ج۔ عہد سے رجوع لانے کے لئے بحالی (باب ۳۰)
۳۰:۱۔۱۰ باب ۳۰ میں پہلے سے بتا دیا گیا ہے کہ لوگ عہد کو توڑیں گے جس کے نتیجے میں اُنہیں اسیری میں لے جایا جائے گا۔ اور فی الحقیقت یہی کچھ ہوا۔ تاہم اگر وہ توبہ کر کے اُس کی طرف رجوع لائیں تو خدا اُن پر رحم کر کے اُن کو بحال کرے گا۔ وہ اُنہیں اُن کے ملک میں واپس لائے گا۔ اِس جسمانی بحالی کے علاوہ روحانی تجدید بھی ہو گی۔ ’’خداوند تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کے دل کا ختنہ کرے گا‘‘ (آیت ۶)۔ تب لوگ فرماں برداری کی برکتوں سے لطف اندوز ہوں گے جب کہ اُن کے دشمنوں پر لعنت ہو گی۔ حق تعالیٰ کی تدبیریں ناکام نہیں ہوتیں گو اُس کی تدبیروں کے محور لوگ ناکام ہو جائیں۔ خدا بزرگوں سے کئے ہوئے اپنے وعدے کو پورا کرے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موعودہ ملک اُن کی نسل کو دے دے گا۔ خداوند جانتا تھا کہ اسیری ناگزیر تھی۔ لیکن اِس کے بعد وہ اُنہیں بحال کر کے تبدیل کرے گا۔ یہ عظیم محبت کرنے والے کی غیر مشروط محبت کی کار کردگی ہے۔ آیت ۶ میں اُس موضوع کو چھیڑا گیا جسے سیکڑوں سال بعد نبیوں نے زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا یعنی نیا عہد (یرمیاہ ۳۲:۳۹ اور مابعد؛ حزقی ایل ۳۶:۲۴ اور مابعد)۔ گو اِس عہد کو پرانے عہد نامے میں ظاہر کیا گیا، لیکن مسیح کی موت تک اِس کی تصدیق نہ ہوئی، کیونکہ اُس کا خون نئے عہد کا خون تھا (لوقا ۲۲:۲۰)۔
۳۰:۱۱۔۱۴ موسیٰ نے لوگوں کو یاد دلایا کہ یہ عہد نہ تو اُن کے لئے سمجھنے میں مشکل ہے (پُراسرار) اور نہ دُور (ناقابلِ رسائی) ہی ہے۔ اُن سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ ناممکن پر عمل کریں۔ خداوند نے یہ عہد اُن کو دیا۔ اب اُن کی ذمہ داری تھی کہ اُس کی فرماں برداری کریں۔ پولس رسول نے رومیوں ۱۰:۵۔۸ میں اِن آیات کا مسیح اور اِنجیل پر اِطلاق کیا۔ پابندی کے لئے یہ عہد اِس قدر آسان بھی نہیں تھا، لیکن خدا نے ناکامی کی صورت میں گنجائش رکھی تھی۔ لوگوں کو اِس صورت میں توبہ کرنے اور مقررہ قربانیاں لانے کے لئے حکم دیا گیا۔ چونکہ یہ قربانیاں مسیح کی مثیل تھیں اِس لئے ہم یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ وہ جو گناہ کرتے ہیں، توبہ کریں اور خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔
۳۰:۱۵۔۲۰ لوگوں کو دعوت دی گئی کہ وہ ایک طرف زندگی اور بھلائی اور دوسری طرف موت اور بُرائی میں سے اِنتخاب کریں۔ زندگی فرماں برداری کے لئے، اور موت نافرمانی کے لئے۔ موسیٰ نے بڑے زور دار طریقے سے اُنہیں زندگی اور برکت کا اِنتخاب کرنے کے لئے کہا۔ متوقع جواب سے اچھے نتائج پیدا ہوں گے، جن میں عمر کی درازی اور کثرت کی روحانی زندگی شامل ہے، اور یہ متوقع جواب اِن الفاظ میں پوشیدہ ہے ’’اور اُسی سے لپٹا رہے‘‘۔ یہی لعنت کا واحد متبادل تھا۔
مقدس کتاب
۱ اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جنکو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے تجھ پر آئیں اور تُو اُن قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو اُنکو یاد کرے ۔
۲ اور تُو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اُسکی بات اِن سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں ۔
