ح۔ پاک اور ناپاک کھانے (۱۴:۱۔۲۱)
۱۴:۱،۲اِن دو آیات میں مُردوں پر ماتم کرتے ہوئے، بت پرستوں کی طرح اپنے جسم کو نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہودیوں کا جسم کے بارے میں غیر اقوام کی نسبت ایک اعلیٰ نظریہ تھا کہ یہ خدا کی تخلیق ہے۔
۱۴:۳۔۲۱ الف اِس پارے میں پاک اور ناپاک کھانوں کے موضوع کو دُہرایا گیا ہے خواہ جانور (آیات ۴۔۸)، مچھلیاں (آیات ۹،۱۰)، اُڑنے والے کیڑے مکوڑے (آیت ۱۹)، یا پرندے (آیات ۱۱۔۱۸،۲۰) ہوں۔ (سوائے آیت ۱۹ کے، دیکھیں احبار ۱۱:۲۱،۲۲)۔ بالکل ایسی ہی فہرست احبار ۱۱ باب میں دی گئی ہے۔ دونوں فہرستیں اپنی تفصیل کے لحاظ سے ایک جیسی نہیں ہیں اور نہ ہی اِن کا یہ مقصد تھا۔ بعض ایک جانور حفظانِ صحت کے لحاظ سے ناپاک تھے، اور بعض ایک اِس لئے ناپاک تھے کیونکہ وہ بت پرستی کی رسومات میں استعمال کئے جاتے تھے اور غیر اقوام اُن کی پرستش کرتی تھیں۔ کھانوں کے بارے میں عہد جدید کے اصول مرقس ۷:۱۵؛ رومیوں ۱۴:۱۴ اور ۱۔تیمتھیس۴:۳۔۵ میں درج ہیں۔ غیر قوموں کو تو مردہ جانور کا گوشت کھانے کی اِجازت تھی، جب کہ یہودیوں کو اِس کی قطعاً اِجازت نہیں تھی (آیت ۲۱ الف)۔ ایسا کرنا اِستثنا ۱۲:۲۳ ب کی خلاف ورزی کرنے کے مترادف تھا، کیونکہ اِس کا مناسب طریقے سے خون نہیں بہایا گیا ہوتا تھا۔
۱۴:۲۱ب بکری کے بچے کے گوشت کو اُسی برتن میں اُبالنے کی اِجازت نہیں تھی جس میں اُس کی ماں کا دودھ اُبالا جا رہا تھا (آیت ۲۱ ب)۔ (یوں لگتا ہے کہ یہ ایک کنعانی رسم تھی۔ توریت کی کتاب میں اِس کی تین بار ممانعت کی گئی ہے)۔ فطری نقطۂ نگاہ سے یہ اصول دودھ میں تیار شدہ کھانوں کے خراب ہونے سے لوگوں کو زہریلے مادوں سے محفوظ رکھے گا۔ مزید برآں ایک اَور وجہ بھی ہے کہ جب دونوں کو اِکٹھا کھایا جائے تو کیلشیم کی مقدار ختم ہو جاتی ہے۔ اِس پابندی کے تحت ربیوں نے یہ اصول مرتب کر لئے ہیں کہ دودھ اور گوشت کے کھانوں کے لئے مختلف برتن استعمال کئے جاتے ہیں۔
ط۔ دَہ یکی دینا (۱۴:۲۲۔۲۹)
۱۴:۲۲۔۲۷ آیات ۲۲۔۲۹ میں دہ یکی کے موضوع پر بات کی گئی ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اِس حصے کا تعلق پہلی دہ یکی سے نہیں ہے (احبار ۲۷:۳۰۔۳۳) جس پر صرف اور صرف خداوند کا حق تھا اور جو لاویوں کو دی جاتی تھی اور اِسرائیلیوں کو اِسے کھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ بلکہ اِس کا ثانوی دہ یکی سے تعلق ہے جو تہواری دہ یکی کہلاتی ہے، جس کا کچھ حصہ دہ یکی دینے والا خود بھی کھا سکتا تھا۔ عمومی طور پر یہ ثانوی دہ یکی اُس مقام پر لائی جاتی تھی جسے خدا نے اپنی پرستش کے مرکز کے طور پر مقرر کیا تھا۔ تاہم اگر دہ یکی دینے والا اُس جگہ سے بہت دُور ہوتا جہاں خدا اپنا نام قائم کرتا تو وہ چیزوں کو روپے کے بدلے بیچ دیتا، اور خداوند کے گھر میں روپے لے کر جاتا اور وہاں کھانے پینے کی چیزیں خرید کر خداوند کے حضور خوشی مناتا۔ آیت ۲۶ میں ملاحظہ فرمایئے کہ بائبل میں کُلی پرہیز کی تعلیم نہیں دی گئی، بلکہ یہ اعتدال پسندی، ضبطِ نفس اور نشے کا عادی نہ ہونے کی تعلیم دیتی ہے اور یہ ہر ایک اُس بات سے پرہیز سکھاتی ہے جو دوسروں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہو۔ مے یا شراب میں یہ فرق ہے کہ مَے انگور سے تیار کی جاتی ہے اور شراب اناج، پھلوں یا شہد سے تیار کی جاتی ہے۔ دہ یکی دینے والا دو سال تک یا تو اپنی دہ یکی یا اُس کے برابر رقم لے کر جاتا۔
۱۴:۲۸، ۲۹ تیسرے سال وہ دہ دیکی کو گھر میں لاویوں، اجنبیوں، یتیموں اور بیواؤں کو کھلاتا۔ ایک بار ہم پھر دیکھتے ہیں کہ جہاں تک خداوند کا تعلق ہے، غریب اور حاجت مند اُس کی سب سے بڑی ترجیح ہیں۔ ’’جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے خداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پائے گا‘‘ (اَمثال ۱۹:۱۷)۔
مقدس کتاب
۱ تُم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو ۔ تُم مُردوں کے سبب سے اپنے آپ کو زخمی نہ کرنا اور نہ اپنے ابرو کے بال منڈوانا ۔
