استثنا ۳۴

د۔ موسیٰ کا اِنتقال (‏باب ۳۴)‏

۳۴:‏۱۔۸ گو موسیٰ کی رحلت کا بیان کسی اَور نے کیا‏، لیکن اِس حقیقت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ موسیٰ نے باقی توریت کو نہیں لکھا۔ جب موسیٰ نے ملک کو دیکھ لیا‏، تو وہ کوہِ نبو پر وفات پا گیا اور خداوند نے اُسے ایک خفیہ قبر میں دفن کر دیا۔ بلاشبہ اُس کی قبر کو خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں لوگ شریعت دینے والے کا مزار بنا کر وہاں پرستش شروع نہ کر دیں۔ وفات کے وقت موسیٰ کی عمر ایک سو بیس برس تھی‏، لیکن وہ ابھی تک مضبوط‏، چاک و چوبند اور تیز حِس تھا۔ یہ بیان ۳۱:‏۲ کے متضاد نہیں ہے۔ لوگوں کی مزید راہنمائی نہ کرنے کی وجہ جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی۔ خدا نے اُسے بتا دیا تھا کہ اُس کے گناہ کے سبب سے وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کنعان میں نہیں جا سکے گا (‏۳۱:‏۲)‏ حالانکہ وہ جسمانی قوت کے لحاظ سے ایسا کر سکتا تھا۔ 

۳۴:‏۹ تب یشوع نے سپہ سالار کی حیثیت سے اپنے فرائض کو سنبھال لیا۔ گنتی ۲۷:‏۱۸۔۲۳ میں خدا کے کلام کے مطابق موسیٰ نے یشوع کو اپنا جا نشین مقرر کر دیا تھا۔ یوں اُس کا خادم اُس کا جانشین بن گیا۔ یہ موسیٰ کی اِنکساری اور حلم کی مزید گواہی تھی۔ 

۳۴:‏۱۰۔۱۲ موسیٰ کو جس طور سے خراج تحسین پیش کیا گیا‏، بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ تاہم جب یہ آیات لکھی گئیں‏، تو مسیح ابھی ظاہر نہیں ہوا تھا۔ آیت ۱۰ صرف مسیح کی پہلی آمد تک دُرست تھی۔ ’’موسیٰ تو اُس کے سارے گھر میں خادم کی طرح دیانت دار رہا‘‘ (‏عبرانیوں۳:‏۵)‏۔ اپنے گناہ کے سبب وہ مرا‏، اور اُس کی قبر کا کوئی علم نہیں۔ لیکن اُس کا مثیل خداوند یسوع ’’اُس کے گھر کا مختار ہے‘‘ (‏عبرانیوں ۳:‏۵‏،۶)‏۔ وہ ہمارے گناہوں کے لئے موا۔ اُس کی قبر خالی ہے کیونکہ وہ آسمان پر اپنے باپ کےدہنے ہاتھ جا بیٹھا ہے۔ ’’پس اے پاک بھائیو! تم جو آسمانی بلاوے میں شریک ہو۔ اُس رسول اور سردار کاہن یسوع پر غور کرو جس کا ہم اِقرار کرتے ہیں …کیونکہ وہ موسیٰ سے اِس قدر زیادہ عزت کے لائق سمجھا گیا جس قدر گھر کا بنانے والا گھر سے زیادہ عزت دار ہوتا ہے ‘‘ (‏عبرانیوں ۳:‏۱‏،۳)‏۔

مقدس کتاب

۱ اور موسیٰ موآب کے میدانوں سے کوہِ نبو کے اوپر پسگہ کی چوٹی پر جو یریحو کے مقابل ہے چڑھ گیا اور خداوند نے جلعاد کا سارا مُلک دان تک اور نفتالی کا سارا مُلک ۔
۲ اور افرائیم اور منسی کا مُلک پچھلے سمندر تک ۔
۳ اور جنوب کا ملک اور وادی یریحو جو خرموں کا شہر ہے اُسکی وادی کا میدان ضغر تک اُسکو دکھایا ۔
۴ اور خداوند نے اُس سے کہا یہی وہ ملک ہے جسکی باب نمبرت میں نے ابراہام او ر اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ اِسے میں تمہاری نسل کو دونگا ۔ سو میں نے ایسا کیا کہ تُو اِسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے پر تُو اُس پار وہاں جانے نہ پائے گا ۔
۵ پس خداوند کے بندہ موسیٰ نے خداوند کے کہے کے موافق وہیں موٓب کے ملک میں وفات پائی۔
۶ اور اُس نے اُسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل دفن کیا پر آج تک کسی آدمی کو اُسکی قبر معلوم نہیں ۔
۷ اور موسیٰ اپنی وفات کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا اور نہ تو اُسکی آنکھ دھندلانے پائی اور نہ اُسکی طبعی قوت کم ہوئی ۔
۸ اور بنی اسرائیل موسیٰ کے لیے مو آب کے میدانوں میں تیس دن تک روتے رہے ۔ پھر موسیٰ کے لیے ماتم کرنے اور رونے پیٹنے کے دن ختم ہوئے ۔
۹ اور نون کا بیٹا یشو ع دانائی کی روح سے معمور تھا کیونکہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اُس پر رکھے تھے اور بنی اسرائیل کو اُسکی بات مانتے رہے اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اُنہوں نے ویسا ہی کیا ۔
۱۰ اور اُس وقت سے اب تک بنی اسرائیل میں کوئی بنی موسیٰ کی مانند جس نے خداوند کے روبرو باتیں کیں نہیں اُٹھا۔
۱۱ اور اُسکو خداوند نے ملک مصر میں فرعون اور اُسکے سب خادموں اور اُسکے سارے ملک کے سامنے سب نشانوں اور عجیب کاموں کے دکھانے کو بھیجا تھا ۔
۱۲ یوں موسیٰ نے سب اسرائیلیوں کے سامنے زور آور ہاتھ اور بڑی ہیبت کے کام کر دکھائے ۔