۱۱:۱۔۷ ایک بار پھر موسیٰ نے بنی اِسرائیل کی ماضی کی تاریخ پر نگاہ دوڑائی تاکہ اِس سے روحانی اَسباق اخذ کرے۔ آیت ۲ میں وہ گذشتہ نسل سے بچنے والوں سے بات کر رہا ہے نہ کہ اُن سے جو بیابان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جنگی مرد جو بیس سال کی عمر سے زائد تھے جب اُنہوں نے مصر سے خروج کیا اور جنہیں کنعان میں داخلے سے خارِج کر دیا گیا (۲:۱۴؛ یشوع ۵:۶)۔ خدا نے اپنے لوگوں کو مصر سے رِہائی دِلائی اور بیابان میں اُن کی راہنمائی کی، لیکن اُس نے داتن اور ابیرام کی بغاوت کو برداشت نہ کیا۔ بت پرست مصریوں اور بنی اِسرائیل قوم کے باغیوں کو سزا دینے سے ایسے اسباق ملتے تھے کہ وہ خداوند کو ناراض کرنے کی حماقت نہ کریں۔
ہ۔ فرماں برداری کے لئے اَجر (۱۱:۸۔۳۲)
۱۱:۸۔ ۱۷ اِس کے برعکس ملک میں اُن کی عمر کی درازی (آیت ۹) کا ضامن یہ تھا کہ وہ ہر ایک حکم کی پابندی کریں (آیت ۸)۔ اگر وہ فرماں برداری کریں تو جس ملک سے وہ لطف اندوز ہوں گے اُس کا ذکر آیات ۱۰۔۱۲ میں کیا گیا ہے۔ ’’پاؤں سے سینچنے‘‘ کا مطلب ہے کہ کوئی ایسا طریقِ کار تھا جس کے مطابق اُنہیں پانی نکالنے کے لئے پاؤں کا استعمال کرنا پڑتا تھا، یا شاید نالیوں کو پاؤں سے کھولنے کا اِنتظام تھا۔ ملکِ مصر ایک بنجر ملک تھا جسے آب پاشی سے کاشت کاری کے قابل بنایا جاتا تھا، لیکن موعودہ ملک خداوند کے خاص فضل سے سیراب ہوتا تھا (آیات ۱۱،۱۲)، بروقت بارش اور بہت زیادہ فصل اُن کی فرماں برداری کا اَجر ہو گا (آیات ۱۳۔۱۵)۔ لیکن خدا کو بھول جانے یا بت پرستی سے خشک سالی ہو گی اور زمین بنجر ہو جائے گی۔
۱۱:۱۸۔۲۱لازم تھا کہ خدا کا کلام گھریلو گفتگو کا موضوع ہو۔ ضرور تھا کہ اِس سے محبت ہو اور اُس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ خدا کے کلام پر عمل کرنے کا اَجر یہ تھا کہ ملک میں اُن کی عمر دراز ہو گی اور یہ آسمانی دِنوں کا زمینی عکس تھا (آیت ۲۱)۔
’’مابعد کے ایام کے یہودیوں نے آیت ۱۸ کو لفظی طور پر ماننا شروع کر دیا، اور کلام کے حصوں کو تعویذوں میں منڈھا کر اپنی پیشانیوں پر باندھتے اور اُنہیں گھر کی چوکھٹوں پر لگاتے (بعض تو ابھی تک ایسا ہی کرتے ہیں)۔ لیکن آیت ۱۹ الف حقیقت کو بیان کرتی ہے، کہ ہاتھوں پر کلام کو باندھنے کا یہ مطلب ہے کہ دونوں ہاتھ کوئی بُرا کام نہیں کریں گے، اور آنکھوں کے درمیان پیشانی پر کلام کا مطلب ہے کہ ہماری نگاہ پر خدا کا قبضہ ہو کہ ہم کہاں دیکھتے اور کس چیز کا لالچ کرتے ہیں۔ دروازے کی چوکھٹوں پر کلام کا مطلب ہے کہ ہم خاندانی زندگی کو یہ خیال رکھتے ہوئے گزاریں گے کہ ہم خداوند کے سامنے جواب دِہ ہیں خاص طور پر اُن بچوں کے سلسلے میں جنہیں اُس نے ہمارے سپرد کیا ہے کہ ہم اُن کی دیکھ بھال کریں۔‘‘ (سکرپچر یونین، Daily Notes)
۱۱:۲۲۔۲۵ جو خدا کی راہوں پر چلیں گے وہ غیر قوم کنعانیوں کو ملک سے نکال دیں گے، اور جہاں اُن کے پاؤں کا تلوا ٹِکے، وہ اُس ساری زمین پر قابض ہو جائیں گے۔ ملکیت اور قبضے کا اصول آیت ۲۴ میں دیا گیا ہے۔ وعدے کے مطابق وہ سارا ملک اُن کا تھا، لیکن اُنہیں وہاں جا کر اُس پر قبضہ کرنا تھا، بعینہٖ ہمیں بھی خدا کے وعدوں پر قابض ہونا تھا۔ آیت ۲۴ میں دی گئی سرحدوں پر کبھی بھی اِسرائیل کا پورا قبضہ نہیں ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہ سلیمان کی بادشاہت دریائے فرات سے لے کر مصر کی سرحد تک تھی (۱۔سلاطین ۴:۲۱) لیکن اِسرائیلی فی الحقیقت کبھی بھی پورے علاقے پر قابض نہ ہوئے۔ ہاں البتہ اِس میں کئی ایک ایسے ممالک تھے جو سلیمان کو خراج ادا کرتے تھے، لیکن داخلی طور پر اپنی حکومتوں کے مالک تھے۔ آیت ۲۴ اور دیگر بہت سی آیات کی ہمارے خداوند یسوع کی ہزار سالہ بادشاہت میں تکمیل ہو گی۔
