یرمیاہ ۳۵

(‏۲)‏ ریکابیوں کی فرماں برداری کا صلہ (‏باب ۳۵)‏

۳۵:‏ ۱۔۱۱ یرمیاہ نے خدا کا حکم مانا اور اُنہیں خداوند کے گھر کی ایک کوٹھری میں بلا کر اُنہیں پینے کو مے پیش کی۔ ریکابیوں نے بہت ادب سے اُسے پینے سے اِنکار کیا کیونکہ اُن کے باپ نے اُنہیں مے نہ پینے کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں اُنہیں یہ حکم بھی تھا کہ ’’نہ گھر بنانا‏، نہ بیج بونا‏، نہ تاکستان لگانا۔‘‘ وہ اِس حکم پر بھی کاربند تھے۔ (‏کسدیوں کے حملے اور پیش قدمی کے باعث وہ یروشلیم میں رہنے بسنے پر مجبور ہوئے تھے)‏۔ وہ زائرین کی طرح حقیقی مسافرانہ کردار پر قائم تھے۔ کیسا اچھا نمونہ تھے!

۳۵:‏ ۱۲۔۱۹ اُن کے مقابلے میں یہوداہ کے لوگ نمایاں طور پر فرق تھے۔ وہ خدا کے نافرمان تھے اور سزا پائیں گے۔ ریکابیوں کو اچھا صلہ ملے گا کہ اُنہیں ’’خدا کے حضور میں کھڑے ہونے کو کبھی آدمی کی کمی نہ ہو گی‘‘۔ ریکابیوں کو اپنے گھرانے کے ایک شخص ریکاب کے باعث یہ نام ملا تھا۔ ریکاب کا بیٹا یوناداب ۸۴۱ ق م میں یاہو کی مدد کرنے میں بہت سرگرم رہا تھا کہ شمالی سلطنت سے بعل کی پرستش کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ریکابی ایک خانہ بدوش قبیلہ تھے جو قینیوں کی نسل سے تھے (‏۱۔تواریخ ۲:‏۵۵)‏۔ وہ یہوداہ کے ساتھ مل گئے تھے اور اُن کے ساتھ ملے رہے‏، لیکن اُنہوں نے یہوداہ کا طرزِ زندگی اِختیار نہیں کیا تھا۔

بعض علما کا خیال ہے کہ ریکابی لاوی کے قبیلے میں ضم ہو گئے تھے اور یوں خدا کا وعدہ پورا ہوا۔ اگرچہ آج ہم ریکابیوں کی شناخت نہیں کر سکتے البتہ یقین رکھتے ہیں کہ ہزار سالہ دور میں اُن کی شناخت ظاہر ہو جائے گی۔ 

