یرمیاہ ۱۵

۱۵:‏ ۱۔۴ لوگوں کی شفاعت کرنا بے سود ہے۔ اُن کے لئے ’’موت … تلوار … کال … اور اسیری‘‘ مقرر ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ موسیٰ اور سموئیل جیسے صفِ اوّل کے شفاعت کرنے والے بھی اِس غضب اور سزا کو روک نہیں سکتے۔ اِس کا ذمہ دار منسی تھا۔ اُس نے یروشلیم میں بدترین قسم کی بت پرستی کو فروغ دیا تھا جس میں مولک کی پرستش بھی شامل تھی (‏دیکھئے ۲۔سلاطین ۲۱:‏ ۱۔۱۶)‏۔ 

۱۵:‏ ۵۔۹ یروشلیم کی یہ قابلِ رحم حالت اِس بات کا نتیجہ ہے کہ لوگ خداوند کی طرف سے سرزنش اور تادیب سے اثر پذیر نہیں ہوئے۔ مثالی خاندان والی عورت اپنے بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی کا مزہ لینے کو زندہ نہ رہے گی۔ 

۱۵:‏ ۱۰۔۱۸ یرمیاہ کے اپنے لوگ بے وجہ اُس سے عداوت رکھتے ہیں‏، لیکن خدا وعدہ کرتا ہے کہ جب اُس کے مخالفین اُس سے مدد کے طلب گار ہوں گے تو وہ راست اور سچا ثابت ہو گا۔ یہوداہ شمالی فولاد (‏کسدیوں)‏ کو نہ توڑ سکے گا۔ بلکہ وہ یہوداہ کے خزانوں کو لُوٹ کر لے جائے گا۔ نبی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھے کیوں ستایا اور تنگ کیا جاتا ہے حالانکہ مَیں خداوند کا نہایت وفادار ہوں۔ تاہم وہ جانتا ہے کہ میری حمایت اور بچنے کا ذریعہ خدا کا کلام ہے جو میرے دل کی خوشی اور خرمی ہے۔

۱۵:‏ ۱۹۔۲۱ خدا کا جواب یہ ہے کہ نبی نے میرے بارے میں غلط خیال دل میں جمع کر رکھے ہیں اور گاہے گاہے اُن نکمے خیالات کا اِظہار کرتا رہا ہے۔ ضرور ہے کہ یہ خیالات پاک کئے جائیں جیسے کوئی شخص قیمتی یا لطیف دھات سے کھوٹ یا کثیف میل کو جدا کرتا ہے۔ اُس کے مخالف اُس کی طرف پھریں تو پھریں مگر اُسے اُن کی طرف ہرگز نہیں پھرنا چاہئے۔ جی۔ کیمبل مورگن (‏G. Campbell Morgan)‏ وضاحت کرتا ہے:‏

’’وہ اپنے دل کو اِس کھوٹ سے پاک کرے اور خدا کو صرف خدا کی سچائی کے لئے مخصوص کر دے۔ اِسی صورت میں اور صرف اِسی صورت میں وہ خدا کے پیغامات سنانے کے لائق بنایا جائے گا۔‘‘

خدا نبی کو ’’پیتل کی مضبوط دیوار‘‘ بنائے گا جسے اُس پر ظلم کرنے والے گرا نہ سکیں گے۔ خدا اپنے بندے کو رہائی دلائے گا اور قیمت دے کر چھڑائے گا۔

