یرمیاہ ۳۶

(‏۳)‏ یہویقیم بادشاہ یرمیاہ کا طومار نذرِ آتش کرتا ہے (‏باب ۳۶)‏

۳۶:‏ ۱۔۱۰ یہویقیم کے چوتھے برس میں خدا نے یرمیاہ کو حکم دیا کہ وہ سب کلام (‏ساری نبوتیں / پیش گوئیاں)‏ جو خدا نے اُس کی معرفت کیا تھا اُسے ایک طومار میں لکھے۔ چنانچہ یرمیاہ نے وہ ساری باتیں باروک سے لکھوائیں۔ یہ کلام ایک سال کے بعد ہیکل میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا گیا۔ یرمیاہ کسی مجبوری کے باعث خود ہیکل میں نہ گیا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ مجبوری کیا تھی۔ وہ اُس وقت قید میں نہیں تھا‏، البتہ دشمن اُس کے پیچھے ضرور لگے ہوئے تھے۔ 

۳۶:‏ ۱۱۔۱۹ میکایاہ نے وہ نبوتیں سنیں تو فوراً جا کر اُمرا کو بتایا۔ اب اُنہوں نے باروک کو بلایا اور کہا کہ ہمیں بھی پڑھ کر سنا۔ پھر اُنہوں نے باروک سے کہا ’’جا اور اپنے آپ کو اور یرمیاہ کو چھپا اور کوئی نہ جانے کہ تم کہاں ہو۔‘‘

۳۶:‏ ۲۰۔۲۶ اُمرا نے دربار میں بادشاہ یہویقیم کو بتایا تو اُس نے وہ طومار منگوایا۔ یہودی نام ایک شخص وہ طومار پڑھ کر بادشاہ کو سناتا تھا تو بادشاہ طومار (‏خدا کا کلام)‏ کے حصے کاٹ کاٹ کر آگ میں ڈالتا جاتا تھا۔ یہ بالکل اُس سلوک کی تصویر ہے جو آزاد خیال اور عقلیت (‏استدلال)‏ پسند لوگ ہمیشہ سے خدا کے کلام کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ بالآخر تمام طومار انگیٹھی کی آگ سے بھسم ہو گیا۔ حالانکہ اُمرا میں سے تین اِس کے خلاف احتجاج بھی کر رہے تھے۔ بادشاہ نے باروک منشی اور یرمیاہ نبی کو گرفتار کرنے کے لئے تلاش کیا‏، مگر وہ نہ ملے کیونکہ ’’خداوند نے اُن کو چھپایا‘‘ تھا۔ 

