د۔ یرمیاہ کی تنہائی کی خدمت (۱۶: ۱۔۱۸)
۱۶: ۱۔۹ عنقریب آنے والی آفت کے پیش نظر یرمیاہ کو شادی نہ کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ بائبل مقدس میں یرمیاہ واحد آدمی ہے جسے شادی کرنے سے منع کیا گیا۔ ماتم کرنے اور ضیافت کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اِس لئے کہ موت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اور یہ آفت خدا کی کرنی ہے۔
آیت ۷ کے حوالے سے یہ رواج تھا کہ رِشتہ دار اور دوست مرنے والے کے گھر میں جمع ہوتے تھے اور ’روٹی توڑتے‘ تھے اور مرحوم کی قابلِ تعریف صفات کا ذکر کرتے تھے اور مے کا پیالہ (دلداری کا پیالہ) پیتے تھے۔ اِس طرح وہ غم زدہ ماتم کرنے والوں کو تسلی اور دلاسا دیتے تھے۔ کیلی (Kelly) بیان کرتا ہے کہ ہمارے خداوند نے اس قدیم یہودی رسم کو کیسے بدل دیا:
’’موت کے تعلق سے روٹی توڑنا وہ قدیم رسم ہے جو اُس رسم کی اصل معلوم ہوتی ہے جس کی خداوند یسوع نے اپنی عظیم یادگاری کے لئے مقرر کی۔ نہ لوگ ماتم کرنے والوں کو کھانا کھلائیں گے تاکہ اُن کو مُردوں کی بابت تسلی دیں اور نہ اُن کو دلداری کا پیالہ دیں گے۔ یہاں عشائے ربانی اپنے دونوں اجزا سمیت موجود ہے۔ یہ یہودیوں کی ایک عام رسم تھی، لیکن خدا نے اِس کو بے مثال معانی اور اہمیت عطا کی اور اِس پر نئی سچائی کا نقش ثبت کر دیا۔ اِس کا تعلق عید فسح کے ساتھ تھا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ اُس وقت مقرر کی گئی تھی۔ اِسے قائم اور جاری کرنے کی خاص وجہ تھی کیونکہ اِس طرح اسرائیل کی اِس مرکزی اور بنیادی عید میں ایک زبردست اور اثر آفریں تبدیلی کی نشان دہی ہوتی ہے۔ مسیحیوں کے لئے ایک نئی اور فرق عید شروع ہوئی۔‘‘
۱۶: ۱۰۔۱۸ خدا نے ایک بڑی مصیبت کی خبر دی۔ اگر اِس کی وجہ پوچھی جائے تو یرمیاہ اُنہیں اُن کی اور اُن کے باپ دادا کی نافرمانی اور بت پرستی یاد دلائے گا۔ کسی دن خدا اُن لوگوں کو اسیری سے واپس لائے گا۔ لیکن ضرور ہے کہ پہلے ماہی گیر اور شکاری (بابل کی افواج) اُنہیں ڈھونڈ نکالیں اور اسیری میں لے جائیں جہاں خدا اُنہیں اُن کی بدکرداری اور خطاکاری کی سزا دے گا۔
ہ۔ یرمیاہ کا مستحکم دل (۱۶: ۱۹۔۱۷:۱۸)
۱۶: ۱۹۔۲۱ نبی پیش بینی سے وہ دن دیکھتا ہے جب غیر قومیں بتوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف پھریں گی۔ آیت ۲۱ میں خدا اپنے پکے ارادے کا اِظہار کرتا ہے کہ مَیں یہوداہ کی تادیب کروں گا اور وہ جانیں گے کہ میرا نام یہوواہ ہے۔
مقدس کتاب
۱ خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا۔
۲ تو بیوی نہ کرنا۔ اس جگہ تیرے ہاں بیٹے بیٹیاں نہ ہوں ۔
۳ کیونکہ خداوند اُن بیٹوں اور بیٹیوں کی بابت جو اس جگہ پیدا ہُوئے ہیں اُنکی ماؤ ں کی بابت جنہوں نے اُنکو ولادت دی اور اُنکے باپوں کی بابت جن سے وہ پیدا ہُوئے یوں فرماتا ہے ۔
۴ کہ وہ بُری موت مرینگے ۔ نہ اُن پر کوئی ماتم کریگا اور نہ دفن کئے جائینگے ۔ وہ سطح زمین پر کھاد کی مانند ہو نگے ۔ وہ تلوار اور کال سے ہلاک ہو نگے اور اُنکی لاشیں ہوا کے پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہو نگی۔
