یرمیاہ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

یرمیاہ

Jeremiah

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’سب سے زیادہ متاثر کن بات وہ طریقہ ہے جس کے تحت یسوع مسیح کے زمانے کے لوگوں نے یسوع مسیح کو یرمیاہ کے ساتھ منسلک کیا۔ ایک موقعے پر جب مسیح نے شاگردوں سے اپنے بارے میں عوام کی رائے پوچھی (‏متی ۱۶:‏ ۱۳ و مابعد)‏ تو بعض بیانات میں اُسے ساتویں صدی ق م کے ایک غیر معمولی نبی کے مماثل قرار دیا گیا تھا۔ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کہ بعض لوگوں نے مردِ غم ناک کو غلطی سے دل شکستہ نبی سمجھ لیا کیونکہ یرمیاہ اور مسیح دونوں اپنے اپنے زمانے کے لوگوں پر روتے اور نوحہ کرتے تھے (‏دیکھئے یرمیاہ ۹:‏۱ بمقابلہ لوقا ۱۹:‏۴۱)‏۔‘‘ (‏آر۔کے۔ ہیریسن)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں یکتا مقام

یرمیاہ زیادہ تر رونے والا نبی کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ اُس کی تحریروں کو سمجھنے کی کلید ہے۔ کیونکہ اگر ہم اُس کے رونے کی وجہ کو یاد رکھیں تو اُس کا پیغام بہتر طور سے سمجھ سکتے ہیں۔ 

یہ نبی اِس لحاظ سے بے مثل ہے کہ پرانے عہدنامے کے کسی بھی دوسرے نبی کی نسبت یرمیاہ اپنی شخصیت اور اپنے دل کو زیادہ کھول کر دِکھاتا ہے۔ فطری طور پردہ خاموش طبع اور کم آمیز شخص تھا۔ اِس کے باوجود خدا نے اُسے بلایا کہ اپنے زمانے کی گم راہی اور برگشتگی کی علانیہ اور سختی سے مذمت کرے۔ سیاسی میدان میں عالمی طاقت بننے کے لئے بابل‏، مصر اور اسور میں رساکشی ہو رہی تھی۔ روحانی لحاظ سے یوسیاہ کے ماتحت یہوداہ میں پچھلی بیداری کے بعد اب اِسرائیل روحانی انحطاط کا شکار تھا۔ جن لوگوں کی پرورش اور تربیت خدا کے کلام اور سچی دین داری پر ہوئی تھی وہ بھی بت پرست مذاہب اور شعائر و رسومات کے پیروکار اور دلدادہ ہو گئے تھے۔ یہ ساری باتیں آج کی مغربی مسیحی دُنیا کی تصویر پیش کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ 

۲۔ مصنف

نبوت کی یہ کتاب یرمیاہ (‏عبرانی میں یرمے یاہو یا یرم یاہ)‏ نے لکھی۔ اِس نام کا مطلب ہے یہوواہ پھینکتا ہے یا اُچھال دیتا ہے اور غالباً بنیاد رکھنے کے مفہوم میں۔ سو مطلب ہے کہ یہوواہ قائم کرتا ہے۔ ایک اَور ممکنہ مطلب ہے یہوواہ کا سرفراز کیا ہوا۔ یرمیاہ نبی عنتوت کے ایک کاہن خلقیاہ کا بیٹا تھا۔ یہ قصبہ یروشلیم سے تقریباً چار کلومیٹر دُور بنیمین کے علاقے میں واقع تھا۔ 

خدا کے وفادار بندے اِس بات سے نہیں ڈرتے کہ ہماری منادی اور تبلیغ سے ہمارا معاشرتی رُتبہ اور معاشی حالت کو نقصان ہو گا۔ وہ ہر نقصان مستعدی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ وہ ایسا پیغام سنانے پر کمربستہ ہوتے ہیں جو لوگ سننا نہیں چاہتے۔ یرمیاہ پر اُس کے دشمنوں نے ہر طرح کی تہمت لگائی اور اُس کی باتوں کو غلط رنگ میں پیش کیا۔ کوئی شہادت موجود نہیں کہ خود یرمیاہ نے کبھی کہانت کے فرائض سرانجام دیئے۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

