ی۔ مقروضوں اور غلاموں سے سلوک (۱۵باب)
۱۵:۱۔۳ ہر ساتویں سال کے آخر پر بنی اِسرائیل میں ایک دوسرے کے تمام قرض ختم کر دیئے جاتے۔ ساتویں سال کا تعلق غالباً سبتی سال سے ہے۔ یہودیوں کی طرف سے غیر قوموں کو دیئے ہوئے قرض منسوخ نہیں ہوتے تھے بلکہ مذکورۂ بالا قانون کا اِطلاق یہودیوں کے آپس میں دیئے ہوئے قرض پر ہوتا ہے۔ میتھیو ہنری اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:
’’ہر ساتواں سال چھٹکارے کا سال ہوتا تھا، جس میں زمین بھی آرام کرتی اور اِس میں ہل نہیں چلایا جاتا تھا، اور غلاموں کو اُن کی خدمت سے آزاد کر دیا جاتا، اور رحم کے دیگر کاموں میں یہ بھی شامل تھا کہ جو لوگ قرض لیتے اور ساتویں سال سے قبل ادا نہ کر سکتے، اُنہیں اِس سے چھٹکارا دے دیا جاتا، اور اگر وہ ادا کر سکتے تو وہ اپنے ضمیر کے تحت اِسے بعد میں اِدا کرنے کے پابند تھے، تاہم قرض دینے والا قانونی طور پر اِس کی ادائیگی کا تقاضا نہیں کر سکتا تھا۔ ‘‘
سات کا عدد بائبل میں تکمیل و کاملیت کا عدد ہے۔ جب وقت پورا ہو گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیج کر اُس کی معرفت گناہوں کی معافی کا پیغام دیا۔ یہ نہ صرف یہودیوں کے لئے بلکہ سب لوگوں کے لئے ’’چھٹکارے کا سال‘‘ (آیت ۳) تھا۔
۱۵:۴۔۶ یوں لگتا ہے جیسے آیت ۴، آیت ۱۱ سے متصادم ہو۔ آیت ۴ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب ملک میں کوئی غریب نہیں ہوں گے، جب کہ آیت ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب لوگ ہر دَور میں موجود ہوں گے۔
بلنجر (Bullinger) کا خیال ہے کہ آیت ۴ کا یہ مطلب ہے کہ ’’تیرے درمیان کوئی کنگال نہ رہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں کہ ہر ساتویں سال وہ اپنے بھائیوں کا قرض معاف کر دیں تاکہ کوئی شخص مسلسل غریب نہ رہے۔ قرض دینے والے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ خدا اُسے بہت زیادہ برکت دے گا۔ آیت ۱۱ میں یہ خیال موجود ہے کہ غریب لوگ ہمیشہ ملک میں موجود ہوں گے، کسی حد تک سزا کے طور پر اور کسی حد تک اِس لئے کہ دوسروں کو اپنے وسائل میں شریک کرنے کا درس دیا جائے۔
۱۵:۷۔۱۱اِس حقیقت کے پیش نظر کہ ساتویں سال تمام قرض معاف ہو جائیں گے کوئی شخص ساتویں سال کے قریب اپنے غریب اِسرائیلی بھائی کو قرض دینے سے اِنکار نہ کرے۔ آیت ۹ کے مطابق اِنکار کرنا بُرا خیال ہے۔ اِس سلسلے میں پوری تاریخ میں یہودی ایک دوسرے کی مالی معاونت کے لئے مشہور ہیں۔ پولس رسول ۲۔کرنتھیوں ۹:۷ میں وہی بات کہتا ہے جو موسیٰ نے آیت ۱۰ میں کہی ہے ’’خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔‘‘ یہ آیت نہ صرف حکم ہے بلکہ ایک وعدہ بھی ہے، کیونکہ خدا کسی اِنسان کا مقروض نہیں ہے۔ ’’فیاض دل موٹا ہو جائے گا اور سیراب کرنے والا خود بھی سیراب ہو گا‘‘ (اَمثال ۱۱:۲۵)۔
