۹۔ حاصِلِ کلام __ سُقُوطِ یروشلیم (باب ۵۲)
یرمیاہ کا آخری باب تواریخی ہے جس میں سقوطِ یروشلیم اور اسیروں کا حال بیان کیا گیا ہے۔
۵۲: ۱۔۱۶ آیات ۱۔۱۱ میں صدقیاہ کے آخری ایام کے حالات دوبارہ بیان کئے گئے ہیں۔ اور آیات ۱۲۔۱۶ میں یروشلیم کی بربادی کا دوبارہ بیان ہے۔
۵۲: ۱۷۔۲۳ اِس کے بعد ہیکل کے ظروف اور ساز و سامان کی تفصیلی فہرست ہے۔ یہ سب کچھ بابلی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
۵۲: ۲۴۔۲۷ ’’جلوداروں کا سردار‘‘ چوہتر آدمیوں کو پکڑ کر ’’رِبلہ‘‘ میں شاہِ بابل کے پاس لے گیا۔ اُس نے اُنہیں تلوار سے قتل کر دیا۔
۵۲: ۲۸۔۳۴ باقی لوگوں کو وہ تین گروہوں میں اور تین مختلف موقعوں پر اسیر کر کے لے گئے۔ اُس کی قید کے ۳۷ ویں برس میں یہویاکین بادشاہ کو بابل کے بادشاہ نے قید سے نکالا اور اُس کے ساتھ مہربانی سے پیش آیا۔ مرنے کے دن تک یہویاکین کو ہر روز وظیفے کے طور پر رسد ملتی رہی۔
یوں آنسوؤں اور قہر و غضب اور سزاؤں میں ڈوبی ہوئی نبوت کی یہ کتاب مہربانی اور حسنِ سلوک کے بیان پر اِختتام پذیر ہوئی۔
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ کتاب صرف عبرانی تاریخ ہے جو کئی مقامات پر نبوت یا پیش گوئی کی صورت میں پیشگی لکھ دی گئی۔ بے شک یہ بھی درست ہے۔ لیکن یرمیاہ کی کتاب خدا کے کلام کا ایک حصہ ہے اور ہمیشہ تازہ اور باموقع ہے اور بنی نوعِ اِنسان سے متعلق ہے۔ تقریباً تین سو سال پہلے میتھیو ہنری (Matthew Henry) نے یرمیاہ کی کتاب سے حاصل ہونے والے روحانی اسباق کا خلاصہ اِن لفظوں میں پیش کیا:
’’اور اب اِس کے سارے مواد پر نظر ڈالنے اور نبوت کا تاریخ سے مقابلہ کرنے پر ہم عمومی طور سے یہ باتیں سیکھتے ہیں۔
- یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بلند پایہ اور لائق فائق کلیسیائیں اور افراد بگڑ جاتے اور نہایت خراب ہو جاتے ہیں۔
- بدی / شرارت اُن لوگوں کو تباہ اور ہلاک کر دیتی ہے جو اِسے دل میں رکھتے ہیں۔ اگر توبہ کر کے اِسے ترک نہ کیا جائے تو یقیناًاُن کو تباہ اور برباد کر دیتی ہے۔
- ظاہری اِقرار، دعوے اور رعایتیں نہ صرف گناہ کے لئے بہانہ اور بربادی کے لئے عذر ہوتی ہیں بلکہ گناہ اور بربادی دونوں کو بے حد سنگین اور شدید بنا دیتی ہیں۔
- خدا کے کلام کا ایک لفظ بھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اپنے مقررہ وقت پر پورا ہو گا اور لوگوں کی بے اعتقادی خدا کے اِنتباہات کو کسی طور بھی غیر موثر نہ کرے گی۔ یہاں خدا کا عدل اور صداقت خونی حروف میں لکھ دیئے گئے ہیں اور یہ اُن لوگوں کو مجرم ٹھہرانے یا شرمندہ کرنے کے لئے ہے جو اِن دھمکیوں کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ دھوکے میں نہ رہیں۔ خدا کو ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جا سکتا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ جب صدقیاہؔ سلطنت کرنے لگا تو اکیس برس کا تھا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اوراُسکی ماں کا نام حموطل تھا جو لبنا ہی یرمیاہؔ کی بیٹی تھی ۔
