استثنا ۶

ب۔ نافرمانی کے بارے میں اِنتباہ (‏باب ۶)‏

۶:‏۱۔۹ خداوند کی خواہش تھی کہ جب اُس کے لوگ موعودہ ملک میں پہنچیں تو اُن کی اخلاقی حالت اچھی ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ اُس ملک سے لطف اندوز ہونے کے لئے وہ ایک فرمان بردار قوم ہو۔ اِس لئے اُس نے کنعان میں زندگی بسر کرنے کے لئے اُنہیں مناسب ہدایات دیں (‏آیات ۱‏،۲)‏۔ بنی اِسرائیل کو حق کی گواہی دینا تھی کہ خدا ہی واحد حقیقی خدا ہے (‏آیات ۳‏،۴)‏۔ لازم تھا کہ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت رکھیں اور اُس کے کلام پر عمل کریں (‏آیات ۵‏،۶)‏۔ ضرور تھا کہ وہ بڑی جاں فشانی سے اپنے بچوں کو تعلیم دیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اُن کی راہنمائی کریں۔ 

مسیح کے ایام میں یہودی شریعت کے حصوں کو اپنے ہاتھوں اور پیشانیوں پر آنکھوں کے درمیان باندھتے تھے (‏آیت ۸)‏۔ لیکن خداوند چاہتا تھا کہ شریعت اُن کے اعمال (‏ہاتھوں)‏ اور خواہشات (‏آنکھوں)‏ کو کنٹرول کرے۔

آیات ۴:‏۹ کو ’’شماع‘‘ (‏سننا)‏ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ پُرخلوص یہودی اِس کا ۱۱:‏۱۳۔۲۱ اور گنتی ۱۵:‏۳۷۔۴۱ کے ساتھ ہر روز عقیدے کے طور پر وِرد کرتے تھے۔ آیت ۴ میں عبرانی لفظ ’’ایک‘‘ عہد جدید کے کامل مکاشفے کی روشنی میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ یہوواہ خداوند کی وحدانیت پر زور دیتا ہے۔ الوہیم (‏خدا)‏ اُس کے تین اقانیم کو ظاہر کرتا ہے۔ اتحاد میں تثلیث کے یہی پُراسرار اِشارات بائبل کی پہلی آیت میں نظر آتے ہیں‏، جہاں ’’الوہیم‘‘ کے بعد واحد فعل آتا ہے‏، اور پیدائش ۱:‏۲۶ میں جہاں جمع اسما ’’ہم‘‘ اور ’’اپنی‘‘ کے بعد واحد اسما ’’شبیہ‘‘ اور ’’صورت‘‘ استعمال کئے گئے ہیں۔

۶:‏۱۰۔۱۵ جب لوگ ملکِ موعود میں داخل ہو کر اُس کی خوش حالی سے لطف اندوز ہوں گے تو خطرہ تھا کہ وہ خدائے واحد کو بھول جائیں گے جس نے اُنہیں شریعت دی اور دوسرے معبودوں کی طرف رجوع کرنے لگیں گے۔ شریعت کی تعمیل خدا کی حمایت کو حاصل کرنے کا ذریعہ نہ تھا بلکہ یہ اُس کے ساتھ اِظہارِ محبت کا طریق تھا۔ بائبلی محبت پُرجوش جذبات پر مبنی نہیں بلکہ یہ خدا کی اِنکشاف شدہ مرضی سے ہم آہنگی کا نام ہے۔ ہماری بھلائی کے لئے محبت اِختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے۔ اگر لوگ نافرمانی سے اُس کے عہد کو توڑیں گے تو اُس کی غیرت (‏اپنے جلال کی غیرت)‏ اُنہیں فنا کر دے گی۔

۶:‏۱۶ جب آزمانے والے نے خداوند یسوع سے یہ کہا کہ وہ اپنے آپ کو ہیکل کے کنگُرے پر سے گرا دے تو خداوند نے متی ۴:‏۷ اور لوقا ۴:‏۱۲ میں اِس آیت کا حوالہ دیا۔ مسہ کے مقام پر پینے کے لئے کافی پانی نہ تھا۔ لوگوں نے سوال کیا کہ آیا یہوواہ اُن کے ساتھ ہے بھی یا نہیں (‏خروج۱۷باب)‏۔ خدا کی نگہداشت اور بھلائی پر شک کرنا اُسے آزمانا ہے۔

۶:‏۱۷۔۲۵ فرماں برداری اِسرائیل کے دشمنوں پر اُنہیں فتح بخشے گی (‏آیات ۱۷۔۱۹)‏۔ آئندہ نسلوں کو یہ تعلیم دینا تھا کہ خدا نے اُنہیں مصر کی غلامی سے مخلصی دلائی اور اُن کی بھلائی اور برکت کے لئے اُنہیں شریعت دی (‏آیات ۲۰۔۲۵)‏۔ آیت ۲۵ کا رومیوں ۳:‏۲۱‏،۲۲ سے موازنہ کیجئے۔ شریعت کہتی ہے ’’اگر ہم احتیاط رکھیں … حکموں کو مانیں‘‘ فضل کہتا ہے‏، ’’سب ایمان لانے والوں کو۔‘‘ نئے عہد کے ایمان دار اُس راست بازی سے ملبس ہیں جس پر شریعت کی بنیاد ہے یعنی خدا کی راست بازی پر (‏۲۔کرنتھیوں ۵:‏۲۱)‏‏، اور یہ اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ ایمان کے ذریعے حاصل ہوتی ہے (‏رومیوں ۴:‏۵)‏۔

