ل۔ قاضی اور بادشاہ (باب ۱۷)
۱۷:۱ قربانی کے جانور بے عیب ہوں۔ وہ خدا کے بے داغ اور بے گناہ برّے مسیح خداوند کی علامت تھے۔
۱۷:۲۔۷ جس شخص پر بت پرستی کا شک ہوتا اُس پر مقدمہ چلایا جاتا۔ دو یا تین گواہوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ اگر وہ مجرم ثابت ہوتا تو اُسے سنگسار کیا جاتا۔
۱۷:۸۔۱۳ اگر کوئی ایسے قانونی مسائل پیدا ہو جاتے، جنہیں شہر کے بزرگوں کے لئے حل کرنا بہت مشکل ہوتا تو اُنہیں قاضی کے پاس لایا جاتا۔ ۱۷:۹ کا ۱۷:۱۲ اور ۱۹:۱۷ سے موازنہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاہنوں یا قاضیوں کا گروہ اِن مشکل مقدمات کی سماعت کرتا۔ سردار کاہن اور سردار قاضی علی الترتیب قائدین تھے اور یہ آیت ۱۲ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ٹریبونل خداوند کے مسکن میں فراہم ہوتا۔ ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا۔ یہ اِسرائیل کی سپریم کورٹ تھی۔ اگر ملزم کاہن یا قاضی کی بات سننے سے اِنکار کر دیتا تو اُسے سزائے موت دی جاتی (آیات ۱۲،۱۳)۔
۱۷:۱۴۔۲۰ خدا نے ۴۰۰ سال قبل بتا دیا کہ لوگ بادشاہ بنانے کی خواہش کریں گے۔ اور اُس نے بتا دیا کہ حکمران میں درج ذیل اہلیتیں ہوں:
- لازم ہے کہ وہ شخص خدا کی طرف سے چنا ہوا ہو (آیت ۱۵)۔
- وہ اِسرائیلی ہو ’’اپنے بھائیوں میں سے ہی بادشاہ بنانا۔‘‘
- وہ گھوڑے نہ بڑھائے۔ یعنی اِس کا مطلب ہے کہ وہ دشمنوں پر فتح کے لئے قدرتی وسائل پر تکیہ نہ کرے۔
- وہ اِس خیال سے لوگوں کو مصر میں نہ بھیجے کہ وہاں سے لائے ہوے گھوڑوں سے وہ بچ سکیں گے (آیت ۱۶)۔
- وہ بہت سی بیویاں نہ رکھے (آیت ۱۷)۔ یہ نہ صرف کثرتِ ازواج کی ممانعت اور اِس خطرے کے بارے میں اِنتباہ ہے کہ بیویاں اُسے بت پرستی کی طرف مائل کر دیں گی، بلکہ یہ سیاسی اِتحاد قائم کرنے کے لئے شادیوں پر پابندی تھی (آیت ۱۷)۔
- وہ اپنے لئے سونا چاندی ذخیرہ نہ کرے کیونکہ یوں اُس کا دل خداوند پر بھروسا کرنے کے بجائے مالی وسائل پر بھروسا کرے گا (آیت ۱۷)۔
- لازم ہے کہ وہ خدا کی شریعت کو لکھے، پڑھے اور اُس پر عمل کرے تاکہ وہ مغرور اور خود سر نہ ہو جائے (آیات ۱۸۔۲۰)۔ شریعت پر مسلسل دھیان رکھنے سے بادشاہ اپنے لوگوں کے لئے نمونہ بن جائے گا۔
- اُس کے دل میں غرور نہ سما جائے (آیت ۲۰)۔
سلیمان جس نے اِسرائیل کے سنہری دَور میں حکومت کی، اُس نے تقریباً اِن تمام احکامات کو توڑا جس کا نتیجہ اُس کی اپنی اور سلطنت کی بربادی تھا (۱۔سلاطین ۱۰:۱۴۔۱۱:۱۰)۔
مقدس کتاب
۱ تُو خداوند اپنے خدا کے لیے کوئی بیل یا بھیڑ بکری جس میں کوئی عیب یا بُرائی ہو ذبح مت کرنا کیونکہ یہ خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہے ۔
۲ اگر تیرے درمیان تیری بستیوں میں جنکو خداوند تیرا خدا تجھ کو دے کہیں کوئی مرد یا عورت ملے جس نے خداوند تیرے خدا کے حضور یہ بدکاری کی ہو کہ اُکے عہد کو توڑا ہو ۔
۳ اور جا کر اور معبودوں کی یا سورج یا چاند یا اجرامِ فلک میں سے کسی کی جسکا حکم میں نے تجھ کو نہیں دیا پوجا اور پرستش کی ہو ۔
