یرمیاہ ۳

۳:‏ ۱۔۵ اِستثنا ۲۴:‏ ۱۔۴ کے مطابق اگر مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ عورت کسی اَور مرد سے شادی کر لے تو پہلا شوہر اُس کے ساتھ دوبارہ شادی نہیں کر سکتا تھا۔ یہوداہ نے بہت سے یار (‏عاشق)‏ بنا لئے تھے‏، لیکن خداوند اُسے پھر بھی واپس بلاتا ہے۔ اُس کی اِتنے یاروں کے ساتھ بدکاری کے باعث ملک میں ناپاکی پھیل گئی اور خشک سالی کی سزا ملی‏، لیکن وہ پھر بھی فاحشہ کی طرح بے شرم ہے۔ وہ خدا سے جعلی توبہ کی باتیں کرتا ہے‏، لیکن خدا اُس کے بُرے کاموں اور باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ 

ب۔ یہوداہ کا مستقبل توبہ سے مشروط ہے (‏۳:‏ ۶۔۶:‏۳۰)‏

(‏۱)‏ ماضی کا گناہ اور مستقبل کی شان و شوکت (‏۳:‏ ۶۔۱۸)‏

۳:‏ ۶۔۱۴ شمالی سلطنت اسرائیل فحاشی اور بدکاری میں حد سے بڑھ گئی تھی اور خداوند کی طرف واپس آنے سے اِنکار کرتی تھی۔ یہوداہ نے دیکھا تھا کہ اسوری اسرائیل کو اسیر کر کے جلاوطنی میں لے گئے۔ پھر بھی یہوداہ نے گناہ کو نہیں چھوڑا اور خداوند کے پاس واپس آنے سے اِنکار کیا۔ یوں اِسرائیل کے دس قبیلے برگشتگی میں بے وفا یہوداہ کی نسبت زیادہ صادق ٹھہرتے ہیں۔ خدا اُنہیں دعوت دیتا ہے کہ اِقرار اور توبہ کر کے واپس آؤ تو مَیں تمہیں صیون میں واپس لاؤں گا۔

غور کریں کہ آیت ۸ میں خدا نے اِسرائیل کو طلاق دے دی اور یہ طلاق زناکاری کے باعث دی۔ متی ۱۹:‏ ۹ میں ہمارے مخلصی دہندہ کے الفاظ بالکل اِس کے مطابق ہیں۔ اُس نے تعلیم دی کہ جب ازدواجی زندگی کا ایک ساتھی بداخلاقی کا مرتکب ہو تو بے قصور ساتھی کے لئے طلاق دینا جائز ہے۔ ہم ملاکی ۲:‏۱۶ میں پڑھتے ہیں کہ خدا طلاق سے بیزار ہے تو اِس کا مطلب ہر قسم کی طلاق نہیں بلکہ وہ طلاق ہے جو پاک کلام کے مطابق نہ ہو۔ 

۳:‏ ۱۵۔۱۸ یہ آیات ہزار سالہ دَور کی پیش بینی کرتی ہیں۔ خدا وعدہ کرتا ہے کہ ’’ مَیں تم کو اپنے خاطر خواہ چرواہے دوں گا اور وہ تم کو دانائی اور عقل مندی سے چرائیں گے۔‘‘ اُس وقت عہد کے صندوق کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ مسیحِ موعود خود وہاں ہو گا۔ یروشلیم عالمی دارالحکومت ہو گا اور ’’خداوند کا تخت‘‘ کہلائے گا۔ اِسرائیل اور یہوداہ دُنیا بھر کی پراگندگی سے واپس لائے جائیں گے۔ وہ دوبارہ آپس میں متحد ہوں گے اور بحال ہوں گے۔ 

