م۔ کاہن، لاوی اور نبی (باب۱۸)
۱۸:۱۔۸ یہاں پر ہم پھر دیکھتے ہیں کہ خدا کاہنوں اور لاویوں کی فکر کرتا ہے۔ کیونکہ اُن کے قبیلے کو ملک سے حصہ نہ دیا گیا تھا، اِس لئے لوگ اُن کی مالی مدد کرتے تھے۔ قربانیوں میں سے شانہ ، کنپٹیاں اور جھوجھ اور اناج، مے، تیل اور اُون میں سے پہلے پھل اُن کا حصہ ہوتا تھا۔ آیات ۶۔۸ میں ایک ایسے لاوی کا بیان ہے جو اپنے گھر کو بیچ کر ایسی جگہ جا کر جہاں خدا نے اپنا نام قائم کیا ہو خدمت کرنا چاہتا ہو۔ وہ دوسرے ہم خدمت لاویوں کو اپنے نذرانوں میں شریک کرے، اور یہ اُس کے علاوہ تھا جو کچھ اُس نے اپنی میراث کی فروخت سے وصول کیا تھا (لاویوں کو گو قبائلی ملکیت میں کوئی میراث نہ ملی تھی، وہ جائیداد کے وارث بن سکتے تھے)۔
۱۸:۹۔۱۴ بنی اِسرائیل کو منع کیا گیا کہ وہ کسی ایسے شخص سے تعلق نہ رکھیں جو نادیدنی دُنیا سے رابطہ رکھنے کا دعویٰ کرتا ہو۔ رُوحوں کی دُنیا سے تعلق قائم کرنے کے آٹھ ذرائع دیئے گئے ہیں۔ خداوند اُنہیں مکروہ کام کہتا ہے۔ اُن میں یہ لوگ شامل ہیں جو فال گیری کرتے ہیں (جادو گر)۔ شگون نکالنے والا (غیب بین یا جھوٹا نبی)، افسوں گر (ہاتھ دیکھنے والا، قسمت بتانے والا، یا نجومی)، جادو گر (کالا علم جاننے والا)، منتر پڑھنے سے جادوگری کرنے والا، جنات کا آشنا (رُوحوں اور اِنسان کے درمیان رابطہ کرانے والا)، رمّال … ساحر جو مُردوں کو بلاتا ہے۔ اِن میں بعض ایک کام ملتے جلتے ہیں۔
المیہ تو یہ ہے کہ ۳۴۰۰ سال پہلے منع کئے ہوئے کاموں کو دَورِ حاضر کے منور ایام میں بھی منع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہنری۔ جی۔ بوش (Bosch)لکھتا ہے:
’’شیاطین پرستی، بدروحیں، جادو گری، شعبدہ بازی نہیں بلکہ پُراسرار اور شرانگیز حقیقتیں ہیں۔ اِس دَور میں جادُوگری، علمِ نجوم اور جادو گری کی دیگر اَقسام کا وسیع سطح پر استعمال ہو رہا ہے۔ ہزاروں لوگ ہر روز اپنی قسمت کا زائچہ دیکھتے ہیں۔ رُوحوں سے باتیں کرنے والوں کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور اپنے مرحوم عزیزوں سے باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ بائبل بار بار ایسے کاموں سے منع کرتی ہے (احبار ۱۹:۳۱؛ ۲۰:۲۷؛ ۲۔تواریخ ۳۳:۶؛ یرمیاہ ۱۰:۲؛ گلتیوں۵:۱۹،۲۰)۔
بائبل کا اِنتباہ دورِ حاضر میں بھی کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ہم کسی ایسے کام کے مرتکب نہ ہوں جو ہماری موت کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘
اِن ممنوعہ رابطوں کے سلسلے میں کامل رہنے کا مطلب ہے کہ صرف اور صرف خدا کی آواز کو سنا جائے۔
۱۸:۱۶۔۱۹ جادوگری کے راہنماؤں کی بُرائیوں کے مقابلے میں آیت ۱۵ میں مسیح یعنی خدا کے حقیقی نبی کے بارے میں ایک خوبصورت پیش گوئی بیان کی گئی ہے (اعمال ۳:۲۲،۲۳)۔ آیات ۱۵،۱۸ اور ۱۹ میں بیان ملاحظہ فرمایئے
- ایک نبی __ یعنی وہ جو خدا کا کلام پیش کرتا ہے،
- تیرے ہی درمیان سے __ یعنی بالکل حقیقی اِنسان
- تیرے بھائیوں میں سے __ یعنی اِسرائیلی،
- میری مانند __ یعنی جسے موسیٰ کی طرح خدا برپا کرے گا،
- مَیں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا __ اِلہام کا کمال،
- اور جو کچھ مَیں اُسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا __ اِلہام کی معموری،
- سب اُس کی باتوں کو سننے اور اُس پر عمل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