۴ اور یہ بات تجھ کو بتائی جائے اور تیرے سُننے میں آئے تو تُو جانفشانی سے تحقیقات کرنا اور اگر یہ ٹھیک ہو اور قطعی طور پر ثابت ہو جائے کہ اسرائیل میں ایسا مکروہ کام ہوا ۔
۵ تو تُو اُس مرد یا اُس عورت کو جس نے یہ بُرا کام کیا ہو باہر اپنے پھاٹکوں پر نکال لے جانا اور اُنکو ایسا سنگسار کرنا کہ وہ مر جائیں ۔
۶ جو واجب القتل ٹھہرے وہ دو یا تین آدمیوں کی گواہی سے مارا نہ جائے ۔
۷ اُسکو قتل کرتے وقت گواہوں کے ہاتھ پہلے اُس پر اُٹھیں اُسکے بعد باقی سب لوگوں کے ۔ یوں تُو اپنے درمیان سے شرارت کو دور کیا کرنا ۔
۸ اگر تیری بستیوں میں کہیں آپس کے خون یا آپس کے دعویٰ کی مار پیٹ کی باب نمبرت کوئی جھگڑے کی بات اُٹھے اور اُسکا فیصلہ کرنا تیرے لیے نہایت ہی مُشکل ہو تو تُو اُٹھ کر اُس جگہ جسے خداوند تیرا خپدا چُنے گا جانا ۔
۹ اور لاوی کاہنوں اور اُن دنوں کے قاضیوں کے پاس پہنچ کر اُن سے دریافت کرنا اور وہ تجھ کو فیصلہ کی بات بتائیں گے ۔
۱۰ اور تُو اُسی فیصلہ کے مطابق جو وہ تجھ کو اُس جگہ سے جسے خداوند چُنے گا بتائیں عمل کرنا ۔ جیسا وہ تجھ کوسکھائیں اپسی کے مطابق سب کچھ احتیاط کر کے ماننا ۔
۱۱ شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھا۴یں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اُسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اُس سے دہنے یا بائیں نہ مڑنا ۔
۱۲ اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اُس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اُس قاضی کا کہا نہ سُنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تُو اسرائیل میں سے ایسی بُرائی کو دور کر دینا ۔
۱۳ اور سب لو گ سُن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے ۔
۱۴ جب تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے اور اُس پر قبضہ کر کے وہاں رہنے اور کہنے لگے کہ اُن قوموں کی طرح جو میرے گردا ھرد ہیں میں بھی کسی کو اپنا بادشاہ بناوں ۔
۱۵ تو تُو بہر حال فقط اُسی کو اپنا بادشاہ بنانا جسکو خداوند تہرا خدا چُن لے ۔ تُو اپنے بھائیوں میں سے ہی کسی کو اپنا بادشاہ بنانا اور پردیسی کو جو تیرا بھائی نہیں اپنے اوپر حاکم نہ کر لینا ۔
۱۶ اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے لیے بہت گھوڑے نہ بڑھائے اور نہ لوگوں کو مصر میں بھیجے تاکہ اُس کے پاس بہت سے گھوڑے ہو جائیں اِس لیے کہ خداوند نے تُم سے کہا ہے کہ تُم اُس را ہ سے پھر کبھی اُودھر نہ لَوٹنا۔
۱۷ اور وہ بہت سی بیویاں بھی نہ رکھے تا نہ ہو کہ اُسکا دل پھر جائے اور نہ وہ اپنے لیے سونا چاندی ذخیرہ کرے ۔
۱۸ اور جب وہ تختِ سلطنت پر جلوس کرے تو اُس شریعت کی جو لاوی کاہنوں کے پاس رہے گی ایک نقل اپنے لیے ایک کتاب میں اُتار لے ۔
۱۹ اور وہ اُسے اپنے پاس رکھے اور اپنی ساری عمر اُسکو پڑھا کرے تاکہ وہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اُس شریعت اور آئین کی سب باتوں پر عمل کرنا سیکھے ۔
۲۰ جس سے اُسکے دل میں غرور نہ ہو کہ وہ اپنے بھائیوں کو حقیر جانے اور اِن احکام سے نہ تو دہنے نہ بائیں مُڑے تاکہ اسرائیلیوں کے درمیان اُسکی اور اُسکی اولاد کی سلطنت مدت تک رہے ۔