(‏۲)‏ توبہ کی ضرورت (‏۳:‏ ۱۹۔۴:‏۴)‏

یہاں یہوواہ اور اُس کے لوگوں میں ایک مکالمہ ہے جو مستقبل میں ہو گا۔ خدا اُنہیں بہترین چیزوں اور نعمتوں سے نوازنے کا خواہش مند ہے‏، لیکن اُن کے گناہوں نے اُنہیں برکت سے محروم رکھا ہوا ہے۔ جواب میں وہ پشیمان ہو کر روتے ہیں۔ وہ اِقرار کرتے ہیں کہ بت ایک فریب اور دھوکا ہیں اور صرف خداوند ہی نجات ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ برگشتگی اور خدا کو ترک کرنا ہمیں مہنگا پڑا ہے اور اب شرم اور رسوائی نے ہم کو چھپا لیا ہے۔

مقدس کتاب

۱ کہتے ہیں کہ اگر کو ئی مر د اپنی بیو ی کو طلا ق دیدے اور وہ اُسکے ہاں سے جا کر کسی دُوسرے مر د کی ہو جا ئے تو کیا وہ پہلا پھر اُسکے پا س جائیگا ؟ کیا وہ زمین نہا یت نا پاک نہ ہو گی ؟ لیکن تو نے تو بہت سے یاروں کے ساتھ بد کاری کی ہے۔کیا اب بھی تو میری طرف پھر یگی ؟ خداوند فرماتا۔
۲ پہاڑوں کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھا اور دیکھ کو نسی جگہ ہے جہاں تو نے بدکاری نہیں کی ؟تو راہ میں اُنکے لئے اِس طرح بیٹھی جس طرح بیابان میں عرب تو نے اپنی بدکاری اور شرارت سے زمین کو ناپاک کیا۔
۳ اِسلئےِ بارش نہیں ہوتی اور آخری برسات نہیں ہوئی ۔ تیری پیشانی فا حشہ کی ہے اور تجھکو شرم نہیں آتی۔
۴ کیا تو اب سے مجھے پُکار کر نہ کہیگی اَے میرے باپ ! تو میری جوانی کا راہبر تھا؟۔
۵ کیا اُسکا قہر ہمیشہ رہیگا؟ کیا وہ اُسے ابد تک رکھ چھوڑ یگا؟ دیکھ تو اَیسی باتیں تو کہہ چکی لیکن جہاں تک تجھ سے ہو سکا تو نے بُرے کام کئے۔
۶ اور یوسیاہ بادشاہ کے ایام میں خداوند نے مجھ سے فرمایا کیا تو نے دیکھا بر گشتہ اِسرائیل نے کیا کیا ہے ؟ وہ ہر ایک اُونچے پہاڑ پر اور پر ایک ہر ے درخت کے نیچے گئی اور وہاں بدکاری کی ۔
۷ اور جب وہ یہ سب کچھ کر چکی تو میں نے کہا وہ میری طرف واپس آئیگی پر وہ نہ آئی اور اُسکی بیوفا بہن یہوداہ نے یہ حال دیکھا ۔
۸ پھر میں نے دیکھا کہ جب بر گشتہ اِسرائیل کی زناکاری کے سبب سے میں نے اُسکو طلاق دیدی اور اُسے طلاق نامہ لکھ دیا تو بھی اُسکی بیوفا بہن یہوداہ نہ ڈری بلکہ اُس نے بھی جا کر بد کاری کی ۔
۹ اور ایسا ہوا کہ اُس نے اپنی بد کاری کی برائی سے زمین کو ناپاک کیا اور پتھر اور لکڑی کے ساتھ زناکاری کی۔
۱۰ اور خداوند فرماتا ہے کہ باوجود اِس سب کے اُسکی بیوفا بہن یہوداہ سّچے دِل سے میری طرف نہ پھری بلکہ ریاکاری سے ۔
۱۱ اور خداوند نے مجھ سے فرمایا برگشتہ اِسرائیل نے بیوفا یہوداہ سے زیادہ اپنے آپ کو صادق ثابت کیا ہے۔