۳۶:‏ ۲۷۔۳۲ جب بادشاہ طومار کو جلا چکا تو یرمیاہ نے نبوتوں (‏خدا کا کلام)‏ کو دوبارہ لکھا اور ساتھ یہویقیم کے ہولناک انجام کے بارے میں اضافی باتیں بھی لکھیں۔ یہویاکین یہویقیم کا بیٹا تھا اور اُس کا جانشین ہوا (‏۲۔سلاطین ۲۴:‏۶)‏۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت آیت ۳۰ والی لعنت کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ عام تشریح یہ کی جاتی ہے کہ یہویاکین نے صرف تین ماہ حکومت کی اور اِتنے عرصے کی کوئی اہمیت نہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں یہ کلام خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۲ کہ کتاب کا طومار لے اور وہ سب کلام جو میں نے اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ اور تما م اقوام کے خلاف تجھ سے کیا اُس دن سے لیکر جب سے میں تجھ سے کلام کرنے لگا یعنی یوسیاہؔ کے ایاّم سے آج کے دن تک اُس میں لکھ ۔
۳ شاید یہوداہؔ کا گھرانا اُس تمام مصیبت کا حال جو میں اُن پر لانے کا اِرادہ رکھتا ہوں سُنے تاکہ وہ سب اپنی بُری روشِ سے باز آئیں اور میں اُنکی بدکرداری اور گناہ کو معاف کروں ۔
۴ تب یرمیاہؔ نے بارُوکؔ بن نیرؔ یاہ کو بلایا اور بارُوکؔ نے خداوند کا وہ سب کلام جو اُس نے یرمیاہؔ سے کیا تھا اُسکی زبانی کتاب کے اُس طومار میں لکھا ۔
۵ اور یرمیاہؔ نے بارُوکؔ کو حکم دیا اور کہا کہ میں تو مجبور ہوں ۔ میں خداوند کے گھر میں نہیں جا سکتا ۔
۶ پر تو جا اور خداوند کا وہ کلا م جو تو نے میرے منہ سے اُس طومار میں لکھا ہے خداوند کے گھر میں روزہ کے دن لوگوں کو پڑھکر سُنا اور تمام یہوداہؔ کے لوگوں کو بھی جو اپنے شہروں سے آئے ہوں تو وہی کلام پڑھکر سُنا۔
۷ شاید وہ خداوند کے حضور منت کریں اور سب کے سب اپنی بُری روش سے باز آئیں کیونکہ خداوند کا قہر وغضب جسکا اُس نے اِن لوگوں کے خلاف اِعلان کیا ہے شدید ہے ۔
۸ اور بارُوک ؔ بن نیریاہؔ نے سب کچھ جیسا یرمیاہؔ نبی نے اُسکو فرمایا تھا ویسا ہی کیا اور خداوند کے گھر میں خداوند کا کلام اُس کتاب سے پڑھکر سُنایا۔
۹ اور شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے پانچویں برس کے نویں مہینے میں یوں ہوا کہ یروشلیم کے سب لوگوں نے اور اُن سب نے جو یہوداہ کے شہروں سے یروشلیم میں آئے تھے خداوند کے حُضُور روزہ کی منادی کی۔
۱۰ تب بارُوک نے کتاب سے یرمیاہؔ کی باتیں خداوند کے گھر میں حمبر یاہؔ بن سافن ؔ منشی کی کوٹھر ی میں اُوپر کے صحن کے درمیان خداوند کے گھر کے نئے پھاٹک کے مدخل پر سب لوگوں کے سامنے پڑھ سُنائیں ۔
۱۱ جب میکا یاہؔ بن حمبریاہؔ بن سافنؔ نے خداوند کا وہ سب کلام جو اُس کتاب میں تھا سُنا۔
۱۲ تو وہ اُتر کر بادشاہ کے گھر منشی کی کوٹھری میں گیا اور سب اُمرا یعنے الیسمع ؔ منشی اور دِلایاہؔ بن سمعیاہؔ اور اِلناتنؔ بن عکبورؔ اور حمبریاہؔ بن سافنؔ اور صدقیاہؔ بن حننیاہؔ اور سب اُمرا وہاں بیٹھے تھے۔
۱۳ تب میکاؔ یاہ نے وہ سب باتیں جو اُس نے سُنی تھیں جب بارُوکؔ کتاب سے پڑھکر لوگوں کو سُناتا تھا اُن سے بیان کیں ۔
۱۴ اور سب اُمرا نے یہودی بن نتنیاہؔ بن سلمیاہؔ بن کُوشیؔ کو بارُوکؔ کے پاس یہ کہکر بھیجا کہ وہ طومار جو تو نے لوگوں کو پڑھکر سُنایا ہے اپنے ہاتھ میں لے اور چلا آ۔پس بارُوک ؔ بن نیریاہؔ وہ طومار لیکر اُنکے پاس آیا۔
