یرمیاہ ۱۷

۱۷:‏ ۱۔۱۱ یہوداہ کی بت پرستی گہری کندہ ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ اسیری اور غلامی میں چلے جائیں گے۔ خدا کا پہاڑ یروشلیم ہے۔ اِنسان پر توکل کرنا ایک لعنت ہے مگر خداوند پر توکل کرنا باعثِ برکت ہے۔ خدا اِنسان کے حیلہ باز دل کو جانتا ہے اور وہ اُس شخص کو جو بددیانتی سے دولت حاصل کرتا ہے‏، سزا دے گا۔ اور اُس کا حال ’’اُس تیتر کی مانند ہو گا جو کسی دوسرے کے انڈوں پر بیٹھے‏،‘‘ اِس لئے جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو وہ اُس کو چھوڑ جاتے ہیں۔ 

آیت ۹ اِنسان کے نفسانی دل کی ناگوار مگر فی الحقیقت سچی تصویر پیش کرتی ہے۔ آر۔ کے۔ ہیریسن (‏R.K.Harrison)‏ حیلہ باز اور لاعلاج کی تفسیر کرتا ہے:‏

’’نئی پیدائش سے ناآشنا اِنسانی فطرت کا حال الٰہی فضل کے بغیر نہایت خستہ اور حسرت انگیز ہوتا ہے۔ آیت ۹ میں اِسے لاعلاج کہا گیا ہے۔ ۱۵:‏۱۸ اور ۳۰:‏ ۱۲ میں بھی لفظ لاعلاج ہی استعمال ہوا ہے۔ یعنی ایسا بیمار اور بگڑا ہوا کہ اصلاح ممکن نہیں۔ اِنسان کی ہرپشت کو ضرورت ہے کہ خدا کے روح اور فضل کے وسیلے سے نئے سرے سے پیدا ہو‘‘ (‏دیکھئے یوحنا ۳:‏۵ و مابعد اور ططس ۳:‏۵)‏۔

جو لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے دل کے خلاف یہ الزام بے حد سخت ہے۔ اُن کے لئے ہم میتھیو ہنری کی یہ نہایت ہی ضروری تفسیر پیش کرتے ہیں:‏

’’ہمارے دلوں میں وہ شرارت اور بدی ہے جس کا ہمیں خود بھی شعور نہیں بلکہ اِس کے موجود ہونے کا شک بھی نہیں۔ سارے بنی نوعِ اِنسان یہ سوچنے کی غلطی کا شکار رہیں کہ ہم اور کم سے کم ہمارے دل حقیقتِ حال سے بہت بہتر ہیں۔ اِنسان کا دل‏، اِنسان کا ضمیر اپنی گناہ آلود اور برگشتہ حالت میں سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز ہے __ نہایت چالاک‏، دغاباز اور جھوٹا ہے۔ وہ ریاکاری (‏اصل لفظ کا موزوں ترجمہ)‏ کرنے کا ماہر ہے۔ یہی لفظ یعقوب کے نام کا ماخذ ہے __ دوسرے کی جگہ / رُتبہ لے لینے والا۔ وہ بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتا ہے۔ وہ باتوں کو جھوٹا رنگ دیتا ہے اور اُن کو سلامتی کی خبر دیتا ہے جن کے لئے سلامتی ہے ہی نہیں۔ جب اِنسان اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہے‏، یا وہ دیکھتا نہیں‏، یا وہ مطالبہ (‏احتساب)‏ نہیں کرے گا‏، یا ہم جو چاہیں کرتے رہیں ہماری سلامتی ہو گی‏، یا اسی طرح کے ہزار بہانے کریں تو یاد رکھیں کہ اُن کے پیچھے دل حیلہ باز ہے۔ وہ اِنسانوں کو فریب دے کر تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ اِنسان خود فریبی سے اپنے آپ کو ہلاک اور تباہ کرتے ہیں۔ دل اِس لئے اِنتہائی حیلہ باز ہے کہ ہلاکت آفرین اور بے باک ہے۔ ضمیر کو ہر دوسری استعداد کی غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے لیکن اگر وہ خود جھوٹ کا باپ اور فریب کاری کا سرغنہ بن جائے تو صورتِ حال واقعی خراب‏، افسوس ناک اور اَن حل ہو گی۔ جسے اِنسان کے اندر خداوند کا چراغ ہونا چاہئے‏، اگر وہ جھوٹی روشنی دینے لگے؛ روح میں خدا کا نائب جسے مفادات کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اگر وہ غدار ہو جائے تو اِنسان کا کیا ہو گا؟دل ایسا حیلہ باز اور دغاباز ہے کہ ہم واقعی کہہ سکتے ہیں اِس کو کون دریافت کر سکتا ہے؟ کون بیان کر سکتا ہے کہ دل کیسا بُرا ہے؟‘‘

