یرمیاہ ۱۰

(‏۴)‏ بت پرستی کی مذمت (‏طنزیہ نظم)‏ (‏۱۰:‏ ۱۔۱۸)‏

۱۰:‏ ۱۔۵ اِس باب میں بتوں کی بطالت اور خدا کی عظمت اور بزرگی کا باری باری ذکر آتا ہے۔ خدا کے لوگوں کو واجب نہیں کہ دیگر اقوام کی رَوِش یعنی بے جان بتوں کی پرستش کرنا سیکھیں۔ ییٹس (‏Yates)‏ بتوں کی مذمت کے بارے میں طنزیہ نظم کے متعلق رائے زنی کرتا ہے:‏

’’یرمیاہ بے بس‏، بے آسرا اور بے پناہ بتوں کا ذکر بہت بے رحمی اور بے دردی سے کرتا ہے جب کہ لوگ اُنہیں خدا کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ بے اثر لکڑی کے ٹکڑے ہیں جن کی آرائش و زیبائش کرنی پڑتی ہے تاکہ اِس حقیقت پر پردہ ڈالا جائے کہ وہ فقط مُردہ (‏ناکارہ)‏ لکڑی ہیں۔ بجائے اِس کے کہ وہ کسی کو اُٹھائیں اُنہیں اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔ خدا ہر چیز کی وضع قطع بناتا ہے جب کہ بتوں کی وضع قلع بنائی جاتی ہے۔ نہ گویائی‏، نہ قدرت‏، نہ سانس‏، نہ ذہانت‏، نہ خوبی‏، نہ اثر اندازی اور نہ پائیداری اُن سے منسوب کی جا سکتی ہے۔ اُن کے مقابلے میں یہوواہ (‏یاہ وے)‏ ازلی‏، زندہ‏، فعال (‏برسرِعمل)‏ اور قادر ہے۔‘‘

۱۰:‏ ۶۔۹ خدا ساری قوموں کا بادشاہ اور اِس لائق ہے کہ اِنسان اُس سے ڈرتا رہے۔ بتوں کی پرستش کرنے والے حیوان خصلت اور احمق ہیں۔ وہ اِنسان کی کاریگری اور دست کاری کو سجدے کرتے ہیں۔ 

۱۰:‏ ۱۰۔۱۶ ’’خداوند سچا خدا … زندہ ہے۔‘‘ دست کاری سے بنائے ہوئے معبود نیست ہو جائیں گے۔ بت بنانے والے احمق ہیں اور اُن کے بت باطل اور فعلِ فریب ہیں۔’’ یعقوب کا بخرہ (‏خدا)‏ … سب چیزوں کا خالق ہے۔‘‘ رَبُّ الافواج اُس کا نام ہے۔

۱۰:‏ ۱۷‏،۱۸ ملک کے باشندوں کو حکم ہوا ہے کہ جو کچھ اُٹھا سکتے ہیں جمع کریں اور گٹھری میں باندھ لیں کیونکہ خدا اُنہیں اسیری اور جلاوطنی میں بھیج رہا ہے۔ 

