یرمیاہ ۳۱

ب۔ ملک بحال کیا جائے گا (‏۳۱:‏ ۱۔۳۰)‏

۳۱:‏ ۱۔۲۰ نہایت محبت بھرے لفظوں میں خداوند اسرائیل یعنی شمالی قبیلوں کو بحال کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ ساری دُنیا سے لوگ واپس آئیں گے۔ اُن کے دل ماتم کے بجائے خوشی اور حمد کے گیتوں سے معمور ہوں گے۔ ’’راخل رو رہی ہے‘‘۔ یہ لوگوں کو اسیری میں جاتے ہوئے دیکھنے کے غم کا استعارہ ہے۔ جب اسرائیل توبہ کرے گا اور خدا اُسے معاف کرے گا تو یہ غم مٹ جائے گا۔ ہیرودیس نے کم سن بچوں کا قتلِ عام کرایا۔ اِس تعلق سے متی نے آیت ۱۵ کا اِقتباس کیا ہے (‏متی ۲:‏ ۱۸)‏۔ کیلی (‏Kelly)‏ یوں تفسیر کرتا ہے:‏

’’کیسا دلکش ہے یہ دیکھنا کہ روح القدس غم کے بارے میں بیان کا یسوع کی پیدائش کے واقعے پر اطلاق کرتا ہے۔ اُس نے صرف اُسی بات کا حوالہ دیا جس کی تکمیل ہو گئی تھی۔ اُس وقت بادشاہ کی جائے پیدائش میں بھی سخت اور تلخ غم تھا۔ جہاں بہت زیادہ خوشی ہونی چاہئے تھی وہاں گہرا دُکھ اور کرب تھا۔ مسیحِ موعود کی پیدائش کو تو اِسرائیل کی مملکت میں عالم گیر خوشی کا نقارہ ہونا چاہئے تھا۔ اور اگر خدا اور اُس کے وعدے پر ایمان ہوتا تو ایسا ہی ہوتا‏، لیکن ایمان نہیں تھا۔ علاوہ ازیں لوگوں کی حالت شرم ناک بے ایمانی کی مظہر تھی اِس لئے ایک غاصب ادومی وہاں تخت نشین تھا اور اِسی وجہ سے ملک میں ظلم و ستم اور فریب کا راج تھا اور راخل اپنے بچوں کو رو رہی تھی اور تسلی پذیر نہیں ہوتی تھی … چنانچہ روح القدس نے نبوت کے پہلے حصے کا اطلاق کیا اور وہیں رُک گیا۔‘‘ 

۳۱:‏ ۲۱‏، ۲۲ تائب اسرائیل شاہراہوں سے واپس آئے گا جن پر راہنمائی کے لئے ستون اور کھمبے نصب ہوں گے۔ اُس کے بے وفائی کے دن ختم ہو جائیں گے کیونکہ خدا نے ایک نیا کام کیا ہے کہ’’ عورت مرد کی حمایت کرے گی‘‘ (‏لغوی معانی ہیں باہوں میں گھیرنا)‏۔ یہاں عورت اسرائیل اور مرد یہوواہ ہے۔ ولیم لکھتا ہے کہ پیش گوئی یہ ہے کہ کنواری اسرائیل بتوں کے پیچھے اِدھر اُدھر جانا چھوڑ دے گی اور عمانوایل کی طالب ہو گی اور اُس سے چمٹی رہے گی۔

۳۱:‏ ۲۳۔۳۰ یہوداہ بھی بحال ہو گا اور اُس کے شہر اَز سرِنَو تعمیر اور آباد کئے جائیں گے۔ اِس مرحلے پر یرمیاہ میٹھی نیند سے جاگ اُٹھا۔ یہوداہ اور اسرائیل دونوں دوبارہ آباد ہوں گے اور لوگوں کو اپنے باپ دادا کی نہیں بلکہ صرف اپنی بدکرداری کی سزا ملے گی۔

