یرمیاہ ۴۳

ج۔ یرمیاہ اور بقیہ مصر میں (‏باب ۴۳‏،۴۴)‏

۴۳:‏ ۱۔۷ یوحنان اور باقی لوگوں نے یرمیاہ کی بات کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ وہ باروک کے بہکانے سے ایسی بات کہتا ہے۔ چنانچہ یوحنان نے یہوداہ کے سب باقی لوگوں‏، یرمیاہ نبی اور باروک کو ساتھ لیا اور مصر کو چلا گیا۔ 

۴۳:‏ ۸۔۱۳ مصر کے شہر تحفنیس میں خدا نے یرمیاہ کو حکم دیا کہ فرعون کے محل کے مدخل کے سامنے صحن میں چند بڑے پتھر لگا دے۔ اِس کے ساتھ ہی اُس نے پیش گوئی کی کہ بابل کا بادشاہ نبوکدنضر مصر پر چڑھائی کرے گا اور اپنا تخت اِن پتھروں پر لگائے گا۔ جو لوگ کال‏، وبا یا تلوار سے مرنے سے بچ رہیں اُن سب کو نبوکدنضر اسیری میں لے جائے گا۔ مصر کے دیوتا آگ سے جلائے اور نیست کئے جائیں گے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور یوں ہوا کہ جب یرمیاہؔ سب لوگوں سے وہ سب باتیں جو خداوند اُنکے خدا نے اُسکی معرفت فرمائی تھیں یعنی یہ سب باتیں کہہ چکا۔
۲ تو عزریاہؔ بن ہوسعیاہؔ اور یوحنانؔ بن قریح ؔ اور سب معزور لوگوں نے یرمیاہؔ سے یوں کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ خداوند ہمارے خدا نے تجھے یہ کہنے کو نہیں بھیجا کہ مصرؔ میں بسنے کو نہ جاؤ۔
۳ بلکہ بارُوکؔ بن نیریاہؔ تجھے اُبھارتاہے کہ تو ہمارا مخالف ہو تاکہ ہم کسدیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوں اور وہ ہم کو قتل کریں اور اسیر کرکے بابلؔ کو لے جائیں ۔
۴ پس یوحنانؔ بن قریح ؔ اور سب فوجی سرداروں اور سب لوگوں نے خداوند کا یہ حکم کہ وہ یہوداہ ؔ کے ملک میں رہیں نہ مانا ۔
۵ پر ےُوحنان بن قریح ؔ اور سب فوجی سرداروں نے یہوداہؔ کے سب باقی لوگوں کو جو تمام قوموں میں سے جہاں جہاں وہ تتر بتر کئے گئے تھے اور یہوداہؔ کے ملک میں بسنے کو واپس آئے تھے ساتھ لیا ۔
۶ یعنے مردوں اور عورتوں اور بچوں اور شاہزادیوں اور جس کسی کو جلو داروں کے سردار نبوزرودانؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقام ؔ بن سافنؔ کے ساتھ چھوڑا تھا اور یرمیاہؔ نبی اور بارُوکؔ بن نیریاہؔ کو ساتھ لیا۔
۷ اور وہ ملک مصرؔ میں آے کیونکہ اُنہوں نے خداوند کا حکم نہ مانا ۔ پس وہ تحفخیسؔ میں پہنچے۔
۸ تب خداوند کاکلام تفخیسؔ میں یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۹ کہ بڑے پتھر اپنے ہاتھ میں لے اور اُنکو فرعون ؔ کے محل کے مدخل پر جو تفخیسؔ میں ہے بنی یہوداہؔ کی آنکھوں کے سامنے چونے سے فرش میں لگا۔
۱۰ اور اُن سے کہہ کہ ربُّ الافواج اِسرؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اپنے خدمتگذار شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کو بلاؤنگا اور اِن پتھروں پر جنکو میں نے لگا یا ہے اُسکا تخت رکھونگا اور وہ اِن پر اپنا قالین بچھائیگا ۔
۱۱ اور وہ آکر ملک مصرؔ کو شکست دیگا اور جو موت کے لئے ہیں موت کے جو اسیر ی کے لئے ہیں اسیری کے اور جو تلوار کے لئے ہیں تلوار کے حوالہ کریگا۔
۱۲ اور میں مصرؔ کے بت خانوں میں آگ بھڑکا ونگا اور وہ اُنکو جلائیگا اور اسیر کرکے لے جا ئیگا اور جیسے چرواہا اپنا کپڑا لپیٹتا ہے ویسے ہی وہ زمین مصر ؔ کو لپیٹیگا اور وہاں سے سلامت چلا جا ئیگا ۔
۱۳ اور وہ بیت شمسؔ کے ستونوں کو جو ملک مصرؔ میں ہیں توڑیگا اور مصریوں کے بت خانوں کو آگ سے جلا دیگا۔