یرمیاہ ۳۰

۶۔ بحالی کی پیش گوئیاں (‏ابواب ۳۰۔۳۳)‏

ابواب ۳۰۔۳۳ میں اُمید اور رہائی کے پیغام ہیں۔ اور ایک ایسی کتاب میں روشن مقام ہیں جس کا خاص اور بڑا موضوع سزا اور عدالت ہے۔ کلائیڈ ٹی۔ فرانسسکو (‏Clyde T. Francisco)‏ اِن ابواب کی خصوصیت اور اہمیت کا یوں بیان کرتا ہے:‏

’’یرمیاہ کی کتاب کے اِس حصے سے زیادہ ولولہ انگیز اور جوشیلی عبارت کبھی نہیں لکھی گئی۔ اگرچہ یرمیاہ کے بیشتر پیغام عدالت‏، سزا اور بُرے انجام کی خبر دیتے ہیں‏، لیکن جب وہ مستقبل کے خواب دیکھتا ہے تو اپنے دل پسند طریقے سے منادی کرتا ہے۔ اُس کا پورا دل اِن وعظوں سے وابستہ ہوتا ہے۔‘‘

اسیری سے واپسی نبوت کی صرف جزوی تکمیل تھی۔ یہ ابواب آگے اخیر زمانے اور آخری اور قطعی بحالی کو دیکھتے ہیں۔ 

یہ حصہ بہت اہم ہے کیونکہ اِس میں نئے عہد کی وہ مشہور باتیں شامل ہیں جو اِسرائیلی قوم کی بحالی کی پیش گوئی کرتی ہیں۔ یہ یعقوب کی مصیبت کا وقت (‏بڑی مصیبت)‏ ختم ہونے کے بعد وقوع پذیر ہو سکتی ہیں (‏۳۰:‏ ۴۔۱۷)‏۔ بعض لوگوں کے خیال اور نظریے کے برعکس خدا پنے عہود (‏وعدے)‏ پورے کرتا ہے۔ یرمیاہ کو کھیت خریدنے کا حکم ہوتا ہے تاکہ ثابت ہو جائے کہ بحالی یقینی ہے۔ 

الف۔ اسیروں کو جمع کیا جائے گا (‏باب ۳۰)‏

۳۰:‏ ۱۔۱۱ اسرائیل اور یہوداہ دونوں دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔ پہلے ’’یعقوب کی مصیبت کا وقت‘‘ (‏بڑی مصیبت)‏ آئے گا۔ اِس کے بعد خدا غیر قوموں کی طاقت کو توڑ ڈالے گا اور اپنے لوگوں پر سے اُن کا غلبہ اور اِختیار ختم کر دے گا۔ ’’خداوند … اپنے بادشاہ داؤد … کو برپا کرے گا‘‘۔ عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ وعدہ خداوند یسوع کے بارے میں ہے جو داؤد کی نسل سے ہو گا۔ تاہم بعض لوگ اِسے لغوی معنوں میں بھی درست مانتے ہیں کہ داؤد کو مُردوں میں سے زندہ کیا جائے گا اور وہ بادشاہ ہو گا۔ 

۳۰:‏ ۱۲۔۱۷ اگرچہ فی الوقت قوم کی مصیبت اور تکلیف لاعلاج معلوم ہوتی ہے‏، لیکن خدا اُن کے زخموں کو شفا دے گا اور اُن کے دشمن لُٹ جائیں گے۔ 

