استثنا ۲۵

۲۵:‏۱۔۳ اگر کسی شریر پر جرم ثابت ہو جاتا اور اُسے کوڑوں کی سزا دی جاتی تو اُسے چالیس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دی جاتی۔ یہودی عموماً ۳۹ کوڑے لگاتے تاکہ اگر گنتی میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو وہ اِس قانون کی خلاف ورزی سے بچے رہیں (‏دیکھیں ۲۔کرنتھیوں ۱۱:‏۲۴)‏۔ 

۲۵:‏۴ دائیں میں چلتے ہوئے بیل کا منہ نہیں باندھا جاتا تھا بلکہ اُسے کچھ اناج کھانے کی اِجازت تھی۔ پولس اِس آیت کو ۱۔کرنتھیوں ۹:‏۹۔۱۱ میں یہ تعلیم دینے کے لئے استعمال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص مذہبی خدمت کے سلسلے میں محنت کرتا ہے تو مادی چیزوں سے اُس کی مدد کی جائے۔ یوں پولس رسول ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ شریعت کا ایک روحانی پہلو بھی ہے۔ یہ لغوی معنوں میں تخفیف نہیں کرتا‏، بلکہ یہ ہم پر واضح کرتا ہے کہ اکثر اوقات ظاہری مفہوم میں روحانی مفہوم پوشیدہ ہوتا ہے۔ بائبل کا محنتی طالب علم روحانی سبق کی تلاش کرتے ہوئے اُس پر عمل کرے گا۔ 

(‏۱۳)‏ مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کرنا (‏۲۵:‏۵۔۱۰)‏

اگر کوئی شادی شدہ اِسرائیلی بے اولاد مر جاتا تو یہ خدشہ تھا کہ اُس کا نام مٹ جائے گا اور اُس کی جائیداد خاندان سے نکل جائے گی۔ چنانچہ مرحوم کے بھائی کو اُس کی بیوہ سے شادی کرنے کے لئے حکم دیا گیا۔ بہت سی قدیم اقوام میں بھی مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کا رواج موجود تھا۔ اگر بھائی اِس کے لئے رضامند نہ ہوتا تو بیوہ شہر کے بزرگوں کے پاس جاتی اور اُن کے سامنے صورتِ حال بیان کرتی۔ تب اُسے بزرگوں کے رُوبرو حاضر ہو کر یہ موقع دیا جاتا کہ وہ اپنی رضامندی کی تصدیق کرے۔ اگر وہ اپنے اِنکار پر ڈٹا رہتا‏، تو بیوہ اُس کی جوتی کا ایک پاؤں اُتار کر اُس کے منہ پر تھوکتی۔ اِس کے بعد یہ اَمر اُس کے لئے بدنامی کا باعث ہوتا کہ وہ اپنے بھائی کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے رضامند نہ تھا۔ 

احبار ۲۰:‏۲۱ میں کسی شخص کو اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کرنے کے لئے منع کیا گیا‏، یہاں اُس سے شادی کرنے کا حکم دیا گیا۔ بلاشبہ احبار میں مذکور حوالے کا اِطلاق اِس صورت میں ہوتا تھا جب کہ بھائی ابھی زندہ ہو‏، جب کہ اِستثنا میں صورتِ حال یہ ہے کہ بھائی مر چکا ہو اور اُس کی اولادِ نرینہ وارث نہ ہو۔ 

(‏۱۴)‏ تین مختلف قوانین (‏۲۵:‏۱۱۔۱۹)‏

۲۵:‏۱۱‏،۱۲ اگر کوئی عورت کسی مرد کو اپنے خاوند کے ساتھ لڑائی میں بے حیائی سے پکڑے یعنی اُس کی شرم گاہ کو پکڑے تو اُس کا وہ ہاتھ کاٹ ڈالا جائے۔ اُس کے اِس عمل سے اُس مرد کے لئے یہ خطرہ لاحق ہو سکتا تھا کہ اُس کا کوئی وارث پیدا نہ ہو سکے‏، اِس لئے یہ سخت سزا مقرر کی گئی تھی۔ 

۲۵:‏۱۳۔۱۶ باٹ اور پیمانوں کے سلسلے میں دیانت داری سے کام لینے کا حکم دیا گیا۔ لوگ اکثر خریدتے وقت ایک طرح کے (‏دُرست)‏ اور بیچتے وقت دوسری طرح کے (‏غلط)‏ باٹ رکھتے۔ یہ خداوند کے نزدیک مکروہ ہے۔ 

۲۵:‏۱۷‏،۱۹عمالیقیوں کی نسل کو اُن کے فریب اور ظلم کی بنا پر بالکل فنا کرنے کا حکم دیا گیا تھا (‏خروج ۱۷:‏۸۔۱۶)‏۔ بنی اِسرائیل کو بتایا گیا کہ وہ عمالیقیوں کو فنا کرنا نہ بھولیں‏، لیکن یوں لگتا ہے کہ وہ بھول گئے تھے۔ ساؤل نے اپنے دَور میں اُن کو ختم نہ کر کے خداوند کی نافرمانی کی (‏۱۔سموئیل ۱۵ باب)‏۔ درحقیقت حزقیاہ کے ایام میں اُنہوں نے ’’اُن باقی عمالیقیوں کو جو بچ رہے تھے قتل کیا‘‘ (‏۱۔تواریخ ۴:‏۴۳)‏۔