اِس حصے میں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ یہ نبی خدا اور اِنسان کے مابین درمیانی ہو گا۔ کوہِ سینا پر لوگ اِس قدر خوف زدہ تھے کہ اُنہوں نے درخواست کی کہ خدا آئندہ ہم سے براہِ راست کلام نہ کرے، ہم آئندہ آگ نہ دیکھیں کہ کہیں ہم مر نہ جائیں۔ اُن کی درخواست کے جواب میں خدا نے وعدہ کیا کہ وہ مسیح کو درمیانی کی حیثیت سے بھیجے گا۔ یہ آیات یہودیوں میں مسیح کی آمد کی اُمید کے سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ اناجیل میں اِسے واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں (یوحنا ۶:۱۴؛ ۷:۴۰)۔
۱۸:۲۰۔۲۲ جھوٹے نبیوں کے بارے میں مختلف طریقوں سے پتا چلایا جا سکتا ہے۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ جو حقیقی خدا کی پرستش سے گمراہ کریں وہ جھوٹے نبی ہیں (۱۳:۱۔۵)۔ یہاں کھوج لگانے کا ایک اَور طریقہ ہے، اگر اُس کی کوئی پیش گوئی پوری نہیں ہوتی تو نبی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے، اور کسی کو اُس پر لعنت کرنے کے لئے خائف نہیں ہونا چاہئے۔
مقدس کتاب
۱ لاوی کاہنوں یعنی لاوی کے قبیلہ کا کوئی حصہ اور میراث اسرائیل کے ساتھ نہ ہو ۔ وہ خداوند کی آتشین قُربانیاں اور اُسکی کی میراث کھایا کریں ۔
۲ اِس لیے اُنکے بھائیوں کے ساتھ اُنکو میراث نہ مِلے۔ خداوند اُنکی میراث جیسا اُس نے خو د اُن سے کہا ہے ۔
۳ اور جو لوگ گائے بیل یا بھیڑ یا بکری کی قُربانی گذرانتے ہیں اُنکی طرف سے کاہنوں کا یہ حق ہو گا کہ وہ کاہن کو شانہ اور کنپٹیاں اور جھوجھ دیں ۔
۴ اور تُو اپنے اناج اور مَے اور تیل کے پہلے پھل میں سے اور اپنی بھیڑوں کے بال میں سے جو پہلی دفعہ کترے جائیں اُسے دینا ۔
۵ کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُسکو تیرے سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے تاکہ وہ اور اُسکی اولاد ہمیشہ خداوند کے نام سے خدمت کے لیے حاضر رہیں ۔
۶ او ر تیری جو بستیاں سب اسرائیلوں میں ہیں اُن میں سے اگر کوئی لاوی کسی بستی سے جہاں وہ بود و باش کرتا تھا آئے اور اپنے دل کی پوری رغبت سے اُس جگہ حاضر ہو جسکو خداوند چُنے گا ۔
۷ تو اپنے سب لاوی بھائیوں کی طرح جو وہاں خداوند کے حضور کھڑے رہتے ہیں وہ بھی خداوند اپنے خدا کے نام سے خدمت کرے ۔
۸ اور اُن سب کو کھانے کو برابر حصہ مِلے ۔ سوا اُس دام کے جو اُسکے باپ دادا کی میراث بیچنے سے اُسے حاصل ہو ۔
۹ جب تُو اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا ۔
۱۰ تجھ میں ہر گز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادو گر ۔
۱۱ یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمال یا ساحر ہو ۔
۱۲ کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند کے نزدیک مکروہ ہیں اور اِن ہی مکروہات کے سبب سے خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے سامنے سے نکالنے پر ہے ۔
۱۳ تو خداوند اپنے خدا کے حضور کامل رہنا ۔
۱۴ کیونکہ وہ قومیں جنکا تُو وارث ہو گا شگون نکالنے والوں اور فالگیروں کی سُنتی ہیں پر تُجھ کو خداوند تیرے خدا نے ایسا کرنے نہ دیا ۔
۱۵ خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُسکی سُننا ۔
۱۶ یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہو گا جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاوں ۔
۱۷ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔
۱۸ میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
۱۹ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا ۔
۲۰ لیکن جو نبی گستا خ بنکر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔
۲۱ اور اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہنچانیں ؟
۲۲ تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