ج۔ نئے عہد کا اِنکشاف (‏۳۱:‏ ۳۱۔۴۰)‏

وہ دن آتے ہیں کہ خدا ’’اسرائیل … اور یہوداہ کے ساتھ نیا عہد باندھے گا‘‘۔ وہ شریعت جیسا نہیں بلکہ فضل کا عہد ہو گا۔ اِنسان کو نئی اخلاقی فطرت عطا ہو گی اور ساری دُنیا خداوند کے عرفان سے معمور ہو گی (‏دیکھئے عبرانیوں ۸:‏۸۔۱۳؛ ۱۰:‏ ۱۵۔۱۷)‏۔

خدا نے نیا عہد بنیادی طور پر اِسرائیل اور یہوداہ کے ساتھ باندھا (‏آیت ۳۱)‏۔ موسوی شریعت کے برعکس یہ عہد غیر مشروط ہے۔ اِس میں زور اِس بات پر ہے کہ خدا کیا کرے گا۔ یہ نہیں کہ اِنسان کو کیا کرنا چاہئے۔ آیت ۳۳‏،۳۴ میں ’’ مَیں … (‏کروں)‏ گا‘‘ پر غور کریں۔ یسوع نئے عہد کا درمیانی ہے کیونکہ اُسی کے وسیلے سے برکتوں کی ضمانت دی گئی ہے (‏عبرانیوں ۹:‏ ۱۵)‏‏، اُس کے خون سے اِس عہد کی توثیق ہوئی (‏لوقا ۲۲:‏۲۰)‏۔ یہ عہد بہ حیثیت قوم اسرائیل کے لئے مسیح کی دوسری آمد پر موثر ہو گا۔ البتہ اِس دوران ایمان دار انفرادی طور پر اِس کے فوائد (‏ثواب)‏ سے مستفیض ہوں گے۔ مثال کے طور پر اُن کو فرماں برداری کی تحریک شریعت سے نہیں بلکہ فضل سے ہوتی ہے۔ خدا اُن کا خدا اور وہ اُس کے لوگ ہیں۔ خدا اُن کے گناہوں اور بدکرداریوں کو پھر کبھی یاد نہ کرے گا۔ خدا کا عالم گیر عرفان ہزار سالہ دَور ہی میں پایۂ تکمیل کو پہنچے گا (‏آیت ۳۴)‏۔ 

جو لوگ اِسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے پر تُلے ہوئے ہیں اُن کے لئے بہتر ہے کہ آیات ۳۵ اور ۳۶ کو ذہن نشین رکھیں۔ اسرائیلی قوم صرف اُسی وقت نابود ہو سکتی ہے جب سورج‏، چاند‏، ستاروں اور سمندر کے نظام موقوف ہو جائیں۔ مستقبل میں یروشلیم بھی اَزسرِنَو تعمیر کیا جائے گا اور جو مقامات اب ناپاک ہیں وہ ’’خداوند کے لئے مقدس ہوں گے‘‘۔