۵ اِسلئےِ خدا یوں فرماتا ہے کہ تو ماتم والے گھر میں داخل نہ ہوا اور نہ اُن پر رونے کے لئے جا نہ اُن پر ماتم کر کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں نے اپنی سلامتی اور شفقت ورحمت کو اِن لوگوں پر سے اُٹھا لیا ہے ۔
۶ اور اِس ملک کے چھوٹے بڑے سب مر جائینگے ۔ نہ وہ دفن کئے جائینگے نہ لوگ اُن پر ماتم کرینگے اور نہ کوئی اُنکے لئے زخمی ہو گا نہ سر منڈائیگا۔
۷ نہ لوگ ماتم کرنے والوں کو کھانا کھلا ئینگے تا کہ اُنکو مرُدوں کی بابت تسلی دیں اور نہ اُنکو دِلداری کا پیالہ دینگے کہ وہ اپنے ماں باپ کے غم میں پئیں۔
۸ اور تو ضیافت والے گھر میں داخل نہ ہونا کہ اُنکے ساتھ بیٹھکر کھائے پئے۔
۹ کیونکہ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس جگہ سے تمہارے دیکھتے ہوئے اور تمہارے ہی دنوں میں خوشی اور شادمانی کی آوازدُلہے اور دُلہن کی آواز موقوف کراؤنگا۔
۱۰ اور جب تو یہ سب باتیں اِن لوگوں پر ظاہر کرے اور وہ تجھ سے پوچھیں کہ خداوند نے کیوں یہ سب بُری باتیں ہمارے خلاف کہیں ؟ ہم نے خداوند اپنے خدا کے خلاف کونسی بدی اور کونسا گناہ کیا ہے؟
۱۱ تب تو اُن سے کہنا خداوندفرماتا ہے اِسلئےِ کہ تمہارے باپ دادا نے مجھے چھوڑ دِیا اور غیر معبودوں کے طالب ہوئے اور اُنکی عبادت اور پرستش کی اور مجھے ترک کیا اور میری شریعت پر عمل نہیں کیا۔
۱۲ اور تم نے اپنے باپ دادا سے بڑھکر بدی کی کیونکہ دیکھو تم میں سے ہر ایک اپنے بُرے دِل کی سختی کی پیروی کرتا ہے کہ میری نہ سُنے۔
۱۳ اِسلئےِ میں تم کو اِس ملک سے خارج کرکے اَیسے ملک میں آوارہ کُرونگا جِسے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا جانتے تھے اور وہاں تم رات دن غیر معبودوں کی عبادت کروگے کیونکہ میں تم پر رحم نہ کُرونگا۔
۱۴ لیکن دیکھ خداوند فرماتا ہے وہ دن آتے ہیں کہ لوگ کبھی نہ کہینگے کہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اِسرائیل کو مصر سے نکال لایا۔
۱۵ بلکہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اِسرائیل کو شمال کی سر زمین سے اور اُن سب مملکتوں سے جہاں جہاں اُس اُنکو ہانک دیا تھا نکال لایا اور میں اُنکو پھر اُس ملک میں لاؤنگا جو میں نے اُنکے باپ دادا کو دیا تھا۔
۱۶ خداوند فرماتا ہے دیکھ میں بہت سے ماہی گیر وں کو بلواؤنگا اور وہ اُنکو شکار کرینگے اور پھر میں بہت سے شکاریوں کو بلواؤنگا اور وہ ہر پہاڑ سے ہر ٹیلے سے اور چٹانوں کے شگافوں سے اُنکو پکڑ نکالینگے ۔
۱۷ کیونکہ میری آنکھیں اُنکی سب روِشوں پر لگی ہیں۔ وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں اور اُنکی بدکرداری میری آنکھوں سے چھپی نہیں۔
۱۸ اور میں پہلے اُنکی بدکرداری اور خطاکاری کی دُونی سزادُونگا کیونکہ اُنہوں نے میری سر زمین کو اپنی مُکروہ چیزوں کی لاشوں سے ناپاک کیا اور میری میراث کو اپنی مکروہات سے بھر دیا ہے۔
۱۹ اَے خداوند میری قوت اور میرے گڑھ اور مصیبت کے دِن میں میری پناہ گاہ ! دُنیا کے کناروں سے قومیں تیرے پاس آکر کہینگی کہ فی الحقیقت ہمارے باپ دادا نے مخص جھوٹ کی میراث حاصل کی یعنی بُطلان اور بے سود چیزیں ۔
۲۰ کیا اِنسا ن اپنے لئے معبود بنائے جو خدا نہیں ہیں ۔
۲۱ اِسلئےِ دیکھ میں اس مرتبہ اُنکو آگاہ کُرونگا میں اپنا ہاتھ اور اپنا زور اُنکو دکھاؤنگا اور وہ مر جائینگے کہ میرا نا م یہوداہؔ ہے۔