۱۵:۱۲۔۱۵ لازم تھا کہ عبرانی غلام کو ساتویں سال آزاد کر دیا جائے (آیات ۱۲۔۱۸)، بلکہ اُسے آزاد کرنے سے پہلے فیاض دلی سے اُس کی مالی مدد کی جائے۔ جب خدا اِسرائیلیوں کو مصر کی غلامی سے نکال کر لایا تو اُس نے اُنہیں کثرت سے دیا، اور یہی وجہ تھی کہ آزاد کیا ہوا غلام خالی ہاتھ نہ جائے۔ خداوند کی خواہش ہے کہ اُس کے لوگ اُس کے نمونے کی تقلید کرتے ہوئے اِس سنہری اصول پر عمل کریں۔ ’’خداوند تیرے خدا نے جیسی برکت تجھ کو دی ہو اُس کے مطابق اُسے دینا۔‘‘
۱۵:۱۶۔۱۸ اِس کے برعکس، غلام آزادی سے اِنکار کر کے ’’دائمی طور پر محبت کا غلام‘‘ بننا منتخب کر سکتا تھا۔ اِس صورت میں وہ اپنے مالک کے دروازے پر سُتاری سے کان چھدوانے سے اِس کا اِظہار کر سکتا تھا۔ محبت کے بندھن میں بندھا ہوا غلام دو مزدوروں کے برابر تھا۔
۱۵:۱۹۔۲۳ آیت ۱۹ سے شروع کر کے ۱۶:۱۷ تک بعض ایک کاموں کے بارے میں کچھ قوانین ہیں جن کی تعمیل اُس جگہ لازم تھی جہاں یہوواہ نے اپنا نام قائم کیا تھا:
- پہلوٹھوں کو مقدس کرنا (۱۵:۱۹۔۲۳)
- فسح اور بے خمیری روٹی کی عید (۱۶:۱۔۸)
- ہفتوں کی عید یا پنتکست (۱۶:۹۔۱۲)
- خیموں کی عید (۱۶:۱۳۔۱۷)
پاک جانوروں کے پہلوٹھوں کو خداوند کے حضور قربانی کے طور پر گزرانا جاتا۔ اِس موقعے پر لوگوں کو اپنا حصہ کھانے کی اِجازت تھی، لیکن اُنہیں خون کھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ لازم تھا کہ یہ جانور بے عیب اور بے داغ ہوں۔ بہترین چیز ہی خدا کے لائق ہے۔
مقدس کتاب
۱ ہر سات سال کے بعد تُو چھٹکارادیا کرنا ۔
۲ اور چھٹکارادینے کا طریقہ یہ ہو کہ اگر کسی نے اپنے پروسی کو کچھ قرض دیا ہو تو وہ اُسے چھوڑ دے اور اپنے پڑوسی سے یا بھائی سے اُسکا مطالبہ نہ کرے کیونکہ خداوند کے نام سے اِس چھٹکارے کا علان ہو ا ہے ۔
۳ پردیسی سے تُو اُسکا مطالبہ کر سکتا ہے پر جو کچھ تیرا تیرے بھائی پر آتا ہو اُسکی طرف سے دست بردار ہو جانا ۔
۴ تیرے درمیان کوئی کنگال نہ رہے کیونکہ خداوند تجھ کو اِس ملک میں ضرور برکت بخشے گا جسے خود خداوند تیرا خدا میراث کے طور ر تُجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے ۔
۵ بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات مانکر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں ۔
۶ کیونکہ خداوند تیرا خدا جیسا اُس نے تُجھ سے وعدہ کیاہے تُجھ کو برکت بخشے گا اور تُو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر تُجھ کو اُن سے قرض لینا نہ پڑے گا اور تُو بہت سی قوموں پر حکمرانی کرے گا پر وہ تُجھ پر حکمرانی کرنے نہ پائیں گی ۔
۷ جو ملک خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے اگر اُس میں کہیں تیرے پھاٹکوں کے اندر تیرے بھائیوں میں سے کوئی مفلس ہو تو تُو اپنے اُس مفلس بھائی کی طرف سے نہ اپنا دل سخت کرنا اور نہ ہی اپنی مٹھی بند کر لینا ۔