۲ اور جو کچھ یہویقیمؔ نے کیا تھا اُسی کے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
۳ کیونکہ خداوند کے غضب کے سبب سے یروشلیم اور یہوداہؔ کی یہ نوبت آئی کہ آخر اُس نے اُن کو اپنے حضور سے دُور ہی کردیا اور صدقیاہؔ شاہِ بابلؔ سے مُسخرف ہو گیا ۔
۴ اور اُسکی سلطنت کے نویں برس کے دسویں مہینے کے دسویں دِ ن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ نبورکدؔ رضر نے اپنی ساری فوج سمیت یروشلیم پر چڑھائی کی اور اُسکے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُنہوں نے اُسکے مُقابل حصار بنالے ۔
۵ اور صدقیاہؔ بادشاہ کی سلطنت کے گیارھویں برس تک شہر کا محاصرہ رہا ۔
۶ اور چوتھے مہینے کے نویں دن سے شہر میں کال ایسا سخت ہو گیا کہ ملک کے لوگوں کے لئے خورش نہ رہی ۔
۷ تب شہر پناہ میں رخنہ ہو گیا اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا (اُس سے کسدی شہر کو گھیر ے ہُوئے تھے) اور بیابان کی راہ لی ۔
۸ لیکن کسدیوں کی فوج نے بادشاہ کا پیچھا کیا اور اُسے یریحوہؔ کے میدان میں جا لیا اور اُسکا سارا لشکر اُسکے پا س سے پراگند ہ ہو گیا تھا ۔
۹ سو وہ بادشاہ کو پکڑ کر ربلہ ؔ میں شاہِ بابلؔ کے پاس حماتؔ کے علاقہ میں لے گئے اور اُس نے صدقیاہؔ پر فتویٰ دیا۔
۱۰ اور شاہِ بابلؔ نے صدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور یہوداہؔ کے سب اُمرا کو بھی ربلہؔ میں قتل کیا۔
۱۱ اور اُس نے صدقیاہؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور شاہِ بابلؔ اُسکو زنجیروں سے جکڑکر بابلؔ کو لے گیا اور اُسکے مرنے کے دِن تک اُسے قید خانہ میں رکھا ۔
۱۲ اور شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے عہد کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے دسویں دن جلوداروں کا سردار نبوزؔ رادان جو شاہِ بابلؔ کے حضور میں کھڑا رہتا تھا یروشلیم میں آیا ۔
۱۳ اُس نے خداوند کا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلیم کے سب گھر یعنی ہر ایک بڑا گھر آگ سے جلادیا ۔
۱۴ اور کسدیوں کے سارے لشکر نے جو جلو داروں کے سردار کے ہمراہ تھا یروشلیم کی فصیل کو چاروں طرف سے گرا دیا ۔
۱۵ اور باقی لوگوں اور محتاجوں کو جو شہرمیں رہ گئے تھے اور اُنکو جنہوں نے اپنوں کو چھوڑکر شاہِ بابلؔ کی پناہ لی تھی اور عوام میں سے جتنے باقی رہ گئے تھے اُن سب کو نبُوؔ زرادان جلوداروں کا سردار اسیر کرکے لے گیا ۔
۱۶ پر جلوداروں کے سردار نبوُزرادانؔ نے ملک کے کنگالوں کو رہنے دیا تا کہ کھیتی اور تاکستانو ں کی باغبانی کریں ۔