۱۷:‏ ۱۲۔۱۸ یرمیاہ خوش ہوتا ہے کہ یہوداہ کی پناہ گاہ خدا کا جلالی تخت ہے۔ پھر وہ بیان کرتا ہے کہ کسی اَور پر توکل کرنا حماقت ہے اور لوگوں کی خاطر اِسرائیل کی اُمید گاہ سے التماس کرتا ہے کہ شفا بخشے اور رہائی دے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ عدالت اور غضب کہاں گیا جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ یرمیاہ خدا کو یاد دلاتا ہے کہ مَیں نے خدا کا گڈریا بننے سے پہلوتہی نہیں کی اور نہ یروشلیم کی تباہی کے افسوس ناک دن کی آرزو کی ہے۔ مَیں صرف تیرے (‏خدا)‏ کلام کی منادی کرتا رہا ہوں۔ وہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ جو لوگ تیرے کلام کا مذاق اُڑاتے ہیں اُن کو سزا دے اور مجھے سچا ثابت کر۔ 

و۔ یرمیاہ کا سبت کے بارے میں وعظ (‏۱۷:‏ ۱۹۔۲۷)‏

یہاں بادشاہوں اور یہوداہ کے سارے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سبت کے دن کو مقدس جانو۔ اُن سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر فرماں بردار رہو گے تو داؤد کی نسل سے بادشاہ تم پر حکومت کریں گے اور ہیکل میں عبادت کرنا جاری رہے گا۔ ساتھ ہی اِنتباہ بھی ہے کہ اگر نافرمانی کرو گے تو سزا (‏یروشلیم کی بربادی)‏ پاؤ گے۔ 

اِروِنگ ایل۔ جینسن (‏Irving L. Jensen)‏ واضح کرتا ہے کہ سبت اسرائیل کے لئے کیوں اِتنا اہم تھا:‏

’’خدا کے ساتھ دل کی وابستگی کی حقیقی آزمائش اِس سے ہوتی ہے کہ وہ اُس کے کلام کی تعمیل کرتا ہے یا نہیں۔ اِسرائیل کے لئے آئین و ضوابط میں سے ایک یہ تھا کہ وہ سبت کو مقدس مانیں اور اِس روز کوئی کام نہ کریں (‏۱۷:‏ ۲۱‏،۲۲)‏۔ خدا کے لوگوں سمیت سارے اِنسانوں کی زندگیوں پر مادہ پرستی کے مستقل دباؤ نے اِس حکم کی پیروی کرنا مشکل بنا دیا۔ اِس وجہ سے دس میں سے یہ حکم حقیقی اِمتحان تھا کہ دل میں ابدی باتوں کو اوّلیت حاصل ہے یا دُنیاوی باتوں کو۔ کیا سبت کے بارے میں حکم یہوداہ کے لئے فیصلہ کُن اہمیت رکھتا تھا؟ یرمیاہ کا علامتی کام اور واضح پیغام جو اُسے سنانے کا حکم ہوا مثبت جواب دیتا ہے۔‘‘