۳ تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اورپھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا ۔
۴ اگر تیرے آوارہ گرد دُنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا ۔
۵ اور خداوند تیرا خدا اُسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ کیا تھا اور تُو اُسکو اپنے قبضہ میں لائے گا ۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا ۔
۶ اور خداوند تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کے دل کا ختنہ کرے گا تاکہ تُو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھے اور جیتا رہے ۔
۷ اور خداوند تیرا خدا یہ سب لعنتیں تیرے دشمنوں اور کینہ رکھنے والوں پر جنہوں نے تجھ کو ستایا نازل کرے گا ۔
۸ اور تُو لوٹیگا اور خداوند کی بات سُنے گا اور اُسکے سب حکموں پر جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں عمل کرے گا ۔
۹ اور خداوند تیرا خدا تجھ کو تیرے کاروبار اور آس اولاد اور چوپایوں کے بچوں اور زمین کی پیداوار کے لحاظ سے تیری بھلائی کی خاطر پھر تجھ کو برومند کرے گا کیونکہ خداوند تیری ہی بھلائی کی خاطر تجھ سے خوش ہو گا جیسے وہ تیرے باپ دادا سے خوش تھا ۔
۱۰ بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو سُنکر اُسکے احکام اور آئین کو مانے جو شریعت کی اِس کتاب میں لکھے ہیں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے ۔
۱۱ کیونکہ وہ حکم جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں تیرے لیے بہت مُشکل نہیں اور نہ وہ دور ہے ۔
۱۲ وہ آسمان پر تو ہے نہیں کہ تُو کہے کہ آسمان پر کون ہماری خاطر چڑھے اور اُسکو ہمارے پاس لا کر سُنائے تاکہ ہم اُس پر عمل کریں ؟
۱۳ اور نہ وہ سمندر پار ہے کہ تُو کہے کہ سمندر پار کون ہماری خاطر جائے اور اُسکو ہمارے پاس لا کر سُنائے تاکہ ہم اُس پر عمل کریں ؟
۱۴ بلکہ وہ کلام تیرے بہت نزدیک ہے ۔ وہ تیرے منہ میں اور تیرے دل میں ہے اکہ تُو اُس پر عمل کرے ۔
۱۵ دیکھ میں نے آج کے دن زندگی اور بھلائی اور موت اور بُرائی کو تیرے آگے رکھا ہے
۱۶ کیونکہ میں آج کے دن تجھ کو حککم کرتا ہوں کہ تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور اُسکی راہوں پر چلے اور اُسکے فرمان اور آئین اور احکام کو مانے تاکہ تُو جیتا رہے اور بڑھے اور خداوند تیرا خدا اُس ملک میں تجھ کو برکت بخشے جس پر قبضہ کرنے کو تُو وہاں جا رہا ہے ۔
۱۷ پر اگر تیر ا دل برگشتہ ہو جائے اور تپو نہ اپسنے بلکہ گمراہ ہو کر اور معبودوں کی پرستش اور عبادت کرنے لگے ۔
۱۸ تو آ ج کے دن میں تُم کو جتا دیتا ہوں کہ تُم ضرور فنا ہو جاو گے اور اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کو تُو یردن پار جا رہا ہے تمہاری عمر دراز نہ ہوگی ۔
۱۹ میں آج کے دن آسمان اور زمین کو تمہارے بر خلاف گواہ بناتا ہوں کہ میں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ تُو بھی جیتا رہے او ر تیری اولاد بھی ۔
۲۰ تاکہ تو خداوند اپنے خدا ے محبت رکھے اور اُسکی بات سُنے اور اُسی سے لپٹا رہے کیونکہ وہی تیری زندگی اور تیری عمر کی درازی ہے تاکہ تپو اُس ملک میں بسا رہے جسکو تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم خدوند نے اُن سے کھائی تھی ۔