ص۔ لعنتیں اور برکتیں (ابواب ۲۷،۲۸)
۲۷:۱۔۸ دریائے یردن کو پار کر کے موعودہ ملک میں داخل ہونے کے بعد، بنی اِسرائیل کو پتھروں کی ایک بڑی یاد گار قائم کرنے، اُس پر سفیدی کرنے اور اُس پر شریعت کی ساری باتیں لکھنے کے لئے کہا گیا۔ یہ یادگار کوہِ عیبال پر قائم کرنا تھی اور اِس کے ساتھ ناتراشیدہ پتھروں کا مذبح بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔
۲۷:۹، ۱۰ یہودی کچھ وقت سے خدا کے چنے ہوئے لوگ تھے اور اَب جب کہ وہ ملک میں داخل ہونے کو تھے، وہ خصوصی معنوں میں اُس کی قوم بن گئے۔ جس مہربانی کا اِظہار اُس نے اُن کے ساتھ کیا، لازم تھا کہ وہ بھی اپنی طرف سے محبت سے اُس کی فرماں برداری کریں۔
۲۷:۱۱۔۱۳ چھے قبائل کو مقرر کیا گیا کہ وہ کوہِ گرزیم پر کھڑے ہو کر برکتوں کے جواب میں ’’آمین‘‘ کہیں۔ دوسرے قبائل کو کوہِ عیبال پر کھڑے ہو کر لعنتوں کی تصدیق کرنا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے کہ افرائیم اور منسی کا علیٰحدہ ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ اِس کے بجائے یوسف کے قبیلے کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ روبن اِسرائیل کا پہلوٹھا (جس نے اپنا پیدائشی حق کھو دیا)، اور زبولون (لیاہ کا سب سے چھوٹا بیٹا) لونڈیوں کے بیٹوں کے ساتھ کوہِ عیبال پر تھے۔ پسندیدہ قبائل کوہِ گرزیم پر تھے۔
۲۷:۱۴۔۲۶ لاویوں کو (دیکھیں آیت ۹) دونوں پہاڑوں کے درمیان وادی میں کھڑے ہونا تھا۔ جب وہ برکتوں یا لعنتوں کا اعلان کرتے تو لوگ جواباً ’’آمین‘‘ کہتے۔ آیات ۱۵۔۲۶ میں لعنتوں کا ذکر ہے۔ اِن کا تعلق بت پرستی، والدین کی بے عزتی (آیت ۱۶)، سرحدوں کو سرکانے (آیت ۱۷)، اندھوں کو دھوکا دینے (آیت ۱۸)، غریبوں اور کمزوروں کا اِستحصال کرنے (آیت ۱۹)، گھرانے میں طرح طرح کی زِناکاری (آیات ۲۰،۲۲،۲۳)، چوپائے سے جماع کرنے (آیت ۲۱)، اپنے ہمسائے کو خفیہ طور پر قتل کرنے، بے گناہ کا رشوت لے کر قتل کرنے (آیت ۲۵)، خدا کی شریعت کی نافرمانی کرنے سے (آیت ۲۶) ہے۔ اِس تقریب کا تواریخی بیان یشوع ۸:۳۰ اور مابعد کی آیات میں ہے۔ ملاحظہ فرمایئے کہ یشوع نے موسیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر کس قدر دھیان سے عمل کیا۔
یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ باب ۲۷ میں صرف لعنتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس کا کوئی اَور طریقِ کار ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ پولس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں‘‘ (گلتیوں ۳:۱۰)۔ مطلب نہ صرف یہ تھا کہ شریعت کی خلاف ورزی کریں گے، بلکہ وہ اصولی طور پر شریعت کے ماتحت تھے۔
مقدس کتاب
۱ پھر موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے ساتھ ہو کر لوگوں سے کہا کہ جتنے حکم آج کے دن میں تُم کو دیتا ہوں اُن سب کو ماننا ۔
۲ اور جس دن تُم یردن پار ہو کر اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچو تو تُو بڑے بڑے پتھر کھڑے کر کے اُن پر چُونے کی استرکاری کرنا ۔
۳ اور پار ہو جانے کے بعد اِس شریعت کی سب باتیں اُن پر لکھنا تاکہ اُس وعدہ کے مطابق جو خداوند تیرے باپ دادا کے خدا نے تجھ سے کیا اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا یعنی اُس ملک میں جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے تو پہنچ جائے ۔
۴ سو تُم یردن کے پار ہو کر اُن پتھروں کو جنکی باب نمبرت میں تُم کو آج کے دن حکم دیتا ہوں کوہِ عیبال پر نصب کر کے اُن پر چونے کی استرکاری کرنا ۔
۵ اور وہیں تُو خداوند اپنے خدا کے لیے پتھروں کا ایک مذبح بنانا اور لوہے کا کوئی اوزار اُن پر نہ لگانا ۔
۶ اور تُو خداوند اپنے خدا کے لیے سوختنی قُربانیاں گذراننا ۔
۷ اور وہیں سلامتی کی قُربانیاں چڑھانا اور اُنکو کھانا اور خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا ۔
۸ اور اُن پتھروں پر اِس شریعت کی سب باتیں صاف صاف لکھنا ۔
۹ پھر موسیٰ اور لاوی کاہنوں نے سب بنی اسرائیل سے کہا اے اسرائیل ! خاموش ہو جا اور سُن ۔ تُو آج کے دن خداوند اپنے خدا کی قوم بن گیا ۔
۱۰ سو تُو خداوند اپنے خدا کی بات سُننا اور اُسکے سب آئین اور احکام پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں عمل کرنا ۔
۱۱ اور موسیٰ نے اُسی دن لوگوں سے تاکید کر کے کہا کہ ۔
۱۲ جب تُم یردن پار ہو جاو تو کوہ کرزیم پر شعمون اور لاوی اور یہوداہ اور اِشکار اور یوسف اور بنیمین کھڑے ہوں اور لوگوں کو برکت سُنائیں ۔
۱۳ اور روبن اور جد اور آشر اور زبولون اور دان اور نفتالی کوہِ عیبال پر کھڑے ہو کر لعنت سُنائیں ۔
۱۴ اور لاوی بُلند آواز سے سب اسرائیلی آدمیوں سے کہیں کہ ۔
۱۵ لعنت اُس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اُسکو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے اور سب لوگ جواب دیں اور کہیں آمین ۔
۱۶ لعنت اُس پر جو اپنے باپ یاں ماں کو حقیر جانے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۱۷ لعنت اُس پر جو اپنے پڑوسی کی حد کے نشان کو ہٹائے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۱۸ لعنت اُس پر جو اندھے کو راستہ سے گمراہ کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۱۹ لعنت اُس پر جو پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے مقدمہ کو بگاڑے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۰ لعنت اُس پر جو اپنے باپ کی بیوی سے مباشرت کرے کیونکہ وپ اپنے باپ کے دامن کو بے پردہ کرتا ہے اور سب لوگ کہیں آمین
۲۱ لعنت اُس پر جو کسی چوپائے کے ساتھ جماع کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۲ لعنت اُس پر جو اپنی بہن سے مباشرت کرے خواہ وہ اُسکے باپ کی بیٹی ہو خواہ ماں کی اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۳ لعنت اُس پر جو اپنی ساس سے مباشرت کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۴ لعنت اُس پر جو اپنے ہمسایہ کو پوشیدگی میں مارے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۵ لعنت اُس پر جو بے گناہ کو قتل کرنے کے لیے انعام لے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
۲۶ لعنت اُس پر جو اِس شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے اُن پر قائم نہ رہے اور سب لوگ کہیں آمین ۔