استثنا ۱۶

ک۔ تین مقررہ عیدیں (‏۱۶ باب)‏

۱۶:‏۱۔۸ باب ۱۶ میں تینوں عیدوں کو دُہرایا گیا ہے‏، جن کے لئے اِسرائیل کے مردوں کو ہر سال مرکزی مسکن میں جانا پڑتا تھا۔ موڈی اِن کے مقاصد کے متعلق لکھتا ہے:‏

  1. تاکہ خداوند کے لوگ دوسری قوموں سے مختلف نظر آئیں۔
  2. پہلے سے حاصل کئے ہوئے فوائد کی یاد کو تازہ رکھا جائے۔
  3. یہ اُن فوائد کے مثیل تھے جو خداوند مسیح اُنہیں آئندہ دینے کو تھا۔
  4. خدا کی اُمت کو پاک پرستش میں متحد کرنا۔
  5. خدا کی طرف سے بتائی ہوئی پاک پرستش میں پاکیزگی کا تحفظ۔

عید فسح اور بے خمیری روٹی کی عید کا آپس میں گہرا تعلق تھا۔ عید فسح کا آیت ۱‏،۲‏، ۵۔۷ میں اور بے خمیری روٹی کی عید کا آیات ۳‏،۴ اور ۸ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ عیدیں خداوند کے لوگوں کو اُس کے مخلصی دینے والے کام کی یاد دلاتی تھیں۔ عشائے ربانی عہد جدید کے ایمان داروں کے لئے ہفتہ وار یاد گاری کی عید ہے۔ یہ ہمارے فسح مسیح کی یاد گار ہے جو ہمارے لئے قربان ہوا۔ بے خمیری روٹی کی عید اِس تصویر کو پیش کرتی ہے کہ مخلصی یافتہ لوگوں کو کس طرح کی زندگی گزارنا چاہئے __ یہ زندگی خداوند کی تعریف اور شکرگزاری سے بھرپور زندگی ہو۔ ’’جیسی برکت خداوند تیرے خدا نے تجھ کو بخشی ہو اپنی توفیق کے مطابق دے‘‘ (‏آیت ۱۷)‏۔ اور یہ بدی اور شرارت کے خمیر سے پاک ہو (‏۱۔کرنتھیوں ۵:‏۸)‏۔

فسح کے بارے میں یہاں دی ہوئی تفصیلات کئی لحاظ سے خروج ۱۲ اور ۱۳ کی تفصیلات سے مختلف ہیں۔ مثلاً کیا کچھ چڑھایا جائے یا کہاں چڑھایا جائے‏، دونوں پاروں میں مختلف ہیں۔ 

۱۶:‏۹۔۱۲ ہفتوں کی عید (‏پنتکست)‏ کا آغاز گیہوں کی فصل کی کٹائی پر پہلے پھلوں سے ہوتا‏، اور یہ روح القدس کے پھلوں کیعلامت ہے۔ اِسے پہلے پھلوں کی عید (‏ جَو)‏ سے خلط مَلط نہ کریں‏، جو بے خمیری روٹی کی عید کے دوسرے دن منائی جاتی تھی۔ رضا کا ہدیہ جیسا کہ ۲۔کرنتھیوں ۸‏،۹ میں بیان کیا گیا ہے انفرادی کاوشوں پر خداوند کی برکتوں کے متناسب تھا اور اِس جگہ فصل کو خدا کی برکت ظاہر کیا گیا ہے۔ 

۱۶:‏۱۳۔۱۵ خیموں کی عید گندم کی فصل کی کٹائی کے موسم کے آخر میں منائی جاتی تھی۔ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب مسیح کی حکومت کے تحت ملک میں بنی اِسرائیل کو پھر سے جمع کیا جائے گا۔

۱۶:‏۱۶‏،۱۷ سال کے دوران تمام اِسرائیلی مردوں کو تین بار خداوند کے حضور مقدور بھر اپنے ہدیوں کے ساتھ حاضر ہونا پڑتا تھا۔ جن تین عیدوں میں اُنہیں حاضر ہونا پڑتا تھا‏، موڈی اُن کے تین روحانی معنوں کو ظاہر کرتا ہے:‏

’’فسح‏، پنتکست اور خیموں کی عید کامل مخلصی کی علامت ہیں:‏

  1. یعنی صلیب کے دکھوں کے ذریعے __دُکھ 
  2. روح القدس کے نزول سے __ فضل
  3. آنے والے بادشاہ کی حتمی فتح __ جلال‘‘

۱۶:‏۱۸۔۲۰ لازم ہے کہ قاضی دیانت دار‏، راست باز اور غیر جانب دار ہوں۔ وہ رِشوت نہ لیں کیونکہ رِشوت اِنسان کو صحیح فیصلہ کرنے کے ناقابل بنا دیتی ہے۔ 

۱۶:‏۲۱‏،۲۲ درخت کی یسیرت۔ درخت سے ایک کھمبا سا بنایا جاتا اور یہ بت پرستوں کی دیوی تھی۔ بالآخر خداوند کا مذبح یروشلیم کی ہیکل میں بنایا گیا‏، جہاں کوئی درخت تو نہیں لگایا جا سکتا لیکن وہاں بت پرستی کا نشان قائم کیا جا سکتا تھا اور بالآخر یہ نشان قائم کیا بھی گیا (‏۲۔سلاطین ۲۳:‏۶)‏۔