خداوند کے دن کے تعلق سے مسیحیوں پر بھی یہی اُصول لاگو ہوتے ہیں۔ اِس کا مقصد بھی روحانی اور جسمانی تازگی‏، اپنے فدیہ دینے والے اور اپنی مخلصی کو یاد کرنا‏، خداوند کی عبادت کرنا اور یاد کرنا ہے کہ ہمارے خداوند نے ہفتہ کے پہلے دن مُردوں میں سے زندہ ہو کر موت پر فتح پائی۔ 

مقدس کتاب

۱ یہوداہ ؔ کا گناہ لوہے کے قلم اور ہیرے کی نوک سے لکھا گیا ہے۔ اُنکے دِل تختی پر اور اُنکے مذبحوں کے سینگوں پر کندہ کیا گیا ہے۔
۲ کیونکہ اُنکے بیٹے اپنے مذبحوں اور یسیرتوں کو یا د کرتے ہیں جوہرے درختوں کے پاس اُونچے پہاڑوں پر ہیں ۔
۳ اَے میرے پہاڑ جومیدان میں ہے! میں تیرا مال اور تیرے سب خزانے اور تیرے اُونچے مقام جنکو تو نے اپنی تمام سرحدوں پر گناہ کے لئے بنایا لُٹاؤنگا۔
۴ اور تو ازخود اُس میراث سے جو میں نے تجھے دی اپنے قصور کے باعث ہاتھ اُٹھائیگا اور میں اُس ملک میں جسے تو نہیں جانتا تجھ سے تیرے دُشمنوں کی خدمت کراؤنگا کیونکہ تم نے میرے قہر کی آگ بھڑکا دی ہے جو ہمیشہ تک جلتی رہیگی ۔
۵ خداوند یوں فرماتا ہے کہ ملعون ہے وہ آدمی جوانسان پر توکل کرتا ہے اور بشیر کو اپنا بازو جا نتا ہے اور جسکا دِل خداوند سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔
۶ کیونکہ وہ رتمہ کی مانند ہو گا جو بیابان میں ہے اور کبھی بھلائی نہ دیکھیگا بلکہ بیابان کی بے آب جگہوں میں اور غیر آباد زمین شور میں رہیگا۔
۷ مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے اور جسکی اُمید گاہ خداوند ہے۔
۸ کیونکہ وہ اُس درخت کی مانند ہو گا جو پانی کے پاس لگایا جائے اور اپنی جڑ دریا کی طرف پھیلائے اور جب گرمی آئے تو اُسے کچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اُسکے پتے ہرے رہیں اور خشک سالی کا اُسے کچھ خوف نہ ہو اور پھل لانے سے باز نہ رہے۔
۹ دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُسکو کون دریافت کرسکتا ہے؟ ۔
۱۰ میں خداوند دِل ودماغ کو جانچتا اور آزماتا ہوں تاکہ ہر ایک آدمی کو اُسکی چال کے موافق اور اُسکے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ دُوں ۔
۱۱ بے انصافی سے دولت حاصل کرنے والا اُس تیتر کی مانند ہے جو کسی دُوسرے کے انڈوں پر بیٹھے ۔ وہ آدھی عمر میں اُسے کھو بیٹھیگا اور آخر کو احمق ٹھہر یگا۔
۱۲ ہمارے مقدس کا مکان ازل ہی سے مُقررکیا ہوا جلالی تخت ہے۔
۱۳ اَے خداوند اِسراؔ ئیل کی اُمید گاہ! تجھکو ترک کرنے والے سب شرمندہ ہو نگے ۔ مجھکو ترک کرنے والے خاک میں مل جائینگے کیونکہ اُنہوں نے خداوند کو جو آبِ حیات کا چشمہ ہے ترک کردیا۔
