ج۔ صدقیاہ بادشاہ کے خلاف نبوت (۲۱: ۱۔۲۲:۹)
۲۱: ۱۔۷ صدقیاہ بادشاہ نے فشحور (باب ۲۰ والا نہیں) اور صفنیاہ (یہ نبی نہیں تھا) کو یرمیاہ کے پاس بھیجا کہ وہ بابل کی حملہ آور فوجوں کے بارے میں خداوند سے دریافت کر کے بتائے تو یرمیاہ نے بادشاہ کو جواب بھیجا کہ خداوند یہوداہ کے خلاف حملہ آوروں کی مدد کرے گا۔ بادشاہ اور جو لوگ بچ جائیں گے وہ اسیری میں جائیں گے۔ کلام کے اِس حصے کے بارے میں کیلی (Kelly) کہتا ہے:
’’اِسرائیل کی تاریخ میں شاہی خاندان ہمیشہ برکت کا آخری تنا ہوتا تھا۔ اگر بادشاہ راست باز ہوتا تو خواہ لوگ اور نبی کتنے بھی بگڑے ہوئے ہوتے تو بھی خدا اِسرائیل کو برکت دیتا تھا ہر بات کا اِنحصار داؤد کی نسل پر ہوتا تھا۔ لیکن جب نہ صرف لوگ برگشتہ ہو گئے بلکہ خود بادشاہ شرارت اور بدی کا سردار بن گیا تو اُن کو برداشت کرتے رہنا بالکل ممکن نہ رہا اور یہ افسوس ناک ناگوار ذمہ داری یرمیاہ کے سپرد ہوئی کہ خدا کے فیصلے کا اعلان کرے۔ ‘‘
۲۱: ۸۔۱۴ جو لوگ بابل کے حملے کی مزاحمت کریں گے وہ نیست ہو جائیں گے اور جو کسدیوں (بابل) کی اطاعت قبول کر لیں گے وہ جیتے بچیں گے۔ شاہی خاندان کو خبردار کیا گیا کہ ظلم اور بے اِنصافی ترک کریں۔ یروشلیم کے باشندوں کو آنے والی ہلاکت اور تباہی سے خبردار کیا گیا۔ ’’وادی کی بسنے والی‘‘ اور ’’میدان کی چٹان‘‘ غالباً طنزیہ اصطلاحات ہیں کیونکہ یروشلیم کے بارے میں لغوی بیان نہیں ہیں۔
مقدس کتاب
۱ وہ کلام جو خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا جب صدقیاہؔ بادشاہ نے فشحوؔ ر بن ملکیاؔ ہ اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن کو اُسکے پاس یہ کہنے کو بھیجا ۔
۲ کہ ہماری خاطر خداوند سے دریافت کر کیونکہ شاہِ بابلؔ نبو کدرؔ ضر ہمارے ساتھ لڑائی کرتا ہے۔ شاید خداوند ہم سے اپنے تمام عجیب کاموں کے موافق ایسا سلوک کرے کہ وہ ہمارے پاس سے چلا جائے۔
۳ تب یرمیاہؔ مے اُن سے کہا تم صدقیاہؔ سے یو ں کہنا ۔
۴ کہ خداوند اِسرائیل ؔ کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں لڑائی کے ہتھیاروں کو جو تمہارے ہاتھ میں ہیں جن سے تم شاہِ بابلؔ اور کسدیوں کے خلاف جو فصیل کے باہر تمہارا محاصرہ کئے ہُوئے ہیں لڑتے ہو پھیردونگا اور میں اُ نکو اِس شہر کے بیچ میں اکٹھے کرونگا ۔
۵ اور میں آپ اپنے بڑھائے ہوئے ہاتھ سے اور قوت بازو سے تمہارے خلاف لڑؤنگا ۔ہاں قہر وغضب سے بلکہ قہر شدید سے ۔
۶ اور میں اِس شہر کے باشندوں کو اِنسان وحیوان دونوں کو مارونگا ۔وہ بڑی وباسے فنا ہوجائینگے ۔
۷ اورخداوند فرماتا ہے پھر میں شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کو اور اُسکے ملازموں اور عام لوگوں کو جواِس شہر میں وبا اور تلوار اور کال سے بچ جائینگے شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ اور اُنکے مخالفوں اور جانی دُشمنوں کے حوالہ کرونگا اور وہ اُنکو تہ تیغ کریگا ۔ نہ اُنکو چھوڑیگا نہ اُن پر ترس کھائیگا اور نہ رحم کریگا۔
۸ اور تو اِن لوگوں سے کہنا خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تم کو حیات کی راہ اور موت کی راہ دکھاتا ہوں۔
۹ جو کوئی اِس شہر میں رہیگا وہ تلوار اور کال اور وبا سے مریگا لیکن جو نکل کر کسدیوں میں جو تم کو گھیرے ہُوئے ہیں چلائیگا وہ جِئیگا اور اُسکی جان اُسکے لئے غنیمت ہوگی ۔
۱۰ کیونکہ میں اِس شہر کا رُخ کیا ہے کہ اِس سے بُرائی کُروں ۔خداوند فرماتا ہے وہ شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا اور وہ اُسے آگ سے جلائیگا ۔
۱۱ اور شاہِ یہوداہؔ کے خاندان کی بابت خداوند کا کلام سُنو۔
۱۲ اَے داؤدؔ کے گھرانے !خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم سویرے اُٹھکر اِنصاف کرو اور مظلوم کوظالم کے ہاتھ سے چھڑاؤ مبادا تمہارے کاموں کی بُرائی کے سبب سے میرا قہر آگ کی طرح بھڑکے اور ایسا تیز ہو کہ کوئی اُسے ٹھنڈا نہ کرسکے ۔
۱۳ اَے وادی کی بسنے والی ! اَے میدان کی چٹان پر رہنے والی جو کہتی ہے کہ کون ہم پر حملہ کر یگا یا ہمارے مسکنوں میں کون آگھسیگا ؟ خداوند فرماتا ہے میں تیرا مخالف ہوں۔
۱۴ اور تمہارے کاموں کے پھل کے موافق میں تم کو سزا دؤنگا خداوند فرماتا ہے اور میں اُسکے بن میں آگ لگاؤ نگا جو اُسکی ساری نواحی کو بھسم کریگی ۔