مقدس کتاب

۱ تو ابیب کے مہینے کو یاد رکھنا اور اُس میں خداوند اپنے خدا کی فسح کرنا کیونکہ خداوند تیرا خدا ابیب کے مہینے میں رات کے وقت تجھ کو مصر سے نکال لایا ۔
۲ اور جس جگہ کو خداوند اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے وہیں تُو خداوند اپنے خدا کے لیے اپنے گائے بیل اور بھیڑ بکری میں سے فسح کی قُربانی چڑھانا ۔
۳ تو اُسکے ساتھ خمیری روٹی نہ کھانا بلکہ سات دن تک اُسکے ساتھ بے خمیری روٹی جو دُکھ کی روٹی ہے کھانا کیونکہ تُو ملک مصر سے ہڑبڑی میں نکلا تھا ۔ یوں تو عمر بھر اُس دن کو جب تو ملک مصر سے نکلا یا د رکھ سکے گا ۔
۴ اور تیری حدود کے اندر سات دن تک کہیں خمیر نظر نہ آئے اور اُس قُربانی میں سے جسکو تُو پہلے دن کی شام کو چڑھائے کچھ گوشت صبح تک باقی نہ رہنے پائے ۔
۵ تُو سفح کی قُربانی کو اپنے پھاٹکوں کے اندر جنکو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دیا ہو کہیں نہ چڑھانا ۔
۶ بلکہ جس جگہ کو خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے گا وہاں تُو فسح کی قُربانی کو اُس وقت جب تُو مصر سے نکلا تھا یعنی شام کو سورج ڈوبتے وقت گذراننا ۔
۷ اور جس جگہ کو خداوند تیرا خدا چُنے وہیں اُسے بھون کر کھانا اور پھر صبح کو اپنے اپنے ڈیرے کو لَوٹ جانا ۔
۸ چھ دن تک بے خمیری روٹی کھانا اور ساتویں دن خداوند تیرے خدا کی خاطر مقدس مجمع ہو ۔ اُس میں تُو کوئی کام نہ کرنا ۔
۹ پھر تُو سات ہفتے یوں گننا کہ جب ہنسوا لیکر فصل کاٹنی شروع کرے تب سے سات ہفتے گِن لینا ۔
۱۰ تب جیسی برکت خداوند تیرے خدا نے دی ہو اُسکے مطابق اپنے ہاتھ کی رضا کی قُربانی کا ہدیہ لا کر خداوند اپنے خدا کے لیے ہفتوں کی عید منانا ۔
۱۱ اور اُسی جگہ جسے خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے گا تُو اور تیرے بیٹے بیٹیاں اور تیرے غُلام اور لونڈیاں اور وہ لاوی جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے درمیان ہوں سب ملکر خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا ۔
۱۲ اور یاد رکھنا کہ تُو مصر میں غلام تھا اور اِن حکموں پر احتیاط کر کے عمل کرنا۔
۱۳ جب تُو کھلہیان اور کولھوکا مال جمع کر چُکے تو سات دن تک عید خیام کرنا ۔
۱۴ اور تُو اور تیرے بیٹے بیٹیاں اور غلام اور لونڈیاں اور لاوی اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے پھاٹکوں کے اند ر ہوں سب تیری اِس عید میں خوشی منائیں ۔
۱۵ سات دن تک تُو خداوند اپنے خدا کے لیے اُسی جگہ جسے خداوند چُنے عید کرنا اِس لیے کہ خداوند تیرا خدا تیرے سارے مال میں اور سب کاموں میں جنکو تُو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت بخشے گا ۔ سو تُو پوری پوری خوشی کرنا ۔
۱۶ اور سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عہد اور ہفتوں کی عید اور عید خیام کے موقع پر تیرے ہاں کے سب مرد خداوند اپنے خدا کے آگے اُسی جگہ حاضر ہوا کریںجسے وہ چُنے گا اور جب آئیں تو خداوند کے حضور خالی ہاتھ نہ آئیں ۔
۱۷ بلکہ ہر مرد جیسی برکت خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو بخشی ہو اپنی توفیق کے مطابق دے ۔
۱۸ تو اپنے قبیلوں کی سب بستیوں میں جنکو خداوند تیرا خُدا تُجھ کو دے قاضی اور حاکم مقرر کرنا جو صداقت سے لوگوں کی عدالت کریں ۔
۱۹ تُو انصاف کا خون نہ کرنا ۔ تُو نہ تو کسی کی رو رعایت کرنا اور نہ رشوت لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادق کی باتوں کو پلٹ دتی ہے ۔
۲۰ جو کچھ بالکل حق ہے تُو اُسی کی پیروی کرنا تاکہ تُو جیتا رہے اور اُس ملک کا مالک بن جائے جو خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے ۔
۲۱ جو مذبح تُو خداوند اپنے خدا کے لیے بنائے اُسکے قریب کسی قسم کے درخت کی یسیرت نہ لگانا ۔
۲۲ اور نہ کوئی ستون اپنے لیے کھڑا کر لینا جس سے خداوند تیرے خدا کو نفرت ہے ۔