۳۰:‏ ۱۸۔۲۴ یہ آیات اُن اِنتہائی خوش گوار اور مسرت بھرے حالات کا بیان کرتی ہیں جو ہزار سالہ دَور کے دوران ہوں گے۔ باب کی آخری دو آیات شریروں پر خدا کے قہر شدید کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اِس کے بعد اسرائیل پر خدا کی برکت ہو گی جیسا کہ ہم اگلے باب میں دیکھتے ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ وہ کلام جو خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۲ خداوند اَسراؔ ئیل کاخدا یوں فرماتا ہے کہ یہ سب باتیں جو میں نے تجھ سے کہیں کتاب میں لکھ ۔
۳ کیونکہ دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اپنی قوم اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کی اسیری کو موقوف کراؤنگا خداوند فرماتا ہے اور اُنکو اُس ملک میں واپس لاؤنگا جو میں نے اُنکے باپ دادا کو دیا اور وہ اُسکے مالک ہونگے ۔
۴ اور وہ باتیں جو اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کی بابت فرمائیں یہ ہیں ۔
۵ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ ہم نے ہڑبڑی کی آواز سُنی ۔خوف ہے اور سلامتی نہیں ۔
۶ اب پوچھو اور دیکھو کیا کبھی کسی مرد کو دردزہ لگا؟ کیا سبب ہے کہ میں ہر ایک مرد کو زچہ کی مانند اپنے ہاتھ کمر پر رکھے دیکھتا ہوں اور سب کے چہرے زرد ہو گئے ہیں ؟ ۔
۷ افسوس !وہ دن بڑا ہے۔ اُسکی مثال نہیں ۔ وہ یعقوب کی مصیبت کا وقت ہے پر وہ اُس سے رہائی پائیگا ۔
۸ اور اُس روز یوں ہوگا ربُّ الافواج فرماتا ہے کہ میں اُسکا جوا تیری گردن پر سے توڑ ونگا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالو نگا اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائینگے ۔
۹ پر وہ خداوند اپنے خدا کی اور اپنے بادشاہ داؤدؔ کی جسے میں اُنکے لئے برپا کرونگا خدمت کرینگے ۔
۱۰ اِسلئے اَے میرے خادم یعقوب ہراسان نہ ہو خداوند فرماتا ہے اور اَے اِسراؔ ئیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اسیری کی سر زمین سے چھڑاؤنگا اور یعقوب واپس آئیگا اور آرام وراحت سے رہیگا اور کوئی اُسے نہ ڈرائیگا ۔
۱۱ کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں خداوند فرماتا ہے تاکہ تجھے بچاؤں ۔ اگرچہ میں سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے تتر بتر کیا تمام کر ڈالونگا تو بھی تجھے تمام نہ کرونگا بلکہ تجھے مناسب تنبیہ کرونگا اور ہر گزبے سزا نہ چھوڑونگا ۔
۱۲ کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تیری خستگی لاعلاج اور تیرا زخم سخت دردناک ہے۔
۱۳ تیرا حمایتی کوئی نہیں جو تیری مرہم پٹی کرے ۔تیرے پاس کوئی شفا بخش دوا نہیں ۔
۱۴ تیرے سب چاہنے والے تجھے بھول گئے۔ وہ تیرے طالب نہیں ہیں ۔ فی الحقیقت میں نے تجھے دُشمن کی مانند گھا ئل کیا اور سنگدل کی طرح تادیب کی اِسلئے کہ تیری بد کرداری بڑھ گئی اور تیرے گناہ زیادہ ہوگئے ۔
۱۵ تو اپنی خستگی کے سبب سے کیوں چلاتی ہے؟ تیرا درد لاعلاج ہے۔ اِسلئے کہ تیری بدکرداری نہایت بڑھ گئی اور تیرے گناہ زیادہ ہوگئے میں نے تجھ سے اَیسا کیا ۔
۱۶ تو بھی وہ سب جو تجھے نگلتے ہیں نگلے جائینگے اور تیرے سب دُشمن اسیری میں جا ئینگے اور جو تجھے غارت کرتے ہیں خود غارت ہونگے اور میں اُن سب کو جو تجھے لوٹتے ہیں لُٹا دونگا ۔
۱۷ کیونکہ میں پھر تجھے تندرستی اور تیرے زخموں سے شفا بخشو نگا ۔خداوند فرماتا ہے کیونکہ اُنہوں نے تیرا نام مُردودہ رکھا کہ یہ صیون ہے جسے کوئی نہیں پوچھتا۔
۱۸ خداوندیوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں یعقوب کے خیموں کی اسیری کو موقوف کراؤنگا اور اُسکے مسکنوں پر رحمت کرونگا اور شہر اپنے ہی پہاڑ پر بنایا جائیگا اور قصر اپنے ہی مقام پر آباد ہوجائیگا ۔
۱۹ اور اُن میں سے شکرگذاری اور خوشی کرنے والوں کی آواز آئیگی اور میں اُنکو افزایش بخشونگا اور وہ تھوڑے نہ ہو نگے ۔ میں اُنکو شوکت بخشونگا اور وہ حقیر نہ ہونگے ۔
۲۰ اور اُنکی اَولاد اَیسی ہو گی جیسی پہلے تھی اور اُنکی جماعت میرے حضور میں قائم ہو گی اور میں اُن سب کو جو اُن پر ظلم کریں سزادونگا ۔
۲۱ اور اُنکا حاکم اُن ہی میں سے ہوگا اور اُنکا فرمانردااُن ہی کے درمیان سے پیدا ہو گا اور میں اُسے قربت بخشونگا اور وہ میرے نزدیک آئیگا کیونکہ کون ہے جس نے یہ جُرات کی ہو کہ میرے پاس آئے ؟ خداوند فرماتا ہے ۔
۲۲ اور تم میرے لوگ ہوگے اور میں تمہارا خداہونگا ۔
۲۳ دیکھ خداوند کے قہر شدید کی آندھی چلتی ہے ۔ یہ تیز طوفان شریروں کے سر پر ٹوٹ پڑیگا ۔
۲۴ جب تک یہ سب کچھ نہ ہولے اور خداوند اپنے دل کے مقصد پورے نہ کرلے اُسکا قہر شدید موقوف نہ ہوگا ۔ تم آخری دِنوں میں اِسے سمجھو گے۔