یرمیاہ نے کئی تواریخی حوالے دیئے ہیں جو کتاب میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ اُس کی خدمت تقریباً ۶۲۷ ق م میں (‏یوسیاہ کی سلطنت کا تیرھواں سال)‏ شروع ہوئی۔ یرمیاہ کی خدمت کا عرصہ خاصا طویل تھا جو صدقیاہ کی سلطنت کے گیارھویں سال تک جا پہنچا۔ وہ یہوداہ کے آخری چالیس سالوں میں نبوت کرتا رہا‏، یہاں تک کہ یروشلیم کا سقوط ہوا اور یہودی بابل میں جلاوطن ہوئے (‏۵۸۶ ق م)‏۔ یروشلیم کے زوال کے بعد یرمیاہ وہاں کے گورنر جدلیاہ کی حفاظت میں رہا۔ بعض جنونی افراد نے جدلیاہ کو قتل کر دیا۔ اِس کے بعد یرمیاہ کچھ یہودیوں کے ساتھ مصر چلا گیا اور زندگی کے باقی دن وہیں پورے کئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ۵۸۲ ق م تک خدمت کرتا رہا (‏ابواب ۴۰۔۴۴)‏۔

یرمیاہ کا مطالعہ کرتے ہوئے یاد رکھنا چاہئے کہ پیش گوئیاں تواریخی ترتیب میں نہیں دی گئیں۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

یرمیاہ نے اپنی خدمت یہوداہ میں شروع کی۔ یہ زمانہ تھا جب اِسرائیل کی سلطنت اسوریوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکی تھی اور یہوداہ کی سلطنت کے خاتمے میں بھی بہت سال باقی نہ تھے۔ اِس کے نبوت کے زمانے میں عالمی برتری حاصل کرنے اور عالمی طاقت بننے کے لئے تین قومیں __ اسور‏، مصر اور بابل __ برسرِ پیکار تھیں۔ یہوواہ نے خبردار کر دیا تھا کہ یہوداہ بابل کی اسیری میں جائے گا اِس لئے یرمیاہ مصر کے ساتھ ہر قسم کے اتحاد کے خلاف بولتا تھا کیونکہ وہ قوم ہارنے والی تھی۔ اسور نے یہوداہ کو باج گزار بنا لیا تھا‏، لیکن بیس سال کے اندر اندر اُس کا دارالسلطنت نینوہ خوف ناک محاصرے کے بعد زوال کا شکار ہو گیا۔ مصر کا بادشاہ نکوہ‏، حاران پر چڑھائی کے لئے فلستین میں سے ہو کر گزرا اور اُس نے یوسیاہ بادشاہ کو قتل کر دیا (‏۶۰۹ ق م)‏۔ اُس کا اور بچے کھچے اسوریوں کا مقابلہ نبوکدنضر سے ہوا جس نے کرکمیس کی مشہور جنگ میں اُس کے لشکر کو رگید ڈالا۔ یہوداہ خود بخود بابل کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ اِس سے پہلے نکوہ نے یوسیاہ کے جانشین یہوآخز کو تخت سے دست بردار کر کے یہویقیم کو بادشاہ بنا دیا تھا۔ نکوہ کو اُمید تھی کہ یہویقیم مصر کا حمایتی ثابت ہو گا۔ کچھ عرصے تک نبوکدنضر نے یہوداہ کو نظر انداز کیا اِس طرح یہویقیم کو موقع مل گیا کہ مصرسے مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے اور یہوداہ خود مختار ہو جائے۔ ۵۹۸ ق م میں نبوکدنضر نے یروشلیم پر حملہ کر دیا اور باغی کے بیٹے اور جانشین یہویاکین کو گرفتار کر لیا۔ وہ کچھ لوگوں کو اسیر کر کے لے گیا۔ اُس نے صدقیاہ کو یہوداہ کے تخت پر بٹھا دیا۔ 

غالباً نکوہ کا جانشین پسامتک ثانی (Psamtik-II)‏ تھا جس نے یہوداہ کے ساتھ مل کر بابل کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ یرمیاہ نے اِس کارروائی میں یہوداہ کے عمل دخل کی سخت مخالفت کی (‏دیکھئے باب ۲۸)‏۔ یرمیاہ نے اعلان کیا کہ ایسی صلاح دینے والے جھوٹے نبی ہیں۔ 

مصریوں کی سازش سے صدقیاہ نے بابل سے معاہدہ توڑ دیا اور وہاں کے حاکم نے آ کر یروشلیم کا محاصرہ کر لیا۔ یہ واقعہ ۵۸۸ کا ہے۔ مصر نے محاصرہ اُٹھا لیا اور فوجیں ہٹا لیں۔ مگر بہت جلد پھر محاصرہ کر لیا اور ثابت ہو گیا کہ مصر کے بارے میں یرمیاہ کا نظریہ درست تھا‏، کہ وہ ٹوٹا ہوا سرکنڈا ہے جس کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ بربادی اور اسیری کے بارے میں یرمیاہ کی پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ اِس زبُوں حالی سے یرمیاہ کو ذاتی طور سے بہت دُکھ ہوا۔ 