۱۱:۲۶۔۳۲فرماں برداری کی صورت میں برکت ملے گی اور نافرمانی سے لعنت ملے گی۔ کنعان میں دو پہاڑ اِس حقیقت کو پیش کرتے تھے۔ کوہِ گرزیم برکت اور کوہِ عیبال لعنت کی علامت تھا۔ یہ دونوں پہاڑ سکم کے قریب تھے اور اُن کے درمیان چھوٹی سی وادی تھی۔ آدھے قبائل کوہِ گرزیم پر کھڑے ہوئے اور کاہن اُن برکتوں کا اعلان کرتے جو فرماں برداری سے ملیں گی۔ اور دوسرے چھے قبائل کوہِ عیبال پر کھڑے ہوئے اور کاہن اُن لعنتوں کا اعلان کرتے جو نافرمانی سے پیدا ہوں گی۔ دونوں صورتوں میں لوگ ’آمین‘ کہتے۔ اِن دونوں پہاڑوں کی اہمیت کی تفصیلات کے سلسلے میں اِستثنا ۲۷:۱۱۔۲۶ ملاحظہ فرمایئے۔
مورہ کے بلوط کے وہ درخت ہیں جن کا غالباً پیدائش ۳۵:۱۔۴ میں بیان کیا گیا ہے۔ کئی صدیاں قبل یعقوب نے یہاں اپنے گھرانے کو بت پرستی سے پاک صاف کیا تھا۔ شاید اِس حوالے کا مقصد نہ صرف جغرافیائی راہنمائی بلکہ روحانی راہنمائی دینا تھا۔
مقدس کتاب
۱ سو تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھنا اور اُسکی شرع اور آئین اور احکام اور فرمانوں پر سدا عمل کرنا ۔
۲ اور تُم آج کے ن خوب سمجھ لو کیونکہ میں تمہارے بال بچوں سے کلام نہیں کر رہا ہوں جنکو نہ تو معلوم ہے اور نہ اُنہوں نے دیکھا کہ خداوند تمہارے خدا کی تنبیہ اور اُسکی عظمت اور زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے کیا کیا ہوا۔
۳ اور مصر کے بیچ مصر کے بادشاہ فرعون اور اُس کے مُلک کے لوگوں کو کیسے کیسے نشان اور کیسی کرامات دکھائیں ۔
۴ اور اُس نے مصر کے لشکر اور اُنکے گھوڑوں اور رتھوں کا کیا حال کیا اور کیسے ُس نے بحرِ قُلزم کے پانی میں اُنکو غرق کیا جب وہ تمہارا پیچھا کر رہے تھے اور خداوند نے اُنکو کیسا ہلاک کیا کہ آ ج کے دن تک وہ نابود ہیں ۔
۵ اور تمہارے اِس جگہ پہنچنے تک اُس نے بیابان میں تُم سے کیا کیا کِیا ۔
۶ اور داتن اور ابیرام کا جو الیات بن روبن کے بیٹے تھے کیا حال بنایا کہ سب اسرائیلیوں کے سامنے زمین نے اپنا منہ پسار کر اُنکو اور اُنکے گھرانوں اور خیموں اور ہر ذی نفس کو جو اُنکے ساتھ تھا نگل لیا ۔
۷ پر خداوند کے اِن سب بڑے بڑے کاموں کو تُم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
۸ اِس لیے اِن حکموں کو جو آج میں تجھ کو دیتا یوں تُم ماننا تاکہ تُم مضبوط ہو کر اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُم پار جا رہے ہو پہنچ جاو اور اُس پر قبضہ بھی کر لو۔
۹ اور اُس ملک میں تمہاری عمر دراز ہو جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جسے تمہارے باپ دادا اور اُنکی اولاد کو دینے کی قسم خداوند نے اُن سے کھائی تھی ۔
۱۰ کیونکہ جس ملک پر تُو قبضہ کرنے کو جا رہا ہے وہ ملک مصر کی مانند نہیں ہے جہاں سے تم نکل آئے ہو ۔ وہاں تو تُو بیج بو کر اُسے سبزی کے باغ کی طرح پاوں سے نالیاں بنا کر سینچتا تھا ۔
۱۱ لیکن جس ملک پر قبضہ کرنے کے لیے تم پار جانے کو ہو وہ پہاڑوں اور وادیوں کا ملک ہے اور بارش کے پانی سے سیراب ہوا کرتا ہے ۔