مقدس کتاب

۱ اگر لوگوں میں کسی طرح کا جھگڑا ہو اور وہ عدالت میں آئیں تاکہ قاضی اُن کا انصاف کریں تو وہ صادق کو بے گناہ ٹھہرائیں اور شریر پر فتویٰ دیں ۔
۲ اور اگر وہ شریر پٹنے کے لائق نکلے تو قاضی اُسے زمین پر لٹوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے اُس کی شرارت کے مطابق اُسے گِن گِن کر کوڑے لگوائے
۳ وہ اُسے چالیس کوڑے لگائے اِس سے زیادہ نہ مارے تا نہ ہو اِس سے زیادہ کوڑے لگانے سے تیرا بھائی تجھ کو حقیر معلوم دینے لگے ۔
۴ تُو دائیں میں چلتے ہوئے بیل کا منہ نہ باندھنا
۵ اگر کئی بھائی مل کر ساتھ رہتے ہوں اور ایک اُن میں سے بے اولاد مر جائے تو اُس محروم کی بیوی کسی اجنبی سے بیاہ نہ کرے بلکہ اُس کے شوہر کا بھائی اُس کے پاس جا کر اُسے اپنی بیوی بنا لے اور شوہر کے بھائی کا جو حق ہے وہ اُس کے ساتھ ادا کرے ۔
۶ اور اُس عورت کے جو پہلا بچہ ہو وہ اِس آدمی کے محروم بھائی کے نام کا کہلائے تاکہ اُس کا نام اسرائیل میں مٹ نہ جائے ۔
۷ اور اگر وہ آدمی اپنی بھاوج سے بیاہ کرنا نہ چاہے تو اُس کی بھاوج پھاٹک پر بزرگوں کے پاس جائے اور کہے میرا دیور اسرائیل میں اپنے بھائی کا نام بحال رکھنے سے انکار کرتا ہے اور میرے ساتھ دیور کا حق ادا کرنا نہیں چاہتا ۔
۸ تب اُسکے شہر کے بزرگ اُس آد می کو بُلوا کر اُسے سمجھائیں اور اگر وہ اپنی بات پر قائم رہے اور کہے کہ مجھ کو اُس سے بیاہ کرنا منظور نہیں ۔
۹ تو اُسکی بھاوج بزرگوں کے سامنے اُس کے پاس جا کر اُس کے پاوں کی جُوتی اُتارے اور اُس کے منہ پر تھوک دے اور یہ کہے کہ جو آدمی اپنے بھائی کا گھر آباد نہ کرے اُس سے ایسا ہی کیا جائے گا ۔
۱۰ تب اسرائیلیوں میں اُسکا نام یہ پڑ جائے گا کہ یہ اُس شخص کا گھر ہے جسکی جوتی اُتاری گئی تھی ۔
۱۱ جب دو شخص آپس میں لڑتے ہوں اور ایک کی بیوی کے پاس جا کر اپنے شوہر کو اُس آدمی کے ہاتھ سے چھڑانے کے لیے جو اُسے مارتا ہو اپنا ہاتھ بڑھائے اور اُسکی شرمگاہ کو پکڑ لے ۔
۱۲ تو تُو اُسکا ہاتھ کاٹ ڈالنا او ر ذرا ترس نہ کھانا ۔
۱۳ تُو اپنے تھیلے میں طرح طرح کے چھوٹے اور بڑے باٹ نہ رکھنا ۔
۱۴ تیرا باٹ پورا اور ٹھیک اور تیرا پیمانہ بھی پورا اور ٹھیک ہو تاکہ اُس ملک میں جسے کداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے تیری عمر دراز ہو ۔
۱۵
۱۶ اِس لیے کہ وہ سب جو ایسے ایسے فریب کے کام کرتے ہیں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں ۔
۱۷ یاد رکھنا کہ جب تُم مصر سے نکل کر آ رہے تھے تو راستہ میں عمالیقیوں نے تیرے ساتھ کیا کِیا ۔
۱۸ کیونکہ وہ راستہ میں تیرے مقابل آئے اور گو تُو تھکا ماندہ تھا تو بھی اُنہوں نے اُنکو جو کمزور اور سب سے پیچھے تھے مارا اور اُنکو خدا کا خوف نہ آیا ۔
۱۹ اِس لیے جب خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تیرے سب دشمنوں سے جو آس پاس ہیں تجھ کو راحت بخشے تو تو عمالیقیوں کے نام و نشان کو صفحہ روز گار سے مٹا دینا ۔ تو اِس بات کو نہ بھولنا۔