مقدس کتاب

۱ وہ کلام جو شاہِ یہوداہؔ یہویقیم ؔ بن یوسیاہؔ کے ایام میں خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۲ کہ تو ریکا بیوں کے گھر جا اور اُن سے کلام کر اور اُنکو خداوند کے گھر کی کوٹھری میں لاکر مے پلا ۔
۳ تب میں نے یازؔ نیاہ بن یرمیاہؔ بن حبصنیاہؔ اور اُسکے بھائیوں اور اُسکے سب بیٹوں اور ریکابیوں کے تمام گھرانے کو ساتھ لیا۔
۴ اور اُنکو خداوند کے گھر میں بنی حنان بن یجد لیاہؔ مرد خدا کی کوٹھر ی میں لایا جو اُمرا کی کوٹھری کے نزدیک معسیاہؔ بن سلُوم دربان کی کوٹھری کے اُوپر تھی ۔
۵ اور میں نے مے سے لبریز پیالے اور جام ریکابیوں کے گھرانے کے بیٹوں کے آگے رکھے اور اُن سے کہا مے پیو۔
۶ پر اُنہوں نے کہا ہم مے نہ پئینگے کیونکہ ہمارے باپ ےُوناؔ داب بن ریکاؔ ب نے ہم کو یوں حکم دیا کہ تم ہرگز مے نہ پینا ۔ نہ تم نہ تمہارے بیٹے ۔
۷ اور نہ گھر بنانا نہ بیج بونا نہ تا کستان لگانا نہ اُنکے مالک ہونا بلکہ عمر بھر خیموں میں رہنا تاکہ جس سر زمین میں تم مُسافر ہو تمہاری عمر دراز ہو ۔
۸ چنانچہ ہم نے اپنے باپ ےُوناؔ داب بن ریکابؔ کی بات مانی ۔ اُسکے حکم کے مطابق ہم اور ہماری بیویاں اور ہمارے بیٹے بیٹیا ں کبھی مے نہیں پیتے ۔
۹ اور ہم نہ رہنے کے لئے گھر بناتے اور نہ تاکستان اور کھیت اور بیج رکھتے ہیں ۔
۱۰ پر ہم خیموں میں بسے ہیں اور ہم نے فرمانبرداری کی اور جو کچھ ہمارے باپ ےُوناؔ داب نے ہم کوحکم دیا ہم نے اُس پر عمل کیا ہے۔
۱۱ لیکن یوں ہوا کہ جب شاہِ بابلؔ نبوکدؔ رضر اِس ملک پر چڑھ آیا تو ہم نے کہا کہ آؤ ہم کسدیوں اور ارامیوں کی فوج کے ڈر سے یروشلیم کو چلے جائیں ۔ یوں ہم یروشلیم میں بستے ہیں۔
۱۲ تب خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۱۳ کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ جا اور یہوداہؔ کے آدمیوں اور یروشلیم کے باشندوں سے یوں کہہ کہ کیا تم تربیت پذیر نہ ہو گے کہ میری باتیں سُنو خداوند فرماتا ہے؟ ۔
۱۴ جو باتیں ےُوناؔ داب بن ریکابؔ نے اپنے بیٹوں کو فرمائیں کہ مے نہ پیو وہ بجا لائے اور آج تک مے نہیں پیتے بلکہ اُنہوں نے اپنے باپ کے حکم کو مانا لیکن میں نے تم سے کلام کیا اور بروقت تم کو فرمایا اور تم نے میری نہ سُنی ۔
۱۵ اور میں نے اپنے تمام خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا اور اُنکو بروقت یہ کہتے ہوئے بھیجا کہ تم ہر ایک اپنی بُری راہ سے باز آؤ اور اپنے اعمال کو دُرست کرو اور غیر معبودوں کی پیر وی اور عبادت نہ کرو اور جو ملک میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دیا ہے تم اُس میں بسو گے لیکن تم نے نہ کان لگایا نہ میری سُنی ۔
۱۶ اِس سبب سے کہ ےُوناؔ داب بن ریکابؔ کے بیٹے اپنے باپ کے حکم کو جو اُس نے اُنکو دیا تھا بجالائے پر اِن لوگوں نے میری نہ سُنی ۔
۱۷ اِسلئے خداوند ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے دیکھ میں یہوداہؔ پر اور یروشلیم کے تمام باشندوں پر وہ سب مصیبت جسکا میں نے اُنکے خلاف اِعلان کیا ہے لاؤنگا کیونکہ میں نے اُن سے کلام کیا پر وہ شنوا نہ ہوئے اور میں نے اُنکو بُلایا پر اُنہوں نے جواب نہ دیا۔
۱۸ اور یرمیاہؔ نے ریکابیوں کے گھرانے سے کہا کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے اپنے باپ ےُوناؔ داب کے حکم کو مانا اور اُسکی سب وصیتوں پر عمل کیا ہے اور جو کچھ اُس نے تم کو فرما یا تم بجا لائے ۔
۱۹ اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ ےُوناؔ داب بن ریکاؔ ب کے لئے میرے حضور میں کھڑے ہونے کو کبھی آدمی کی کمی نہ ہو گی۔