یرمیاہ ۵

(‏۴)‏ یہوداہ کے گناہوں کی عدالت ہو گی (‏باب ۵)‏

۵:‏ ۱۔۹ اگر یروشلیم میں ایک بھی آدمی مل جائے جو صادق ہو تو خدا اُسے (‏یروشلیم کو)‏ معاف کر دے گا۔ یرمیاہ نے بے چارے اور جاہل لوگوں میں ڈھونڈا مگر کوئی صادق نہ ملا۔ پھر وہ بزرگوں یعنی بلند مرتبہ اور دانش مند لوگوں کی طرف متوجہ ہوا مگر ویسا ہی ناکام رہا۔ اِس لئے ایسی سزا وارد ہو گی جس کی تصویر شیر ببر‏، بیابان کے بھیڑیئے اور چیتے کی چیر پھاڑ اور غارت گری میں نظر آتی ہے۔ یہ عدالت اور سزا اٹل ہے۔ خداوند اُس قوم کو کیوں کر معاف کر سکتا ہے جس نے ایک وقت اُس کے ساتھ عہد باندھا‏، لیکن اب غیر معبودوں کی قسم کھاتی ہے اور اپنے آپ کو بدکاری کے لئے وقف کر رکھا ہے؟

۵:‏ ۱۰۔۱۳ دشمن کو حکم صادر ہوتا ہے کہ ’’اُس کی دیواروں پر چڑھ جاؤ اور توڑ ڈالو لیکن بالکل برباد نہ کرو۔‘‘ اِس لئے کہ لوگ خداوند کا اِنکار کرتے تھے اور مانتے نہیں تھے کہ خطرہ سر پر کھڑا ہے۔ مزید یہ کہ نبی جھوٹ بولتے تھے۔ 

۵:‏ ۱۴۔۱۹ یرمیاہ کا کلام‏، آگ کی مانند اور لوگ لکڑیوں کی مانند تھے جنہیں آگ بھسم کر دیتی ہے۔ بابل کی فوجیں نگلنے‏، ہڑپ کرنے اور ویران کرنے کو آ رہی ہیں‏، لیکن مکمل طور سے نہیں۔ غیر ملک میں غیر قوم کی اطاعت گزاری اور غلامی یہوداہ کا بدلہ ہو گی کیونکہ اُنہوں نے اپنے ملک میں غیر معبودوں کی عبادت کی۔ 

۵ :‏ ۲۰۔۳۱ خدا اپنے لوگوں کی کند ذہنی پر حیران ہوتا ہے۔ سمندر خداوند کا حکم مانتا ہے۔ لیکن وہ اُس ہستی سے ڈرنے کا میلان نہیں رکھتے جو ’’پہلی اور پچھلی برسات … بھیجتا ہے‘‘۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا اُس قوم کو سزا دینے سے باز رہے جو ایسی باغی اور سرکش اور گناہ میں ڈوبی ہوئی ہے؟ کیلی (‏Kelly)‏ کہتا ہے:‏

’’قومی شرارت کا بدترین پہلو یہ تھا کہ لوگوں کا صرف کوئی خاص طبقہ ہی قصوروار نہیں بلکہ پوری قوم اور پورے ’’ملک میں ایک حیرت افزا اور ہولناک بات ہوئی۔نبی جھوٹی نبوت کرتے ہیں اور کاہن اُن کے وسیلے سے حکمرانی کرتے ہیں اور میرے لوگ ایسی حالت کو پسند کرتے ہیں۔ اب تم اِس کے آخر میں کیا کرو گے؟‘‘ (‏آیات ۳۰‏،۳۱)‏۔ 

چنانچہ اخلاقی دیانت اور صداقت کا پورا سرچشمہ ہی گندا ہو گیا تھا اور اِس کے نتیجے میں صاف نظر آتا تھا کہ خداوند کی طرف سے صرف غضب اور سزا ہی نازل ہو سکتی ہے اِس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ 

