ع۔ مختلف قوانین (ابواب ۲۱۔۲۵)
(۱) نامعلوم قتل کے لئے کفارہ (۲۱:۱۔۹)
اگر ملک میں کسی مقتول کی لاش ملے اور قاتل کا پتا نہ چل سکے تو وہاں کے قریبی شہر کے بزرگ اِس کے لئے کفارہ دیں۔ وہ بہتے پانی کی وادی میں ایک بچھیا لاتے اور وہاں اِسے ذبح کرتے۔ وہ بچھیا پر اپنے ہاتھ دھوتے، وہ اپنی بے گناہی کا اِقرار کرتے کہ اِس قتل کا جرم ہمارے ذِمے نہ لگایا جائے۔ گو اِنفرادی جرم کا تعین نہ ہو سکتا تاہم ایک اِجتماعی جرم تھا جس کے کفارے کی ضرورت تھی، ملک کو خون کی ناپاکی سے صاف کرنا تھا۔ یہ قریب ترین شہر کی ذمہ داری تھی۔
کسی نے آیات ۱۔۹ کے بارے میں کہا ہے کہ مسیح کی موت کے سلسلے میں اِسرائیل کے ہاتھ خون آلودہ ہیں اور راست طریقے سے اُنہیں پاک صاف کرنے کی ضرورت ہے۔
(۲) جنگ کی قیدی خواتین (۲۱:۱۰۔۱۴)
ایک اِسرائیلی کو جنگ میں قید کی ہوئی خوبصورت عورت سے شادی کرنے کی اِجازت تھی۔ لیکن وہ اُس کی رسمی طہارت اور علیٰحدگی کے بعد ہی یہ قدم اُٹھا سکتا تھا (لیکن اِس پارے کا اطلاق مُلکِ کنعان کی عورت پر نہیں ہوتا)۔ یہ شادی آزمائشی مدت کی ماہیت کی حامل تھی، اگر وہ اُس سے خوش نہ ہوتا تو وہ بالآخر اُسے چھوڑ سکتا تھا۔ تاہم وہ اُسے بیچ نہیں سکتا تھا اور نہ اُسے اُس کے ساتھ تشدد آمیز سلوک کرنے کی ہی اِجازت تھی۔
(۳) پہلوٹھے کے حقوق (۲۱:۱۵۔۱۷)
غیر محبوبہ بیوی سے پہلوٹھے کو اُس کے پیدائشی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ آیات اِس بات کی تصدیق نہیں کرتیں کہ خدا کثرتِ ازواج کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، بلکہ صرف اِس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ کثرتِ ازواج میں بھی پہلوٹھے کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ بعض اوقات خدا نے اپنے مطلق العنان فیصلے سے خاندان کے پہلوٹھے کو چھوڑ کر چھوٹے کو برکت دی مثلاً یعقوب اور عیسو، افرائیم اور منسی۔ تاہم یہ عام اُصول سے مُستثنیٰ قرار دیا گیا، یہ خدا کے اِنتخاب پر مبنی تھا۔ عام اُصول یہی تھا جس کا یہاں بیان کیا گیا ہے۔
(۴) ضدی اور گردن کش بیٹے (۲۱:۱۸۔۲۱)
اگر شہر کے بزرگ کسی باغی بیٹے کو مجرم پائیں تو اُسے سنگسار کیا جاتا تھا۔ اِس کا لوقا ۱۵ باب میں تائب مسرف بیٹے سے موازنہ کریں جس کا پُرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔
(۵) پھانسی پانے والے مجرموں کی لاشیں (۲۱:۲۲،۲۳)
یہ متن فی الواقع مسیح کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ گو وہ بے گناہ تھا، اُسے لکڑی پر لٹکایا گیا۔ وہ اُس لعنت کو برداشت کر رہا تھا جس کے ہم مستحق تھے۔ اُس کی لاش کو رات بھر صلیب پر لٹکے رہنے کی اِجازت نہ دی گئی (دیکھیں یوحنا ۱۹:۳۱)۔
مقدس کتاب
۱ اگر اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اُسکا قاتل کون ہے ۔
۲ تو تیرے بزرگ اور قاضی نکل کر اپس مقتول کے گردا گرد کے شہروں کے فاصلہ کو ناپیں ۔
۳ اور جو شہر اُس مقتول کے سب نزدیک ہو اُس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو اور نہ وہ جو۴ے میں جوتی گئی ہو ۔
۴ اور اُس شہر کے بزرگ اُس بچھیا کو بہتے پانی کی وادی میں جس میں نہ ہل چلا ہو اور نہ اُس میں کچھ بویا گیا ہو لے جائیں اور وہاں اپس وادی میں اُس بچھیا کی گردن توڑ دیں ۔