۱۲ اُس ملک پر خداوند تیرے خدا کی توجہ رہی ہے اور سال کے شروع سے سال کے آخر تک خداوند تیرے خدا کی آنکھیں اُس پر لگی رہتی ہیں ،
۱۳ او ر اگر تُم میرے حکموں کو جو آج میں تُم کو دیتا ہوں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے اُسکی بندگی کرو۔
۱۴ تو میں تمہارے ملک میں عین وقت پر پہلا اور پچھلا مینہ برساونگا تاکہ تُو اپنا غلہ اور مَے ار تیل جمع کر سکے ۔
۱۵ اور میں تیرےچوپایوں کے لیے میدان میں گھاس پیدا کرونگا اور تُو کھائے گا اور سیر ہو گا ۔
۱۶ سو تُم خبردار رہنا تا ایسا نہ ہو کہ تمہار ے دل دھوکا کھائں اور تُم بہک کر اور معبودوں کی عبادت اور پرستش کرنے لگو ۔
۱۷ اور خداوند کا غضب تُم پر بھڑکے اور وہ آسمان کو بند کر دے تاکہ مینہ نہ برسے اور زمین میں کچھ پیداوار نہ ہو اور تُم اِس اچھے ملک سے جو خداوند تُم کو دیتا ہے جلد فنا ہو جاو۔
۱۸ اِس لیے میری اِن باتوں کو تُم اپنے دل اور اپنی جان میں محفوظ رکھنا اور نشان کے طور پر اِنکو اپنے ہاتھوں پر باندھنا اور وہ تمہاری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں ۔
۱۹ اور تُم اِنکو اپنے لڑکوں کو سکھانا اور تُو گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن ہی کا ذکر کیا کرنا ۔
۲۰ اور تُو اِنکو اپنے گھر کی چوکٹھوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر لکھاکرنا ۔
۲۱ تاکہ جب تک زمین پر آسمان کا سایہ ہے تنہاری اور تمہاری اولاد کی عمر اُس ملک میں دراز ہو جسکو خداوند نے تمہارے باپ دادا کو دینے کی قسم اُن سے کھائی تھی ۔
۲۲ کیونکہ اگر تُم اُن سب حکموں کو جو میں تُم کو دیتا ہوں جانفشانی سے مانو اور اُن ر عمل کرو اور خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اُسکی سب راہوں پر چلو اور اُس سے لپٹے رہو ۔
۲۳ تو خداوند اِن سب قوموں کو تمہارے آگے سے نکال ڈالے گا اور تُم اُن قوموں پر جو تُم سے بڑی اور زور آور ہیں قابض رہو گے ۔
۲۴ جہاں جہاں تمہارے پاوں کا تلوا اٹکے وہ جگہ تمہاری ہو جائے گی یعنی بیابان اور لُبنان سے دریای فرات سے مغرب کے سمندر تک تمہاری سر حد ہو گی ۔
۲۵ اور کوئی شخص وہاں تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارا رعب اور خوف اُس تمام ملک میں جہاں کہیں تمہارے قدم پڑیں پیدا کر دے گا جیسا اُس نے تُم سے کہا ہے ۔
۲۶ دیکھو میں آج کے دن تمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہوں ۔
۲۷ برکت اُس حال میں جب تُم خداوند اپنے خدا کے حکموں کو جو آج میں تُم کو دیتا ہوں مانو۔
۲۸ اور لعنت اُس وقت جب تُم خداوند اپنے خدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اُس راہ کو جسکی باب نمبرت میں آج تُم کو حکم دیتا ہوں چھوڑ کر اور معبودوں کی پیروی کرو جن سے تُم اب تک واقف نہیں ۔
۲۹ اور جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کو تُو جا رہا ہے پہنچا دے تو کوہِ گرزیم سے برکت اور کوہِ عیباں پر سے لعنت سُنانا۔
۳۰ وہ دونوں پہاڑ یردن پار مغرب کی طرف اُن کعنانیوں کے مُلک میں واقع ہیں جو جلجال کے مقابل مورہ کے بلوطوں کے قریب میدان میں رہتے ہیں ۔
۳۱ اور تُم یردن پار اِسی لیے جانے کو ہو کہ اُس ملک پر جو خداوند تمہارا خدا تُم کو دیتا ہے قبضہ کرو اور تُم اُس پر قبضہ کرو گے بھی اور اُسی میں بسو گے ۔
۳۲ سو تُم احتیاط کر کے اُن سب آئین اور احکام پر عمل کرنا جنکو میں آج تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں ۔