مقدس کتاب

۱ اب یروشیلم کے کُوچوں میں اِدھر اُدھر گشت کرو اور دیکھو اور دریافت کرو اور اُسکے چوکوں میں ڈھونڈو اگر کوئی آدمی وہاں ملے جو اِنصاف کرنے والا اور سّچائی کا طالب ہو تو میں اُسے معاف کُرونگا۔
۲ اور اگرچہ وہ کہتے ہیں زندہ خداوند کی قسم تو بھی یقیناًوہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔
۳ اَے خداوند ! کیا تیری آنکھیں سّچائی پر نہیں ہیں؟ تو نے اُنکو مارا ہے پر اُنہوں نے افسوس نہیں کیا ۔ تو نے اُنکو غارت کیا پر وہ تربیت پذیر نہ ہوئے اُنہوں نے اپنے چہروں کو چٹان سے بھی زیادہ سخت بنایا ۔ اُنہوں نے واپس آنے سے انکار کیا ہے۔
۴ تب میں نے کہا کہ یقیناًیہ بیچارے جاہل ہیں کیونکہ یہ خداوند کی راہ اور اپنے خدا کے احکام کو نہیں جانتے۔
۵ میں بُزرگوں کے پاس جا ؤنگا اور اُن سے کلا م کُرونگا کیونکہ وہ خداوند کی راہ اور اپنے خدا کے احکلام کو جانتے ہیں لیکن اِنہوں نے جو ا بالکل توڑ ڈالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے ۔
۶ اِسلئے جنگل کا شیر ببر اُنکو پھاڑ یگا ۔ بیابان کا بھیڑیا اُنکا ہلاک کریگا۔ چیتہ اُنکے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہیگا ۔ جو کوئی اُن میں سے نکلے پھاڑا جا ئیگا کیونکہ اُنکی سرکشی بہت ہُوئی اور اُنکی برگشتگی بڑھ گئی ۔
۷ میں تجھے کیونکر مُعاف کُروں ؟ تیرے فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا اور اُنکی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں جب میں نے اُنکو سیر کیا تو انہو ں نے بدکاری کی اور پرے باندھکر قحبہ خانوں میں اِکٹھے ہُوئے ۔
۸ وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہو گئے ۔ ہر ایک صُبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی پر ہنہنانے لگا۔
۹ خداوند فرماتا ہے کیا میں اِن باتوں کے لئے سزانہ دُونگا اور کیا میری رُوح اَیسی قوم سے اِنتقام نہ لیگی ؟۔
۱۰ اُسکی دِیواروں پر چڑھ جاؤ اور توڑ ڈالو لیکن بالکل برباد نہ کرو ۔ اُسکی شاخیں کاٹ دو کیونکہ وہ خداوند کی نہیں ہیں۔
۱۱ اِسلئےِ کہ خداوند فرماتا ہے اِسرائیل کے گھرانے اور یہوادہؔ کے گھرانے نے مجھ سے نہایت بیوفائی کی۔
۱۲ اُنہوں نے خداوند کا اِنکار کیا اور کہا کہ وہ نہیں ہے ۔ ہم پر ہرگز آفت نہ آئیگی اور تلوار اور کال کو ہم نہ دیکھینگے۔
۱۳ اور نبی محض ہوا ہو جائینگے اور کلام اُن میں نہیں ہے۔ اُنکے ساتھ اَیسا ہی ہوگا۔
۱۴ پس اِسلئے کہ تم یوں کہتے ہو خداوند رب اِلافواج ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اپنے کلام کو تیرے مُنہ میں آگ اور اِن لوگوں کو لکڑی بناؤ نگا۔ اور وہ اِنکو بھسم کر دیگی ۔
