۱۰:۱۔ ۵ اِس پارے میں دوسری بار شریعت کے دیئے جانے اور عہد کے صندوق میں دو لوحوں کے رکھنے کا ذِکر ہے۔ آیت ۳ کا یہ مطلب نہیں کہ موسیٰ نے شخصی طور پر عہد کے صندوق کو بنایا بلکہ اُس نے اِس کو بنوایا۔ ہم اکثر کسی شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ اُس نے فلاں کام کیا، حالانکہ اُس نے وہ کام کرنے کا حکم دیا۔
۱۰:۶۔۹ آیات ۶ اور ۷ میں ایک اچانک تبدیلی ہے۔ درحقیقت یہ تفصیلی جملے ہیں، جو اُن واقعات کو بیان کرتے ہیں جو مابعد رُونما ہوئے۔ وہ قاری کو ہارون کی موت تک کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
موسیرہ غالباً ایک ضلع تھا جہاں کوہِ ہور واقع تھا کیونکہ یہی وہ پہاڑ ہے جہاں ہارون نے وفات پائی (گنتی ۲۰:۲۵۔۲۸)۔ آج کل موسیرہ کا صحیح محلِ وقوع معلوم کرنا مشکل ہے۔ شاید ہارون کی موت کے ذکر سے موسیٰ کو کہانت کے بارے میں سوچنا پڑا اور اُس نے لاوی کے قبیلے کو کہانتی قبیلے کے طور پر چنا (آیات ۸،۹)۔ آیت ۸ میں سہ گونہ کہانتی اُمور کا ذکر کیا گیا ہے:
- عہد کے صندوق کو اُٹھانا؛
- خداوند کے حضور کھڑے ہو کر اُس کی خدمت کو انجام دینا؛
- اُس کے نام سے برکت دینا۔ جو نسل کنعان میں داخل ہونے کو تھی، اُس کے لئے کہانت سے متعلق ہدایات بہت اہم تھیں۔
۱۰:۱۰،۱۱ موسیٰ نے ایک بار پھر اُنہیں یاد دلایا کہ وہ دوسری بار چالیس دن اور چالیس رات تک اُن کی شفاعت کے لئے کوہِ سینا پر ٹھہرا۔ خدا نے اُس کی شفاعت کو سنا، اُنہیں سزا نہ دی اور اُنہیں بتایا کہ وہ جائیں اور مُلک پر قبضہ کریں۔
۱۰:۱۲۔۲۲ یہوواہ کی اپنے لوگوں کے بارے میں خواہش کا اِن الفاظ میں خلاصہ بیان کیا گیا ہے: ’’خوف مانے … چلے … محبت رکھے … بندگی کرے … عمل کرے‘‘ (آیت ۱۳ ب)۔ موسیٰ نے خدا کی اپنی عظمت (آیت ۱۴)، اپنی برگزیدہ قوم بنی اِسرائیل کے مطلق العنان اِنتخاب (آیت ۱۵)، اپنی صداقت اور اِنصاف (آیات ۱۷۔۲۰) اور ماضی میں قوم کے لئے اپنی مہربانیوں (آیات ۲۱،۲۲) کی بنا پر اُن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خدا کی فرماں برداری کریں۔ ایک مختون دل (آیت ۱۶) ہی خدا کی فرماں برداری کر سکتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ باب نمبر ۱۰ اُس وقت خداوند نے مجھ سے کہا کہ پہلی لوحوں کی مانند پتھر کی دو اور لوحیں تراش لے اور میرے پاس پہاڑ پر آ جا اور ایک چوبی صندوق بھی بنا لے ۔
۲ اور جو باتیں پہلی لوحوں پر جنکو تُو نے توڑ دالا لکھی تھیں وہی میں اِن لوحوں پر بھی لکھ دونگا ۔ پھر تُو اِنکو اُس صندوق میں دھر دینا ۔
۳ سو میں نے کیکر کی لکڑی کا ایک صندوق بنایا اور پہلی لوحوں کی مانند پتھر کی دو لوحیں تراش لیں اور اُن دونوں لوحوں کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گیا ۔
۴ او ر جو دس حکم خداوند نے مجمع کے دن پہاڑ پر آگ کے بیچ میں دے تمکو دئے تھے اُن ہی کو پہلی تحریر کے مطابق اُس نے اِن لوحوں پر لکھ دیا ۔ پھر اِن کو خداوند نے میرے سپرد کیا ۔
