(۱۱) طلاق اور دوبارہ شادی (۲۴:۱۔۴)
کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی بے ہودہ بات کی وجہ سے طلاق دے سکتا تھا اور طریقِ کار یہ تھا کہ وہ طلاق نامہ لکھ کر اُسے دے دے۔ تب وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کر سکتی تھی۔ لیکن اگر اُس کا دوسرا خاوند مر جاتا یا اُسے طلاق دے دیتا تو پہلا خاوند اُس سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتا تھا۔ یہوواہ نے اِسرائیل کو گویا طلاق نامہ دیا (یرمیاہ ۳:۱۔۸)، تاہم وہ مستقبل میں اُس کو اُس کی بے وفائی سے پاک صاف کر کے پھر واپس لے لے گا۔ خدا کی محبت کی گہرائیوں کا اندازہ لگائیں، وہ ناقابلِ محبت سے محبت کرنے کے لئے کس قدر اِنکساری کا اِظہار کرتا ہے۔
(۱۲) مختلف سماجی قوانین (۲۴:۵۔۲۵:۴)
۲۴:۵ جس شخص نے نئی نئی شادی کی ہو، اُسے پہلے سال میں جنگ میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس سے اُسے وقت ملتا کہ وہ اپنے ازدواجی بندھنوں کو مضبوط کرے اور اُس کی اولاد ہو۔ اگر اُسے جنگ کے لئے جانا پڑتا اور وہ مارا جاتا تو اُس کا نام بنی اِسرائیل میں سے مٹ جاتا جب تک کہ اُس کا کوئی قریبی رِشتے دار اُس کے لئے اولاد پیدا نہ کرے۔ یہ ’’چھڑانے والا رشتے دار‘‘ قریبی رِشتے دار ہوتا جو اُس بیوہ سے شادی کرنے کے قابل اور رضامند ہوتا۔ اِس شادی سے پیدا ہونے والا پہلا لڑکا، پہلے خاوند کا وارث ہوتا۔ اِس سے خاندان کا نام چلتا اور زمین بھی خاندان میں رہتی۔
۲۴:۶ چونکہ چکی کا پاٹ کسی شخص کا ذریعہ معاش ہوتا، اِس لئے کسی کاروباری معاہدے میں اُسے گروی نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ چکی کے نچلے یا اُوپر کے پاٹ کو گروی رکھنے سے وہ شخص اناج پیسنے سے محروم ہو جاتا۔
۲۴:۷ اغوا کرنے والا یا غلام بنا کر بیچنے والا موت کی سزا کا مستحق تھا۔
۲۴:۸،۹ لاویوں کو دی ہوئی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے کوڑھ پھیلنے کے واقعے سے خصوصی طور پر محتاط رہنے کے لئے کہا گیا۔ مریم کے واقعے کو اِنتباہ کے طور پر پیش کیا گیا۔
۲۴:۱۰۔۱۳ کسی شخص کو گِرَو کی چیز لینے کے لئے کسی کے گھر میں گھسنے کی اِجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی اِتنا غریب ہوتا کہ وہ اپنے کپڑے گِروی رکھ دیتا تو یہ اُسے ہر شام واپس لوٹا دیئے جاتے تاکہ وہ اُن میں سو سکے۔
۲۴:۱۴،۱۵ کسی مزدُور کی اُجرت کو فوری طور پر ادا کرنے کا حکم تھا۔
۲۴:۱۶ کسی شخص کو کسی دوسرے کے گناہ کی خاطر سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی۔
۲۴:۱۷۔۲۲ پردیسی، یتیم اور بیوہ کے مقدمے میں اِنصاف برتنے کے لئے کہا گیا۔ کسی کھیت کی فصل کو پورے طور پر نہ کاٹا جائے۔ غریبوں اور بے کسوں کے لئے کھیت میں فصل کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جاتا۔ اِسی اُصول کا اِطلاق زیتون اور انگور کے درختوں پر بھی ہوتا۔ رونلڈ سائیڈر اپنے تاثرات یوں پیش کرتا ہے:
’’ مصر میں اُن کی غربت اور ظلم کی یاد اُنہیں آمادہ کرتی کہ وہ پردیسیوں، بیواؤں اور یتیموں کے لئے فیاضی سے کھیت کی فصل رکھ چھوڑیں۔‘‘
جب جان نیوٹن کو نئی پیدائش کا تجربہ ہوا، تو اُس نے آیت ۲۲ کو جلی حروف میں لکھ کر اپنی بیٹھک میں لٹکا دیا تاکہ یہ مسلسل اُسے یاد دہانی کراتی رہے۔
مقدس کتاب
۱ اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اُس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اُس عورت کی طرف اُسکی التفات نہ رہے تو وہ اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے ۔
۲ اور جب وہ اُس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہو سکتی ہے ۔