۱۴ اَے خداوند ! تو مجھے شفا بخشے تو میں شفا پاؤنگا ۔ تو ہی بچائے تو بچونگا کیونکہ تو میرا فخر ہے ۔
۱۵ دیکھ وہ مجھے کہتے ہیں خداوند کا کلام کہا ں ہے؟ اب نازل ہو۔
۱۶ میں نے تو تیری پیروی میں گڈریا بننے سے گریز نہیں کیا اور مصیبت کے دن کی آرزو نہیں کی ۔ تو خود جانتا ہے کہ جو کچھ میرے لبوں سے نکلا تیرے سامنے تھا ۔
۱۷ تو میرے لئے دہشت کا باعث نہ ہو ۔ مصیبت کے دن تو ہی میری پناہ ہے۔
۱۸ مجھ پر ستم کرنے والے شرمندہ ہوں پر مجھے شرمندہ نہ ہونے دے ۔ وہ ہراسان ہوں پر مجھے ہراسان نہ ہونے دے ۔ مصیبت کا دن اُن پر لا اور اُنکو شکست پر شکست دے۔
۱۹ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ جا اور اُس پھاٹک پر جس سے عام لوگ اورشاہان یہوداہؔ اور اَے سب بنی یہوداہ اور یروشیلم ؔ کے سب پھاٹکوں پر کھڑا ہو۔
۲۰ اور اُن سے کہدے کہ اَے شاہان یہوداہ ؔ اور اَے سب بنی یہوداہ اور یروشیلمؔ کے سب باشند و جو اِن پھاٹکوں میں سے آتے جاتے ہو خداوند کا کلام سُنو۔
۲۱ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم خبردار رہو اور سبت کے دن بوجھ نہ اُٹھاؤ اور یروشیلم ؔ کے پھاٹکوں کی راہ سے اندر نہ لاؤ۔
۲۲ اور تم سبت کے دن بوجھ اپنے گھروں سے اُٹھاکر باہر نہ لے جاؤ اور کسی طرح کاکام نہ کرو بلکہ سبت کے دن مقدس جانو جیسا میں نے تمہارے باپ دادا کو حکم دیا تھا ۔
۲۳ لیکن اُنہوں نے نہ سُنا نہ کان لگایا بلکہ اپنی گردن کو سخت کیا کہ شنوا نہ ہوں اور تربیت نہ پائیں ۔
۲۴ اور یوں ہو گا کہ اگر تم دل لگا کر میری سُنو گے خداوند یوں فرماتا ہے اور سبت کے دن تم اِس شہر کے پھاٹکوں کے اندر بوجھ نہ لاؤ گے بلکہ سبت کے دن کو مقدس جانو گے یہاں تک کہ اُس میں کچھ کام نہ کرو۔
۲۵ تو اِس شہر کے پھاٹکوں سے داؤدؔ سے جا نشین بادشاہ اور اُمراداخل ہو نگے۔ وہ اور اُنکے اُمرا یہوداہؔ کے لوگ اور یروشیلم کے باشندے رتھوں اور گھوڑوں پر سوار ہونگے اور یہ شہر ہمیشہ تک آباد رہیگا ۔
۲۶ اور یہوداہؔ کے شہروں اور یروشیلم کی نواحی اور بینمین کی سر زمین اور میدان اور کوہستان اور جنوب سے سوختنی قربانیاں اور ذبیحے اور ہدئے اور لُبان لیکر آئینگے اور خداوند کے گھر میں شکر گذاری کے ہدئے لائینگے ۔
۲۷ لیکن اگر تم میری نہ سُنو گے کہ سبت کے دن کو مقدس جانو اور بوجھ اُٹھا کر سبت کے دن یروشیلم کے پھاٹکوں میں داخل ہونے سے باز نہ رہو تو میں اُسکے پھاٹکوں میں آگ سُلگاؤنگا جو اُسکے قصروں کو بھسم کر دیگی اور ہرگز نہ بُجھیگی ۔