓاتا ہے کہ اُسکے کام نیک وراست ہیں کہ نہیں ۔
۱۲ سُننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ دونوں کو خداوند نے بنایا ہے ۔
۱۳ خواب دوست نہ ہو ۔مبادا تو کنگال ہو جٓائے ۔اپنی آنکھیں کھول کہ تو روٹی سے سیر ہوگا۔
۱۴ خریدار کہتا ہے ردی !لیکن جب چل پڑتا ہے تو فخر کرتا ہے۔
۱۵ زرومرجٓان کی کثرت ہے لیکن بی یش بہا سرمایہ علم والے ہونٹ ہیں ۔
۱۶ جو بغیانہ کا ضامن ہو اُسکے کپڑے چھین لے اور جو اجنبی کا ضامن ہو اُس سے کچھ گرورکھ لے۔
۱۷ دغا کی روٹی آدمی کو میٹھی لگتی ہے لیکن آخر کو اُسکا منہ کنکروں سے بھر جٓاتا ہے۔
۱۸ ہر ایک کام مشورہ سے ٹھیک ہوتا ہے اور تو نیک صلاح لیکر جنگ کر۔
۱۹ جو کوئی لتراپن کرتا پھرتا ہے راز فاش کرتا ہے اِسلئے تو منہ پھٹ سے کچھ واسطہ نہ رکھ ۔
۲۰ جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرتا ہے اُسکا چراغ گہری تاریکی میں بجھایا جٓایئگا ۔
۲۱ اگرچہ ابتدا میں میراث یک لخت حاصل ہو تو بھی اُسکا انجام مبارک نہ ہوگا۔
۲۲ تو یہ نہ کہنا کہ میں بدی کا بدلہ لونگا۔خداوندکی آس رکھ اور وہ تجھے بچایئگا۔
۲۳ دو طرح کے باٹ سے خداوند کو نفرت ہے اور دغا کے ترازو ٹھیک نہیں ۔
۲۴ آدمی کی رفتار خداوند کی طرف سے ہے ۔پس اِنسان اپنی راہ کو کیونکر جٓان سکتا ہے؟
۲۵ جلد بازی سے کسی چیز کو مقدس ٹھہرانا اورمنت ماننے کے بعد دریافت کرنا آدمی کے لئے پھندا ہے ۔
۲۶ دانا بادشاہ شریروں کو پھٹکتا ہے اور اُن پر داو نے پہیا پھرواتا ہے۔
۲۷ آدمی کا ضمیر خداوند کا چراغ ہے جو اُسکے تمام اندرونی حال کو دریافت کرتا ہے۔
۲۸ شفقت اور سچائی بادشاہ کی نگہبان ہیں بلکہ شفقت ہی سے اُسکا تخت قائم رہتا ہے۔
۲۹ جوانوں کا زور اُنکی شوکت ہے اور بوڑھوں کے سفید بال اُنکی زینت ہیں۔
۳۰ کوڑوں کے زخم سے بدی دُور ہوتی ہے اور مارکھانے سے دِل صاف ہوتا ہے۔