۳ پر اگر دوسرا شوہر بھی اُس سے نا خوش رہے اور اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے یا وہ دوسرا شوہر جس نے اُس سے بیاہ کیا ہو مر جائے۔
۴ تو اُس کا پہلا شوہر جس نے اُسے نکال دیا تھا اُس عورت کے ناپاک ہو جانے کے بعد پھر اُس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیونکہ ایسا کام خداوندکے نزدیک مکروہ سو تُو اُس ملک کو جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے گنہگار نہ بنانا ۔
۵ جب کسی نے کوئی نئی عورت بیاہی ہو تو وی جنگ کے لیے نہ جائے اور نہ کوئی کام اُس کے سپرد ہو وہ سال بھر تک اپنے ہی گھر میں آزاد رہ کر اپنی بیاہی ہوئی بیوی کو خوش رکھے ۔
۶ کوئی شخص چکی کو یا اُس کے اوپر کے پاٹ کو گرو نہ رکھے کیونکہ یہ تو گویا آدمی کی جان کو گرو رکھنا ہے ۔
۷ اگر کوئی شخص اپنے اسرائلی بھائیوں میں سے کسی کو غلام بنائے یا بیچنے کی نیت سے چُراتا ہو ا پکڑا جائے تو وہ چور مار ڈالا جائے یوں تُو ایسی بُرائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا ۔
۸ تو کوڑھ کی بیماری کی طرف سے ہوشیا ر رہنا اور لاوی کاہنوں کی سب باتوں کو جو وہ تُم کو بتائیں جانفشانی سے ماننا اور اُنکے مطابق عمل کرنا جیسا میں نے اُنکو حکم کیا ہے ویسا ہی دھیان دیکر کرنا ۔
۹ تُو یاد رکھنا کہ خداوند تیرے خدا نے جب تُم مصر سے نکل کر آرہے تھے تو راستہ میں مریم سے کیا کِیا ۔
۱۰ جب تُو اپنے بھائی کو کچھ قرض دے تو گِرو کی چیز لینے کو اُسکے گھر میں نہ گھُسنا ۔
۱۱ تُو باہر ہی کھڑے رہنا اور وہ شخص جسے تُو قرض دے خود گِرو کی چیز باہر تیرے پاس لائے ۔
۱۲ اور اگر وہ شخس مسکین ہو تو اُسکی گِروو کی چیز کو پاس رکھ کر سو نہ جانا ۔
۱۳ بلکہ جب آفتاب غروب ہونے لگے تو اُسکی چیز اُسے پھیر دینا تاکہ وہ اپنا اوڑھنا اوڑھکر سوئے اور تجھ کو دعا دے اور یہ بات تیرے لیے خداوند تیرے خدا کے حضور راستبازی ٹھہرے گی ۔
۱۴ تو اپنے غریب اور محتاج خادم پر ظُلم نہ کرنا خواہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہو خوا ہ اُن پردیسیوں میں سے جو تیرے مُلک کے اندر تیری بستیوں میں رہتے ہوں ۔
۱۵ تُو اُسی دن اِس سے پہلے کہ آفتاب غروب ہو اُس کی مزدوری اُسے دینا کیونکہ وہ غریب ہے اور اُس کا دل مزدوری میں لگا رہتا ہے ۔ تا نہ ہو کہ وہ خداوند سے تیرے خلاف فریاد کرے اور یہ تیرے حق میں گناہ ٹھہرے ۔
۱۶ بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں ہر ایک اپنے ہی گناہ سے سبب سے مارا جائے ۔
۱۷ تو پردیسی یا یتیم کے مقدمہ کو نہ بگاڑنا اور نہ بیوہ کے کپڑے کو گرو رکھنا ۔
۱۸ بلکہ یاد رکھنا کہ تُو مصر میں غلام تھا اور خداوند تیرے خدا نے تجھ کو وہاں دے چھڑایا اِسی لیے میں تجھ کو اِس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔
۱۹ جب تُو اپنے کھیت کی فصل کاٹے اور کوئی پولا بھول سے کھیت میں رہ جائے تو اُس کے لینے کو واپس نہ جانا وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے تاکہ خداوند تیرا خدا تیرے سب کاموں میں جن کو تُو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت بخشے ۔
۲۰ جب تُو اپنے زیتون کے درخت کو جھاڑے اُس کے بعد اُس کی شاخوں کو دوبارہ نہ جھاڑنا بلکہ وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے ۔
۲۱ جب تُو اپنے تاکستان کے انگوروں کو جمع کرے تو اُس کے بعد اُس کا دانہ دانہ نہ توڑ لینا وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے ۔
۲۲ اور یاد رکھنا کہ تُو ملک مصر میں غلام تھا اِسی لیے میں تجھ کو اِس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