۱۷ اور پیتل کے اُن سُتونوں کو جو خداوندکے گھر میں تھے اور کُرسیوں کو اور پیتل کے بڑے حوض کو جو خداوند کے گھر میں تھا کسدیوں نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اُنکو سب پیتل بابلؔ کو لے گئے ۔
۱۸ اور دیگیں اور بیلچے اور کُلگیر اور لگن اور چمچے اور پیتل کے تمام برتین جو وہاں کام آتھے تھے لے گئے۔
۱۹ اور باسن اور انگیٹھیاں اور لگن اور دیگیں اور شمعدان اور چمچے اور پیالے غرض جو سونے کے تھے اُنکے سونے کو اور جو چاندی کے تھے اُنکی چاندی کو جلوداروں کا سردار لے گیا ۔
۲۰ وہ دُوستون اور وہ بڑا حوض اورپیتل کے بارہ بیل جو کُرسیوں کے نیچے تھے جنکو سُلیمان ؔ بادشاہ نے خداوند کے گھر کے لئے بنایا تھا اِن سب چیزوں کے پیتل کا وزن بے حساب تھا ۔
۲۱ ہر سُتُون اٹھارہ ہاتھ اُونچا تھا اور بارہ ہاتھ کا سُوت اُسکے گرداگر د آتا تھا اور چاراُنگل موٹا تھا ۔ یہ کھو کھلا تھا۔
۲۲ اور اُسکے اُوپر پیتل کا ایک تاج تھا اور وہ تاج پانچ ہاتھ بلند تھا ۔اُس تاج پر گرداگرد جالیاں اور انار کی کلیاں سب پیتل کی بنی ہُوئی تھیں اور دُوسرے سُتُون کے لوازِم بھی جالی سمیت اِن ہی کی طرح تھے ۔
۲۳ اور چاروں ہواؤں کے رُخ انار کی کلیاں چھیانوے تھیں اور گرداگرد جالیوں پر ایک سو تھیں ۔
۲۴ اور جلوداروں کے سردار نے سرایاہؔ سردار کاہن کو اور کاہن ثانی صفیناہؔ کو اور تینوں دربانوں کو پکڑ لیا۔
۲۵ اور اُس نے شہر میں سے ایک سردار کو پکڑ لیا جو جنگی مردوں پر مُقرر تھا اور جو لوگ بادشاہ کے حضُور حاضر رہتے تھے اُن میں سات آدمیوں کو جو شہر میں ملے اور لشکر کے سردار کے مُحّرِر کو جو اہل ملک کی موجودات لیتا تھا اور ملک کے آدمیوں میں سے ساٹھ آدمیوں کو جو شہر میں ملے ۔
۲۶ اِنکو جلوداروں کا سردار نبوزرادان ؔ پکڑ کر شاہِ بابلؔ کے حُضُور ربلہؔ میں لے گیا۔
۲۷ اور شاہِ بابلؔ نے حماتؔ کے علاقہ کے ربلہؔ میں اُنکو قتل کیا ۔سو یہوداہؔ اپنے ملک سے اسیر ہو کر چلا گیا ۔
۲۸ یہ وہ لوگ ہیں جنکو نبو کدرؔ ضر اسیر کرکے لے گیا ۔ساتویں برس میں تین ہزار تییس یہودی ۔
۲۹ نبوکدرضر ؔ کے اٹھارھویں برس میں یروشلیم کے باشندوں میں آٹھ سو بتیس آدمی اسیر کرکے لے گیا ۔
۳۰ نبوکدؔ رضر کے تےئیسویں برس میں جلوداروں کا سردار نبوُزرادانؔ سات سو پینتالیس آدمی یہودیوں میں پکڑ کر لے گیا ۔یہ سب آدمی چار ہزار چھ سوتھے ۔
۳۱ اور یہویا کین شاہِ یہوداہؔ کی اسیری کے سینتیسویں برس کے بارھویں مہینے کے پچیسویں دن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ اویل مُرؔ دوک نے اپنی سلطنت کے پہلے سال یہویاکین شاہِ یہوداہؔ کو قید خانہ سے نکالکر سرفراز کیا۔
۳۲ اور اُسکے ساتھ مہربانی سے باتیں کیں اور اُسکی کُرسی اُن سب بادشاہوں کی کُرسیوں سے جو اُسکے ساتھ بابلؔ میں تھے بلند کی ۔
۳۳ وہ اپنے قید خانہ کے کپڑے بدلکر عمر بھر برابر اُسکے حُضُور کھانا کھاتا رہا ۔
۳۴ اور اُسکو عمر بھر یعنی مرنے تک شاہِ بابلؔ کی طرف سے وظیفہ کے طور پر ہر روز رسد ملتی رہی ۔