۵ تب میں پہاڑ سے لوٹ کر نیچے آیا اور اِن لوحوں کو اُس صندوق میں جو میں نے بنایا تھا دھر دیا اور خداوند کے حکم کے مطابق جو اُس نے مجھے دیا تھا وہ وہیں رکھی ہوئی ہیں ۔
۶ ( پھر بنی اسرائیل بیروت بنی یعقان سے روانہ ہو کر موسیرہ میں آئے ۔ وہیں ہارون نے رحلت کی اور دفن بھی ہوا اور اُسکا بیٹا الیعزر کہانت ک منصب پر مقرر ہو کر اُس کی جگہ خدمت کرنے لگا ۔
۷ وہاں سے وہ جد جودہ کو اور جد جودہ سے یوطبات کو چلے ۔ اِس ملک میں پانی کی ندیاں ہیں ۔
۸ اُسی موقع پر خداوند نے لاوی کے قبیلہ کو اِس غرض سے الگ کیا کہ وہ خداوند کے عہد کے صندوق کو اُٹھایا کرے اور خداوند کے حضور کھڑا ہو کر اُس کی خدمت کو انجام دے اور اُس کے نام سے برکت دیا کرے جیسا آج تک ہوتا ہے ۔
۹ اِسی لیے لاوی کو کوئی حصہ یا میراث اُسکے بھائیوں کے ساتھ نہیں ملی کیونکہ خداوند اُس کی میراث جیسا خود خداوند تیرے خدا نے اُس سے کہا ہے )
۱۰ اور میں پہلے کی طرح چالیس دن اور چالیس رات پہاڑ پر ٹھہرا رہا اور اِس دفعہ بھی خداوند نے میری سُنی اور نہ چاہا کہ تجھ کو ہلاک کرے ۔
۱۱ پھر خداوند نے مجھ سے کہا اُٹھ اور اِن لوگوں کے آگے روانہ ہو تاکہ یہ اُس مُلک پر جا کر قبضہ کر لیں جسے اُنکو دینے کی قسم میں نے اُنکے باپ دادا سے کھائی تھی ۔
۱۲ پس اے اسرائیل ! خداوند تیرا خدا تجھ سے اِس کے سِوا اور کیا چاہتا ہے کہ تُو خداوند اپنے خدا کا خوف مانے اور اُسکی سب راہوں پر چلے اور اُسے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی بندگی کرے ۔
۱۳ اور خداوند کے جو احکام اور آئین میں تجھ کو آج بتاتا ہوں اُن پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو ؟
۱۴ دیکھ آسمان اور آسمانوں کا آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے ۔
۱۵ تو بھی خداوند نے تیرے باپ دادا سے خوش ہو کر اُن سے محبت کی اور اُنکے بعد اُنکی اولادکو یعنی تمکو سب قوموں میں سے برگزیدہ کیا جیسا آج کے دن ظاہر ہے ۔
۱۶ اِس لیے اپنے دلوں کا ختنہ کرو اور آگے کو گردن کش نہ رہو ۔
۱۷ کیونکہ خداوند تمہارا خدا الہوں کا الہٰ خداوندوں کا خدا ہے ۔ وہ بزرگوار اور قادر اور مہیب خدا ہے جو رورعایت نہیں کرتا اور نہ رشوت لیتا ہے ۔
۱۸ وہ یتیموں اور بیوواں کا انصاف کرتا ہے اور پردیسی سے ایسی محبت رکھتاہے کہ اُسے کھانا اور کپڑا دیتا ہے ۔
۱۹ سو تُم پردیسیوں سے محبت رکھنا کیونکہ تُم بھی ملک ِ مصر میں پردیسی تھے ۔
۲۰ تُو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا ۔ اُسکی بندگی کرنا اور اُس سے لپٹے رہنا اور اُس کے نام کی قسم کھانا ۔
۲۱ وہی تیر ی حمد کا سزاوار ہے اور وہی تیرا خدا ہے جس نے تیرے لیے وہ بڑے اور ہولناک کام کئے جنکو تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
۲۲ تیرے باپ دادا جب مصر میں گئے تو ستر آدمی تھے پر اب خداوند تیرے خدا نے تجھ کو بڑھا کر آسمان کے ستاروں کی مانند کر دیا ہے ۔