۸ بلکہ اُسکی احتیاج رفع کرنے کو جو چیز اُسے درکار ہو اُسکے لیے تُو ضرور فراخ دستی سے اُسے قرض دینا ۔
۹ خبردار رہنا کہ تیرے دل میں یہ بُرا خیال نہ گذرنے پائے کہ ساتواں سال جو چھٹکارے کا سال ہے نزدیک ہے اور تیرے مفلس بھائی کی طرف سے تیری نظر بد ہو جائے اور تُو اُسے کچھ نہ دے اور وہ تیرے خلاف خداوند سے فریا د کرے اور یہ تیرے لیے گناہ ٹھہرے ۔
۱۰ بلکہ تُجھ کو اُسے ضرور دینا ہو گا اور اُسکو دیتے وقت تیرے دل کو بُرا بھی نہ لگے اِس لیے کہ ایسی بات کے سبب سے خداوند تیرا خدا تیرے سب کاموں میں اور سب معاملوں میں جنکو تُو اپنے ہاتھ میں لیگا تُجھ کو برکت بخشے گا ۔
۱۱ اور چونکہ مُلک میں کنگال سدا پائے جائیں گے اِس لیے میں تُجھ کو حکم کرتا ہوں کہ تُو اپنے مُلک میں اپنے بھائی یعنی کنگالوں اور محتاجوں کے لیے اپنی مٹھی کھلی رکھنا ۔
۱۲ اگر تیر ا کوئی بھائی خواہ وہ عبرانی مرد ہو یا عبرانی عورت تیرے ہاتھ بِکے اور وہ چھ برس تک تیری خدمت کرے تو تُو ساتویں سا ل اُسکو آزاد ہو کر جانے دینا ۔
۱۳ اور جب تُو اُسے آزاد کر کے اپنے پاس سے رخصت کر ے تو اُسے خالی ہاتھ نہ جانے دینا ۔
۱۴ بلکہ تُو اپنی بھیڑ بکری اور کتھے اور کولھہو میں سے دل کھول کر اُسے دینا یعنی خداوند تیرے خدا نے جیسی برکت تجھ کو دی ہو اُس کے مطابق اُسے دینا ۔
۱۵ اور یاد رکھنا کہ ملک مصر میں تُو بھی غلام تھا اور خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو چھڑایا اِسی لیے میں تجھ کو اِس بات کا حکم آج دیتا ہوں ۔
۱۶ اور اگر وہ اِس سبب سے کہ اُسے تجھ سے اور تیرے گھرانے سے محبت ہو اور وہ تیرے ساتھ خوشحا ل ہو تجھ سے کہنے لگے کہ میں تیرے پاس سے نہیں جاتا ۔
۱۷ تو تُو ایک ستاری لیکر اُسکا کان دروازہ سے لگا کر چھید دینا تو وہ سدا تیرا غُلام بنا رہے گا اور اپی لونڈی سے بھی ایسا ہی کرنا ۔
۱۸ اور اگر تُو اُسے آزاد کر کے اپنے پاس سے رخصت کرے تو اُسے مُشکل نہ گرداننا کیونکہ اُس نے دو مزدوروں کے برابر چھ برس تک تیری خدمت کی اور خداوند تیرا خدا تیرے سب کاروبار میں تجھ کو برکت بخشے گا ۔
۱۹ تیرے گائے بیل اور بھیڑ بکریوں میں جتنے پہلوٹھے نر پیدا ہوں اُن سب کو خداوند اپنے خدا کے لیے مقدس کرنا ۔ اپنے گائے بیل کے پہلوٹھے سے کچھ کام نہ لینا اور نہ اپنی بھیڑ بکری کے پہلوٹھے کے بال کترنا ۔
۲۰ تُو اُسے اپنے گھرانے سمیت خداوند اپنے خدا کے حضور اُسی جگہ جسے خداوند چُن لے سال بسال کھایا کرنا ۔
۲۱ اور اگر اُس میں کوئی نقص ہو مثلا وہ لنگڑا یا اندھا ہو یا اُس میں اور کوئی بُرا عیب ہو تو خداوند اپنے خدا کے لیے اُسکی قُربانی نہ گذراننا ۔
۲۲ تو اُسے اپنے پھاٹکوں کے اندر کھانا ۔ پاک اور ناپاک دونوں طرح کے آدمی جیسے چکارے اور ہرن کو کھاتے ہیں ویسے ہی اُسے کھائیں ۔
۲۳ پر اُسکے خون کو ہرگز نہ کھانا بلکہ اُسکو پانی کی طرح زمین پر انڈیل دینا ۔