۲ کیونکہ تُو خداوند اپنے خدا کی مُقدس قوم ہے اور خداوند نے تجھ کو روی زمین کی اور سب قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ تُو اُسکی خاص قوم ٹھہرے ۔
۳ تو کسی گھنونی چیز کو مت کھانا
۴ جن چوپایوں کو تُم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں یعنی گا۴ے بیل اور بھیڑ بکری۔
۵ اور ہرن اور چکارا اور چھوٹا ہرن اور بُز کوہی اور سابرادر نیل گائے اور جنگلی بھیڑ ۔
۶ اور چوپایوں میں سے جس جس کے پاوں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی بھی کرتا ہو تُم اُسے کھا سکتے ہو ۔
۷ لیکن اُن میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا اُنکے پاوں چرے ہوئے ہیں تُم اُنکو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا کیونکہ یہ جُگالی کرتے ہیں لیکن اِنکے پاوں چرے ہوئے نہیں ہیں سو یہ تمہارے لیے ناپاک ہیں ۔
۸ اور سوار تمہارے لیے اِس سبب سے ناپاک ہے کہ اُسکے پاوں تو چِرے ہوئے ہیں پر و ہ جگالی نہیں کرتا ۔ تُم نہ تو اُنکا گوشت کھانا اور نہ اُنکی لاش کو ہاتھ لگانا ۔
۹ آبی جانوروں میں سے تُم اُن ہی کو کھانا جنکے پر اور چھلکے ہوں ۔
۱۰ لیکن جس کے پر اور چھلکے نہ ہوں تُم اُسے مت کھانا ۔ وہ تمہارے لیے ناپاک ہے ۔
۱۱ پاک پرندوں میں سے تُم جسے چاہو کھا سکتے ہو ۔
۱۲ لیکن اِن میں سے تُم کسی کو نہ کھانا یعنی عقاب اور استخوان خوار اور بحری عقاب ۔ اور چیل اور باز اور گدھ اور اُنکی اقسام ۔
۱۳ ہر قسم کا کوا۔
۱۴ اور شُتر مرغ اور چغد اور کوکل اور قسم قسم کے شاہین ۔
۱۵
۱۶ اور بُوم اور اُلو اور قاز۔
۱۷ اور حواصل اور خم اور ہڑگیلا ۔
۱۸ اور لقلق اور ہر قسم کا بگلا اور ہُد ہد اور چمگادڑ۔
۱۹ اور سب پردار رینگنے والے جاندار تمہارے لیے ناپاک ہیں ۔ وہ کھائے نہ جائیں ۔
۲۰ اور پاک پرندوں میں سے تُم جسے چاہو کھاو۔
۲۱ جو جانور آپ ہی مر جائے تُم اُسے کھانا ۔ تُو اُسے کسی پردیسی کو جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کھانے کو دے سکتا ہے یا اُسے کسی اجنبی آدمی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے کیونکہ تُو خداوند اپنے خدا کی مُقدس قوم ہے ۔ تُو حلوان کو اُسی کی ماں کے دودھ میں نہ اُبالنا ۔
۲۲ تُو اپنے غلہ میں سے جو سا ل بسال تیرے کھتیوں میں پیدا ہو دہ یکی دینا ۔
۲۳ اور تُو خداوند اپنے خدا کے حضور اُسی مقام میں جسے وہ اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے اپنے غلہ اور مَے اور تیل کی دہ یکی کو اور اپنے گائے بیل اور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو کھانا تاکہ تُو ہمیشہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا سیکھے ۔
۲۴ اور اگر وہ جگہ جسکو خداوند تیرا خدا اپنے نام کو وہاں قائم کرنے کے لیے چُنے تیرے گھر سے بہت دور ہو اور راستہ بھی اِس قدر لمبا ہو کہ تُو اپنی دہ یکی کو اُس حال میں جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو برکت بخشے وہا ں تک نہ لیجا سکے ۔
۲۵ تو تُو اُسے بیچ کر روپے کو باندھ ہاتھ میں لیے وئے اُس جگہ چلے جانا جسے خداوند تیرا خدا چُنے ۔
۲۶ اور اِس روپے سے جو کچھ تیرا جی چاہے خواہ گائے بیل یا بھیڑ بکری یا مَے یا شراب مول لیکر اُسے اپنے گھرانے سمیت وہاں خداوند اپنے خدا کے حضور کھانا اور خوشی منانا ۔
۲۷ اور لاوی کو جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہے چھوڑ نہ دینا کیونکہ اُسکا تیرے ساتھ کوئی حصہ یا میراث نہیں ہے ۔
۲۸ تین تین بر س کے بعد تُو تیسرے برس کے مال کی ساری دہ یکی نکالکر اُسے اپنے پھاٹکوں کے اندر اکٹھا کرنا ۔
۲۹ تب لاوی جسکا تیرے ساتھ کوئٰ حصہ یا میراث نہیں اور پردیسی اور یتیم اور بیوہ عورتیں جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہوں آئیں اور کھا کر سیر ہوں تاکہ خداوند تیا خدا تیرے سب کاموں میں جنکو تُو ہاتھ لگائے تُجھ کو برکت بخشے ۔