(‏۵)‏ رونے والے نبی کی دعا (‏۱۰:‏ ۱۹۔۲۵)‏

قوم کی طرف سے بولتے ہوئے یرمیاہ محاصرہ اور جلاوطنی کی دہشتوں اور خوف ناک حالات پر نوحہ کرتا ہے اور اِنسانوں کی جہالت اور بے علمی کا اِقرار کرتا ہے اور خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو تنبیہ کرے۔ اور اُن کے دشمنوں پر اپنا قہر نازل کرے کیونکہ وہ اُس کے لوگوں کو نگل گئے اور چٹ کر گئے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے اِسرائیل کے گھرانے ! وہ کلام جو خداوند تم سے کرتا ہے سُنو۔
۲ خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ تم دیگر اقوام کی روش نہ سیکھو اور آسمانی علامات سے ہر اسان نہ ہو اگرچہ دِیگر اقوام اُن سے ہراسان ہوتی ہیں ۔
۳ کیونکہ اُنکے آئین بطالت ہیں چنانچہ کوئی جنگل میں کلہاڑی سے درخت کاٹتا ہے جو بڑھئی کے ہاتھ کا کام ہے۔
۴ وہ اُسے چاندی اور سونے سے آراستہ کرتے ہیں اور اُس میں ہتھوڑوں سے منیحے لگا کر اُسے مضبوط کرتے ہیں تاکہ قائم رہے۔
۵ وہ کھجور کی مانند مخروطی سُتون ہیں پر بولتے نہیں۔اُنکو اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن سے فائدہ بھی نہیں پہنچ سکتا۔
۶ اَے خداوند ! تیرا کو ئی نظیر نہیں ۔ تو عظیم ہے اور قدرت کے سبب سے تیرا نام بُزرگ ہے۔
۷ اَے قوموں کے بادشاہ ! کون ہے جو تجھ سے نہ ڈر ے ؟ یقیناًیہ تجھ ہی کو زیبا ہے کیونکہ قوموں کے سب حکیموں میں اُنکی تمام مملکتوں میں تیرا ہمتا کوئی نہیں۔
۸ مگر وہ سب حیوان خصلت اور احمق ہیں۔بُتوں کی تعلیم کیا ۔ وہ تو لکڑی ہیں! ۔
۹ تر سیس ؔ سے چاند ی کا پیٹا ہوا پّتر اور اُوفاز ؔ سے سونا آتا ہے جو کاریگر کی کاریگر ی اور سُنار کی دستکاری ہے۔ اُنکا لباس نیلا اور ارغوانی ہے اور یہ سب کچھ ماہر اُستادوں کی دستکاری ہے۔
۱۰ لیکن خداوند سّچا خدا ہے۔ وہ زِندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔ اُسکے قہر سے زمین تھرتھراتی ہے اور قوموں میں اُسکے قہر کی تاب نہیں ۔
۱۱ تم اُن سے ےُوں کہنا کہ یہ معبود جنہوں نے آسمان کے نیچے سے نیست ہو جائینگے۔
۱۲ اُسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا ۔ اُسی نے اپنی حکمت سے جان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دِیا ہے۔
۱۳ اُسکی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی انتہا سے بُخارات اُٹھاتا ہے۔ اور وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے۔
۱۴ ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہو گیا ہے۔ ہر ایک سُنار اپنی کھودی ہُوئی مُورت سے رُسوا ہے کیونکہ اُسکی ڈھالی ہُوئی مُورت باطل ہے۔ اُن میں دم نہیں۔
۱۵ وہ باطل فعل فریب ہیں ۔ سزا کے وقت برباد ہو جائینگی ۔
۱۶ یعقوب کا بخرہ اُنکی مانند نہیں کیونکہ وہ سب چیزوں کا خالق ہے اور اِسرائیل اُسکی میراث کا عصاہے ۔ ربُّ الافواج اُسکا نام ہے۔
۱۷ اَے مُحاصرہ میں رہنے والی ! زمین پر سے اپنی گٹھری اُٹھالے ۔
۱۸ کیونکہ خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس ملک کے باشندوں کو اب کی بار گویا فلا خن میں رکھکر پھینک دُونگا اور اُنکو اَیسا تنگ کُرونگا کہ جان لیں ۔
۱۹ ہائے میری خستگی ! میرا زخم درد ناک ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ یقیناًمجھے یہ دُکھ برادشت کرنا ہے ۔
۲۰ میرا خیمہ غارت کیا گیا اور میری سب طنا ہیں توڑ دی گئیں ۔ میرے بچے میرے پاس سے چلے گئے اور وہ ہیں نہیں ۔اب کوئی نہ رہا جو میرا خیمہ کھڑا کرے اور میرے پردے لگائے ۔
۲۱ کیونکہ چرواہے حیوان بن گئے اور خداوند کے طالب نہ ہُوئے اِسلئےِ وہ کامیاب نہ ہُوئے اور اُنکے سب گلّے تِتّر بتر ہوگئے ۔
۲۲ دیکھ شمال کے ملک سے بڑے غوغا اور ہنگامہ کی آواز آتی ہے تاکہ یہوادہؔ کے شہروں کو اُجاڑ کر گیدڑوں کا مسکن بنائے۔
۲۳ اَے خداوند ! میں جانتا ہوں کہ اِنسا ن اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا ۔
۲۴ اَے خداوند ! مجھے تنبیہ کر پر اندازہ سے ۔ اپنے قہر سے نہیں ۔ نہ ہو کہ تو مجھے نا بودہ کر دے ۔
۲۵ اَے خداوند! اُن قوموں پر جو تجھے نہیں جا نتیں اور اُن گھرانوں پر جو تیرا نام نہیں لیتے اپنا قہر اُنڈیل دے کیونکہ وہ یعقوب کو کھا گئے ۔ وہ اُسے نگل گئے اور چٹ کر گئے اور اُسکے مسکن کو اُجاڑ دِیا۔