مقدس کتاب

۱ یہ وہ فرماناور آئین اور احکام ہیں جنکو خداوند تمہارے خدا نے تُمکو سکھانے کا حکم دیا ہے تاکہ تُم اُن پر اُس مُلک میں عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کے لیے پار جانے کو ہو ۔
۲ اور تُو اپنے بیٹوں اور پوتوں سمیت خداوند اپنے خدا کا خوف مانکر اُسکے تمام آئین اور احکام پر جو میں تُجھ کو بتاتا ہوں زندگی بھر عمل کرنا تاکہ تیری عمر دراز ہو ۔
۳ اِس لیے اے اسرائیل ! سُن اور احتیاط کر کے اُن پر عمل کر تاکہ تیرا بھلا ہو اور تُم خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے وعدہ کے مطابق اُس مُلک میں جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے نہایت بڑھ جاو۔
۴ سُن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ۔
۵ تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ ۔
۶ اور یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں ۔
۷ اور تُو اِنکو اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِنکا ذکر کیا کرنا ۔
۸ اور تُو نشان کے طور پر اِنکو اپنے ہاتھ پر باندھنا اوروہ تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں ۔
۹ اور تُو اُنکو اپنے گھر کی چوکھٹوں اور اپنے پھاٹکوں پر لکھنا ۔
۱۰ اور جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اُس ملک میں پہنچائے جسے تجھ کو دینے کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعوعب سے کھائی اور جب وہ تُجھ کو بڑے بڑے اور اچھے شہر جنکو تُو نے نہیں بنایا ۔
۱۱ اور اچھی اچھی چیزوں سے بھرے ہوئے گھر جنکو تُو نے نہیں بھرا اور کھودے کھُدائے حوض جو تُو نے نہیں کھودے اور انگو ر کے باغ اور زیتون کے درخت جو تُو نے نہیں لگائے عنایت کرے اور تُو کھائے اور سیر ہو ۔
۱۲ تو تُو ہوشیار رہنا یا ایسا نہ ہو کہ تُو خداوند کو جو تجھ کو ملک ِ مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا بھول جائے ۔
۱۳ تو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اُسی کی عبادت کرنا اور اُسکے نام کی قسم کھانا ۔
۱۴ تُم اور معبودوں کی یعنی اُن قوموں کے معبودوں کی جو تمہارے آس پاس رہتی ہیں پیروی نہ کرنا ۔
۱۵ کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تیرے درمیان ہے غیور خدا ہے ۔ سو ایسا نہ ہو کہ خداوند تیرے خدا کا غضب تجھ پر بھڑکے اور وہ تُجھ کو رویِ زمین پر سے فنا ک دے ۔
۱۶ تُم خداوند اپنے خدا کو مت آزمانا جیسا تُم نے اُسے مسہ میں آزمایا تھا ۔ (۱۷ تُم جانفشانی سے خداوند اپنے خدا کے حکموں اور شہادتوں اور آئین کو جو اُس نے تُجھ کو فرمائے ہیں ماننا ۔
۱۷
۱۸ اور تُو سہی کرنا جو خداوند کی نظر میں درست اور اچھا ہے تاکہ تیرا بھلا ہو اور جس اچھے مُلک کی باب نمبرت خداوند نے تیرے باپ دادا سے قسم کھائی تُو اُس میں داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر سکے ۔
۱۹ اور خداوند تیرے سب دُشمنوں کو تیرے آگے سے دفع کرے جیسا اُس نے کہا ہے ۔
۲۰ اور جب آءندہ زمانہ میں تیرے بیٹے تُجھ سے سوال کریں کہ جن شہادتوں اور آئین اور فرمان کے ماننے کا حکم خداوند ہمارے خدا نے تُمکو دیا ہے اُنکا مطلب کیا ہے ؟
۲۱ تو تُو اپنے بیٹوں کو یہ جواب دینا کہ جب ہم مصر میں فرعون کے غلام تھے تو خداوند اپنے زور آور ہاتھ سے ہمکو مصر سے نکال لایا ۔
۲۲ اور خداوند نے بڑے بڑے اور ہولناک عجائب و نشان ہمارے سامنے اہلِ مصر اور فرعون اور اُس کے سب گھرانے پر کر کے دکھائے ۔
۲۳ اور ہمکو وہاں سے نکال لایا تاکہ ہم کو اِس ملک میں جسے ہمکو دینے کی قسم اُس نے ہمارے باپ دادا سے کھائی پہنچائے ۔
۲۴ سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
۲۵ اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