۱۵ اَے اِسرائیل کے گھرانے دیکھ میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔ وہ زبردست قوم ہے ۔ وہ قدیم قوم ہے۔ وہ اَیسی قوم ہے جسکی زبان تو نہیں جانتا اور اُنکی بات کو تو نہیں سمجھتا ۔
۱۶ اُنکے ترکش کُھلی قبریں ہیں۔ وہ سب بہادر مرد ہیں۔
۱۷ اور وہ تیری فصل کا اناج اور تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائینگے ۔ تیرے گائے بیل اور تیری بھیڑ بکریوں کو چٹ کر جائینگے تیرے انگور اور انجیر نگل جائینگے۔ تیرے حصین شہروں کو جن پر تیرا بھروسا ہے تلوار سے ویران کردینگے ۔
۱۸ لیکن خداوند فرماتا ہے اُن ایام میں بھی میں تم کو بالکل برباد نہ کرونگا ۔
۱۹ اور یوں ہو گا کہ جب وہ کہینگے کہ خداوند ہمارے خدا نے یہ سب کچھ ہم سے کیوں کیا؟ تو تو اُن سے کہیگا کہ جس طرح تم نے مجھے چھوڑ دِیا اور اپنے ملک میں غیر معبودوں کی عبادت کی اُسی طرح تم اُس ملک میں جو تمہارا نہیں ہے اجنبیوں کی خدمت کرو گے۔
۲۰ یعقوب کے گھرانے میں اِس بات کا اِشتہار دو اور یہوداہؔ میں اِسکی منادی کرو اور کہو ۔
۲۱ اب ذرا سُنو اَے نادان اور بے عقل لوگو جو آنکھیں رکھتے ہو پر دیکھتے نہیں ۔ جو کان رکھتے ہو پر سُنتے نہیں۔
۲۲ خداوند فرماتا ہے کہ کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟ کیا تم میرے حضور میں تھرتھراؤ گے نہیں جس نے ریت کو سمندر کی حد پر ابدی حکم سے قائم کیا کہ وہ اُس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور ہر چند اُسکی لہریں اُچھلتی ہیں تو بھی غالب نہیں آتیں اور ہر چند شور کرتی ہیں تو بھی اُس سے تجاؤز نہیں کر سکتیں؟۔
۲۳ لیکن اِن لوگوں کے دِل باغی اور سرکش ہیں۔ اِنہوں نے سرکشی کی اور دُور ہو گئے ۔
۲۴ اِنہوں نے اپنے دِل میں نہ کہا کہ ہم خداوند اپنے خدا سے ڈریں جو پہلی اور پچھلی برسات وقت پر بھیجتا ہے اور فصل مُقررہ ہفتوں کو ہمارے لئے مُوجودہ کر رکھتا ہے۔
۲۵ تمہاری بدکرداری نے اِن چیزوں کو تم سے دُور کر دیا اور تمہارے گُناہوں نے اچھی چیزوں کو تم سے با زرکھا ۔
۲۶ کیونکہ میرے لوگوں میں شریر پائے جاتے ہیں۔ وہ پھندا لگانے والوں کی مانند گھات میں بیٹھتے ہیں۔ وہ جال پھیلاتے اور آدمیوں کو پکڑتے ہیں۔
۲۷ جیسے پنجرا چڑیوں سے بھرا ہو وَیسے ہی اُنکے گھر مکر سے پُر ہیں۔ پس وہ بڑے اور مالدار ہو گئے ۔
۲۸ وہ موٹے ہو گئے ۔ وہ چکنے ہیں ۔ وہ بُرے کاموں میں سبقت لے جاتے ہیں ۔ وہ فریاد یعنی یتیموں کی فریاد نہیں سُنتے تا کہ اُنکا بھلا ہو اور محتاجوں کا اِنصاف نہیں کرتے ۔
۲۹ خداوند فرماتا ہے کیا میں اِن باتوں کے لئے سزا نہ دُونگا؟ اور کیا میری رُوح اَیسی قوم سے اِنتقام نہ لیگی؟۔
۳۰ ملک میں ایک حیرت افزا ہولناک بات ہوئی ۔
۳۱ نبی جھوٹی نبوت کرتے ہیں اور کاہن اُنکے وسیلہ سے حکمرانی کرتے ہیں اور میرے لوگ اَیسی حالت کو پسند کرتے ہیں۔ اب تم اِسکے آخر میں کیا کرو گے ؟۔