یہوواہ نے یرمیاہ پر ظاہر کیا کہ اپنے گناہوں کی پاداش میں یہوداہ بابل کی اسیری میں جائے گا اور ستّر برس تک اسیر رہے گا۔ یرمیاہ کو یہ ناگوار فرض سونپا گیا کہ اپنے ہم وطنوں کے آگے اِس حقیقت کا اعلان اور منادی کرے اور اُنہیں مشورہ دے کہ بابل کی طاقت کی اطاعت قبول کر لیں۔ مگر اُنہوں نے اُسے غدار قرار دیا اور اُس کی جان لینے کی کوشش بھی کی۔ 

جب یروشلیم بالآخر حملہ آوروں کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا تو یرمیاہ اُن لوگوں میں شامل تھا جنہیں اپنے وطن ہی میں رہنے کی اِجازت دے دی گئی البتہ قوم کے بیشتر حصے کو وہ جلاوطنی میں لے گئے۔ اب یرمیاہ نے باقی ماندہ لوگوں کو صلاح دی کہ مدد کے لئے مصر کو نہ بھاگیں۔ مگر اُنہوں نے اُس کا مشورہ نہ مانا بلکہ اُسے بھی اپنے ساتھ زبردستی مصر کو لے گئے۔ نبی نے وہیں وفات پائی۔ 