۱۵ اور اُنہوں نے اُسے کہا کہ اب بیٹھ جا اور ہم کو یہ پڑھکر سُنا اور بارُوکؔ نے اُنکو پڑھکر سُنایا ۔
۱۶ اور جب اُنہوں نے وہ سب باتیں سُنیں تو ڈر کر ایک دوسرے کا منہ تاکنے لگے اور بارُوک ؔ سے کہا کہ ہم یقیناًیہ سب باتیں بادشاہ سے بیان کرینگے ۔
۱۷ اور اُنہوں نے یہ کہکر بارُوکؔ سے پوچھا کہ ہم سے کہہ کہ تو نے یہ سب باتیں اُسکی زُبانی کیونکر لکھیں ؟۔
۱۸ تب بارُوکؔ نے اُن سے کہا وہ سب باتیں مجھے اپنے منہ سے کہتا گیا اور میں سیاہی سے کتاب میں لکھتا گیا۔
۱۹ تب اُمرا نے بارُوکؔ سے کہا کہ جا اپنے آپ کو اور یرمیاہؔ کو چھپا اور کوئی نہ جانے کہ تم کہاں ہو۔
۲۰ اور وہ بادشاہ کے پاس صحن میں گئے لیکن اُس طومارکو الیسمع ؔ منشی کی کوٹھری میں رکھ گئے اور وہ باتیں بادشاہ کو کہہ سُنائیں ۔
۲۱ تب بادشاہ نے یہودی کو بھیجا کہ طومار لائے اور وہ اُسے الیسمع ؔ منشی کی کوٹھری میں سے لے آیا اور یہودی نے بادشاہ اور سب اُمرا کو جو بادشاہ کے حُضُور کھڑے تھے اُسے پڑھکر سُنایا ۔
۲۲ اور بادشاہ زمستانی محل میں بیٹھا تھا کیونکہ نواں مہینہ تھا اور اُسکے سامنے انگیٹھی جل رہی تھی ۔
۲۳ اور جب یہودی ؔ نے تین چا ر ورق پڑھے تو اُس نے اُسے مُنشی کے قلم تراش سے کاٹا اور انگیٹھی کی آگ میں ڈالد یا یہاں تک کہ تمام طومار انگیٹھی کی آگ سے بھسم ہو گیا۔
۲۴ لیکن وہ نہ ڈر ے نہ اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑے نہ بادشاہ نے نہ اُسکے مُلازموں میں سے کسی نے جنہوں نے یہ سب باتیں سُنی تھیں ۔
۲۵ لیکن اِلنا تنؔ اور دِلایاہؔ اور حمبریاہؔ نے بادشاہ سے عرض کی کہ طورما کو نہ جلائے پر اُس نے اُنکی ایک نہ سُنی ۔
۲۶ اور بادشاہ نے شاہزادہ یرحمیلؔ کو اور شر ایاہؔ بن عز ریؔ ایل اور سلمیاہ ؔ بن عبدی ؔ ایل کو حکم دیا کہ بارُوک منشی اور یرمیاہ ؔ نبی کو گرفتار کریں لیکن خداوند نے اُنکو چھپا یا ۔
۲۷ اور جب بادشاہ طُومار اور اُن باتوں کو جو بارُوک ؔ نے یرمیاہؔ کی زبانی لکھی تھیں جلا چُکا تو خداوند کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۲۸ کہ تو دوسرا طومار لے اور اُس میں وہ سب باتیں لکھ جو پہلے طومار میں تھیں جسے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ نے جلادیا۔
۲۹ اور شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ سے کہہ کہ خداوندیوں فرماتا ہے کہ تو نے طومار کو جلا دیا اور کہا ہے کہ تو نے اُس میں یوں کیوں لکھا کہ شاہِ بابلؔ یقیناًآئیگا اور اِس ملک کو غارت کریگا اور نہ اِس میں اِنسان باقی چھوڑیگا نہ حیوان ۔
۳۰ اِسلئے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ کی بابت خداوند یوں فرماتا ہے کہ اُسکی نسل میں سے کوئی نہ رہیگا جو داؤد ؔ کے تخت پر بیٹھے اور اُسکی لاش پھینکی جائیگی تا کہ دِن کو گرمی میں اور رات کو پالے میں پڑی رہے ۔
۳۱ اور میں اُسکو اور اُسکی نسل کو اور اُسکے مُلا زموں کو اُنکی بدکرداری کی سزا دُونگا اور میں اُن پر یروشلیم کے باشند وں پر اور یہوداہؔ کے لوگوں پر وہ سب مصیبت لاؤنگا جسکا میں نے اُنکے خلاف اِعلان کیا پر وہ شنوا نہ ہوئے ۔
۳۲ تب یرمیاہؔ نے دوسراطومار لیا اور بارُوکؔ بن نیریاہؔ منشی کو دیا اور اُس کتاب کی سب باتیں جسے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ نے آگ میں جلایا تھا یرمیاہؔ کی زبانی اُس میں لکھیں اور اُنکے سوا ویسی ہی اور بہت سی باتیں اُن میں بڑھا دی گئیں ۔