۵ تب بنی لاوی جو کاہن ہیں نزدیک آئں کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُنکو چُن لیا ہے کہ خداوند کی خدمت کریں اور اُسکے نام سے برکت دیا کریں اور اُن ہی کے کہنے کے مطابق ہر جھگڑے اور مار پیٹ کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا کرے ۔
۶ پھر اِس شہر کے سب بزرگ جو اُس مقتول کے سب سے نزدیک رہنے والے ہوں اُس بچھیا کے اوپر جسکی گردن اُس وادی میں توڑی گئی اپنے اپنے ہاتھ دھوئیں ۔
۷ اور یوں کہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ خون نہیں ہوا اور نہ یہ ہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا ہے ۔
۸ سو اے خداوند اپنی قوم اسرائیل کو جسے تُو نے چھڑایا ہے معاف کر اور بے گناہ کے خون کو اپنی قوم اسرائیل کے ذمہ نہ لگا ۔ تب وہ خون اُنکو معاف کر دیا جا۴ے گا ۔
۹ یوں تُو اُس کام کو کر کے جو خداوند کے نزدیک درست ہے بے گناہ کے خون کی جواب دہی کو اپنے اوپر سے دور و دفع کرنا ۔
۱۰ جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو نکلے اور خداوند تیر خدا اُنکو تیرے ہاتھ میں کر دے اور تُو اُنکو اسیر کر لائے۔
۱۱ اور اُن اسیروں میں سے کسی خوبصورت عورت کو دیکھ کر تُو اُس پر فریفتہ ہو جائے اور اُسکو بیاہ لینا چاہیے ۔
۱۲ تو تُو اُسے اپنے گھر لے آنا اور وہ اپنا سر منڈوائے اور اپنے ناخن ترشوائے۔
۱۳ اور اپنی اسیری کا لباس اُتار کر تیرے گھر میں رہے اور ایک مہینہ تک اپنے ماں باپ کے لیے ماتم کرے ۔ اِسکے بعد تُو اُسکے پاس جا کر اُسکا شوہر ہونا اور وہ تیری بیوی بنے ۔
۱۴ اور اگر وہ تجھ کو نہ بھائے تو جہاں وہ چاہے اُسکو جانے دینا لیکن روپے کی خاطر اُسکو ہر گز نہ بیچنا اور اُس سے لونڈی کا سا سلوک نہ کرنا اِس لیے کہ تُو نے اُسکی حرمت لےلی ہے ۔
۱۵ اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہوں اور ایک محبوبہ اور دوسری غیر محبوبہ ہو اور محبوبہ اور غیر محبوبہ دونوں سے لڑکے ہوں اور پہلوٹھا بیٹا غیر محبوبہ سے ہو ۔
۱۶ تو جب وہ اپنے بیٹوں کو اپنے مال کا وارث کرے تو وہ محبوبہ کے بیٹے کو غیر محبوبہ کے بیٹے پر جو فی الحقیقت پہلوٹھا ہے فوقیت دےکر پہلوٹھا نہ ٹھہرائے ۔
۱۷ بلکہ وہ غیر محبوبہ کے بیٹے کو اپنے سب مال کا دُونا حصہ دیکر اُسے پہلوٹھا مانے کیونکہ وہ اُسکی قوت کی ابتدا ہے اور پہلوٹھے کا حق اُسی کا ہے ۔
۱۸ اگر کسی آدمی کا ضدی اور گردن کش بیٹا ہو جو اپنے باپ یا ماں کی بات نہ مانتا ہو اور اُنکے تنبیہ کرنے پر بھی اُنکی نہ سُنتا ہو ۔
۱۹ تو اُسکے ماں باپ اُسے پکڑ کر اور نکالکر اُس شہر کے بزرگوں کے پاس اُس جگہ پر پھاٹک پر ل جائیں ۔
۲۰ اور وہ اُسکے شہر کے بزرگوں سے عرض کریں کہ یہ ہمارا بیٹا ضدی اور گردن کش ہے ۔ یہ ہماری بات نہیں مانتا اور اڑاو اور شرابی ہے ۔
۲۱ تب اُسکے شہر کے سب لوگ اُسے سنگسار کریں کہ وہ مر جائے ۔ یوں تُو ایسی برائی کر اپنے درمیان سے دور کرنا ۔ تب سب اسرائیلی سُن کر ڈر جائیں گے ۔
۲۲ اور اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اُسکا قتل واجب ہو اور تُو اُسے مار کر درخت سے ٹانگ دے ۔
۲۳ تو اُسکی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تُو اُسی دن اُسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے تا نہ ہو کہ تُو اُس ملک کو ناپاک کر دے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو میراث کے طور پر دیتا ہے ۔