ن۔ جرائم کے بارے میں قوانین (باب۱۹)
۱۹:۱۔۱۰ دریائے یردن کے مشرق میں پہلے ہی پناہ کے تین شہر مقرر کئے جا چکے تھے۔ یہاں موسیٰ نے لوگوں کو پہلے ہی یاد دِلا دیا تھا کہ دوسری طرف بھی تین شہر مخصوص کر دیئے جائیں، اور اُن کا محلِ وقوع اِس قدر آسان ہو کہ قاتل خون کا اِنتقام لینے والے سے بھاگ کر اُن میں پناہ لے سکے (آیات ۱۔۷)۔ اِس موضوع پر گذشتہ ہدایات میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ جس علاقے کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا اگر وہ اُس پر پوری طرح قابض ہو جائیں، تو اُس میں پناہ کے تین مزید شہروں کی سہولت دی جائے گی۔ اِن تین زائد شہروں کا مزید ذکر موجود نہیں کیونکہ پیدائش ۱۵:۸ میں موعودہ علاقے پر بنی اِسرائیل کبھی بھی پوری طرح قابض نہیں ہوئے تھے۔ یردن کے مغرب میں قادِس، حبرون اور سکم پناہ کے شہر تھے (یشوع ۲۰:۷)۔
۱۹:۱۱۔۱۳ پناہ کے شہروں میں قاتل کے لئے تحفظ کی گنجائش نہیں تھی۔ اگر وہ اِن شہروں میں بھاگ بھی جاتا تو بزرگ شہادت کی روشنی میں اگر وہ مجرم ٹھہرتا تو اُسے اِنتقام لینے والے کے حوالے کر دیتے۔
۱۹:۱۴ کسی کی زمین میں حد کا نشان ظاہر کرنے کے لئے کھیت میں ایک پتھر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اُسے رات کے وقت چپکے سے اپنے کھیت کو وسیع کرنے کی خاطر ہٹایا جا سکتا تھا، یوں اپنے ہمسائے کو فریب دیا جا سکتا تھا۔ اِس آیت کو اِس پارے کے عین درمیان میں کیوں لکھا گیا جس میں عدالتی کارروائی کا بیان کیا گیا ہے، مثلاً پناہ کے شہر اور سچی اور جھوٹی گواہی وغیرہ؟ یہ بتانا مشکل ہے لیکن اِس سے اِس کی تعلیم میں ابہام پیدا نہیں ہوتا۔
۱۹:۱۵۔۲۱ کسی مقدمے میں کسی ایک شخص کی گواہی کافی نہیں تھی۔ دو یا تین گواہوں کی ضرورت تھی۔ جھوٹے گواہ پر کاہنوں اور قاضیوں کے رُوبرو مقدمہ چلایا جاتا (۱۷:۸،۹) اور اُسے اُسی جرم کی سزا دی جاتی جس کا مدعا علیہ پر الزام لگایا جاتا تھا۔
’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ اور ’’دانت کے بدلے دانت‘‘ کو قانونِ اِنتقام کا نام دیا جاتا تھا۔ اِسے اِنتقامی کہنے سے عموماً اِس کی غلط تشریح کی گئی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ قانون ظلم کے لئے لائسنس نہیں ہے، بلکہ یہ ظلم کے لئے حد مقرر کرتا ہے۔ سیاق و سباق میں اِس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جھوٹے گواہ کو کس قسم کی سزا دینی چاہئے۔
مقدس کتاب
۱ جب خداوند تیرا خدا اُن قوموں کو جنکا ملک خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے کاٹ ڈاے اور تُو اُنکی جگہ اُنکے شہروں اور گھروں میں رہنے لگے ۔
۲ تو تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تین شہر اپنے لیے الگ کر لینا ۔
۳ اور تُو ایک راستہ بھی اپنے لیے تیار کرنا اور اپنے اُس ملک کی زمین کو جس پر خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ دلاتا ہے تین حصے کرنا تاکہ ہر ایک خونی وہیں بھاگ جائے ۔
