یرمیاہ ۱

تفسیر

۱۔ تعارُف۔ یرمیاہ نبی کا تقرر اور ذمہ داری (‏باب ۱)‏

۱:‏ ۱۔۱۰ نبوت کی اِس کتاب کے پہلے باب میں یرمیاہ بن خلقیاہ کا تعارُف اور اُس کی بلاہٹ اور اُسے دی گئی ہدایات کا ذکر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اُس کا باپ بنیمین کے علاقے میں عنتوتی کاہنوں میں سے تھا۔ خدا نے یرمیاہ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی نبی مخصوص اور مقرر کر دیا تھا (‏آیت ۵)‏۔ اِنسان ہونے کے باعث وہ اِس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچاتا تھا (‏آیت ۶)‏۔ خدا نے اُسے توفیق اور تقویت عطا کی (‏آیت ۸‏،۹)‏‏، اور اُسے بربادی اور بحالی کی پیش گوئی کرنے کی ذمہ داری تفویض کی (‏آیت ۱۰)‏۔ ولیم کیلی (‏William Kelly)‏ نے یرمیاہ کی شخصیت اور کام کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

’’ذہین قاری دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یرمیاہ کا کردار اور انداز یسعیاہ سے بالکل فرق ہے۔ اِس کتاب میں اُس زمین کے بارے میں خدا کے شان دار مقاصد نہیں جس کا مرکز بنی اِسرائیل قوم ہے بلکہ یہاں خدا کے لوگوں کی اخلاقی زبوں حالی پر خدا کی نبوت ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ بے دین اور غیر اقوام کے لئے سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے تاہم مُدَّعا و مقصد یہودیوں کے شعور اور ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ اِس مقصد کے حصول کے لئے خدا کا روح یرمیاہ کے اپنے تجربے کو کتنا استعمال کرتا ہے۔ سارے نبیوں میں کوئی نہیں جس نے یرمیاہ کی طرح اپنے محسوسات‏، اپنے خیالات‏، اپنے اَطوار‏، اپنی رَوِشوں اور اپنی روح کا تجزیہ کیا ہو۔‘‘

۱:‏ ۱۱۔۱۹ اِس کے بعد یہوواہ بادام کا درخت اور ابلتی ہوئی دیگ جیسے بصری لوازمات کی مدد سے نبی کو سکھاتا اور ہدایات دیتا ہے۔ بادام کا درخت‏، بہار کی آمد آمد کا نشان ہوتا ہے اور یہاں خدا کے کلام کے عنقریب پورا ہونے کو ظاہر کرتا ہے (‏آیت ۱۱‏، ۱۲)‏۔’’ ابلتی ہوئی دیگ …جس کا منہ شمال کی طرف سے ہے‘‘‏، بابل ہے۔ اِس کا اُبال یہوداہ کے اُوپر پڑنے والا ہے کیونکہ لوگوں نے یہوواہ کو ترک کر دیا ہے اور بت پرستی میں پڑ گئے ہیں (‏آیات ۱۳۔۱۶)‏۔ لازم ہے کہ یرمیاہ یہوداہ کے بادشاہوں‏، حاکموں‏، کاہنوں اور لوگوں کے خلاف اِس ناگوار پیغام کی نبوت کرے۔ وہ یرمیاہ سے لڑیں گے۔ لیکن خدا اُس کے ساتھ ہو گا اور اُسے چھڑائے گا (‏آیت ۱۷۔۱۹)‏۔

مقدس کتاب

۱ یرمیاہ بن خلقیاہ کی باتیں جو بنیمین کی مملکت میں غتوتی کاہنوں میں تھا ۔
۲ جس پر خداوند کا کلام شاہ یہوداہ یوسیاہ بن امون کے دِنوں میں اُسکی سلطنت کے تیرھویں سال میں نازِل ہوا۔
۳ شا ہ یہوداہ یہویقیم بن بوسیاہ کے دِنوں میں بھی شاہ یہوداہ صدقیاہ بن یوسیاہ کے گیارھویں سال کے تمام ہونے تک اہل یروشیلم کے اسیری میں جانے تک جو پانچویں مہینے میں تھا نازِل ہوتا رہا۔
۴ تب خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا ۔
۵ اِس سے پیشتر کہ میں نے تجھے بطن میں خلق کیا۔ میں تجھے جانتا تھا اور تیری وِلادت سے پہلے میں نے تجھے مخصوص کیا اور قوموں کے لئے تجھے نبی ٹھہرایا۔
۶ تب میں نے کہا ہائے خداوند خدا ! دیکھ میں بول نہیں سکتا کیونکہ میں تو بچہ ہوں۔
۷ لیکن خداوند نے مجھے فرمایا یوں نہ کہہ کہ میں بچہ ہوں کیونکہ جس کسی کے پاس میں تجھے بھیجونگا تو جائیگا اور جو کچھ میں تجھے فرماؤ نگا تو کہیگا ۔
۸ تو اُنکے چہروں کو دیکھکر نہ ڈر کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔
۹ تب خداوند نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے منہ کو چھوا اور خداوند نے مجھے فرمایا دیکھ میں نے اپنا کلام تیرے منہ میں ڈالدیا۔
۱۰ دیکھ آج کے دن میں نے تجھے قوموں پر اور سلطنتوں پر مقرر کیا کہ اُکھاڑے اور ڈھائے اور ہلاک کرے اور گرائے اور تعمیر کرے اور لگائے۔
۱۱ پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا اَے یرمیاہ تو کیا دیکھتا ہے؟میں نے عرض کی کہ بادام کے درخت کی ایک شاخ دیکھتا ہوں۔
۱۲ اور خداوند نے مجھے فرمایا کہ تو نے خوب دیکھا کیونکہ میں اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہتا ہوں ۔
۱۳ دُوسری بار خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اُبلتی ہوئی دیگ دیکھتا ہوں جسکا منہ شمال کی طرف سے ہے ۔
۱۴ تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ شمال کی طرف سے اِس مُلک کے تمام باشندوں پر آفت آئیگی ۔
۱۵ کیونکہ خداوند فرماتا ہے دیکھ ! میں شمال کی سلطنتوں کے تمام خاندانوں کو بُلاؤنگا اور وہ آئینگے اور ہر ایک اپنا تخت یروشیلم کے پھاٹکوں کے مدخل پر اور اُسکی سب دیواروں کے گرداگرد اور یہوداہ کے تمام شہروں کے مقابل قائم کریگا۔
۱۶ اور میں اُنکی ساری شرارت کے باعث اُن پر فتویٰ دُونگا کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کیا اور غیر معبودوں کے سامنے لبان جلایا اور اپنی ہی دستکاری کو سجدہ کیا۔
۱۷ اِسلئے تو اپنی کمر کسکراُٹھاکھڑاہوا اور جوکچھ میں تجھے فرماؤں اُن سے کہہ ۔ اُنکے سامنے سراسمیہ کروں۔
۱۸ کیونکہ دیکھ میں آج کے دن تجھکو اِس تمام ملک اور یہوداہ کے بادشاہوں اور اُسکے اِمیروں اور اُسکے کاہنوں اور ملک کے لوگوں کے مقابل ایک فصیلدار شہر اور لوہے کا ستون اور پیتل کی دیوار بناتا ہوں۔
۱۹ اور وہ تجھ سے لڑینگے لیکن تجھ پر غالب نہ آئینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