مقدس کتاب

۱ خداوند فرماتا ہے میں اُس وقت اِسراؔ ئیل کے سب گھرانوں کا خدا ہو نگا اور وہ میرے لوگ ہونگے ۔
۲ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِسراؔ ئیل میں سے جو لوگ تلوار سے بچے جب وہ راحت کی تلاش میں گئے تو بیابان میں مقبول ٹھہرے ۔
۳ خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ میں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اِسی لئے میں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی ۔
۴ اَے اِسراؔ ئیل کی کنواری ! میں تجھے پھر آباد کرونگا اور تو آباد ہو جائیگی ۔ تو پھر دف اُٹھا کر آراستہ ہو گی اور خوشی کرنے والوں کے ناچ میں شامل ہونے کو نکلیگی ۔
۵ تو پھر سامریہؔ کے پہاڑوں پر تاکستان لگائیگی ۔ باغ لگائینگے اور اُسکا پھل کھائینگے ۔
۶ کیونکہ ایک دن آئیگا کہ افراؔ ئیم کی پہاڑیوں پر نگہبان پُکار ینگے کہ اُٹھو ہم صیون پر خداوند اپنے خدا کے حضور چلیں ۔
۷ کیونکہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ یعقوب ؔ کے لئے خوشی سے گاؤ اورقوموں کی سرتاج کے لئے للکارو ۔ منادی کرو ۔ حمد کرو اور کہو اَے خداوند اپنے لوگوں کو یعنی اِسراؔ ئیل کے بقیہّ کو بچا ۔
۸ دیکھو میں شمالی ملک سے اُنکو لاؤنگا اور زمین کی سر حدوں سے اُنکو جمع کرونگا اور اُن میں اندھے اور لنگڑے اور حاملہ اور زچہّ سب ہو نگے ۔ اُنکی بڑی جماعت یہاں واپس آئیگی ۔
۹ وہ روتے اور مناجات کرتے ہوئے آئینگے ۔میں اُنکی راہبری کرونگا میں اُنکو پانی کی ندیوں کی طرف راہ راست پر چلا ؤنگا جس میں وہ ٹھوکر نہ کھا ئینگے کیونکہ میں اِسراؔ ئیل کا باپ ہوں اور افراؔ ئیم میرا پہلوٹھا ہے۔
۱۰ اَے قومو! خداوند کا کلام سُنو اور دور کے جزیروں میں منادی کرو اور کہو کہ جس نے اِسراؔ ئیل کو تتر بتر کیا وہی اُسے جمع کریگا اور اُسکی اَیسی نگہبانی کریگا جیسی گڈریا اپنے گلہ کی۔
۱۱ کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا ہے اور اُسے اُسکے ہاتھ سے جو اُس سے زور آور تھا رہائی بخشی ہے ۔
۱۲ پس وہ آئینگے اور صیون کی چوٹی پر گائینگے اور خداوند کی نعمتوں یعنے اناج اور مے اور تیل او ر گائے بیل کے اور بھیڑ بکری کے بچوں کی طرف اِکٹھے رواں ہونگے اور اُنکی جان سیراب باغ کی مانند ہو گی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہو نگے۔
۱۳ اُس وقت کنواریا ں اور پیرو جوان خوشی سے رقص کرینگے کیونکہ میں اُنکے غم کو خوشی سے بدل دونگا اور اُنکو تسلی دیکر غم کے بعد شادمان کرونگا ۔
۱۴ اور میں کاہنوں کی جان کو چکنائی سے سیر کرونگا اور میرے لوگ میری نعمتوں سے آسودہ ہونگے خداوند فرماتا ہے۔
۱۵ خداوند یوں فرماتا ہے کہ رامہؔ میں ایک آواز سُنائی دی ۔ نوحہ اور زار زار رونا ۔ راخلؔ اپنے بچوں کو رو رہی ہے وہ اپنے بچوں کی بابت تسلی پذیر نہیں ہوتی کیونکہ وہ نہیں ہیں ۔
۱۶ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنی زاری کی آواز کو روک اور اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے باز رکھ کیونکہ تیری محنت کے لئے اجر ہے خداوند فرماتا ہے اور وہ دُشمن کے ملک سے واپس آئینگے ۔
۱۷ اور خداوند فرماتا ہے تیری عاقیت کی بابت اُمید ہے کیونکہ تیرے بچے پھر اپنی حدود میں داخل ہونگے ۔
۱۸ فی الحقیقت میں نے افراؔ ئیم کو اپنے آپ پر یوں ماتم کرتے سُنا کہ تو نے مجھے تنبیہ کی اور میں نے اُس بچھڑے کی مانند جو سدھایا نہیں گیا تنبیہ پائی ۔ تو مجھے پھیر تو میں پھر ونگا کیونکہ تو ہی میرا خدا وند خدا ہے ۔