۴ اور اپس خونی کا جو وہاں بھاگ کر اپنی جان بچائے حال یہ ہو کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کو نادانستہ اور بغیر اُس سے قدیمی عداوت رکھے مار ڈالا ہو ۔
۵ مثلا کوئی شخص اپنے ہمسایہ کے ساتھ لکڑیاں کاٹنے کو جنگل میں جائے اور کُلہاڑا ہاتھ میں اُٹھائے تاکہ درخت کاٹے اور کُلہاڑا دستے سے نکل کر اُس کے ہمسایہ کے جا لگے اور وہ مر جائے تو وہ اِن شہروں میں سے کسی میں بھاگ کر جیتا بچے ۔
۶ تا ایسا نہ ہو کہ راستہ کی لمبائی کے سبب سے خون کا انتقام لینے والا اپنے جوش غضب میں خونی کا پیچھا کر کے اُسکو جا پکڑے اور اُسے قتل کرے حالانکہ وہ واجب القتل نہیں کیونکہ اُسے مقتول سے قدیمی عداوت نہ تھی ۔
۷ اِس لیے میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ تُو اپنے لیے تین شہر الگ کر دینا ۔
۸ اور اگر خداوند تیرا خدا اُس قسم کے مطابق جو اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی تیری سر حد کو بڑھا کر وہ سب ملک جسکے دینے کا وعدہ اُس نے تیرے باپ دادا سے کیا تھا تجھ کو دے ۔
۹ اور تُو اِن سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں دھیان کر کے عمل کرے اور خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور ہمیشہ اُسکی راہوں پر چلے تو اِن تین شہروں کے علاوہ تین شہر اور اپنے لیے الگ کر دینا ۔
۱۰ تاکہ تیرے مُلک ک بیچ جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو میراث میں دیتا ہے بے گناہ کا خون بہایا نہ جائے اور وہ خون یوں تیری گردن پر ہو۔
۱۱ لیکن اگر کوئی شخس اپنے ہمسایہ سے عداوت رکھتا ہوا اُسکی گھات میں لگے اور اُس پر حملہ کر کے اُسے ایسا مرے کہ وہ مر جائے اور وہ خود اُن شہروں میں سے کسی میں بھاگ جائے ۔
۱۲ تو اُسکے شہر کے بزرگ لوگوں کو بھیج کر اُسے وہاں سے پکڑوا منگوائیں اور اُسکو خدن کے انتقام لینے والے کے ہاتھ میں حوالہ کیں تاکہ وہ قتل ہو ۔
۱۳ تجھ کو اُس پر ذرا ترس نہ آئے بلکہ تُو اِس طرح بے گناہ کے خون کو اسرائیل سے دفع کرنا تاکہ تیرا بھلا ہو۔
۱۴ تو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے اپنے ہمسایہ کی خد کا نشان جسکو اگلے لوگوں نے تیری میراث کے حصہ میں ٹھہرایا ہو مت ہٹانا ۔
۱۵ کسی شخس کے خلاف اُسکی کسی بدکاری یا گناہ کے بارے میں جو اُس سے سرزد ہو ایک ہی گواہ بس نہیں بلکہ دو گواہوں یا تین گواہوں کے کہنے سے با ت پکی سمجھی جائے ۔
۱۶ اگر کوئی جھوٹا گواہ اُتھ کر کسی آدمی کی بدی کی نسبت گواہی دے ۔
۱۷ تو وہ دونوں آدمی جنکے بیچ یہ جھگڑا ہو خداوند کے حضور کاہنوں اور اُن دنوں کے قاضیوں کے آگے کھڑے ہوں ۔
۱۸ اور قاضی خوب تحقیقات کریں اور اگر وہ گواہ جھوٹا نکلے اور اُس نے اپنے بھائی کے خلاف جھوٹی گواہی دی ہو ۔
۱۹ تو جو حال اُس نے اپنے بھائی کا کرنا چاہا تھا وہی تُم اُسکا کرنا اور یوں تُو ایسی بُرائی کو اہنے درمیان سے دفع کر دینا ۔
۲۰ اور دوسرے لوگ سُنکر ڈریں گے اور تیرے بیچ پھر ایسی بُرائی نہیں کریں گے ۔
۲۱ اور تجھ کو ذرا ترس نہ آئے ۔ جان کا بدلہ جان ۔ آنکھ کا بدلہ آنکھ ۔ دانت کا بدلہ دانت ۔ ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاوں کا بدلہ پاوں ہو۔