۱۲ جا اور شمال کی طرف یہ بات پُکار کر کہہ دے کہ خداوند فرماتا ہے اَے برگشتہ اِسرائیل ! واپس آ۔ میں تجھ پر قہر کی نظر نہیں کرونگا کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں رحیم ہوں ۔ میرا قہر دائمی نہیں ۔
۱۳ صِرف اپنی بد کرداری کا اِقرار کر کہ تو خداوند فرماتا اپنے خدا سے عاصی ہو گئی اور ہر ایک ہر ے درخت کے نیچے غیروں کے ساتھ اِدھر اُدھر آوارہ پھری ۔خداوند فرماتا ہے تم میری آواز کے شنوا نہ ہوئے ۔
۱۴ خداوند فرماتا ہے اَے برگشتہ بچو واپس آو! کیونکہ میں خود تمہارا مالک ہوں اور میں تم کو ہر ایک شہر میں سے ایک اور ہر گھرانے میں سے دو لیکر صیون میں لاؤنگا۔
۱۵ اور میں تم کو اپنے خاطر خواہ چرواہے دُونگا اور وہ تم کو دانائی اور عقلمندی سے چرائینگے۔
۱۶ اور یوں ہو گا خداوند فرماتا ہے کہ جب اُن ایام میں تم ملک میں بڑھو گے اور بہت ہو گے تب وہ پھر نہ کہینگے کہ خداوند کے عہد کا صندوق ۔ اُسکا خیال بھی کبھی اُنکے دِل میں نہ آئیگا ۔ وہ ہر گز اُسے یاد نہ کر ینگے اور اُسکی زیارت کو نہ جائینگے اور اُسکی مّرمت نہ ہوگی ۔
۱۷ اُس وقت یروشیلم خداوند کا تخت کہلائیگا اور اُس میں یعنی یروشیلم میں سب قومیں خداوند کے نام سے جمع ہو نگی اور وہ پھر اپنے بُرے دِل کی سختی کی پیروی نہ کرینگے ۔
۱۸ اُن ایام میں یہوداہ کا گھرانا اِسرائیل کے گھرانے کے ساتھ چلیگا۔ وہ ملکر شمال کے ملک میں سے اُس ملک میں جسے میں نے تمہارے باپ دادا کو میراث میں دیا آئینگے۔
۱۹ آہ ! میں نے تو کہا تھا میں تجھکو فرزندوں میں شامل کر کے خوشنما ملک یعنی قوموں کی نفیس میراث تجھے دونگا اور تو مجھے باپ کہہ کر پُکاریگی اور تو پھر مجھ سے برگشتہ نہ ہو گی۔
۲۰ لیکن خداوند فرماتا ہے اَے اِسرائیل کے گھرانے ! جس طرح بیوی بیوفائی سے اپنے شوہر کو چھوڑدیتی ہے اُسی طرح تو نے مجھ سے بیوفائی کی ہے۔
۲۱ پہاڑوں پر بنی اِسرائیل کی گریہ وزاری اور منت کی آواز سُنائی دیتی ہے کیونکہ اُنہوں نے اپنی راہ ٹیڑھی کی اور خداوند اپنے خدا کو بھول گئے۔
۲۲ اَے برگشتہ فرزندو واپس آؤ! میں تمہاری برگشتگی کا چارہ کرونگا۔ دیکھ ہم تیرے پاس آتے ہیں کیونکہ تو ہی اَے خداوند ہمارا خدا ہے۔
۲۳ فی الحقیقت ٹیلوں اور پہاڑوں پر کے ہجوم سے کچھ امید رکھنا بے فائدہ ہے یقیناًخداوند ہمارے خداہی میں اِسرائیل کی نجات ہے۔
۲۴ لیکن اِس رسوائی کے باعث نے ہماری جوانی کے وقت سے ہمارے باپ دادا کے مال کو اُنکی بھیڑوں اور اُنکے بیلوں اور اُنکے بیٹے اور بیٹیوں کا نگل لیاہے۔
۲۵ ہم اپنی شرم میں لیٹیں اور رسوائی ہم کو چھپالے کیونکہ ہم کو اور ہمارے باپ دادا اپنی جوانی کے وقت سے آج تک خداوند اپنے خدا کے خطاکار ہیں اور ہم خداوند اپنے خدا کی آواز کے شنوا نہیں ہوئے ۔