۱۹ کیونکہ پھر نے کے بعد میں نے توبہ کی اور تربیت پانے کے بعد میں نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ میں شرمندہ بلکہ پریشان خاطر ہوااِسلئے کہ میں نے اپنی جوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔
۲۰ کیا افراؔ ئیم میرا پیارا بیٹا ہے؟ کیا وہ پسندیدہ فرزندہے؟ کیونکہ جب جب میں اُسکے خلاف کچھ کہتا ہوں تو اُسے جی جان سے یاد کرتا ہوں ۔ اِسلئے میرا دل اُسکے لئے بیتاب ہے۔ میں یقیناًاُس پر رحمت کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔
۲۱ اپنے لئے سُتون کھڑے کر ۔ اپنے لئے کھمبے بنا۔اُس شاہرا ہ پر دل لگا ۔ ہاں اُسی راہ سے جس سے تو گئی تھی واپس آ۔ اَے اِسراؔ ئیل کی کنورای اپنے اِن شہروں میں واپس آ۔
۲۲ اَے برگشتہ بیٹی تو کب تک آوراہ پھر یگی ؟ کیونکہ خداوند نے زمین پر ایک نئی چیز پیدا کی ہے کہ عورت مرد کی حمایت کریگی ۔
۲۳ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اُنکے اسیروں کو واپس لاؤنگا تو وہ یہوداہ ؔ کے ملک اور اُسکے شہروں میں پھر یوں کہینگے اَے صداقت کے مسکن ! اَے کوہِ مقدس خداوند تجھے برکت بخشے ۔
۲۴ اور یہوداہؔ اور اُسکے سب شہر اُس میں اِکٹھے سُکونت کرینگے کسان اور وہ جو گلے لئے پھرتے ہیں۔
۲۵ کیونکہ میں نے تھکی جان کو آسودہ اور ہر غمگین روح کو سیر کیا ہے۔
۲۶ اَب میں نے بیدارہو کر نگاہ کی اور میری نیند میرے لئے میٹھی تھی ۔
۲۷ دیکھو وہ دن آتے ہے خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھر میں اور یہوداہؔ کے گھر میں اِنسان کا بیج اور حیوا ن کا بیج بوؤنگا ۔
۲۸ اور خداوند فرماتا ہے جس طرح میں اُنکی گھات میں بیٹھکر اُنکو اُکھاڑا اور ڈھا یا اور گرایا اور برباد کیا اور دُکھ دیا اُسی طرح میں نگہبانی کرکے اُنکو بناؤ نگا اور لگاؤ نگا ۔
۲۹ اُن ایام میں پھر یوں نہ کہینگے کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اَولاد کے دانت کھٹے ہو گئے ۔
۳۰ کیونکہ ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے مر یگا ۔ ہر یک جو کچے انگور کھاتا ہے اُسی کے دانت کھٹے ہونگے ۔
۳۱ دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔
۳۲ اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
۳۳ بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
۳۴ اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔
۳۵ خداوند جس نے دِن کی روشنی کے لئے سورج کر مقر ر کیا او ر جس نے رات کی روشنی کے لئے چاند اور ستاروں کا نظام قائم کیا جو سمندر کو موجزن کرتا ہے جس سے اُسکی لہریں شور کرتی ہیں یوں فرماتا ہے ۔ اُسکا نام ربُّ الافواج ہے۔
۳۶ خداوند فرماتا ہے اگریہ نظام میرے حضور سے موقوف ہو جائے تو اِسراؔ ئیل کی نسل بھی میرے سامنے سے جاتی رہیگی کہ ہمیشہ تک پھر قوم نہ ہو۔
۳۷ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر کوئی اُوپر آسمان کو ناپ سکے اور نیچے زمین کی بنیاد کا پتہ لگالے تو میں بھی بنی اِسراؔ ئیل کو اُنکے اعمال کے سبب سے رد کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔
۳۸ دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ یہ شہر حنن ایل کے برج سے کونے کے پھاٹک تک خداوند کے لئے تعمیر کیا جائیگا۔
۳۹ اور پھر جریب سیدھی کوہ جاریب ؔ پر سے ہوتی ہوئی جوعاتہؔ کو گھیر لیگی ۔
۴۰ اور لاشوں اور راکھ کی تمام وادی اور سب کھیت قدؔ رون کے نالے تک اورگھوڑے پھاٹک کے کونے تک مشرق کی طرف خداوند کے لئے مُقدس ہونگے ۔ پھر وہ ہمیشہ تک نہ کبھی اُکھاڑانہ گرایا جائیگا۔