بابل کی اسیری کی پیش گوئی کرنے کے علاوہ یرمیاہ نے پیشگی دیکھ لیا کہ ستّر سال کے بعد وہ قوم (‏بابل)‏ بھی تباہ اور نیست ہو جائے گی اور یہودی اپنے وطن میں واپس آئیں گے۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ تعارُف۔ یرمیاہ نبی کا تقرر اور ذمہ داری ۱
۲۔ یرمیاہ کی عوامی خدمت ۲۔۱۰
  الف۔ یہوداہ کی دیدہ دانستہ بے دینی کے خلاف وعظ ۲:‏۱۔۳:‏۵
  ب۔ یہوداہ کا مستقبل توبہ سے مشروط ہے ۳:‏ ۶۔۶:‏۳۰
    ‏۱‏ ماضی کا گناہ اور مستقبل کی شان و شوکت ۳:‏ ۶۔۱۸
    ‏۲‏ توبہ کی ضرورت ۳:‏ ۱۹۔۴:‏۴
    ‏۳‏ شمال سے آنے والی سزا پر افسوس ۴:‏ ۵۔۳۱‏
    ‏۴‏ یہوداہ کے گناہوں کی عدالت ہو گی ۵
    ‏۵‏ یروشلیم کے زوال (‏سقوط)‏ کی پیش گوئی ۶
  ج۔ ہیکل کے پھاٹک پر یرمیاہ کی خدمت ۷۔۱۰
    ‏۱‏ یہوداہ کی ریاکاری پر مبنی دین داری ۷
    ‏۲‏ یہوداہ کی گناہ سے بے حسی ۸
    ‏۳‏ رونے والے نبی کا نوحہ ۹
    ‏۴‏ بت پرستی کی مذمت (‏طنزیہ نظم)‏ ۱۰:‏ ۱۔۱۸
    ‏۵‏ رونے والے نبی کی دعا ۱۰:‏ ۱۹۔۲۵
۳۔ یرمیاہ کے ذاتی تجربات ۱۱۔۱۹
  الف۔ یرمیاہ اور عنتوتی آدمی ۱۱‏،۱۲
  ب۔ یرمیاہ اور برباد شدہ کمر بند ۱۳
  ج۔ خشک سالی کے بارے میں یرمیاہ کی شفاعت ۱۴‏،۱۵
  د۔ یرمیاہ کی تنہائی کی خدمت ۱۶:‏ ۱۔۱۸
  ہ۔ یرمیاہ کا مستحکم دل ۱۶:‏ ۱۹۔۱۷:‏۱۸
  و۔ یرمیاہ کا سبت کے بارے میں وعظ ۱۷:‏ ۱۹۔۲۹
  ز۔ یرمیاہ کمہار کے گھر پر ۱۸
  ح۔ یرمیاہ اور مٹی کی صراحی ۱۹
۴۔ یہوداہ کے ملکی اور مذہبی لیڈروں کے خلاف پیش گوئیاں ۲۰۔۲۳
  الف۔ فشحور کے خلاف پیش گوئی ۲۰:‏ ۱۔۶
  ب۔ یرمیاہ کی خدا سے شکایت ۲۰:‏ ۷۔۱۸
  ج۔ صدقیاہ بادشاہ کے خلاف نبوت ۲۱:‏ ۱۔۲۲:‏۹
  د۔ سلُوم بادشاہ کے خلاف نبوت ۲۲:‏ ۱۰۔۱۲
  ہ۔ یہویقیم بادشاہ کے خلاف نبوت ۲۲:‏ ۱۳۔۲۳
  و۔ یہویاکین بادشاہ کے خلاف نبوت ۲۲:‏ ۲۴۔۳۰
  ز۔ صادق بادشاہ کی نبوت ۲۳:‏ ۱۔۸
  ح۔ یہوداہ کے جھوٹے نبیوں کے خلاف نبوت ۲۳:‏ ۹۔۴۰
۵۔ یروشلیم کی بربادی اور ل کی اسیری کی پیش گوئیاں ۲۴۔۲۹
  الف۔ انجیروں کا نشان ۲۴
  ب۔ ل میں ستّر سالہ اسیری کی پیش گوئی ۲۵:‏ ۱۔۱۱
  ج۔ ل میں اسیر کرنے والوں کی عدالت ہو گی ۲۵:‏ ۱۲۔۳۸
  د۔ یرمیاہ لوگوں کو خبردار کرتا ہے ۲۶
  ہ۔ جُوئے کا نشان ۲۷
  و۔ حننیاہ کی جھوٹی نبوت اور موت ۲۸
  ز۔ یرمیاہ کا پیغام‏، ل کے اسیروں کے نام ۲۹
۶۔ بحالی کی پیش گوئیاں ۳۰۔۳۳
  الف۔ اسیروں کو جمع کیا جائے گا ۳۰
  ب۔ ملک بحال کیا جائے گا ۳۱:‏ ۱۔۳۰
  ج۔ نئے عہد کا اِنکشاف ۳۱:‏ ۳۱۔۴۰
  د۔ شہر اَزسرِ نَو بسایا جائے گا ۳۲
  ہ۔ عہد کا تسلیم کیا جانا ۳۳
۷۔ تواریخی حصہ ۳۴۔۴۵
  الف۔ یہوداہ اور یروشلیم کا زوال ۳۴۔۳۹
    ‏۱‏ صدقیاہ کی اسیری کی پیش گوئی ۳۴
    ‏۲‏ ریکابیوں کی فرماں برداری کا صلہ ۳۵
    ‏۳‏ یہویقیم بادشاہ یرمیاہ کا طومار نذرِ آتش کرتا ہے ۳۶
    ‏۴‏ یرمیاہ قید کیا جاتا ہے اور صدقیاہ اُس سےملاقات کرتا ہے۔ ۳۷‏،۳۸
    ‏۵‏ سقوطِ یروشلیم ۳۹
  ب۔ سقوطِ یروشلیم کے بعد یہوداہ میں ہونے والے واقعات ۴۰۔۴۲
    ‏۱‏ یرمیاہ کی گورنر جدلیاہ کے ساتھ رہائش ۴۰
    ‏۲‏ گورنر جدلیاہ کا قتل ۴۱
    ‏۳‏ خدا مصر کو بھاگنے سے منع کرتا ہے۔ ۴۲
  ج۔ یرمیاہ اور بقیہ مصر میں ۴۳‏،۴۴
  د۔ یہوواہ کا پیغام باروک کے نام ۴۵
۸۔ غیر اقوام کے خلاف پیش گوئیاں ۴۶۔۵۱
  الف۔ مصر کے خلاف پیش گوئیاں ۴۶
  ب۔ فلستین کے خلاف پیش گوئیاں ۴۷
  ج۔ موآب کے خلاف پیش گوئیاں ۴۸
  د۔ عمون کے خلاف پیش گوئیاں ۴۹:‏ ۱۔۶
  ہ۔ ادوم کے خلاف پیش گوئیاں ۴۹:‏ ۷۔۲۲
  و۔ دمشق کے خلاف پیش گوئیاں ۴۹:‏ ۲۳۔۲۷
  ز۔ قیدار اور حصور کے خلاف پیش گوئیاں ۴۹:‏ ۲۸۔۳۹
  ح۔ عیلام کے خلاف پیش گوئیاں ۴۹:‏ ۳۴۔۳۹
  ط۔ ل کے خلاف پیش گوئیاں ۵۰‏،۵۱
۹۔ حاصلِ کلام __ سُقُوطِ یروشلیم ۵۲