مقدس کتاب

۱ تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ اگرچہ مُوسیٰ اور سموئیل میرے حضور کھڑے ہوتے تو بھی میرا دِل اِن لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا ۔ اِنکو میرے سامنے سے نکال دے کہ چلے جائیں۔
۲ اور جب وہ تجھ سے کہیں کہ ہم کدھر جائیں ؟ تو اُن سے کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جو موت کے لئے ہیں وہ موت کی طرف جائیں اور جو تلوار کے لئے ہیں وہ تلوار کی طرف اور جو کال کے لئے ہیں وہ کال کو اور جو اِسیری کے لئے ہیں وہ اِسیری میں ۔
۳ اور میں چار چیزوں کو ان پر مسلط کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔ تلوار کو کہ قتل کرے اور کتوں کو کہ پھاڑ ڈالیں اور آسمانی پرندوں کو اور زمین کے درندوں کو کہ نگل جائیں اور ہلاک کریں ۔
۴ اور میں انکو شاہِ یہوداہ منسی بن حزقیاہ کے سبب سے اس کام کے باعث جو اس نے یروشیلم میں کیا ترک کردونگا کہ زمین کی سب مملکتو ں میں دھکے کھاتے پھریں ۔
۵ اب اے یروشیلم کون تجھ پر رحم کریگا؟ کون تیرا ہمدرد ہوگا؟ یا کون تیری طرف آئیگا کہ تیری خیروعافیت پوچھے؟ ۔
۶ خداوند فرماتا ہے تو نے مجھے ترک کیا اور برگشتہ ہوگئی اسلئے میں تجھ پر اپنا ہاتھ بڑھاؤنگا اور تجھے برباد کرونگا میں تو ترس کھاتے کھاتے تنگ آگیا۔
۷ اور میں نے انکو ملک کے پھاٹکوں پر چھاج سے پھٹکا۔ میں نے انکے بچے چھین لئے ۔ میں نے اپنے لوگوں کو ہلاک کیا کیونکہ وہ اپنی راہوں سے نہ پھرے ۔
۸ انکی بیوائیں میرے آگے سمندر کی ریت سے زیادہ ہوگئیں ۔ میں نے دوپہر کے وقت جوانوں کی ماں پر غارتگر کو مسلط کیا۔ میں نے اس پر ناگہان عذاب و دہشت کو ڈالدیا۔
۹ سات بچوں کی والدہ نڈھال ہوگئی ۔ اس نے جان دیدی ۔ دن ہی کو اسکا سورج ڈوب گیا۔ وہ پشیمان اور سراسیمہ ہوگئی ہے ۔ خداوند فرماتا ہے میں انکے باقی لوگوں کو انکے دشمنوں کے آگے تلوار کے حوالہ کرونگا۔
۱۰ اے میری ماں تجھ پر افسوس کہ میں تجھ سے تمام دنیا کے لئے لڑاکا آدمی اور جھگڑا لو شخص پیدا ہوا ! میں نے تو نہ سود پر قرض دیا اور نہ قرض لیا تو بھی ان میں سے ہر ایک مجھ پر لعنت کرتا ہے ۔
۱۱ خداوند نے فرمایا یقیناًمیں تجھے تقویت بخشونگا کہ تیری خیر ہو۔ یقیناًمیں مصیبت اور تنگی کے وقت دشمنوں سے تیرے سامنے التجا کرونگا ۔
۱۲ کیا کوئی لوہے کو یعنی شمالی فولاد اور پیتل کو توڑ سکتا ہے ؟۔
۱۳ تیرے مال اور تیرے خزانوں کو مفت لٹوا دونگا ور یہ تیرے سب گناہوں کے سبب سے تیری تمام سرحدوں میں ہوگا۔
۱۴ اور میں تجھکو تیرے دشمنوں کے ساتھ ایسے ملک میں لے جاؤنگا جسے تو نہیں جانتا کیونکہ میرے غضب کی آگ بھڑکیگی اور تم کو جلائیگی۔
۱۵ اے خداوند تو جانتا ہے تجھے یاد فرما اور مجھ پر شفقت کر اور میرے ستانے والوں سے میرا انتقام لے۔ تو برداشت کرتے کرتے مجھے نہ اٹھالے ۔ جان رکھ کہ میں نے تیری خاطر ملامت اٹھائی ہے۔
۱۶ تیرا کلام ملا اور میں نے اسے نوش کیا اور تیری باتیں میرے دل کی خوشی اور خرمی تھیں کیونکہ اے خداوند رب الا فواج ! میں تیرے نام سے کہلاتا ہوں ۔
۱۷ نہ میں خوشی منانے والوں کی محفل میں بیٹھا اور نہ شادمان ہوا ۔ تیرے ہاتھ کے سبب سے میں تنہا بیٹھا کیونکہ تو نے مجھے قہر سے لبریز کر دیا ہے۔
۱۸ میرا درد کیوں دائمی اور میرا زخم کیوں لاعلاج ہے کہ صحت پذیر نہیں ہوتا؟ کیا تو میرے لئے سراسر دھوکے کی ندی سا ہوگیا ہے۔ اُس پانی کی مانند جسکو قیام نہیں ۔
۱۹ اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر تو باز آئے تو میں تجھے پھیر لاؤنگا اور تو میرے حضور کھڑا ہو گا اور اگر تو لطیف کو کثیف سے جدا کرے توتو میرے منہ کی مانند ہوگا۔ وہ تیری طرف پھریں لیکن تو اُنکی طرف نہ پھرنا۔
۲۰ اور میں تجھے اِن لوگوں کے مقابل پیتل کی مضبوطی دیوار ٹھہر اؤنگا اور یہ تجھ سے لڑینگے لیکن تجھ پر غالب نہ آئینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں کہ تیری حفاظت کروں اور تجھے رہائی دُوں۔
۲۱ ہاں میں تجھے شریروں کے ہاتھ سے رہائی دُونگا اور ظالموں کے پنجے سے تجھے چھڑاؤنگا ۔